Thursday, 5 December 2013

آؤکہ اختلاف رائے پر اتفاق کریں۔۔۔ شاہ جی بلوچ


میرے خیال میں سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ بلوچ قوم کو اپنی سمت کا تعین کرناچاہئے اور یہ سمت آگے بڑھنے کا ہے اور آگے بڑھنے کیلئے سمت کا تعین ضروری ہے ممکنہ طورپر سمت کے تعین کے بعد بھی مسائل کا سامنا ہو لیکن یہ یقین ہے کہ وہ ضمنی مشکلات ہونگی جبکہ اگر سمت کا تعین درست نہیں تو ممکن ہے کہ ضمنی کامیابیاں ملیں لیکن یہ ضمنی کامیابیاں کسی کام کے نہیں۔بلوچ آزادی کی تحریک بندوق کے زور پر محض کسی کو اپنی بات پر متوجہ کرسکتی ہے کسی سے اپنی بات بندوق کے زور پر منوا نہیں سکتی پس ثابت ہوا کہ اصل مرکز بات سمجھانے کا ہے نا کہ بندوق کے ذریعے بات منوانا۔البتہ بندوق ضمنی پیداوار اور ضرورت ہے جبکہ بات ہی اصل مرکز ہے۔بندوق بات چیت مذاکرات کسی کو بات سمجھانے کیلئے راضی کرنے کی حدتک مدد گار ہے اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔البتہ آج کے تناظر میں بندوق اول وآخر کے طورپر زیرا ستعمال ہے جبکہ استدلال اور بات سمجھانے کا نقطہ مفقود نظر آتا ہے ۔ڈاکٹر اللہ نذرنے کہا ہے کہ کتاب اور بندوق میں کتاب کو اولیت دینگے،میر ے خیال میں یہ اس بات کا اظہار ہوسکتا ہے کہ ڈاکٹر کے ہاں بندوق حاوی نظر آرہاہے جہاں وہ بندوق اور کتاب کو موازنہ کے طورپر پیش کررہے ہیں جبکہ دوسری صورت میں کتاب اور بندوق کا کیا موازنہ ؟یہ موازنہ کسی شخص کے ہاں اس وقت کیا جاسکتا ہے جب وہ موازنہ کرنے والی اشیاء کو برابر سمجھے اور ان کو باہم مدغم اور مکس سمجھے۔ڈاکٹر نے بندوق اور کتاب کو برابر قرار دے کر ان میں سے کتاب کو اٹھانے کی بات کی۔ڈاکٹر اللہ نذر کی طرف سے بندوق اور کتاب کو موازنے(برابر) کے طورپر پیش کرنے اوران میں سے کتاب کو ترجیح دینے کی بات کہہ کر اول تو دونوں کو برابر قرار دیا اس کے بعد پھر ان دوحصوں میں سے ایک کو اپنے لئے پسند کیا،یہ ہمارے ہاں فکری کمزوریوں کے سبب ہے اور اس سے یہ بندوق کے حاوی ہونے کا بھی اشارہ ہے۔کسی مسلمان کو اس کے ایمان کے اوپر نیچے ہونے کی نشانیاں بتا دی گئی ہیں کہ جب دل اللہ کی یاد سے غافل ہونے لگے تو دل اور ذہن پر زور ڈال کر اللہ کو یاد کرواور دل میں اللہ کی جگہ جس شہ نے بھی لی ہے اس کا خیال دل سے نکالنے کا واحد طریقہ یہ کہ اللہ کا ذکر کیا جائے۔ممکن ہے کہ حقیقت میں بندوق کا خیال دل سے نکالنے کیلئے کتاب،کتاب اور کتاب کا ذکر کیاجارہاہو۔بندوق کے کثرت استعمال کے حوالے سے اس کے مضمرات سے ہٹ کر یہاں سیاسی کارکن کی تربیت کو اگر اہمیت دی جائے تو شاہد بہتر ہو کیونکہ جنگوں کے بعد قتل ہونے والے انسانوں کی یاد رہ جاتی ہے جبکہ جنگ کے اثرات سے قومیں یا انسانی گروہ کبھی نہیں نکل سکتے۔ سندھ میں محمد بن قاسم عرب سے وارد ہوا ہزاروں لاکھوں انسانوں کو روند ڈالا جبکہ آج ان انسانوں کے قتل کی تو محض یاد رہ گئی ہے لیکن نفسیاتی اثرات تاحال سندھ میں واضح ہے لوگ نیند میں بھی بن قاسم کے گھوڑوں کی ٹاپ کو محسوس کرتے ہوئے گہری نیند سے جاگ اٹھتے ہیں۔ چنانچہ آج مکران اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں مزاحمتی تنظیموں کی کارکردگی کسی کارکن کیلئے حوصلہ افزاء ضرور ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے نفسیاتی اثرات کیا ہونگے،اس عمل میں کسی سیاسی کارکن کی تربیت کیلئے نسل نو کی تعمیر نو کیلئے اس جنگ میں کچھ نفسیاتی اثرات ہیں کہ نہیں،ایسا سیاسی کارکن جو روزانہ کی بنیاد پر اپنی سیاسی پرورش کے مراحل طے کررہاہے اس کیلئے یہ مزاحمتی عوامل جنگ جنگ اور محض جنگ کے علاوہ بھی کوئی نفسیاتی اثرات چھوڑ رہے ہیں ا ور کیا وہ اثرات نومولود سیاسی کارکن تک پہنچ رہے ہیں اوروہ ان اثرات کو بہتر طورپر سمجھ رہاہے یعنی اس کے لئے ان اثرات کو تشریح بھی کی جارہی ہے کہ نہیں، قدم قدم پراس کی رہنمائی ہورہی ہے کہ نہیں،محض بندوق کی گھن گرج سے اس کی رہنمائی کیسے ممکن ہے،تحریک کا وہ سیاسی پہلو کہاں ہے جو مزاحمت کی رہنمائی کرے،یہ باتیں بھی تو ہماری تحریک کے فکری کہلانے والے حلقوں کی طرف سے ہی کی جاتی تھیں اور اخبارات کے صفحے بھرے پڑے رہتے تھے کہ بندوق سے نکلی گولی کی رہنمائی سیاسی تنظیم کریگی نہ کہ کوئی بندوقچی،آج وہ سیاسی تنظیم یا اس کی آواز کہاں ہے،کہیں وہ آمرانہ روایات کے تحت بندوق کے زد میں تو نہیں آئی،یہ کسی سیاسی کارکن کیلئے سمجھنا مشکل نہیں کہ آج سیاسی تنظیم کی آواز بندوق کی گولی کی آواز کے بعد واہ واہ کی صورت میں بلوچستان کے جنوب مغرب کے ایک مخصوص علاقے سے چند اخبارات کی دوکالمی خبر کی صورت میں سننے کو ملتی ہے جو سالوں سے گلے کی خرابی کا شکار نظر آتی ہے۔جس کو بندوق نے پہاڑوں میں کھینچ لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔کونسل سیشنز مزاحمتی کیمپوں میں ہوتے ہیں،ایک تویہ حالات کا جبر ہے دوسری جانب یہ آمریت بھی ہے کیونکہ بندوق بہر صورت فوجی ہتھیار ہے جو کمزورسیاسی آواز پر غالب آتی ہے۔ہمارے مقدس ادارے بی این ایم بی ایس اوآزاد اور بی آرپی آج کس طرح سے بی ایل ایف،اور بی آراے سے اپنی مغلوبیت کو چھپائیں گی، کیا کوئی مطنق یا جواز ہے اس بات کا،گویا بندوق کتاب پر غالب ہے جبکہ ایمان کی تازگی کیلئے کبھی کبھی بندوق سے کتاب کوترجیح دینے کی بات کی جاتی ہے،یہ بات چونکہ تحت شعور میں جاگزین ہیں کبھی کبھی عود کراظہار چاہتی ہے۔ضمناًمجھے یہاں بی ایس اوآزاد کے چیئر مین بلوچ خان کی بے بسی کی بات کرنی پڑ رہی ہے،سیاسی تربیت کے حامل کارکن یا رہنماء کیلئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ زندگی کے تمام اسرار ورموز سے کماحقہ واقف ہوتا ہے اور وہ ذاتی طورپر زندگی اور موت سمیت تمام انسانی فطرت کی پیچیدگیوں کوسمجھتا ہے،وہ کبھی حیرانگی اورسراسیمگی کا شکار نہیں ہوسکتا،چونکہ وہ کشادہ سوچ رکھنے والا ہوتا ہے وہ ہر طرح کے حالات کیلئے تیار رہتاہے اور آپے سے باہر نہیں نکلتا،وہ اپنی حکمت عملی سے کسی صورت پہلو تہی نہیں کرتا کیونکہ وہ قوم کا رہنماء ہوتا ہے،لیکن بلوچ خان مشکے اور آواران کے زلزلے کے اثرات سے اس قدر حیران ہوئے اور اثر لے بیٹھے کہ بی بی سی کے نمائندے کے آواران دورے کے موقع پر کیمرے کے سامنے آگئے،گویا بی ایس اوکی وہ حکمت عملی کہ چیئر مین خفیہ رہے گا،نام خفیہ ہوگا،حکمت عملی کے تحت چیئر مین یا عام کارکن کی کسی علاقے میں موجودگی تک کو خفیہ رکھا جائے گا اس کے برعکس کہ آواران میں زلزلہ سے قبل کے بی ایس او کے جلسے اور شہداء کے دن منانے کے اس دن چیئر مین بلوچ خان نہ صرف کیمرے کے سامنے آکر نہ صرف بلوچ خان نہ رہے بلکہ اپنی علاقائی لوکیشن بھی واضح کردی، اس دومنٹ کی ویڈیو میں کتنے بنیادی سوالات جنم لیتے ہیں اور کیا بلوچ خان سیاسی تنظیم کے چیئرمین ہونے کے ناطے ان سوالات کا جواب دینگے؟مجھے نہیں شاہد بی ایس او آزاد کے ان کارکنوں کو جن کو شاہد ابھی تک یہ نہیں پتہ کہ تنظیم نے خفیہ حکمت عملی کیوں اپنائی اور پھر اس کی خلاف ورزی کے اسباب کیا ہیں؟رضا جہانگیر کوجب شہید کیاگیا توان کی ایسی تصاویر سامنے آئیں جہاں ان کی لوکیشن اور مواصلاتی طورپر لوکیشن ٹریس کرنے کے آلات سمیت تصاویر لئے گئے تھے،یہ تصاویر نہ تو’’غیر مقدس اداروں کے لوگوں نے لی تھیں اور نہ ہی سیاسی تنظیم کے ایسے رہنماؤں کے آس پاس کوئی غیر مقدس ادارہ یاشخص وغیر نظریاتی(؟)شخص کا آنا جانا ممکن تھا،مقدس سیاسی اداروں کی موجودگی اور ہر طرف فکری حلقوں کی موجودگی کے باوجود ایسی غیر موثر حکمت عملیاں کیوں اپنائی گئیں،یہاں پھر وہی بات سامنے آتی ہے کہ سیاسی تنظیم عسکری تنظیم کے تابع ہے اور حکمت عملیاں بھی فوجی نقطہ نظر سے بنائی جارہی ہیں کیونکہ کسی مزاحمتی کمانڈر کیلئے تصاویر اتارنا بلوچ تحریک میں کوئی ممنوع امر نہیں،یہاں کبوتروں کوشانوں پر بٹھا کر بھی تصاویر لے کر ریلیز کی جاتی رہی ہیں،،لیکن کسی سیاسی کارکن کیلئے اول تو خفیہ ہونا سیاسی موت کے مترادف ہے،اس پر اگر کوئی یہ کہے کہ چونکہ حماس اپنے لیڈروں کو خفیہ رکھ رہی ہے تو بی ایس او نے بھی ایسا کیا،تو( حماس کے مسئلے کی نوعیت کے الگ ہونے سے قطع نظر)جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ حماس نے حکمت عملی کے تحت بلدیاتی انتخابات میں بھی حصہ لیا اور اپنے سیاست کو آج بھی جاری رکھی ہوئی ہے،لوگوں سے رابطہ میں ہے،دوسری طرف حماس کیوں ہمارے لئے آئیڈیل ہے؟اس نے اس حکمت عملی سے کون سے بڑے فائدے اٹھائے،اس خفیہ ہونے کی حکمت عملی کے باوجود حماس کے لیڈرکودبئی میں اسرائیلی انٹیلی جنس نے ہلاک کیا۔پھر بلوچ کیوں ہمیشہ
اپنے آپ کو دوسرے نمبر پر رکھ کر سوچتاہے کیوں بلوچ ایسا کچھ نہیں کرسکتا کہ حماس اس کی حکمت عملی اپنانے پر مجبور ہوجائے۔اپنے آپ کو ہر سطح پر دوسرے درجے پر پر کھنا ذہنی پسماندگی ہے ۔آئیڈیل ازم بھی ذہنی پسماندگی کا ایک پہلو ہے جو یہاں عام ہے ۔بلوچ مزاحمتی تحریک میں تو تصاویر کے اسٹائل بھی چے گویرا اور عبداللہ اوجلان سے مستعار لئے جاتے ہیں(ڈاکٹر اللہ نذر کا شانوں پر کبوتر بٹھا کر تصاویر کھچوانا زیر بحث نہیں)بلوچ خان نے بطور طلباء رہنماء حیرانگی کے عالم میں اپنے آپ کو ویڈیو میں ظاہر کرکے عام کارکن کیلئے کیا پیغام چھوڑا اوراس سے بی ایس او کا کارکن کیا اثر لے گا اس کی پرواہ شاہد بلوچ خان کو نہ ہو کیونکہ اسے ذاتی طورپر جوٹھیک لگا اس نے کیا، اور انہوں نے ہمیشہ ذاتی حیثیت میں فیصلے کئے ہیں ۔آج بی ایس اوکا لاپتہ ہونا خفیہ ہونا اور مخصوص سوچ رکھنا اس کی مثالیں ہیں۔وہ زلزلہ کے اثرات سے نفسیاتی طورپرشدید متاثر ہوا اورتنظیمی کی حکمت عملی کوبھول گئے،بلوچ خان نے وہ رویہ اپنایاجو عام انسان کاایسے ماحول میں ہوتا ہے۔ لوگ شدید طوفان زلزلوں اور آفات سے ڈرے اور سہمے رہتے ہیں،مذاہب کے وجود پر تحقیق کرنے والے بھی یہی کہتے ہیں کہ مذاہب کی بنیاد بھی ایسے قدرتی آفات ہوتے ہیں جن سے لوگ پریشان ہوجاتے ہیں انہیں کچھ سمجھ نہیں آتا جو سوچا ہوتا ہے وہ سب بھول جاتے ہیں۔جہاں لوگ ایک دم ڈراور سہم کر خدائے برتر کے ہاں سجدہ ریز ہوجاتے ہیں،مذہبی راہبوں کی قدموں میں گر کر گڑگڑاتے ہیں جس سے مذاہب بنتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں ۔لیکن بلوچ خان کو ایک رہنماء کے طورپر ایک رہنماء کا رویہ اپنانا چاہئے تھا جس کے تحت خواہ کوئی بھی حالات ہوں رہنماء اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھتا ہے بعض اوقات تو رہنماء کو اپنی قوم کی لاشوں سے گزر کر جنگ یا امن کا فیصلہ کرنا پڑتاہے اس وقت وہ جذبات سے نہیں دوراندیشی سے کام لیتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں عام انسان کے ہاں ہر واقعہ دل ہلا دینے والا ہوتا ہے وہ ہر واقعہ میں دنیا کا خاتمہ دیکھتا ہے انسانیت کا خاتمہ دیکھتا ہے تب ہی وہ اپنے سوچے سمجھے منصوبے پر عمل کی بجائے آپے سے باہر ہوجاتاہے اور جذبات اس پر غالب آجاتے ہیں،بلوچ خان اور ڈاکٹر اللہ نذر تو مذہبی رویوں کو قوم پرستی میں بھی اجاگر کررہے ہیں،بلوچ خان جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتے اور ڈاکٹر نذر بیرون ملک جانے سمیت تمام ایسی انسانی ضرورتوں کو عیاشی سے تعبیر کرتا ہے حالانکہ آج کے دور میں بیرون ملک اندرون ملک سفر کرنا رہنا عیاشی کے زمرے میں قطعی نہیں آتے یہ ضروریات زندگی کا حصہ ہیں۔تنگ نظری کے خاتمے کیلئے ماہر نفسیات اپنی معاشرے سے نکل کردوسرے معاشروں کودیکھنا لازمی قرا ردیتے ہیں۔ان کے خیال میں وسیع خیالات اس وقت آسکتے ہیں جب لوگوں کے بارے میں بیٹھے بٹھائے رویہ قائم کرنے کی بجائے انہیں قریب سے دیکھا جائے جبکہ ڈاکٹر اللہ نذر تعلیم یافتہ ہونے کتاب سے رہنمائی لینے کے باوجود اپنے بیرون ملک نہ جانے کی بات کرکے ہمیں ضرور حیران کرگئے ہیں کہ یہ کیسی کتاب ہے جو آپ کو جدوجہد کیلئے ایک علاقہ تک اور ایک طریقہ جدوجہد پر محدود کردے۔وسیع سوچ رکھنے والے کبھی ایسا قول یا وعدہ نہیں کرتے جو انہیں مستقبل میں نقصان دے یا اس کے اردگرد گھیرا لگا دے۔اب ڈاکٹر نذر تو بیرون ملک اپنے بلوچی قول کے مطابق نہیں جاپائیں گے چاہے کوئی بھی صورت ہو حالانکہ رہنماء ہو یاعام کارکن وہ جدوجہد کے سلسلے میں کہیں بھی جاسکتا ہے اور رہ سکتا ہے اور جدوجہد کے طریقے مختلف وسیع ہوتے ہیں اس قدر وسیع جس قدر انسان کے ذہن کی وسعتیں ہیں۔انسان اپنی فطرت میں انسانیت پسند ہے اور قوم پرستی بھی انسانیت پسند ہونے کی ایک شکل ہے۔ لیکن اصل مرکز انسانیت ہے۔ڈاکٹر نذر چے گویرا کا لقب لگانے کے بعدچے گویرا کی جدوجہد کے طریقوں سے انکار کررہے ہیں کیونکہ چے گویرا کتنے ملکوں میں جاکر جدوجہد کاحصہ بنے؟جہاں ضرورت محسوس کی وہ وہاں گئے اور جدوجہد کی۔اصل میں یہ ایک نفسیات ہے انسان کسی بھی تبدیلی کو دیکھ کر اول تو اسے قبول نہیں کرتا بمشکل اگر قبول کرلے توپھراس تبدیلی پرہی ایمان لاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ بس اور تبدیلی نہیں آئے گی یہی اول وآخر تبدیلی ہے تووہ تبدیلی پر عمل پیرا ہونے کا ہی قول کربیٹھتا ہے جبکہ وسیع ذہن والے تو ہمیشہ نئی تبدیلیوں کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ آواران میں ایک بہت بڑی تباہی آئی،لوگ مٹی تلے دب گئے، وہاں کے مناظر کوئی اس وقت تازہ تازہ دیکھتا تووہ بھی ہواس کھو بیٹھتا لیکن بلوچ خان تو ہمارے رہنماء ہیں،اس کو دیکھ ہی لوگوں کو حوصلہ ملنا ہے ،اس کے حوصلے کو دیکھ کر ہی قوم کو ڈٹے رہنا ہے،لیکن بلوچ خان نے تو اس کے الٹ کیا، بی بی سی نے آواران میں دوسرے لوگوں کا بھی انٹرویو کیا جو متاثرین تھے لوگ تھے ان کے جذبات سمجھ میں آنے والے تھے لیکن بلوچ خان کا طریقہ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ انہوں نے اپنی حکمت عملی کو کیوں ختم کیا۔میں نے کیمرے میں بلوچ خان کو دیکھا اوراس کا انداز دیکھا تو مجھے بلوچ خان جس کو میں ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سیپہلے سے جانتا ہوں پھر مجھے بات سمجھ آگئی کیونکہ بلوچ خان ذاتی طورپر کچھ زیادہ جذباتی واقع ہوئے ہیں۔بھرے جلسوں میں بھی انہوں نے اکثر ایسے جذبات سے کام لیا۔گالم گلوچ کا بھی استعمال کیا جس کا بی ایس او اوربلوچ سیاسی کارکنوں کو بخوبی اندازہ ہے۔ یہ ہماری مجموعی تربیت اور ماحول کا اثر ہے ۔ ہمیں الگ اور منفرد طریقے سے کچھ سکھانے کی بجائے دنیا کے ان لوگوں کے طریقے اپنانے کی جانب راغب کرکے نقالی کی تربیت دی جاتی ہے جن کے تجربے شاہد اب زائدالمعیاد ہوچکے ہیں ،چے گویرا چیئر مین ماؤ اور ہوچی منہ کی تعلیمات تو ہمارے کام آسکتی ہیں لیکن ان کا ذاتی انداز زندگی ہمارے کام کی نہیں جس کی وجہ سے بعضرہنماؤں کے اندر فکری خلاء اور کھوکھلا پن دکھائی دیتا ہے کیونکہ ان کے اندر اپنا کچھ نہیں ہوتا وہ جو طریقے استعمال کرتے ہیں وہ دوسروں کے طریقے ہوتے ہیں اور وہ اپنائے ہوئے ہیں ان کے اپنے نہیں ہیں ہر معاملے میں نقالی کی جاتی ہے ۔ان کاانداز کسی طرح سے بھی نیا اور جدید نہیں ،ان کا اندازانتہائی سادہ ہے اور ایسا لگتا ہے کہ کچھ نہیں بدل رہا۔اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایاجائے کہ جب بلوچ مزاحمتی تحریک نے پارلیمنٹ کو اپنے راستے میں رکاوٹ تصور کیاتوپارلیمانی جماعتوں کو قوم سے غداری کے مرتکب قرار دیاتو بی این پی نیشنل پارٹی اور بی این پی عوامی اپنا اعتمادکھوتے دیکھ کر حق خودارادیت کا نعرہ لگانے لگیں تو اس پر ایک لمبی بحث شروع ہوئی جوتاحال جاری ہے۔تمام آزادی پسند اس بات پر متفق تھے کہ حق خودارادیت کا نعرہ دراصل عوام کا اعتماد بحال کرنے اور اپنے آپ کو بلوچ سیاست میں بحال رکھنے کی کوشش ہے۔اس پر حق خودارادیت مانگنے والوں کو’’چور،، قرار دیا،یعنی تحریک آزادی کے فائدے حق خودارادیت کے نام پر حاصل کرکے حق خودارادیت والے چوری کررہے ہیں اوریہ لقب عبدالنبی بنگلزئی نے اپنی رہائی کے بعد دورہ مکران کے دوران پنجگور میں بی این ایم کے چیئر مین خلیل بلوچ کی موجودگی میں ایک سیمینار میں حق خودارادیت والوں کو دیا۔حق خودارادیت اور آزادی کی بحث میں سب نے بھرپور انداز میں حصہ لیا،بلوچ آزادی پسند رہنماؤں نے بھی بھرپور انداز میں حق خودرادیت کو آزادی سے الگ نعرہ قرار دیا،نواب مری ،حیر بیار مری اورڈاکٹراللہ نذر نے بھی حق خوداراردیت کے نعرے کو مسترد کردیا اور اس وقت انہوں نے اپنے حامی لوگوں کو اس بحث میں روکنے کی بجائے بھرپور اندازمیں حصہ لینے دیا۔البتہ براہمدغ بگٹی نے شروع میں اس بحث میں حصہ نہیں لیا لیکن جب یہ بحث عام ہوگئی تو براہمدغ کی پارٹی بی آرپی نے مقدس ادارہ کے طورپر مقدس اداروں کے اتحاد بی این ایف سے نکل جانے کو ترجیح دی ۔اور کہا کہ اختر مینگل پر تنقید وقت کا تقاضہ نہیں ،اس کے باوجود حق خودارادیت پر بحث جاری رہی،اور یہ سلسلہ جاری رہا کسی نے کسی کو اس میں حصہ لینے سے روکنے کا بیان نہیں دیا ،کیا رہنماء یا حامی سب کے سب اس بحث میں شامل رہے ۔بعد میں براہمدغ بگٹی نے بھی کہا کہ اختر مینگل بلوچ تحریک سے دور ہیں انہوں نے کہا کہ بی این پی کے شہید بلوچ قوم کے شہید نہیں اورا نکے بھائی جاوید مینگل کو بھی کہاکہ وہ اپنے والد اور بھائی سے تعلق کو واضح کریں پھر جاوید مینگل کو آزادی پسند تسلیم کیا جائے گا لیکن اس وقت وہ اپنے مقدس ادارے بی آرپی کے ذریعے مقدس اداروں کے اتحاد بی این ایف کو توڑ چکے تھے ۔حق خودارادیت سے پہلے اوراس کے بعد کہیں موضوعات پر بحث ہوئی لیکن ان مباحثوں میں ایک بات مشترک تھی کہ آزادی پسندوں نے کھل کر بات کی اور اپنی آراء کا اظہار کیا اور یہ کہا گیا کہ تحریک کی نظریاتی اور فکری شفافیت کیلئے یہ مباحثیں ضروری ہیں جو سمجھ میں آنے والی بات تھی ،لیکن مجھ جیسے کارکن کیلئے یہ سمجھنا مشکل ہے


کہ اب بی ایل اے کے دوستوں کی جانب سے اپنے اندرونی مسائل اور پیچیدگیوں پر بات کرنے کا جو آغاز کیاجاچکا ہے تویہاں وہ حلقے جو حق خودارادیت سمیت تمام مباحثوں میں پیش پیش رہے وہ آج اس بحث اور سوال وجواب کے مرحلے پر کیوں غیر سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں ۔بحث میں حصہ تو وہ آج بھی برابر رلے رہے ہیں لیکن اعلانیہ طورپر وہ اس بحث میں حصہ نہیں لے رہے وہ کہتے ہیں کہ یہ بحث قومی اتحاد کے خلاف ہے۔کوئی ان سے پوچھے ہر علاقہ میں ایک الگ تنظیم قائم ہے یہ قومی اتحاد ہے کہاں ذرا کتاب سے رہنمائی لے کر اس کی نشاندہی تو کی جائے۔خیر صاف چھپتے بھی نہیں نظرآتے بھی نہیں کے مصداق بحث میں حصہ نہ لینے کا اعلان کرنے والوں میں سے کوئی رہنماء سرمچاروں کو لیکچر دے کر حصہ لے رہا ہے تو کوئی مزاحمتی کمانڈر اپنے مضمون میں بحث بندکرنے کے احکامات دیتے ہیں ؟کمانڈر اختر ندیم نے تو یہاں تک کہاکہ وہ انتظار میں تھے کہ کب یہ بحث ختم ہو لیکن نہ ختم ہونے والے بحث پر انہوں نے آرٹیکل لکھ ڈالا ۔حق خودارادیت کے وقت انہوں نے ایسا آرٹیکل کیوں نہیں لکھا کہ خداراہ اس بحث کو ختم کیا جائے اس سے قومی اتحاد پارہ پارہ ہوجائے گااس سے قوم میں مایوسی پھیلے گی ،اچھا کیا کہ انہوں نے ایسا نہیں کہا کیونکہ میرے خیال میں بحث جب حق خودارادیت پر ہورہی تھی اس وقت بھی صحیح تھی اور آج جب آزادی پسندوں کے نظریاتی فکری اور انتظامی خامیوں پر ہورہی ہے تب بھی صحیح ہے ۔ڈاکٹر اللہ نذراپنے حامیوں کو اس بحث سے روکنے کی بات کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود لوگوں کی نسلوں تک پر بات ہورہی ہے ان کی بلوچیت پر شک کیا جارہاہے ( بلوچ کی تاریخ کا اگر صرف ایک مفروضہ سچ مان لیا جائے تو شاہد کوئی اپنی بلوچیت کو نسلی طورپر واضح کرسکے ) یہاں مجھ پر یہ واضح ہوتا ہے کہ ڈاکٹر نذر نے اپنے حامیوں کو صرف سنجیدہ بحث کرنے سے روکے رکھا ہے ورنہ تو تاجک پٹھان اور ازبک کی باتیں برابر سننے کو مل رہی ہیں (بلوچ کے نسلی قوم ہونے یا نسلی قوم ہونے کی بحث بھی ہونی چاہئے ایسے لوگ جو آج مقدس اداروں کے اہم عہدوں پر فائز ہیں وہ اپنے آپ سے اس بحث کا آغاز کریں تو میرے خیال میں بلوچ کے نسلی کے بجائے غیر نسلی قوم ہونے کا نتیجہ سامنے آئیگا۔بحث کسی بھی بات پر ہونی چاہئے لیکن دلیل منطق اور سنجیدگی ضروری ہے ) مجھے کسی کو کچھ بھی کہنے پر کوئی اعتراض نہیں کوئی کچھ بھی کہہ سکتا ہیکیونکہ یہ ہماری سیاسی تربیت کا نتیجہ ہے جو سامنے آرہاہے ‘کم ازکم اصلاح کی ضرورت تو محسوس ہورہی ہے لیکن اصل بات اصل موضوع اور مسائل پر بات کرنے کی ہے جس سے دانستہ پہلو تہی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔مقدس اداروں کی حالت پاکستانی سیاسی پارٹیوں جیسی ہے جو فوج پر تنقید اور اس سے الگ سیاسی نظام میں آنے کی طاقت نہیں رکھتے ۔میر ے سوالات بی ایل اے اور سنگت حیر بیار مری سے متعلق بھی ہیں لیکن چونکہ وہ خود تجویز دے چکے ہیں کہ اس حوالے سے کمیٹی بنائی جائے تو وہ اپنے سے متعلق سوالات کے جوابات دینے کیلئے تیار ہیں گویا جب وہ اس سنجیدہ کوشش پر راضی ہیں تو میرے خیال میں ان سے ہر فورم پر بات ہوسکتی ہے اوران سے سوالات کئے جاسکتے ہیں ۔البتہ بی ایل اے خود اپنی حکمت عملیوں کی غلطیوں کا وقتاً فوقتاًاوپن اظہار کیا ہے ۔ یہ بحث مباحثہ بھی ان کی طرف سے شروع کیا گیا ہے اور ان پر بھی برابر سوالات آرہے ہیں اور وہ جواب بھی دے رہے ہیں ۔لیکن دوسری طرف ڈاکٹر اللہ نذر براہمدغ اور جاوید مینگل سے متعلق سوالات کا جواب زربیار ،اسلم تاجک اور ایسے غیر سنجیدہ القابات کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔سمجھ میں نہیں آرہاحق خودارادیت پر ان مذکورہ بالاحلقوں بالخصوص ڈاکٹر نذر کے حلقے کی قلم روکنے کا نام ہی نہیں لیتی تھی وہ کیوں آج کے اندرونی بحث کیلئے تیار نہیں؟ وہ کیوں اختر مینگل ڈاکٹر مالک کی نسلوں پر بات نہیں کرتے تھے انہیں کیوں اس بحث میں گالی نہیں دی گئی؟ان کو اس لئے گالی نہیں دی گئی کہ حق خودارادیت پر ڈاکٹر نذر اوران کے حامیوں کے پاس علمی طورپر بحث کرنے کے لئے بہت مواد تھا اوروہ چاہتے تھے کہ آزادی اور حق خودارادیت کے حوالے سے شفافیت آئے اوروہ اس بحث میں مخلص تھے تب ہی اس بحث کا معنی خیز نتیجہ بھی نکلا وہاں مالک اور اختر کی نسلوں پر بات ہی نہیں گئی کیوں کہ سنجیدہ بحث میں غیر سنجیدگی اور منطق اور دلیل سے ہٹ کر کسی بات کے آنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہوتی لیکن آزادی پسندوں کے اندر شفافیت کی بحث کا نمبر آیا توڈاکٹر اوران کے حامی غیر سنجیدہ ہوگئے ، کیا وہ تحریک میں نظریاتی تنظیمی سیاسی اور انتظامی شفافیت لانے کیلئے تیار نہیں۔ دوسروں (حق خودارادیت )پر تنقید جائز اپنے اوپر تنقید قومی اتحاد کے خلاف قرار دینے کی پالیسی کو دوغلی پالیسی ہی کہا جاسکتا ہے یا پھر اگر بی ایل اے غلطیوں کی مرتکب ہورہی ہے تو اسے روکنے اورا س کی نشاندہی کے فرض سے ڈاکٹر اللہ نذر کس طرح پہلو تہی کرسکتے ہیں اور ڈاکٹر یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ بی ایل اے بھی ٹھیک کام کررہی ہے اور دوسرے بھی ٹھیک کیونکہ یہ بھی دوغلی پالیسی ہوگی ۔کہیں تو خرابی ہے جہاں تنظیم پر تنظیم بنتی جارہی ہیں ۔سیاست اور مزاحمت کے علاقائی مراکز وجود میں آرہے ہیں ،لوگوں کو الگ الگ گروہ بنانے پر راغب کیا جارہاہے ۔سب ٹھیک ہے کی پالیسی غلط ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کہیں پرتو غلطی ہے جس کی نشاندہی وقت کی ضرورت ہے ۔ماضی کی تحریکوں پر نظر ڈالی جائے ان کی ناکامیوں کی ذمہ داری کیوں کوئی اٹھانے کیلئے تیار نہیں ۔پنجابیوں کے نکالنے کا کریڈٹ سردار مینگل مزے سے لیتے رہے لیکن ناکامی کی ذمہ داری کسی نے نہیں لی۔ڈاکٹر صاحب کہیں پر کچھ نہ کچھ غلط ضرور ہورہاہے اوراس کی نشاندہی نہ کرنا بہت کچھ غلط کرنے دینے اور ہونے دینے کے مترادف ہے ۔بے شک بی ایل اے پر بات آجائے لیکن خداراہ نشاندہی ضروری ہے ۔بی ایل اے بھی انسانوں کی بنائی ہوئی تنظیم ہے ،اور یہی انسان پھر سے بی ایل اے کو بناسکتے ہیں ،بی ایل ایف بناسکتے ہیں لیکن جب یہی انسان مایوس ہوگئے غلطیوں کا سراغ نہ لگایاجاسکا تو یقین جانیئے نہ تو بی ایل اے بن پائے گی اور نہ ہی بی ایل ایف کی بنیادیں مضبوط ہونگی ۔میں اگر یہ کہوں کہ اس وقت غلطیوں کی نشاندہی نہ کرنا ہی سب سے بڑی غلطی ہے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ ماضی کی تحریکوں کی ناکامی کی بنیادی وجوہات غلطیوں کا تعین نہ ہونا ہے ۔ڈاکٹر اللہ نذر کے اس بیان کو کیسے مفاداتی سیاست کا نام نہ دیا جائے کہ پہلے تو کہا کہ حیر بیار صاحب نے جو چارٹر پیش کیاہے وہ بہترین ہے سب کو اس کی حمایت کرنی چاہئے۔لیکن بعد میں کہاکہ چارٹر تو سب کے پاس ہے ،حیر بیارکے پاس بھی ،بی این ایم کے پاس بھی بی ایل ایف کے پاس بھی اور سب کے پاس۔ڈاکٹر صاحب کو سیاسی جرات کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور کہہ دینا چاہئے کہ بی ایل ایف کا چارٹر ہی سب سے بہتر ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو بی ایل ایف کا سربراہ قرار دے چکے ہیں تو کیوں سب کے چارٹر کو صحیح بھی کہتے ہیں وہ کیوں پھر تمام چارٹروں کو ضم کرکے ایک چارٹر بنانے کی بات نہیں کرتے ۔غیر سنجیدگی کی انتہاء ہے اوردوسری طرف سرمچاروں کو لیکچر کے نام پر زبان بندی کی تربیت دے رہے ہیں ،قومی اتحاد کے نام پر یونائیٹڈ بلوچ آرمی جیسی تنظیموں کے وجود کو خاموشی سے تسلیم کیا جارہاہے،تو میرے خیال میں اگر یہ فراخدلی جاری رہی تو یہ بلوچ قومی فوجی قوت پارہ پارہ ہوجائے گی ۔بی ایل ایف سے خائف گروپس بھی یوبی اے بن سکتے ہیں ۔اگر حیر بیار مری کی سیاسی غلطیوں سے کسی کو اختلاف ہے تو وہ بھی کھل کر سامنے آنے چاہئے اور ڈاکٹر نذر کو قوم پر احسان کردینا چاہئے کہ وہ زبان بندی کی بجائے حقائق سامنے لائیں ۔کیا وجہ ہے کہ بالاچ مری کی شہادت کے فوراً بعد حیر بیارمری اطلاعاً یہ کہتے ہیں کہ براہمدغ نے بی ایل اے کی کمان سنبھال لی ہے اور بلوچ قوم اس کا خیر مقدم کرتی ہے اس وقت جب ریاستی قوتیں پروپیگنڈہ کے طورپر براہمدغ کو بالاچ کا قاتل قرار دینے کی کوششوں میں مصروف تھیں یہ ان کے منہ پر طمانچہ تھا ۔بی ایل اے جو قومی فوج کے طورپر اس وقت بھی موجودتھی تو اس کے کمان براہمدغ کے حوالے کرنے کے بعد وہ کون سی مجبوری تھی کہ براہمدغ کو بی ایل اے کی بجائے بی آراے کو بنانا پڑا۔اسے کیا نام دیا جائے ،بی ایل اے سے عدم اتفاق یا علاقائی اور ذاتی پہچان کی خواہش کہ جس پر بی آراے کو بنایاگیا اور بی ایل اے جیسی تنظیم کی بجائے الگ تنظیم بنائی ۔ براہمدغ کو اخلاقی جرات کا مظاہر ہ کرنا چاہئے تھا کہ وہ کیوں بی ایل اے کی کمان سنبھالنے کی بجائے بی آر اے کو بنانے پر مجبور ہوگئے اگر حیر بیار کی اس میں غلطی ہے تو اس کو براہمدغ کیوں سامنے نہیں لاتے دوسری صورت میں ذاتی قبائلی اور علاقائی شناخت کی ضرورت کے تحت بی آراے کا وجودعمل میں آیا۔یوبی اے کے چلانے والے بھی آج اخلاقی سیاسی اور قومی جرات کا مظاہر ہ کرکے اصل حقائق سامنے لائیں کہ انہیں بی ایل اے کی بجائے یوبی اے کیوں بنانی پڑی ۔یہ قوم پر بہٹ بڑے احسانات ہونگے ۔بی ایل اے اور اس کی قیادت آسمانی مخلوق نہیں اگر ان کی غلطیاں ہیں انہوں نے قوم کے مفاد سے ہٹ کر کام کیا ہے تو اس کو ضرور سامنے آنا چاہئے ۔اصل بات رویوں اور مزاج کا ہے جو قومی ونظریاتی نہیں بلکہ ذاتی شناخت علاقائی تشخص اور ہیروازم کے ہیں جو پسماندہ معاشرے کا بنیادی خاصہ ہیں البتہ ان سے نکلنے کیلئے 
اپنے سیاسی ونظریاتی روش اپنانی ہوگی اور اس کا طریقہ یہ کہ قدم قدم پر اپنے آپ پر جھانکنا اور یہ دیکھنا کہ جو قدم اٹھایا گیا اور جو اٹھایاجارہاہے ان میں کوئی پسماندہ شہ ملاوٹ تو نہیں ۔اس کے لئے باربار اپنے آپ کو مجموعی جائزہ کے لئے پیش کرنا بنیادی اور لازمی ہوتا ہے۔ اندر کا انسان ضمیر اس کام کو بخوبی انجام دے سکتا ہے لیکن اس کے لئے بنیادی شرط یہ کہ فکری طرز سے سوچنے کا ارادہ ہوورنہ ہیروازم اور ذاتی وعلاقائی پہچان اس تحریک کو بھی لے ڈوبے گی قطع نظر پس منظر بی ایس او کے چیئرمین ہونے کا ہو طبقاتی طورپر مڈل کلاس سے تعلق ہو،نظریاتی طورپر بدلنے بھی بھی تڑکا ہو ۔تو اس کے باوجود مجھے حیرانگی ہے کہ دوسروں پر تنقید پر تو کھلے عام بحث کی گئی ، حق خودارادیت والوں کو تحریک سے دور قراردیاگیا،براہمدغ نے بی این پی کے شہیدوں کو قبائلی شہید قرار دیا۔یہ منطقی بات تھی کہ یہ حق خودارادیت کی بحث آگے بڑھ کر آزادی پسندوں کے اندرونی تضادات کو بھی میدان میں کھینچ لائے گی لیکن پھر بھی یہ وسیع النظر کتاب سے رہنمائی لینے والوں کو اس کا ادراک نہیں ہوا کیا انہیں یہ پتہ نہیں تھا کہ دوسروں کی غلطیوں پر بات کرتے کرتے ایک دن اپنے آپ پر بھی نظر پڑے گی اور اگر اپنے آپ پر نظر پڑے گی تو اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے نہ کہ پہلے کمانڈروں سے مضمون لکھوایا گیا کہ خاموش ہوجا ؤپھر جب بات نہ بنی تو سرمچاروں کو لیکچر داغ ڈالاگیا۔ ۔ویسے مجھے اس لیکچر جو بعد میں ایک بیان بن گیا اس میں ڈاکٹر اللہ نذر کو میں نے سحر میں مبتلا پایا کہ بس لوگ شادی بیاہ میں دلہا دلہن کی تعریفیں کرنے کی بجائے ہماری(سرمچاروں کی) تعریف کرتے ہیں ،لوگ ہمیں اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہیں ،وغیر ہ وغیر ہ۔تو میں ڈاکٹر صاحب سے ایک سوال پوچھوں کہ ڈاکٹر صاحب کیا یہ تعریفیں آپ سرمچاروں کیلئے سرٹیفکیٹ اور سند ہیں کہ عوام میں کوئی بے چینی نہیں وہ تو بہت خوش ہیں اگر اس کا مطلب یہ تو میرے خیال میں عوام اس وقت بھی کسی اور بلوچ لیڈر کے گن گاتے تھے جب مکران کا لیڈر ڈاکٹر عبدالحئی اور ڈاکٹر مالک ہوا کرتے تھے ،وہ ان سے بڑے خوش تھے ،تو پھر یہ لڑائی شروع کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ؟اصل بات یہ ہے کہ عوام مجموعی طورپر سادہ لوح ہوتی ہے جو حالات کے رحم وکرم پر ہوتی ہے یہ تو نظریاتی اور فکری لوگوں پر مشتمل تنظیم ہوتی ہے جو عوام سے بالا ہوکر سوچتی ہے اوران کی راہیں متعین کرتی ہے کہ عوام کیلئے جنگ کی ضرورت ہے یا امن ۔یہ ایک تنظیم کا کام ہوتی ہے نہ کہ عوام کاخود۔خود عوام کو آپ آج چھوڑ دیں وہ آپ سے احتساب بھی نہیں کرینگے وہ پھر کسی کی راہ لیں گے پھر کوئی ڈاکٹر عبدالحئی یا ڈاکٹر مالک اور اختر مینگل ان کا لیڈر ہوگا اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا ۔عوام پر تکیہ کرنا کسی نظریاتی رہنماء اور لیڈ ر کاقطعی کام نہیں ۔بی ایل ایف کے سربراہ کہلانے کے ناطے ڈاکٹر صاحب سے میں اپنی دانست کے مطابق دست بستہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ کھل کر اپنا موقف بیان کریں تا کہ ان کا نقطہ نظر سامنے آجائے ورنہ سب کو خوش رکھنے کی کوشش یا پھر اندرونی طورپر الگ پہچان کی تگ ودو ہو اور ظاہری طورپر وہ قومی اتحاد واتفاق کی غیر عملی باتوں کا ورد کریں تو یقیناًاس سے تضادواضح ہوکر سامنے آتا ہے ۔مجھے ڈاکٹر کے بیانات میں مسلسل تضاد نظر آرہاہے اوروہ مسلسل اپنی وضاحت کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ہر وضاحت سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں جبکہ انہیں صرف ایک سوال کا جواب دینا ہے کہ ان کی نظر میں (کسی رہنماء کی حیثیت میں نہیں صرف سیاسی کارکن کی حیثیت سے )کیا غلط ہے اور کیا صحیح ؟جب تک وہ اس سوال کا واضح جواب نہیں دینگے انہیں ہزار وضاحتیں کرنی ہونگی اور ہزار بار تضاد کا شکار ہونا ہوگا ۔یہ میں نہیں کہتا یہ سیاسی سائنس کہتی ہے جس پر کتاب سے رہنمائی لینے والوں کا پکا یقین ہے ۔ڈاکٹر لیڈر بن رہے ہیں لیکن علاقائی پہچان اور شناخت
کے طورپر نا کہ ایک قومی رہنماء کے طورپر ۔آج یہ ہونا چاہئے تھاکہ جعفر آبا د ڈیرہ بگٹی کوہلو بولان اور قلات کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ان سے خوف کھاتی نا کہ محض آواران کے حوالے سے نہیں ،یہ ہمارے علاقوں کی ضرورت ہے کہ انہیں کوئی ایسی شخصیت مل جائے یا شخصیات کی ضرورت ہے کہ انہیں ایسے علاقے مل جائیں جو ان کے نام سے جانے جاتے ہوں اور یہ سیاسی نظام میں ایڈجسٹ ہونے کیلئے ضروری ہے ۔ایک ایسے پارلیمانی سیاست کا شوق رکھنے والے شخص کو جانتا ہوں جو گزشتہ 15سالوں سے تین علاقوں میں اپنی سیاسی پہچان بنانے کی کوشش کررہاہے کبھی کس علاقے سے الیکشن لڑنے کیلئے میدان میں اتارتا ہے تو کبھی کس علاقے سے ،ان تینوں علاقوں میں ان کی برادری کے لوگ تھوڑی تھوڑی تعداد میں آباد ہیں تو یہ بے چارہ کبھی کسی علاقے میں جاکر اپنی برادری کو آزماتا ہے تو کبھی دوسرے علاقے میں ۔برادری بھی بیچاری شخصی شناخت سے محروم ہے وہ بھی چاہتی ہے کہ یہ شخص ہماری پہچان بن جائے لیکن انہیں مشکل یہ ہے کہ وہ برادری ایک انتخابی حلقے میں نہیں ہیں کہ اپنے محبوب رہنماء کو الیکشن جتوا سکیں۔سو یہ شخص اس بار بلدیاتی انتخابات میں دوسرے علاقے سے الیکشن لڑرہے ہیں کیونکہ انہوں نے پچھلا صوبائی اسمبلی کا الیکشن پہلے والے علاقے سے لڑا تھا ۔یہ علاقائی اورشخصی پہچان کے لازم وملزوم ہونے کا چکر دیکھ کر آواران کو ڈاکٹر صاحب کے نام کرکے مجھے سب سمجھ آرہاہے اوروہ یہ کہ کچھ نہیں بدلا،بدلا تو بس ایک علاقے کو ایک شخصی پہچان اور ایک شخص کو علاقائی پہچان ، اور وہ بھی ڈاکٹر کا آبائی علاقہ ہے ناکہ سیاسی طورپر فعال رہنے کی وجہ سے ان کے نام سے پہچان پایاہے حالانکہ ڈاکٹر اللہ نذر نے اپنا سیاسی وقت زیادہ تربت اور کوئٹہ میں گزارہ ہے ۔اوراس حوالے سے ان سے بہت سے لوگوں کی یادیں وابستہ ہیں ۔اس سے زیادہ اس ڈویلپمنٹ میں مجھے کوئی فکری ونظریاتی ترقی نظر نہیں آرہی کہ ایک علاقے کوشخصیت کی پہچان اور شخصیت کو علاقائی پہچان مل گیا اور یہ ان کا آبائی علاقہ ہے عین کوہلو وڈھ اور ڈیرہ بگٹی کی طرح۔میں اپنی دانست کے مطابق یہ بھی کہوں کہ یہ تبدیلی ڈاکٹر کو محدود کرنے کاسبب بنے گا کیونکہ نواب مری جس قدر اپنی فکری اورنظریاتی اصولوں کے باعث بلوچستان بھر میں مقبول ہیں لیکن انہوں نے جو شناخت اپنے علاقے کے حوالے سے پائی تو وہ آ ج تک برقرار ہے نواب بگٹی اور سردار مینگل کیلئے بھی ہوا کہ یہ شخصیات تحریک کے حوالے سے جس قدر قومی رہنماء سمجھے جاتے رہے لیکن اندرونی طورپر علاقائی پہچان سے آگے نہیں بڑھ پائے ۔یہ بات شاہد بعض لوگوں اور حلقوں کو ہضم نہ ہولیکن یہ میرا نقطہ نظر ہے اور میں اپنا نقطہ نظر بیان کررہا ہوں اورکسی کے بھی اختلافات کو خوش آمدید کہوں گا ۔براہمدغ بگٹی کا رویہ دیکھا جائے تو وہ بھی نوابی کا لفظ اپنے نام کیساتھ لگائے بغیر نہیں رہ پارہے۔یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وہ نوابی ضرور چاہتے ہیں اگر ایسا نہیں ہے تو کوئی ان سے یہ سوال کرکے دیکھیں تو کیاجواب آتا ہے۔ کیونکہ وہ نظریاتی اور فکری بنیاد کی بجائے قبائلی شناخت اور ساخت پر روز اول سے انحصار کررہے ہیں اور بلوچستان کے مخصوص معاشرتی بنیادوں کے تحت ایسا کیا جائے تو ٹھیک ہے لیکن روز بروز ترقی آنی چاہئے ناکہ قبائلی ساخت کو مزید مضبوط سے مضبوط تر کیا جائے۔ سردار مینگل کو بھی کسی زمانے میں پوری بلوچ قوم ووٹ دیتی رہی ہے ،لیکن آج اخترمینگل بلوچستان کی بجائے وڈھ کی فکر میں کیوں ہلکان ہوئے جارہے ہیں ۔ویسے اختر مینگل اور ڈاکٹر اللہ نذرکو آج کل ایک ہی مسئلہ درپیش ہے وہ یہ کہ دونوں قابل احترام رہنماء اپنے اپنے آبائی علاقوں تک محدود ہوکر اپنے سیاسی ساکھ کی بحالی میں مصروف ہیں،ڈاکٹر اللہ نذر کی پوزیشن گوکہ اخترمینگل سے کچھ مختلف ضرور ہے لیکن مجموعی طورپر دونوں شخصیات اپنے آبائی علاقوں کیلئے 
حساس ہوتے جارہے ہیں۔ اگر اللہ نذر محض آواران کی شناخت پاچکے تو تربت اور خاران میں قطعی نہیں پھیل پائیں گے لہٰذا علاقائی شناخت سے جس قدر ہو بچا جائے یہ حیر بیارمری کیلئے بھی زہر قاتل ہے یہ


براہمدغ اور اللہ نذر کیلئے بھی ۔اختر مینگل خضدار میں اپنے کارکنوں کی تعزیت تک نہیں جاسکتے لیکن وڈھ کی کلی کلی میں ان کا گشت جاری ہے کیونکہ انہوں نے علاقوں کو بنیاد بنا کر ہمیشہ سیاست کی ہے تو مشکل وقت میں تربت نوشکی اور ماشکیل کی بجائے اس بنیادی علاقے کو بچانے کی کوشش کرینگے جس کی بنیاد پر وہ اپنی پہچان رکھتے ہیں ۔تربت اور کوہلو کو چھوڑیں اختر مینگل تو خضدار سے بھی دستبردارنظرآتے ہیں ۔میں حیر بیار مری کے ان اقدامات کا معترف ہوں کہ انہوں نے اس علاقائی پہچان ،شہداء سے خونی وابستگی سے دستبرداری جبکہ سنگتوں پر اعتبار جیسے اقدامات حوصلہ افزاء ہیں ۔ آج کل جو سیاسی رواج چل رہاہے کہ کوئی تنقید نہیں کرتا بس آگے گھسنے کی کوشش میں لگا ہے اس ماحول میں حیر بیار نے بالاچ سے خونی وابستگی کی بجائے اسے گمنام شہداء کیساتھ شمار کیا ،(بالاچ شہید کے نام کو لے کر یوبی اے نامی تنظیم کابازاروں میں ہونے والے دھماکوں کو بالاچ کے نام سے منسوب کرناحیران کن نہیں کیونکہ ایسی تنظیموں کو ایسے عوامی مقامات پرکارروائیوں اور شہیدوں کے ناموں کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ عوام کو اپنی طرف متوجہ کرسکیں۔شہید کے افکار پر عمل پیرا ہوکر عوام کو نظریاتی طورپر متوجہ کرنا آج وقت کی ضرورت ہے ناکہ کسی شہید کو اپنی تنظیم کی بنیاد قرار دینا جائز سیاسی عمل ہے۔ لشکر بلوچستان آج تک اپنے اس شارٹ کٹ اور دورنگی طریقے کی وجہ سے عوام کی توجہ حاصل نہ کرسکی)حیر بیارمری نے خونی رشتوں کو یکسر عوامی فورمز پر مسترد کردیا ، لیکن مجھے حیرت براہمدغ بگٹی کے رویئے پر ہوتی ہے کہ وہ قبائلی سوچ رکھتے ہیں توزیادہ سے زیادہ نوابزادہ کہلا سکیں گے لیکن قبائلی روایات کے مطابق بھی وہ نواب نہیں بن سکتے کیونکہ نوابی کا جوسلسلہ رائج ہے اس کے تحت عالی نواب ہے ۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے ہمیں تسلیم کرنا ہوگا ،لیکن سارازور نواب کہلانے پر ہے ۔بی آرپی کے پہلے اور آخری کونسل سیشن جو کوئٹہ میں ڈگری کالج میں ہوا میں بھی شوق سیاست میں اس اجلاس میں شریک رہا۔اس اجلاس میں براہمدغ کو نواب قراردینے کی قرار دادمنظور کی گئی اور وہی حیر بیار مری کو بین الاقوامی سفیر مقررکرنے کی بھی قرار داد پاس کی گئی لیکن مقدس ادارے کے طورپر بی آرپی نے نوابی والے قرار داد کو تو یاد رکھا ہوا ہے لیکن حیر بیار مری والے قرا رداد کوشاہد بھول گئی ہے۔آج حیر بیار مری والے قرار دادکی شاہد وقعت بھی باقی نہیں رہی ۔ 
گزشتہ دوتین سالوں سے ایک سلسلے پربھی شاہد کسی نے غور کیا ہو،بلوچستان کی اگر کبھی بات کی جاتی تھی تو کہا جاتا تھا کہ وڈھ کوہلو اور ڈیرہ بگٹی سیاسی طاقت کے مراکز ہیں ۔اس رویئے کو اسٹیبلشمنٹ نے جس قدر اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا اور بلوچ قومی تحریک کو بلوچستان کے طول وعرض میں پھیلانے میں اس رویئے کو رکاوٹ کے طور پر استعمال کیا اس سے شاہد ہی کسی کو انکار ہو۔اس سے عام لوگوں میں بھی یہ تاثر ابھرتاتھا کہ بلوچ سیاست کے تمام فیصلے ان علاقوں میں کئے جاتے ہیں اور جب تک ان علاقوں اورا ن علاقوں کی شخصیات نواب بگٹی ،نواب مر ی اور سردار عطاء اللہ مینگل فیصلے نہیں کرینگے تو مکران ،رخشان بولان اور دیگر بلوچ علاقوں کے عوام رہنمائی سے محروم رہیں گے ۔اس پختہ اور عملاً نافذ اس سلسلہ نے بلوچ سیاست کو یقیناًنقصان پہنچایا اور نواب مری کے علاؤہ شہید اکبر خان اور سردار عطاء اللہ مینگل نے اپنی علاقائی طاقت کے بل پر پورے بلوچستان کی رہنمائی کے طورپر موجود رہے ۔نواب مری پارلیمانی سیاست میں زیادہ ت
ر حصہ نہیں لے سکے جس سے وہ اس عمل سے مذکورہ بالا شخصیات سے کسی قدر کم اپنی علاقائی حیثیت کو بلوچستان کے تناظر میں استعمال کیا البتہ مزاحمتی جدوجہد کی اپنی الگ تاریخ ہے اوروہ سیاسی تنظیم سے بڑھ کر قبائلی تنظیم کو زیادہ اہمیت حاصل ہونے کی بات ضرور کرتے رہے ہیں،نواب بگٹی نے اپنی مزاحمتی جدوجہد کا آغاز مکران مشکے آواران اور لسبیلہ کی بجائے ڈیرہ بگٹی سے ہی کیا ۔آج سردارعطاء اللہ مینگل کے صاحبزادے پارلیمانی مہم جوئی کا مرکز بھی وڈھ کو ہی سمجھتے ہیں ۔اختر مینگل کی گزشتہ سال سے وڈھ میں بیٹھ کر عوام سے رابطہ رکھنے سمیت دیگر سرگرمیوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے ۔لہٰذا آج ان علاقائی مراکز میں ایک اور اضافہ دیکھنے کو مل رہاہے اور وہ ہے آواران جہاں ڈاکٹر اللہ نذر بلاشبہ اس علاقے میں عوام میں اپنی مقبولیت رکھتے ہیں ،جہاں وہ بھی اس علاقے کیلئے دیگر علاقوں سے زیادہ حساس نظر آتے ہیں ۔اس کا اظہار حالیہ آواران میں آنے والے زلزلہ سے لگایاجاسکتا ہے جہاں اسٹیبلشمنٹ اور حکومتی ادارے شدومدسے علاقے کو ڈاکٹر اللہ نذر کا علاقہ کہنے میں عار محسوس نہیں کررہے ۔جبکہ دوسری جانب یہی اسٹیبلشمنٹ روز روشن کی طرح کوئٹہ کے مین چوراہے یا کسی بھی علاقے میں ہونے والی مزاحمتی کارروائی کو مستردکرتی رہی ہے لیکن اسی پالیسی کے ہوتے ہوئے علاقے کو عبدالقدوس بزنجو یا خیر جان کا علاقہ کہنے کی بجائے ڈاکٹر اللہ نذر کا علاقہ کہنے میں اسٹیبلشمنٹ اور ریاستی ادارے کسی طرح سے بھی پیچھے نہیں(ڈاکٹر مالک اور اسٹیبلشمنٹ جمہوری روایات کے تحت اسے قدوس اور خیر جان کے نام کرتے تو حیرانگی نہیں ہوتی) ۔بی بی سی کے ایک پروگرام میں نام نہادامدادی سرگرمیوں کے انچارج فوجی افسر یہ کہہ رہے تھے کہ چونکہ علاقہ ڈاکٹر اللہ نذر کا ہے اور ہم انہیں دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے عوام کی خاطر فی الوقت امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہ ڈالنے کا اعلان کریں ۔وزیراعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ نے بھی ذاتی طورپر ڈاکٹر اللہ نذر کا نام لے کر علاقہ کوا ن سے منسوب کرتے ہوئے انہیں امدادی سرگرمیوں پر حملے نہ کرنے کی اپیل کی ۔دوسری جانب جناب ڈاکٹر اللہ نذر بھی اس عمل میں پیچھے نہیں رہے ۔ذاتی طورپر اپنے نا م سے پریس ریلیز تک جاری کرتے رہے ۔اب تک جاری کررہے ہیں۔بی بی سی اور دیگر نشریاتی اداروں سے ذاتی حیثیت میں بات کرنے کا مشق الگ ہے ۔البتہ یہاں بحث کا ایک اہم اور بنیادی پہلو ضرور جنم لیتا ہے جہاں بلوچستان میں نوابی اور سرداری کے خاتمے کی بات کرکے مڈل کلا س کی قیادت کی بات کی جاتی ہے اور یہ بات یقیناًمارکسز م کی تعلیمات کے تناظر میں ہی کی جاتی ہے اور وہاں یہ بات کرنے والے مارکسز م کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کرکے بلوچستان میں طبقاتی وجود اوراس کے خاتمے کی تشریح سے گریز کرتے ہیں ۔یہاں کی طبقاتی وجود اورسوشلزم کی آمد کیلئے سرمایہ دارانہ نظام کا ہونا اوراس سے قبل جاگیرداری نظام کا اپنی بقاء کوناقابل شکست خطرات کو دیکھ کر سرمایہ دارانہ نظام میں بدلنا اور پھر سرمایہ دارانہ نظام کے عروج کے ناقابل تردیدحقیقتوں کا قطعی ذکر نہیں کیا جاتا ۔اگرچہ یہ کہنے والے مہاتما بدھ طرز کے لوگ بھی نہیں کہ سرداری اور نوابی گھرانوں کو ٹکرا کر جنگل کی راہ لئے ہوں اوران کیلئے جاگیرداری نظام کا عروج واقع ہوا ہو،ایسا بھی نہیں بلکہ ان کی ابتدائی سیاسی تربیت مڈل کلا س اور متوسط طبقے کے ناقابل عمل نعرے لگانے والوں میں ہوئی ،سوشلزم سوویت یونین میں کیوں ناکام ہوئی ؟سوشلزم سیاسی سائنس ہے اس کے اصول سائنسی ہیں جو مادیت پر منحصر ہیں اور وہ ٹھیک ٹھیک حالات کی نشاندہی اور اس دوران وقوع پذیر عمل کے نتائج کا بھی ریاضی کے حساب کی طرح بتادیتا ہے لیکن یہاں بڑے عرصے سے طبقاتی تضادات کی بات کی جاتی ہے اس پر متوسط طبقے نے طویل جدوجہد بھی کی ہے لیکن وہ سیاسی غلطی کو بہت عرصے تک سمجھ نہ سکے ک
ہ بلوچستان میں طبقات اس طرح سے موجود نہیں جس طرح سے ان کی تشریح عمومی طورپر ہوتی ہے اور سوشلزم اپنے عملی پریکٹس میں بھی اس بات کو واضح کرچکا ہے کہ طبقات کا تضاد اپنے عروج پر پہنچ کر جب مصالحانہ کردار کاخواہاں ہوتے ہیں تو وہ ریاست کو درمیان میں لاتے ہیں لیکن ریاست جو مصالحانہ کردار کیلئے آتی ہے وہ مصالحانہ کردار ادا کرنے کی بجائے سرمایہ دار کا آلہ بن جاتی ہے گویا بلوچستان میں سرمایہ دارانہ نظام سرے سے وجود ہی نہیں رکھتا گویا یہاں طبقات کی بات ضرور ہونی چاہئے لیکن اس کو واضح کرنے کیلئے سوشلزم سے مدد لے کر ہی واضح کیا جاناچاہئے ناکہ ڈاکٹر اللہ نذر ابھی تک ڈاکٹر مالک کی تھیوری پر گزارہ کریں ۔ سوویت یونین کے حوالے سے مارکسسٹ دانشور اس بات پرمتفق ہیں کہ سوویت یونین میں جاگیردارانہ نظام سرمایہ دارانہ نظام میں بدلاہی نہیں تھا کہ یہاں سوشلزم کی پریکٹس کی گئی جو دیر پاثابت نہیں ہوئی ۔سرمایہ دارانہ نظام درحقیقت دوسری صورت میں سوشلزم کی ابتداء ہے اور سرمایہ دا رانہ جوں جوں اپنے عروج کی طرف قدم بڑھاتی ہے توں تو ں وہ سوشلزم کیلئے راہ ہموار کرتی رہتی ہے۔سوویت یونین میں سوشلزم کے دیرپانہ ہونے میں ایک بنیادی عنصر یہی تھا جبکہ بلوچستان میں تو طبقات ایک درجہ پیچھے ہیں جہاں نہ تو جاگیرداری نظام ہے اور نہ ہی کسانوں کا وہ جتھہ جو سوشلزم کیلئے پرولتاریہ کا کام دے سکے البتہ سوویت یونین میں جو سیاسی غلطی کی گئی وہ یہ تھی کہ زارشاہی کے خاتمے کو سوشلزم کے انقلاب کا عروج قرار دیا گیاحالانکہ وہ نقطہ آغاز تھا جہاں سوشلزم کو پرولتاریہ کے اقتدار کیلئے انقلابی کیڈر کو تیار کرنا تھا اور وہ ریاستی معاملات کو اس انداز سے چلاتی جہاں وہ پرولتاریہ ڈکٹیٹر شپ کے تابع ہوتی اور ایک تنظیم کی شکل میں سیاسی انتظامیہ ہوتی لیکن اس کے برعکس سوویت انتظامیہ تو زارشاہی کی مستعار انتظامیہ تھی جو پرولتاریہ ڈکٹیٹر شپ کی بجائے حیلے بہانوں سے سوشلزم کا راستہ روکنے کا کام کرگئی رہنماؤں کو آپس میں لڑانے کاکام کرگئی اور پرولتاریہ جو سادہ کسانوں پر مشتمل تھا وہ اس سازش کو سمجھ نہ سکا جبکہ اس تجربہ کے بعد سوشلزم اس بات پر متفق ہے کہ سرمایہ دارنہ نظام کے بعد ہی کامیاب اور عمومی سوشلزم کا قیام ممکن ہے اس حوالے سے سائنسی طورپر تجربہ بیان کیا گیا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام چونکہ اپنے کارندوں کے طورپر مشینر ی صنعتی مزدوروں کا جتھہ جنم دے گا جو کسانوں سے نسبتاً زیادہ باشعور اور معاملات چلانے کی اہلیت سیکھتا ہے اور مشینری نظام سے منسلک ہونے کے باعث مشینری مزدور سرمایہ دارانہ نظام کا کل پرزہ ہوتاہے اور درحقیقت تمام نظام یہی چلاتا ہے اور جب سرمایہ دا رانہ نظام ڈھلنے لگتا ہے سوشلسٹ انقلاب ابھرنے لگتاہے تو صنعتی مزدور جو تمام نظام چلانے والا ہوتا ہے تو وہ نہ صرف نظام پر قبضہ کرتا ہے جبکہ سیاسی اورتنظیمی انتظامیہ کا کام بھی کرتی ہے جس سے پرولتاریہ ڈکٹیٹر شپ کا قیام یقینی ہوتا ہے اور پھر یہ صنعتی مزدورسیاسی قیادت سے مل کر(خود بھی قیادت کاکام کرتا ہے) سرمایہ دارانہ نظام کی نشانوں کو اپنی انتظامی اور سیاسی اہلیت سے مٹاتا ہے اور پھر سوویت یونین کی طرز پر سوشلزم کے انقلاب کے بعد پرانے نظام کے پرزوں اور آلہ کاروں کیلئے کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔یہاں ایک بار پھر فطری طبقات اور ذرائع پیداوارسے تشکیل پانے والے طبقات میں امتیاز کو واضح کرنا ضروری ہے کیونکہ بلوچستان میں ذرائع پیداوار صنعتی اور مشنری نہیں بلکہ یہ خوداختیاری پر مبنی محدود منڈی اور معیشت ہے جونہ تو کسی جاگیر دار کو جنم دینے کی سکت رکھتا ہے اور نہ ہی جاگیرداری سے سرمایہ داری کا سفر طے کرسکتی ہے ۔اس حوالے سے یہ جان کر ہمارے لئے حیرت ہوتی ہے جو دلچسپی سے بھی خالی نہیں کہ بلوچستان کی معیشت ایسی ہے جو خود کیلئے محدود پیداوار تک محدود ہے اور باہر کی دنیا کی منڈی میں اس کا کوئی حصہ نہیں اور یہی سے ہم اپنے معاشرے کے طبقات کا 
موازنہ سوشلزم کیلئے سازگارمتضاد طبقات سے قطعی نہیں کرسکتے ۔یہاں وڈھ میں حالیہ دنوں مینگل قبیلے کے دو متحارب گروپس گتھم گتھا ہوگئے اور یہ کہا گیا کہ یہ دونوں گروپس ایک دوسرے کے کسانوں کو فصل اٹھانے کی اجازت نہیں دے رہے اور فصلیں گل سڑ رہی ہیں تو اس پر غور کیاگیاتو اس کا خضدار کی منڈی پر بھی اثر نہیں پڑا کیونکہ خضدار کی منڈی کی ضروریات خود خضدار کی پیداوار یا سوراب زہری اور گردونواح کے علاقے بخوبی پورا کرتے رہے۔ کراچی کی بین الاقوامی منڈی پراثرات تو دور کی بات ہے ۔گویا یہاں لوگ خود کیلئے پیداوار تک محدود ہیں جو مقامی دیہاتی منڈی تک محدود ہیں۔وسیع پیمانے پر پیداوار ہوتی تو یہاں کسانوں کی بڑی تعدادہوتی جوجاگیرداری نظام کو جنم دیتی اور آگے چل کر اگر صنعتی معیشت ہوتی تو یہ جاگیرداری کو سرمایہ داری میں ضم کرکے سرمایہ دارانہ معیشت کو جنم دیتا تو سوشلزم کی بنیاد پڑتی ۔اس صورتحال میں بلوچستان کی صورتحال پر غور کیا جائے طبقاتی تضادات کو سوشلزم اور مارکسزم کی تعلیمات پر پرکھ کر سوشلزم کے عملی تجربات کو سامنے رکھا جائے تو بلوچستان میں یہ بحث نتائج کا ضرور باعث بنے گی لیکن اس کے برعکس مالک اور ڈاکٹر حئی کی تربیت کے طرز پر متوسط طبقہ کی بات کی جائے گی تو وہ ازخود ایک فکری تضاد کو جنم دینے کاباعث بنے گا۔یہاں بلوچ علاقائی سیاسی مراکز کو بھی اس بحث سے قطعی الگ نہ سمجھا جائے جہاں آواران بھی وڈھ کوہلو اور ڈیرہ بگٹی کی طرز پر ایک الگ منفردسیاسی مرکز قائم ہوگیا ہے ۔ایک طرف نواب بگٹی نواب مری اور سرد ارمینگل کی وجہ سے وڈھ کوہلو اور ڈیرہ بگٹی اگر سیاسی علاقائی مراکز بنے تھے تویہ طویل اور غیر سیاسی عوامل اور تاریخی حادثات کے باعث بنے لیکن باعث افسوس امر یہ کہ آج کتاب سے رہنمائی لینے والے ،وسیع قومی اتحاد اور بلوچ قوم کی بات کرنے والے مڈل کلا س اور متوسط طبقہ کے ایک رہنماء ڈاکٹر اللہ نذر کا عمل ان نعروں کے برعکس گزشتہ دس سال کے پریکٹس نے ایک اور علاقائی سیاسی مرکز کو وجود میں لایا جو یقیناًوسیع سیاسی اور قومی دائرے کے خلاف رویہ ہے اور اس کو مدنظر رکھ کر دیکھا جائے تو کچھ بھی نہیں بدلا بلوچ روایتی سیاسی نظام اسی انداز سے آگے بڑھ رہی ہے اوریہ اس سیاسی عمل کے نتائج سے صاف ظاہر ہے جہاں بلوچ سیاسی تحریک شخصیات اور علاقائی پہچان سے نکل کر بلوچ اور بلوچستان کی پہچان اختیارکرتی وہ چوتھے علاقائی مرکز کو جنم دینے کا باعث بنا ہے ۔اگر ڈاکٹر اللہ نذر کا سیاسی عمل جدت کی حامل ہوتی توتحریک بلوچستان کے علاقائی پہچان کے علاقوں سے آگے بھی بڑھ جاتی ۔آواران ڈاکٹر اللہ نذر کی پہچان بننے کے پیچھے بھی علاقائی سوچ کا رفرما ہے جو پورے بلوچستان کاالمیہ ہے کیونکہ ہر علاقہ کو ایک شخصیت کی پہچان کی ضرورت ہوتی ہے اور چونکہ نواب مری نواب بگٹی اور سردارمینگل بلوچ تحریک سے منسلک ہونے کی وجہ سے اپنے علاقوں کی تاحال پہچان ہیں اسی طرح دوسرے علاقے بھی کسی نہ کسی طرح سے شخصی پہچان رکھتے ہیں اور ہرشخصیات علاقائی پہچان رکھتی ہے اس کو شخص کا علاقائی پہچان کہیں یا علاقہ کا شخصی پہچان کہیں دونوں صورتوں میں نتیجہ ایک ہی آتا ہے ۔میں ڈاکٹر اللہ نذر کو مبارکبادنہیں دے سکتا کہ وہ علاقائی پہچان پا کر سردار مینگل نواب بگٹی اور نواب مری کی طرح پہچان کی طرف گامزن ہیں ۔کیونکہ میرے نذدیک یہ زہر قاتل ہے یہ نظریاتی اور وسیع عوامی رویہ قطعی نہیں ہے ۔جس طرح میں نے کہا کہ اس علاقائی پہچان پانے میں ایک تو بلوچستان کا عمومی سیاسی قبائلی اور علاقائی رویہ کارفرما ہے دوسرا اسٹیبلشمنٹ کارفرماہے جو شخصیات کو محدودکرنے اور تحریک کو وسیع ہونے کی بجائے علاقائی پہچان تک محدود کرنے کی پالیسی پر شروع سے عمل پیرا ہے اور تیسرا بی ایل ایف کا رویہ کارفرما ہے جس نے اس رویئے کو ناصرف خوش آمد ید کہا بلکہ اس شخصی قلعے کو بچانے کیلئے اپنی پوری توجہ وہی 
ددمرکوز کئے ہوئے ہے ۔میڈیا ان مشترکہ نقطہ کو محسوس کرتے ہوئے اس کو اسی انداز میں پیش کررہاہے ۔ایکسپریس ٹریبون کا وہ بیان جسے ’’مقدس اداروں کے ترجمان ’’سنگر،، نے بھی اپنے ٹائٹل پر نقل کیا ہے جس پر رپورٹر نے بی ایل ایف کے سربراہ (؟) ڈاکٹر اللہ نذرکی آواران زلزلہ سے متعلق گفتگو کو رپورٹ کیا ہے ۔اسی رپورٹ میں رپورٹر نے باربار ڈاکٹر کے علاقائی پہچان کو واضح کیاہے کہ زلزلہ سے متاثرہ علاقو ں میں ڈاکٹر صاحب مقبول رہنماء ہے اور وہ قابل احترام رہنماء سمجھے جاتے ہیں۔یہ رپورٹرکا خبر بنانے کا اپنا انداز ہے لیکن گہرام بلوچ جہاں صحافیوں کو لہجوں کے پہچا ن کرانے تک کی تنبیہ کرتے رہتے ہیں۔ایوب ترین اور این این آئی کے بیوروچیف کیساتھ بی ایل ایف کا جھگڑا اسی سبب تھالیکن کمال ہے ڈاکٹراللہ نذرنے رپورٹر کو اپنے علاقائی پہچان پر کوئی سرزنش نہیں کی۔میٹھا ہپ ہپ کڑوا تھوتھو۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر اللہ نذر کا ایسا ذاتی بیان جعفرآباد نصیر آبادکے عموماً سیلاب(جو گزشتہ پانچ سال سے مسلسل آرہاہے) اور ماشکیل کے زلزلے پر میرے سامنے سے نہیں گزرا اور نہ ہی مقدس ترجمان سنگر کی شان بنا۔ڈاکٹر اللہ نذر کی تنظیم وقتاً فوقتاً وضاحت کرتی رہتی ہے جو ایک سیاسی عمل ہے لیکن اسی طرح بعض اچھنبے رویوں پر وضاحت کی توقع ہو اور وضاحت نہ کی جائے تو پھر یہی سمجھاجاسکتا ہے کہ اس پر ڈاکٹر کی تنظیم متفق ہے ۔ مقدس سیاسی ادارے بھی اس عمل میں بی ایل ایف کے ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں ۔ مشکے اور آواران کے حوالے سے بی ایل ایف مقدس اداروں کے رہنماء خلیل بلوچ اور بلوچ خان بلوچ منان بلوچ اور دیگر بڑے ایکٹو اور پریشان دکھائی رہے ہیں اس طرح کی پریشانی گزشتہ پانچ سالوں سے مسلسل آنے والے سیلابی بلوچ علاقوں کیلئے نہیں دیکھی جاسکی۔ماشکیل بھی زلزلہ سے تباہ ہوا ،حساسیت کا یہ پیمانہ دیکھنے میں کو نہیں ملا ۔ اگر یہ مقدس ادارے(؟) جعفر آباد اور نصیر آباد کے سیلاب زدگان کی مدد کو اسی انداز سے سامنے آتے تو ان علاقوں کے عوام جو بلوچ تحریک سے نابلد ہیں وہ اس حساسیت سے کس قدرتحریک سے قریب ہوتے ،جس طرح پاک فوج چاہتی ہے کہ وہ آواران میں اپنے وجود کو برقرار رکھے اسی طرح بلوچ تحریک کیلئے بھی پھیلنا ضروری ہوتا ہے ۔جبکہ ہمارے مقدس ادارے شخصیت کی پرورش میں جت گئے ہیں ۔اور علاقائی پہچان پاکر اسے برقرار رکھنے کیلئے مزاحمتی طاقت کو مخصوص علاقے میں جمع کیا گیا ہے ۔دیکھا جائے تو یہ غیر فوجی حکمت عملی کاحصہ ہے۔اختر مینگل اور ڈاکٹر صاحب اگر آج وڈھ اور مشکے کو بچا پائے تو پھر کیا پائے ۔۔۔اصل بات بلوچستان کے کونے کونے میں پھیلنے اور جدوجہد کرنے کا ہے ۔یادرکھیئے جدوجہد بندوق کی آواز نہیں بلکہ یہ ایک جنگی ہتھیار ہے جو ہماری بات کو دنیا تک پہنچانے کیلئے ایک محدود سی کوشش ہے ۔بڑی اور اہم کوشش تو اپنی بات کو وزن دار بنانے اور اس کو منوانے کا ہے جو دلیل منطق اور سیاسی انداز سے ہی دیا جاسکتا ہے ۔بندوق کے استعمال میں بھی سیاسی انداز اختیار کرنی ہوگی ورنہ روز بروز اور لگاتار بندوق بجتی رہے گی لیکن ہم عوام گنگے ہوتے جائیں گے ۔

0 comments:

Post a Comment