کہتے ہیں کہ انسانی وجود ہرگز خاموش نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اسکی جھوٹے الفاظ سے پرورش ہو سکتی ہے بلکہ سچے الفاظ سے ہی اسکی نشوونما ممکن ہے جن کی توسط سے ہی انسان سماج کو تبدیل کرسکتے ہیں۔ یہاں ہمیں دو ہی قوی پہلو ملتے ہیں فکر اور عمل،یہ دونوں پہلو بنیادی تفاعل کے طور پر سامنے آتے ہیں جن میں سے اگر ایک کو بھی قربان کیا جائے یا پھر اس کے کچھ حصے ہی قربان کیے جائیں تو دوسرا فوری طور پر متاثر ہو جاتا ہے۔ لہذا کوئی بھی لفظ اس وقت تک سچا نہیں ہو سکتا جب تک وہ ایک معتبر عمل سے جڑا نہ ہو اس طرح سچا لفظ بولنے کا مطلب سماج کو تبدیل کر نا ہے حقیقت کو تبدیل کرنے کی اہلیت سے محروم جھوٹے الفاظ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے۔ اس کے عناصر ترکیبی پر دوہری تقسیم ٹھونسی جاتی ہے جب ایک لفظ کو عمل کے حقیقی پہلو سے محروم کردیا جاتا ہے تو فکر خود بخود متاثر ہوتی ہے تو الفاظ محض زبانی جمع خرچ ،بیگانگی اور بے فاہدہ بکواس بدل جاتے ہیں۔دوسری طرف اگر عمل امتیازی طور پر فکر کے ضیاں پر زور دے تو الفاظ اندھی بھاگ دوڑ میں بدل جاتے ہیں ۔فعل برائے فعل معتبر عمل کی نفی کرتا ہے۔ اور مکالمے کو ناممکن بناتا ہے وجود کی جھوٹی شکلوں کی تخلیق کے ذریعے دوہری تقسیم ہو تو فکر کی جھوٹی شکلیں پیدا ہوتی ہیں جو ابتدائی دوہری تقسیم کو مضبوط کرتی ہیں
مکالمہ ایک تخلیقی کام ہے ایسے ایک شخص کا دوسرے پر تسلط قائم رکھنے کے لیے چالاک آلے کے طور پہ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔مکالمے میں مضمر تسلط کو بے نقاب کرنے کے لیے مکالمے میں داخل ہونا چاہیے۔ یہ انسانوں کے آزادی کا عمل ہے مکالمہ ایک وجودی ضرورت ہے چونکہ یہ دو فریقین کے درمیان آمنا سامنا ہے جس میں مکالمہ کرنے والوں کے فکر اور عمل کا توازن ہی سماج کو مخاطب کرتا ہے ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ مکالمہ ایک شخص کے خیالات کو دوسرے شخص میں بطور امانت رکھنے کا کام ہو اور نہ ہی یہ سادہ خیالات کا تبادلہ خیال ہے۔جیسے شرکاء کو ہر حالت میں ہضم کرنا ہوتا ہے اور نہ ہی ایسے انسانوں کے درمیان مخالفانہ مناظراتی مباحثہ ہے جو اپنے سماج کو تبدیلی کے لیے تخلیقی خیالات دینے کی بجائے اپنی اپنی حقیقت کو زیر دستی ایک دوسرے پر ٹھوسنے کے لیے طلعہ آزمائی پراتر آئیں ہوں(موجودہ بلوچی سیاسی صورت حال پر غورو تحقیق)
تخلیق اور تخلیق نو کا عمل مکالمہ میں ہی مضمر ہے اور مکالمہ کے بنیادی مقاصد میں اگر سچی لگن اور محبت نہ ہو تو اس کا نتیجہ خیز ہونا ناممکن ہوتا ہے۔ کیونکہ مکالمہ کی بنیاد ہی محبت پہ استوار ہوتا ہے اس لیے یہ مکالمہ کرنے والے دونوں فاعلوں پہ فرض ہوتا ہے یہ تسلط کے رشتے میں کسی صورت بھی جنم نہیں لے سکتا اس کا نتیجہ خیز ہونا درکنار،اگر اسے تسلط کے رشتے کی بنیاد پر استوار کرنا ہو تو فریب ،چالبازی ،جھوٹ ،الزام ،بوتان اس کے بنیادی ستون ہو نگے۔
کیونکہ مکالمہ مشترکہ طور پر سیکھنے پھر عمل کرنے اور دوبارہ سوچنے کے بعد پھر عمل کرنے سیکھنے کے بعد پھر سوچنے ،سیکھنے سکھانے اور عمل سے رابطہ کرنے کا تسلسل ہے یہ سب کچھ مکالمہ کے بغیر ممکن ہو ہی نہیں سکتا ۔تسلط کے رشتے کے لیے لازمی فریب ساز باز محبت کے ضدہیں یا محبت کے لیے مرضیات کا مکمل انکشاف کرتا ہے۔
یعنی جبر کو لیکر کسی بھی سطح کے جابر میں سادیت پسندی ازخود کسی نہ کسی کو اذیت پہنچانے کا باعث بن جاتا ہے ۔ اور ضرور جابر اس سادیت پسندی سے لطف اٹھاتا ہے بالکل اسی طرح دوسری طرف ایک مغلوب شخص کسی بھی تسلط کے رشتے میں ذہنی اور جسمانی اذیت میں مبتلا ہونے کے باوجود خوشی کے احساس کا اظہار کرتا پھرتا ہے۔یہ دونوں رویے کسی صورت بھی مکالمے کو فروغ نہیں دے سکتے ،سچی لگن اور محبت ہر صورت جرات کا تقاضا کرتے ہیں نہ کہ خوف کا ،قطع نظر اس سے حقیقی کون اور کہاں ہے۔
اپنوں کے ساتھ سچی لگن اور محبت کا عمل ہی مقصد(آزادی) سے کمٹمنٹ ہے،سچی لگن چونکہ محبت سے لازم و ملزوم ہے اس لیے یہ مکالماتی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ایک دوسرے پہ برس پڑنا،الزامات
،جھوٹ اور بے بنیاد قصے کہانیاں ،کیا یہ سیاسی طرز فعل کے طورپہ تسلیم کیے جائیں میرے خیال سے ہرگز نہیں کیونکہ سچی لگن اور محبت کسی صورت بھی جذباتی نہیں ہوتے:۔
تو ضروری یہ ہے کہ ان غیر سیاسی حرکات کو آزادی کے جُز کے نام پہ ساز باز کے لیے ہر گز استعمال نہیں کرنا چاہیے۔انسانوں کے درمیان مشترکہ طور پہ سیکھنے اور عمل کرنے کا طریقہ کار اس وقت ٹوٹ جاتا ہے ۔جب دونوں فریقین (یا ان میں سے ایک) انکساری سے محروم ہو۔
یہ قابل غور ہے کہ دوسروں پہ ہمیشہ جہالت طاری کرنے والا کوئی بھی شخص کیا کھبی اپنے جہالت کا ادراک کرسکتا ہے ؟ہر گز نہیں میں کیسے مکالمہ کرسکتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو دوسروں سے جدا اور اعلی سمجھتا ہوں ان کو بے جان سمجھتا ہوں اور اپنے آپ کو قومی ادارے سیاسی ادارے سمجھتا ہوں اپنے آپ کو خالص سیاسی علم و زانت کا سرغنہ مالک سمجھتا ہوں۔ باقی تمام کو قباعلی سردار ،جاہل سمجھتا ہوں۔
اگر میں اس تمہید کے ساتھ شروع کرتا ہوں تو اس کا مطلب صاف یہ ہے کہ یہ سب صرف اور صرف میرا حق اور فرض ہے ۔ اگر میں اپنے آپ تک محدود ہوں ۔اپنے شرائط کے علاوہ (اجتماعی شرائط سے قطع نظر)دوسروں کی کردار اور شمولیت سے ٹھیس محسوس کرتا ہوں اگر مجھے اپنی جگہ سے ہٹنے کے احساس سے بڑی تکلیف ہوتی ہے ۔توپھر کیسے مکالمہ ہو سکتا ہے ذاتی استعداد کا مکالمے کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں،
جو لوگ مکمل انکساری کو لیکر اپنی تمام حقائق کے ساتھ اپنے عوام کے پاس نہیں جاتے اور دوسری طرف اپنے آپ کو سب کچھ سمجھنے کی خوش فہمی میں مبتلا ہو کر ایک لمبے سفر کی تیاری کو لیکر اجارہ داری والے عزائم رکھتے ہیں۔تو یہ ایک ایسے منفی رویے کو جنم دیتا ہے جو صاف ظاہر جاہلیت کی نشاندہی کرتا ہے ۔ مکمل دانائی کے لیے دعوی داری از خود بدبختی کی نشادہی ہے ۔ انسانی بقاء کے لیے سائنسی اصول کیا یہ نہیں کہ آپ سب ملکر جو کچھ جانتے ہیں اس سے زیادہ اور بہترجاننے کی جستجوکو لے کر ہر وقت کوشش کریں۔مکالمہ انسانوں پر گہرائی سے تعین کا مطالبہ کرتا ہے ۔ اس کے بننے اور دوبارہ بننے اور بار بار بننے تخلیق کرنے اور تخلیق نو کرنے کے لیے مکمل انسان بننے تک خدادا انسانی صلاحیتوں پر یقین کا مطالبہ کرتا ہے ۔یہ صرف چند لوگوں یا ایک گروہ کا استحقاق نہیں ہوتا بلکہ یہ سب انسانوں کا پیدائشی حق ہے ۔ انسانوں پر یقین مکالمے کی بنیادی شرط ہے۔ مکالماتی انسان دوسرے انسانوں کا سامنا کرنے سے پہلے اس بنیادی شرط پر یقین ضرور دکھتا ہے ۔یہ بھی ضرور ہے کہ اس کا یقین سادہ لوحی پر مبنی نہ ہو۔ مکالماتی انسان تنقیدی ہوتا ہے اور وہ یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ جتنے مسائل ہیں وہ انسانی تعلقات سے تعلق رکھتے ہیں چاہیے وہ روایتی ہوں سیاسی یا اقتصادی ہوں اور یہ انسانی اختیار میں ہوتے ہیں
ان سے ڈر اور خوف کیسا ؟اگر کسی بھی قسم کے خوف نے اس یقین سے محرومی کو ممکن بنایا تو مسائل میں مزید بگاڑ ممکن ہیں۔ تو اس بھاگ دوڑ میں ہمیں یہ بات کا یقین اچھی طرح ذہین نشین کرلینا چاہیے کہ آج کی ہماری محنت اور قربانیاں کہیں جگہوں سے گھوم پھیر کر پھر سے غلامانہ محنت اورغلامانہ قربانیاں بن کرتاریخ کا حصہ تو نہیں بننے جارہے ہیں کیونکہ ہمارا مقصد تو مکمل آزادی دلانے کے لیے محنت کرنا اور قربانیاں دینا ہیں۔ اس یقین کے بغیر مکالمہ ایک مذاق بن جاتا ہے جو بدقسمتی سے روایتی اور غیر اخلاقی او ر غیر حقیقی نعروں میں چالبازی اور چالاکی سے مسخ ہو جاتا ہے۔آج ان آفاقی حقائق سے انکار کسی بھی سطح پر ہو وہ تخلیقی جدوجہد سے انکار ہے۔اس سوال پر بھی اشد غور کرنے کی ضرورت ہیں کہ کیوں سوشل میڈیا کو آج ایسا ڈراؤنا بنایا جارہا ہے ؟اور کیا سوشل میڈیا سے ڈرانے والے لوگ اسکی اہمیت افادیت اور حقیقت کو مسخ نہیں کررہے ہیں؟میری ناقص رائے کچھ یوں ہے کہ شاہد یہ مکالمے سے فرار کی بنیاد ہیں کیونکہ ایک ایسا پلیٹ فارم جس کی وسعت ہزاروں بلوچوں کی شرکت سے منسلک ہے۔اور مکالمے کے لیے اتنے بڑے اور وسیع پیمانے پر خیالات کا تبادلہ خیال کیسے نادر اور سنہری موقع نہیں ہو سکتا ہے۔اس میں ہمارے لیے بدقسمتی والی بات تو یہ ہے کہ اس کے لیے نظریاتی اور سیاسی بنیادوں پر کوئی ضابطہ اخلاق موجود نہیں،یہ ایک ایسے گھنے جنگل کی مثل ہے جس کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اکثر و بیشتر درندے اور چرندے پرندوں کی بولی میں شکار کرتے نظر آتے ہیں۔گذشتہ کچھ عرصے میں بلوچ قومی سیاست کے حوالے سے جو بحث مباحثے نتیجہ خیز بننے کی بجائے الجھاؤ اور پیچیدگیوں کا شکار بنے ہیں ان کے واضع وجوہات ہمارے شعور طرز عمل رویوں کے ساتھ ساتھ کچھ سابقہ پوشیدہ جنگی اور سیاسی مایوس مجاہدوں کی بھی مرحوم منت ہے جو ایک فریق کے آڑ میں اپنی حقیقی میدان کے ناکامیوں کے باعث فرار کی ندامت کو مٹانے کے لیے غیر سیاسی طرز پہ دوستوں پہ سوالات اٹھا کراپنی دل کی بھٹراس نکالتے آرہے ہیں۔میری ناقص رائے یہ ہے کہ کسی بھی مسئلے بابت اسکی سیاسی پہلو سے ہٹ کر غیراخلاقی اور غیر سیاسی پہلووں جنکی وجہ سے الجھاؤ پیدا ہونے کے خدشات ہوں اجتناب برتا جائے ۔سیاسی مسائل پر سیاسی اندا ز میں بحث مباحثوں میں جتنی بھی الجھاؤ ہو وہ شاہد نقصان دہ ثابت نہ ہوں۔ان حالات میں قومی راز اور قومی سیاست سے جڑے اہم احوال کی اہمیت سے قطع نظر انکو افشاں کرنے کا شعور میرے خیال میں سب کو اچھی طرح ہے۔جو بھی جو کچھ کررہا ہے وہ اپنے اعمال و افعال کا مکمل ذمہ دار ہو گا۔
کہتے ہیں کہ انسانی وجود ہرگز خاموش نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اسکی جھوٹے الفاظ سے پرورش ہو سکتی ہے بلکہ سچے الفاظ سے ہی اسکی نشوونما ممکن ہے جن کی توسط سے ہی انسان سماج کو تبدیل کرسکتے ہیں۔ یہاں ہمیں دو ہی قوی پہلو ملتے ہیں فکر اور عمل،یہ دونوں پہلو بنیادی تفاعل کے طور پر سامنے آتے ہیں جن میں سے اگر ایک کو بھی قربان کیا جائے یا پھر اس کے کچھ حصے ہی قربان کیے جائیں تو دوسرا فوری طور پر متاثر ہو جاتا ہے۔ لہذا کوئی بھی لفظ اس وقت تک سچا نہیں ہو سکتا جب تک وہ ایک معتبر عمل سے جڑا نہ ہو اس طرح سچا لفظ بولنے کا مطلب سماج کو تبدیل کر نا ہے حقیقت کو تبدیل کرنے کی اہلیت سے محروم جھوٹے الفاظ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے۔ اس کے عناصر ترکیبی پر دوہری تقسیم ٹھونسی جاتی ہے جب ایک لفظ کو عمل کے حقیقی پہلو سے محروم کردیا جاتا ہے تو فکر خود بخود متاثر ہوتی ہے تو الفاظ محض زبانی جمع خرچ ،بیگانگی اور بے فاہدہ بکواس بدل جاتے ہیں۔دوسری طرف اگر عمل امتیازی طور پر فکر کے ضیاں پر زور دے تو الفاظ اندھی بھاگ دوڑ میں بدل جاتے ہیں ۔فعل برائے فعل معتبر عمل کی نفی کرتا ہے۔ اور مکالمے کو ناممکن بناتا ہے وجود کی جھوٹی شکلوں کی تخلیق کے ذریعے دوہری تقسیم ہو تو فکر کی جھوٹی شکلیں پیدا ہوتی ہیں جو ابتدائی دوہری تقسیم کو مضبوط کرتی ہیں
مکالمہ ایک تخلیقی کام ہے ایسے ایک شخص کا دوسرے پر تسلط قائم رکھنے کے لیے چالاک آلے کے طور پہ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔مکالمے میں مضمر تسلط کو بے نقاب کرنے کے لیے مکالمے میں داخل ہونا چاہیے۔ یہ انسانوں کے آزادی کا عمل ہے مکالمہ ایک وجودی ضرورت ہے چونکہ یہ دو فریقین کے درمیان آمنا سامنا ہے جس میں مکالمہ کرنے والوں کے فکر اور عمل کا توازن ہی سماج کو مخاطب کرتا ہے ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ مکالمہ ایک شخص کے خیالات کو دوسرے شخص میں بطور امانت رکھنے کا کام ہو اور نہ ہی یہ سادہ خیالات کا تبادلہ خیال ہے۔جیسے شرکاء کو ہر حالت میں ہضم کرنا ہوتا ہے اور نہ ہی ایسے انسانوں کے درمیان مخالفانہ مناظراتی مباحثہ ہے جو اپنے سماج کو تبدیلی کے لیے تخلیقی خیالات دینے کی بجائے اپنی اپنی حقیقت کو زیر دستی ایک دوسرے پر ٹھوسنے کے لیے طلعہ آزمائی پراتر آئیں ہوں(موجودہ بلوچی سیاسی صورت حال پر غورو تحقیق)
تخلیق اور تخلیق نو کا عمل مکالمہ میں ہی مضمر ہے اور مکالمہ کے بنیادی مقاصد میں اگر سچی لگن اور محبت نہ ہو تو اس کا نتیجہ خیز ہونا ناممکن ہوتا ہے۔ کیونکہ مکالمہ کی بنیاد ہی محبت پہ استوار ہوتا ہے اس لیے یہ مکالمہ کرنے والے دونوں فاعلوں پہ فرض ہوتا ہے یہ تسلط کے رشتے میں کسی صورت بھی جنم نہیں لے سکتا اس کا نتیجہ خیز ہونا درکنار،اگر اسے تسلط کے رشتے کی بنیاد پر استوار کرنا ہو تو فریب ،چالبازی ،جھوٹ ،الزام ،بوتان اس کے بنیادی ستون ہو نگے۔
کیونکہ مکالمہ مشترکہ طور پر سیکھنے پھر عمل کرنے اور دوبارہ سوچنے کے بعد پھر عمل کرنے سیکھنے کے بعد پھر سوچنے ،سیکھنے سکھانے اور عمل سے رابطہ کرنے کا تسلسل ہے یہ سب کچھ مکالمہ کے بغیر ممکن ہو ہی نہیں سکتا ۔تسلط کے رشتے کے لیے لازمی فریب ساز باز محبت کے ضدہیں یا محبت کے لیے مرضیات کا مکمل انکشاف کرتا ہے۔
یعنی جبر کو لیکر کسی بھی سطح کے جابر میں سادیت پسندی ازخود کسی نہ کسی کو اذیت پہنچانے کا باعث بن جاتا ہے ۔ اور ضرور جابر اس سادیت پسندی سے لطف اٹھاتا ہے بالکل اسی طرح دوسری طرف ایک مغلوب شخص کسی بھی تسلط کے رشتے میں ذہنی اور جسمانی اذیت میں مبتلا ہونے کے باوجود خوشی کے احساس کا اظہار کرتا پھرتا ہے۔یہ دونوں رویے کسی صورت بھی مکالمے کو فروغ نہیں دے سکتے ،سچی لگن اور محبت ہر صورت جرات کا تقاضا کرتے ہیں نہ کہ خوف کا ،قطع نظر اس سے حقیقی کون اور کہاں ہے۔
اپنوں کے ساتھ سچی لگن اور محبت کا عمل ہی مقصد(آزادی) سے کمٹمنٹ ہے،سچی لگن چونکہ محبت سے لازم و ملزوم ہے اس لیے یہ مکالماتی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ایک دوسرے پہ برس پڑنا،الزامات
،جھوٹ اور بے بنیاد قصے کہانیاں ،کیا یہ سیاسی طرز فعل کے طورپہ تسلیم کیے جائیں میرے خیال سے ہرگز نہیں کیونکہ سچی لگن اور محبت کسی صورت بھی جذباتی نہیں ہوتے:۔
تو ضروری یہ ہے کہ ان غیر سیاسی حرکات کو آزادی کے جُز کے نام پہ ساز باز کے لیے ہر گز استعمال نہیں کرنا چاہیے۔انسانوں کے درمیان مشترکہ طور پہ سیکھنے اور عمل کرنے کا طریقہ کار اس وقت ٹوٹ جاتا ہے ۔جب دونوں فریقین (یا ان میں سے ایک) انکساری سے محروم ہو۔
یہ قابل غور ہے کہ دوسروں پہ ہمیشہ جہالت طاری کرنے والا کوئی بھی شخص کیا کھبی اپنے جہالت کا ادراک کرسکتا ہے ؟ہر گز نہیں میں کیسے مکالمہ کرسکتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو دوسروں سے جدا اور اعلی سمجھتا ہوں ان کو بے جان سمجھتا ہوں اور اپنے آپ کو قومی ادارے سیاسی ادارے سمجھتا ہوں اپنے آپ کو خالص سیاسی علم و زانت کا سرغنہ مالک سمجھتا ہوں۔ باقی تمام کو قباعلی سردار ،جاہل سمجھتا ہوں۔
اگر میں اس تمہید کے ساتھ شروع کرتا ہوں تو اس کا مطلب صاف یہ ہے کہ یہ سب صرف اور صرف میرا حق اور فرض ہے ۔ اگر میں اپنے آپ تک محدود ہوں ۔اپنے شرائط کے علاوہ (اجتماعی شرائط سے قطع نظر)دوسروں کی کردار اور شمولیت سے ٹھیس محسوس کرتا ہوں اگر مجھے اپنی جگہ سے ہٹنے کے احساس سے بڑی تکلیف ہوتی ہے ۔توپھر کیسے مکالمہ ہو سکتا ہے ذاتی استعداد کا مکالمے کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں،
جو لوگ مکمل انکساری کو لیکر اپنی تمام حقائق کے ساتھ اپنے عوام کے پاس نہیں جاتے اور دوسری طرف اپنے آپ کو سب کچھ سمجھنے کی خوش فہمی میں مبتلا ہو کر ایک لمبے سفر کی تیاری کو لیکر اجارہ داری والے عزائم رکھتے ہیں۔تو یہ ایک ایسے منفی رویے کو جنم دیتا ہے جو صاف ظاہر جاہلیت کی نشاندہی کرتا ہے ۔ مکمل دانائی کے لیے دعوی داری از خود بدبختی کی نشادہی ہے ۔ انسانی بقاء کے لیے سائنسی اصول کیا یہ نہیں کہ آپ سب ملکر جو کچھ جانتے ہیں اس سے زیادہ اور بہترجاننے کی جستجوکو لے کر ہر وقت کوشش کریں۔مکالمہ انسانوں پر گہرائی سے تعین کا مطالبہ کرتا ہے ۔ اس کے بننے اور دوبارہ بننے اور بار بار بننے تخلیق کرنے اور تخلیق نو کرنے کے لیے مکمل انسان بننے تک خدادا انسانی صلاحیتوں پر یقین کا مطالبہ کرتا ہے ۔یہ صرف چند لوگوں یا ایک گروہ کا استحقاق نہیں ہوتا بلکہ یہ سب انسانوں کا پیدائشی حق ہے ۔ انسانوں پر یقین مکالمے کی بنیادی شرط ہے۔ مکالماتی انسان دوسرے انسانوں کا سامنا کرنے سے پہلے اس بنیادی شرط پر یقین ضرور دکھتا ہے ۔یہ بھی ضرور ہے کہ اس کا یقین سادہ لوحی پر مبنی نہ ہو۔ مکالماتی انسان تنقیدی ہوتا ہے اور وہ یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ جتنے مسائل ہیں وہ انسانی تعلقات سے تعلق رکھتے ہیں چاہیے وہ روایتی ہوں سیاسی یا اقتصادی ہوں اور یہ انسانی اختیار میں ہوتے ہیں
ان سے ڈر اور خوف کیسا ؟اگر کسی بھی قسم کے خوف نے اس یقین سے محرومی کو ممکن بنایا تو مسائل میں مزید بگاڑ ممکن ہیں۔ تو اس بھاگ دوڑ میں ہمیں یہ بات کا یقین اچھی طرح ذہین نشین کرلینا چاہیے کہ آج کی ہماری محنت اور قربانیاں کہیں جگہوں سے گھوم پھیر کر پھر سے غلامانہ محنت اورغلامانہ قربانیاں بن کرتاریخ کا حصہ تو نہیں بننے جارہے ہیں کیونکہ ہمارا مقصد تو مکمل آزادی دلانے کے لیے محنت کرنا اور قربانیاں دینا ہیں۔ اس یقین کے بغیر مکالمہ ایک مذاق بن جاتا ہے جو بدقسمتی سے روایتی اور غیر اخلاقی او ر غیر حقیقی نعروں میں چالبازی اور چالاکی سے مسخ ہو جاتا ہے۔آج ان آفاقی حقائق سے انکار کسی بھی سطح پر ہو وہ تخلیقی جدوجہد سے انکار ہے۔اس سوال پر بھی اشد غور کرنے کی ضرورت ہیں کہ کیوں سوشل میڈیا کو آج ایسا ڈراؤنا بنایا جارہا ہے ؟اور کیا سوشل میڈیا سے ڈرانے والے لوگ اسکی اہمیت افادیت اور حقیقت کو مسخ نہیں کررہے ہیں؟میری ناقص رائے کچھ یوں ہے کہ شاہد یہ مکالمے سے فرار کی بنیاد ہیں کیونکہ ایک ایسا پلیٹ فارم جس کی وسعت ہزاروں بلوچوں کی شرکت سے منسلک ہے۔اور مکالمے کے لیے اتنے بڑے اور وسیع پیمانے پر خیالات کا تبادلہ خیال کیسے نادر اور سنہری موقع نہیں ہو سکتا ہے۔اس میں ہمارے لیے بدقسمتی والی بات تو یہ ہے کہ اس کے لیے نظریاتی اور سیاسی بنیادوں پر کوئی ضابطہ اخلاق موجود نہیں،یہ ایک ایسے گھنے جنگل کی مثل ہے جس کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اکثر و بیشتر درندے اور چرندے پرندوں کی بولی میں شکار کرتے نظر آتے ہیں۔گذشتہ کچھ عرصے میں بلوچ قومی سیاست کے حوالے سے جو بحث مباحثے نتیجہ خیز بننے کی بجائے الجھاؤ اور پیچیدگیوں کا شکار بنے ہیں ان کے واضع وجوہات ہمارے شعور طرز عمل رویوں کے ساتھ ساتھ کچھ سابقہ پوشیدہ جنگی اور سیاسی مایوس مجاہدوں کی بھی مرحوم منت ہے جو ایک فریق کے آڑ میں اپنی حقیقی میدان کے ناکامیوں کے باعث فرار کی ندامت کو مٹانے کے لیے غیر سیاسی طرز پہ دوستوں پہ سوالات اٹھا کراپنی دل کی بھٹراس نکالتے آرہے ہیں۔میری ناقص رائے یہ ہے کہ کسی بھی مسئلے بابت اسکی سیاسی پہلو سے ہٹ کر غیراخلاقی اور غیر سیاسی پہلووں جنکی وجہ سے الجھاؤ پیدا ہونے کے خدشات ہوں اجتناب برتا جائے ۔سیاسی مسائل پر سیاسی اندا ز میں بحث مباحثوں میں جتنی بھی الجھاؤ ہو وہ شاہد نقصان دہ ثابت نہ ہوں۔ان حالات میں قومی راز اور قومی سیاست سے جڑے اہم احوال کی اہمیت سے قطع نظر انکو افشاں کرنے کا شعور میرے خیال میں سب کو اچھی طرح ہے۔جو بھی جو کچھ کررہا ہے وہ اپنے اعمال و افعال کا مکمل ذمہ دار ہو گا۔
0 comments:
Post a Comment