دنیا جس تیز رفتاری سے ترقی کررہی ہے اسی ترقی سے ہر عام و خاص سے لیکر،کلچر،زبان ،تہذیب غرض ہر پہلو متاثر ہو رہے ہیں۔ کارل مارکس نے کیا خوب کہا تھا۔’’کہ مادی ترقی ہی ذہنی ترقی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا‘‘ کارل مارکس کی اس سوچ کو لیکر آج ہم اپنے سماج پر نظر دوڑائیں تو اسکے مثبت و منفی دونوں پہلو ہم پر واضح طور پر ظاہر ہونگے، کیونکہ ایک طرف ٹی وی سے ہم دنیا کے مختلف ممالک و اقوام و انکے کلچر ثقافت کے بارے معلومات حاصل کرتے ہیں تو دوسری طرف ہم فلموں سے لیکر فحش حرکات و اعمال سے واقفیت رکھنے کے ساتھ ساتھ انکے منفی پہلو ہمارے سماج پر اثر انداز ہو رہے ہیں، نہ ہم اس عمل کو روک سکتے ہیں اور نہ ہی اسی برق رفتاری کے ساتھ اسکا حصہ بن رہے ہیں۔ ہم اس ترقی یافتہ دنیا کے ان لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں ایک طرف سے ہم اس سے فائدہ حاصل کررہے ہیں تو اسی رفتار سے اپنے کلچر ،سماجی اطوار، تاریخ و زبان کو بربادی کے نہج پر پہنچا رہے ہیں۔ ایک بلوچ لڑکی انٹرنیٹ کی دنیا میں آکر کچھ سرگرمی کرے گی تو کمزور ذہنیت کے مالک اس لڑکی پر اسکے منفی اثرات ہی پڑینگے۔ اور وہ سماج کے بہت سے پہلوؤں کو نظرانداز کرکے اس عمل کا حصہ بنے گی تو اس سے فائدہ لینے کے بدلے وہ نقصان ہی اٹھائے گی۔ اور بلوچ سماج جہاں پر ایک بھائی اپنی بہن کا نام کسی کے سامنے لینے میں شرم محسوس کرتا ہے لیکن اسی سماج میں دوسری طرف اسکی وہی بہن بی ایم سی یا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کررہی ہوتی ہے۔ اور اسی تناظر میں جہاں ایک بلوچ لڑکی سیاسی دنیا میں قدم رکھتی ہے تو دوسری طرف سماج کے بہت سے لوگ اس پر انگلیاں اٹھاتی ہیں اسے مختلف زاویوں سے منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے اور یہ ارتقاء دنیا کی تمام اقوام میں اسی انداز میں ہوئی ہے اور زبان،ثقافت،تاریخ تک سماجی زندگی کے تمام پہلو اسی طرح آہستہ آہستہ تبدیل ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔اگر آج ہم دنیا کے دیگر اقوام پر نظر دوڑائیں۔ تو وہ ہمیں مختلف انداز میں نظر آئیں گے وہ تمام اقوام جو آج اور جس ترقی کے ساتھ سماجی تبدیلیوں کو قبول کرچکے ہیں وہ ماضی میں ہماری طرح کے اقوام تھے انکا کلچر اور سماجی نظام ہماری طرح ہی تھا ارتقاء اور ترقی نے انکی زندگی تبدیل کردی کرد قوم کو دیکھیں جسے بلوچ اپنا حصہ سمجھتے ہیں اور اسی طرح کرد بلوچوں کو کرد قوم کا حصہ سمجھتے ہیں۔ لیکن آج کرد جن ممالک کے ساتھ زندگی بسر کررہے ہیں وہاں کی ترقی و زندگی کے اثرات کو قبول کرچکے ہیں لیکن ساتھ ساتھ اپنے کلچر سے جڑے نظر آتے ہیں اور اسی طرح الجزائری قوم جب فرانس سے آزادی حاصل کررہی تھی تو اس وقت الجزائر میں اسلامی زندگی کے ساتھ ساتھ ان پر قبائلیت حاوی تھی لیکن انھوں نے وقت و حالات کے ساتھ اپنے اندر تبدیلی پیدا کی اور الجزائری اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے کرد بھی وقت و حالات کے ساتھ تبدیل ہوگئے اور یہاں تک کہ خواتین کی فوج بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے۔ کہ وقت و حالات و ترقی ہم سے یہی تقاضا کرتی ہے کہ ہم تیزی کے ساتھ اپنے اندر تبدیلی لائیں،ورنہ ہم اس تیز ترقی سے کچھ حاصل نہ کرسکیں گے بلکہ اپنا سب کچھ کھو دیں گے۔
میں اب سوشل میڈیا کے اس پہلو پر کچھ کہنے کی جسارت کرونگا کہ ایک عرصے سے فیس بک بلوچ سماج کے قریباً نوجوان و بزرگ استعمال کررہے ہیں کوئی اسے معلومات کے لیے، تو کوئی اسے وقت زوالی کے لیے اورکوئی اسے انٹرٹینمنٹ کے لیے استعمال کرتا ہے۔ تیونس سے لیکر مصر ،شام ،لبنان،بحرین و ایران تک کا سفر انقلابات کی کامیابی و ناکامی میں کسی نہ کسی حد تک سوشل میڈیا کا ہاتھ بھی تھا کیونکہ نوجوانوں کی سیاسی سرگرمیاں زیادہ تر فیس بک و دیگر سائٹس کے ذریعے سے ہوئیں جو ڈکٹیٹر شپ کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوئے۔ان انقلابات کے پیھچے ایک گریٹ گیم کے ساتھ ساتھ یہ سوچ بھی تقویت پارہی تھی کہ دنیا میں نئی نسل ترقی و سماج کی تبدیلی کے اثرات کو قبول کرچکی تھی اور ایک نسل سے دوسری نسل کے درمیان جو سوچ و فکر کا فرق تھا وہ آہستہ آہستہ واضح ہو کر انقلاب کی شکل اختیار کرلی آج دنیا میں تمام سماج تبدیل ہو رہے ہیں اور بلوچ بھی اسی دنیا کا ایک حصہ ہیں بلوچوں پر بھی اسکے اثرات مرتب ہو رہے ہیں ایک طرف وہ سوچ موجود ہے جو کہ سیاسی حوالے سے پختہ شکل میں ہے لیکن اس میں تبدیلی نہیں لائی گئی ہے،جبکہ دوسری طرف وہ سوچ تقویت پار ہی ہے جس میں آئے روز تبدیلی آرہی ہے،بلوچ سیاست میں دو واضح گروپ کی صورت میں موجود ہے۔ اشارتاً یہاں پر بزرگ بلوچ سیاستدانوں کی بات ہو رہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف وہ نوجوان طبقہ ہے جن میں اس سوچ سے متاثر ہونے کے بعد ہزار گناہ تبدیلی آ ئی ہے ، ان دو سوچوں کے بعد ایک اور سوچ بھی وجود رکھتی ہے جو کہ سماج کے ساتھ تبدیل بھی ہو رہی ہے لیکن وہ سماجی رویوں و روایات کی پاسداری کرتی نظر آتی ہے۔ جبکہ چوتھی طرف ایک اور سوچ بھی موجود ہے ،جو تمام چیزوں سے واقفیت رکھنے کے بعد بھی خاموش انقلاب کی طرف گامزن ہے اور روایات کی بھی پاسداری کررہی ہے اور کسی حد تک روایت کو تھوڑ بھی رہی ہے۔ لیکن جس انداز سے انھیں توڑنے کی ضرورت ہے اس تک نہیں جارہا۔اب اس تمام عمل کے بعد ایک اور سوچ جو ریاستی اثر کے نیچے دب چکی ہے جسے حرف عام میں عوام کہا جاتاہے یہ طبقہ تمام سوچوں سے متاثر ہے لیکن یہ طاقت و حالت کے رحم و کرم پر اپنے آپکو ڈال لیتی ہے اور صرف انکی رہنمائی کرنی ہوتی ہے۔
یہ تمام باتیں بلوچ سماج کے سیاسی پہلووں کی طرف اشارہ ہے اگر ہم بغور جائزہ لیں تو ہمارے سامنے واضح ہوگا کہ نواب خیر بخش مری اور اس سے منسلک لوگ زیادہ تر وہی لوگ ہیں جو قبائلیت کے زیر اثر رہے ہیں اور اسی سوچ کے تحت تمام اعمال کو پرکھتے اور جانتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف حیر بیار اور اسکے سوچ کے وہ لوگ ہیں جو سماج کو سماج کی رفتار کے ساتھ تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور دنیا کی ترقی کے ساتھ اپنی رفتار بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ جبکہ تیسری طرف براہمدغ بگٹی اور اسکے دوست و اسکے فکر سے منسلک لوگ اس کوشش میں ہیں کہ قبائلیت پر کوئی آنچ نہ آئے اور جدوجہد اسی طرح سے جاری رہے اور چوتھی طرف ڈاکٹر اللہ نظر اور اسکے ساتھی اس سوچ کو تقویت دے رہے ہیں کہ خاموشی کے ساتھ کام کیا جائے اور سماج کے اداروں کو تبدیل کرنے سے زیادہ وہ مصلحت پسندی کا شکار نظر آتے ہیں اور سیاسی مسئلوں پر چھپ ہو کر انھیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ چکے ہیں اور چھپ کر سیاسی مسئلوں و تضادات پر لب کشائی کرتے نظر آتے ہیں لیکن جرات سے عاری نظر آتے ہیں۔
یہ تمام سوچ آزادی سے منسلک ہیں اور آزادی کے لیے ہی ہو رہے ہیں۔ لیکن ان میں تبدیلی کی کس حد تک ضرورت ہے اس پر ہر ایک کی رائے مختلف ہو سکتی ہے لیکن حقیقی و حقائق د لائل کی رائے اصل رائے ہوتی ہے کہ جس سے سماج کو تبدیل کیا جاسکتا ہے اگر آج یہ سوچیں کہ ایک سطح پر آکر ایک نہ ہو سکیں تو ممکن ہے کہ اسکی شکل خانہ جنگی کی صورت میں نمودار ہو کیونکہ ایک عشرے بعد وہ تضادات یا وہ انقلابی سوچ رکھنے والے جب ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے نظر آتے ہیں تو اس سے ظاہر ہے کہ یہ ایک دوسرے سے نزدیک ہونے کی بجائے دور ہوتے جارہے ہیں حکمت عملی و نظر یہ سے لیکر سوچنے کے انداز تک سب مختلف تھے اور ہیں۔ کیونکہ آزادی کے لیے جس نظریہ و سوچ کے تحت آپ انقلابیوں کی تربیت کرتے ہیں و ہ آنے والے سماج کے وہ ستارے ہونگے جو اس نئے سماج کو ایک ڈھانچے میں ڈالنے کی کوشش کریں گے۔ وہ تمام تضادات جو تحریک شروع ہونے کے وقت موجود تھے۔ اور انھیں وقت و حالات کے ساتھ تبدیل کرنے کی ضرورت تھی اور تمام تضادات وقت و حالات کے ساتھ تیزی کے ساتھ تبدیل ہو رہی تھیں تو عین وقت پر روایتی سوچ کے مالک سیاستدان علحیدہ سوچ کے ساتھ نمودار ہوئے جب ریفرنڈم کی بات سامنے آئی تو دوسری سوچ بھی واضح ہو کر سامنے آئی کہ ہم ریفرنڈم کی حمایت کرتے ہیں اور کچھ عرصے کے بعد جب چارٹر سامنے آئی تو تیسری سوچ بھی واضح ہو کر سامنے آئی کہ چارٹر ایک اچھا عمل ہے دوسروں کو اسکی حمایت کرنی چاہیے ، جب مزید آگے جاکر شہدا ء کے برسی کے حوالے سے بات سامنے آئی تو یہ سوچ بھی واضح ہو گئی اور تیرہ نومبر کے بعد باقی شہداء کی برسی منائی گئی۔ اب یہاں پر تمام سوچیں واضح ہوئیں۔ اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو یہ علحیدہ علیحدہ سوچ ہیں۔ اور انکا فرق واضح نظر آئے گا۔ نہ کہ سارے آزادی پسند و سرمچار نظر آئیں گے۔ لیکن انکے بیچ ایک بہت بڑی خلا موجود ہے۔ اور یہ خلا وسعت پارہی ہے۔ چارٹر کو نواب خیر بخش مری و براہمدغ بگٹی مسترد کرچکے ہیں۔ خیر بخش مری اب تک روایتی انداز میں اس پر اپنا کھلم کھلا اظہار نہیں کر رہے ہیں۔ لیکن بہت سے لوگوں سے ملاقات کے بعد انھوں نے بھی کچھ ایسا ہی اظہار کیا ہے کہ وہ چارٹر سے متفق نہیں ہیں۔ جبکہ براہمدغ بگٹی نے بھی مسترد نہیں کیا ہے۔ بلکہ ایک ریزرو سوچ کے تحت تحفظا ت کا اظہار کر چکا ہے۔ اب یہاں پر براہمدغ بگٹی اور نواب خیربخش مری کے سوچ کے پس منظر میں دیکھا جائے ، تو بہت سے لوگ اسکی ضرور گواہی دیں گے کہ ابھی تک قبائلی سوچ و روایتی سوچ سے انھوں نے چھٹکارہ حاصل نہیں کی ہے۔جبکہ دوسری طرف وہ سوچ جو کہ قبائلیت کے خلاف ایک متوسط طبقے کی نمائندہ لیڈر شپ ہے۔ جو کہ علم و شعور سے لیکر انقلاب کے نئے طریقوں و عمل کی بات کرتی نظر آتی ہے اور ایک مضبوط حلقہ اور مضبوط سوچ رکھتی ہے ۔ لیکن وہ بھی مصلحت پسندی کے شکار نظر آتے ہیں۔ایک طرف سیاسی لیڈر شپ پر حملے کرنے کا بھر پور جواز دیتے ہیں تو دوسرے طرف اپنے مخالفین کو قتل کرنے کی نفی کرتے نظر آتے ہیں۔قبائلی نظام کے خلاف ہے لیکن قبائلی سرداروں سے اپنے رشتوں کو دن بہ دن مضبوط کررہی ہے اور روایتی انداز میں جہد کو آگے لے جارہے ہیں۔اور قومی تضادات کو حل کرنے کے لیے بحث مباحثے سے گریز کرتے ہیں ۔ اور مصلحت پسندی اور انقلابی ہونے کے بیچ کا سفر طے کررہے ہوتے ہیں۔ اب یہاں وہ سوچ ان تمام کی نفی کرتا نظر آتاہے۔ وہ سوچ انقلاب کی برق رفتاری کے ساتھ سوچوں کی تبدیلی پر زور دیتی نظر آتی ہے اور ساتھ ساتھ مصلحت پسندی و قبائلیت کی توڑ کے طور پر اپنے آپکو متعارف کررہی ہے ایک طرف قبائلی نواب و سیاسی بزرگ نواب خیر بخش پر تنقید کرتی نظر آتی ہے تو دوسری طرف براہمد غ بگٹی و تیسری طرف ڈاکٹر اللہ نظر پر تنقید کرتی نظر آتی ہے۔ اور اپنے سوچ و فکر پر مضبوطی کے ساتھ ڈٹے نظر آتے ہیں۔ اور کھل کر ہر قومی مسئلے پر بحث کے دروازے کھول چکے ہیں جبکہ دیگر تما م ادارے و بلوچ قوم کا ایک طبقہ اسکی مخالفت کرتی نظر آتی ہے کہ اس سے مسئلے خرابی کی طرف جائیں گے اب ان حالات کا جائزہ لینے کے لیے یہ ضروری ہو جاتا ہیکہ ان تمام تنظیموں کے بیچ کا جو سفر ہے اس پر تحقیق و غور و فکر کی جائے تو کچھ چیزیں واضح ہو نگی کیونکہ آزادی کے حوالے سے سب ایک نقطے کی طرف رواں ہیں لیکن اس سفر میں اتاروچڑھاؤ کے بعد ہر ایک تنظیم کے فیصلے مختلف نظر آتے ہیں،اور تحریک کو ہر تنظیم مختلف زاویوں سے دیکھتا ہے اور یہی زاویہ نظر تحریک کی صحیح سمت و غلط سمت کی نشاندہی کرے گا۔ اب یہی نقطہ نظر جو تمام تنظیموں کی مختلف سمتوں کی نشاند ہی کرتا ہے اب ان حالات میں صحیح سمت کی نشاندہی کس طرح ممکن ہو سکتی ہے؟ تمام آزادی پسند ہیں اور جدوجہد میں سب کا کردار ہے کسی کا کم و کسی کا زیادہ لیکن سب عزت واحترام و قربانیوں کے حوالے سے ایک مقام رکھتے ہیں۔ اب اس صحیح سمت کی نشاندہی کے لیے کوئی متفقہ قومی ادارے کا وجود نہیں،اور دوسری طرف بلوچ دانشور جو کہ غیر جانبداری کے ساتھ فیصلہ کرسکتے ہیں انکی خاموشی اور خوف اور تحریک سے بیگانگی انکی کم زانتی کا ثبوت ہے اور تنظیموں کے اندر موجود ایک مضبوط فکر رکھنے والے لکھاری بھی کسی حد تک ہر ایک اپنی صحیح سمت پر ڈٹا نظر آتا ہے تو اس بیچ اس فرق کو کیسے اور کیونکر واضح کیا جاسکتا ہے؟اب اس بیچ کے تضادات اور مسائل کو جانچ و پرکھ کر دیکھا جائے تو ہر تنظیم کے حوالے سے دوسرے تنظیم کے خدشات نظر آتے ہیں۔ تو پھر یہ تمام مسائل کسی ایک نقطے کی طرف جانے کی بجائے منتشر نظر آتے ہیں۔ کسی کے لیے بی ایل اے قابل قبول نہیں اور کسی کے لیے بی ایل ایف، اسی طرح باقی سب۔ اب کیا یہ ضروری نہیں کہ اس پر سنجیدگی کے ساتھ سوچ بچار کی جائے اور اسی تناظر میں تحریک کے وہ تضادات و مسائل جو کہ ایک طبقہ ایک تواتر کے ساتھ مضامین کی شکل میں سامنے لارہا ہے اور انھیں سوشل میڈیا میں قوم کے سامنے رکھ رہا ہے تاکہ ان کیلئے ایک عوامی رائے کوہموار بنایا جاسکے اور اس کوشش میں ایک چیز یہ بھی واضح ہے کہ ایک طرف ان تنظیموں کے بیچ جو کمزوریاں ہے انھیں کھل کر بحث کرنے کے لیے ماحول پیدا کی جارہی ہے اور وہ لیڈرشپ جو کل تک اپنے آپکو اور بحثیت بلوچ قوم انھیں پیغمبری کا لقب دے رہا تھا اور کوئی انھیں بابائے بلوچ کہہ کر مخاطب تھا۔ ان پر سوالات اٹھ کر یہ ثابت کررہے ہیں کہ اب حقیقت و حقائق کے لیے شعور کی ضرورت ہے نہ کہ ایک روایتی سوچ کے تحت تحریک سے جڑجانا، بلکہ تحریک کے ساتھ جڑنے کے بعد ان تمام منفی و فرسودہ روایات کی نفی بھی ضروری امر ٹھہرا ہے۔ اب بی ایل اے سمیت تمام مزاحمتی ادارے قابل قدر ہیں۔ لیکن ان کی تمام کاروائیاں قابل قدر نہیں۔ یہ میری نظر ہے اسے کوئی متفقہ ادارہ دلیل و بحث مباحثے سے ہی کنڈم کرسکتا ہے۔اب ان حالات میں جہاں پر دنیا کی ترقی کے ساتھ سوشل میڈیا پر جب بحث و مباحثے کے لیے ماحول پیدا کی جاتی ہے۔ تو سوالات منفی یا مثبت دونوں صورتوں میں سامنے آتے ہیں۔لکھنے اور پڑھنے کے لیے ماحول پیدا کی جاتی ہے ۔ اگر ان حالات میں کوئی اس بحث مباحثے کو غلط سمجھتا ہے تو میری نظر میں وہ غلطی پر ہے۔ کیونکہ متفقہ ادارے نہ ہونے کی سبب آج ہر تنظیم علیحدہ شناخت و سوچ کے ساتھ اپنی جدوجہد کر رہا ہے۔ اور یہ تمام مسئلے اداروں میں حل نہ ہو سکے۔ تو پھر انکا حل کھلم کھلا بحث مباحثے کی ہی صورت میں ہو سکتا ہے۔ اور تنقید ہی وہ علم ہے جہاں سے نئے راستے و نئے سوچ متعارف ہو نگے اور فرسودہ روایتوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کھلم کھلا بحث مباحثے میں یہ اشد ضروری ہے کہ سیاسی اخلاقیات کے دائرے میں ہو۔ اور ہر وہ شخص جو کسی بھی طرح سے تحریک سے وابستگی رکھتا ہے وہ اس اخلاقیات کو اپنے اوپر خود لاگو کرے سیاسی اخلاقیات میں،انا پرستی ،بغض،ضد،بدنیتی کی گنجائش نہیں ہوتی ۔ بلکہ شرف و عزت کے ساتھ کسی پر انتہائی درجے کی سختی تک تنقید لازم ٹھہرتا ہے لیکن وہ زبان بھی سیاسی زبان ہو۔ نہ کہ پاکستانی ذہنیت رکھنے والی زبان ہوجو گالی گلوچ کی شکل میں واضح ہے۔ اب ایک بحث اور ساتھ ساتھ وہ تما م سیاسی ورکر جو کہ تمام چیزوں سے بخوبی واقفیت رکھتے ہیں ان پر فرض عائد ہوتا ہے کہ بے ہودگی سے لیکر وہ تنظیمی اصول جو کہ سب پر لاگو ہے ان کی پاسداری کریں اور اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھیں۔ تو اس بحث مباحثے میں ایک نتیجہ تک پہنچنا آسان ہوگا۔ سوشل میڈیا پر بحث مباحثہ اتنی بری بات نہیں کہ جسے ہم اس حد تک برا بھلا کہتے ہیں کہ یہ بحث کی جگہ نہیں، تو پھر میں یہ کہتا ہوں کہ سات سال پہلے جب سیاسی ورکر اور لیڈر ہوٹلوں میں بیٹھ کر اور عوام کے سامنے جلسے جلسوں میں اپنی فکر پیش کرتے تھے تو وہی فکر عوام تک پہنچ جاتی اور عوام میں بحث ہوتی تھی۔ لیکن اب وہ حالات نہیں رہے۔حالات بدل گئے سیاسی رویے بدلے ، جدوجہد کے طریقے بدلے، سیاسی مزاج بدل گئے۔اور خصوصاً وہ طریقے جو برسوں سے سماج میں رائج الوقت تھے اب چیزوں کوانھی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کہ حالات کے ساتھ اپنی جدوجہد کے طریقوں کے ساتھ سماج کی تبدیلی اور عوام میں سیاسی شعور کی بیداری کے لیے نئے طریقوں کی ضرورت ہے اور تمام سیاسی ورکر و پارٹیاں سمیت وہ ہمدرداں جو کہ ایک سوچ کے ساتھ تحریک سے وابستہ ہیں انھیں صرف میڈیا ہی کے ذریعے ہی شعور دی جاسکتی ہے تاکہ وہ کھلم کھلا اپنی سوچ و فکر کو دیگر اداروں تک پھیلائیں۔ آج میڈیا و دیگر وہ ذرائع جنھیں ریاست اپنے پروپگنڈوں کی شکل میں تحریک کے خلاف استعمال کررہی ہے ۔ اور آج یہی ادارے ہم اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اور اپنے تضادات کو کھلم کھلا اخلاقیات کے دائرے میں بحث مباحثے کی صورت میں حل کرسکتے ہیں۔اور وہ تضادات جنھیں سیاسی ورکر سمجھتے ہیں کہ بلوچ عوام ان سے ناواقف ہے یہ انکی خام خیالی ہے اور یہ ایک روایتی سوچ ہے کیونکہ عوام میڈیا کے ذریعے بہت سے مسائل و حالات سے واقف ہو چکے ہیں اور وہ تما م مزاحمتی تنظیموں کی کاروائیوں کے اثر اور انکے نتائج سے واقفیت رکھنے کے ساتھ ساتھ یہ اداراک بھی رکھتے ہیں۔ کہ بلوچ لیڈر شپ کے درمیان ایک خلیج ہے لیکن اس خلیج اور اس تقسیم کاری کو بھی انکا حق ہے کہ جان لیں پہچان لیں تاکہ آنے والے وقت میں انھیں یہ فیصلہ کرنے میں کوئی دقت نہ ہو کہ کون غلط و کون صحیح ،جب ایک مسئلے کو سرعام بحث کے لیے کھولا جاتا ہے تو یہاں پر تربیت کے حوالے سے لوگوں کی سوچ میں آہستہ آہستہ تبدیلی آتی ہے اس طرح نئے طریقوں نئے ذرائعوں سے فائدہ حاصل کرنا ہماری ضرورت ہے اور ہمیں اسے مثبت نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے اور وہ لوگ جو اسکی مخالفت کرتے ہیں انھیں ایک چیز ذہین نشین کرنی چاہیے کہ سماج میں ہر نئی چیز کو متعارف کرنے میں مشکلات درپیش ہونگے لیکن وقت و حالات کے ساتھ وہ لوگوں کے لیے عام ہو جاتا ہے۔ لیکن اس دوران ایک شرط سیاسی حوالے سے ضروری ہے کہ مسائل و تضادات کو کھلم کھلا سیاسی مسائل کی بنیاد پر بحث کرنا فرض ٹھہرتا ہے اور اس بحث میں نیت مثبت ہو نی چاہیے تو ہم اپنے ان قومی تضادات و قومی مسائل کو حل کرسکتے ہیں۔ آج جس صورتحال کا ہم شکار ہیں اور جس نقطہ نظر سے لوگ آج کے حالات کو دیکھ رہے ہیں ظاہراً یہ عمل ویہ بحث مباحثہ غیر سیاسی نظر آتاہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ یہ مسائل اداروں میں حل نہ ہو سکے اوراداروں میں چار سال جہد مسلسل کے بعد بھی حل نہ ہو ئے کیونکہ اداروں میں بھی روایتی طرز جہد حاوی ہے اور سیاسی مسئلوں کو بھی روایتی پسند و ناپسند و دوستی و عزیزی کی خاطر اپنی خواہش کے مطابق دیکھا جاتا ہے آ ج صورتحال یہی ہے اور حقیقی رخ بھی یہی ہے کہ قومی اتحاد و اتفاق کے بجائے سہانے خواب دیکھے جاتے ہیں بلکہ ایک چھوٹے سے علاقے میں اپنی طاقت و اثر کو دیکھ کر دوست خوشی سے پھولے نہیں سماتے کیونکہ انکی سوچ پختہ نہیں اور حادثاتی لیڈر بھی جہد کو اپنی خواہشات کے تابع کرکے ایک دوڑ میں لگے ہیں اور بلوچ عوام کے لیے سب قابل قدر ہیں لیکن بلوچ عوام انکی اصلیت سے ناواقف ہے اور حقیقت یہی ہے ان سولہ سالوں میں جہد آزادی کی جنگ تو رہی لیکن ادارے کی بجائے کردار مضبوط ہوئے اور یہی بلوچ جہد کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر غور سے تجزیہ کیا جائے۔ تو بی ایل اے و لشکر بلوچستان کا کوئی بھی نمائندہ منظر عام پر نظر نہیں آتا۔ لیکن بی ایل ایف کی حیثیت ڈاکٹر اللہ نظر بن گئی ہے اور بی آر اے کی صورتحال یہی ہے کہ اسکی ظاہراًلیڈرشپ واضح نہیں لیکن بی آرپی و بی آر ایس او کی صورتحال سے انکی بھی جہد واضح ہو کر آگئی کہ وہ ادارے سے زیادہ شخصیت کو فوقیت دے رہے ہیں اب ان حالات میں وہ تضادات جو کہ ایک عشرے سے موجود تھے اور ہیں انہیں حل کرنے کے لیے یہ ضروری ٹھہرتا ہے کہ بلوچ عوام کو آگاہی دی جائے کہ حقیقت کیا ہے کہ جن لیڈر شپ کو ہم قوم کا نجات دہندہ سمجھتے تھے انہوں نے اس جہد میں کیا کردار ادا کیا ہے ؟اور اداروں کے بدلے فرد بن کر فیصلہ کرنے لگے اب ان حالات میں بلوچ قوم خود فیصلہ کرے کہ اس حقیقت و ان حالات سے نظر چرائی جائے یا انہیں حل کرنے کے لیے بحث مباحثہ کے دروازے کھولے جائیں آج سوشل میڈیا میں جو بحث سامنے آتی ہے وہ حقیقت پر مبنی ہے کیونکہ اب کوئی دوسرا ذریعہ ہی نہیں کہ ان تضادات سے بلوچ عوام کو آگاہ کیا جاسکے
میں اب سوشل میڈیا کے اس پہلو پر کچھ کہنے کی جسارت کرونگا کہ ایک عرصے سے فیس بک بلوچ سماج کے قریباً نوجوان و بزرگ استعمال کررہے ہیں کوئی اسے معلومات کے لیے، تو کوئی اسے وقت زوالی کے لیے اورکوئی اسے انٹرٹینمنٹ کے لیے استعمال کرتا ہے۔ تیونس سے لیکر مصر ،شام ،لبنان،بحرین و ایران تک کا سفر انقلابات کی کامیابی و ناکامی میں کسی نہ کسی حد تک سوشل میڈیا کا ہاتھ بھی تھا کیونکہ نوجوانوں کی سیاسی سرگرمیاں زیادہ تر فیس بک و دیگر سائٹس کے ذریعے سے ہوئیں جو ڈکٹیٹر شپ کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوئے۔ان انقلابات کے پیھچے ایک گریٹ گیم کے ساتھ ساتھ یہ سوچ بھی تقویت پارہی تھی کہ دنیا میں نئی نسل ترقی و سماج کی تبدیلی کے اثرات کو قبول کرچکی تھی اور ایک نسل سے دوسری نسل کے درمیان جو سوچ و فکر کا فرق تھا وہ آہستہ آہستہ واضح ہو کر انقلاب کی شکل اختیار کرلی آج دنیا میں تمام سماج تبدیل ہو رہے ہیں اور بلوچ بھی اسی دنیا کا ایک حصہ ہیں بلوچوں پر بھی اسکے اثرات مرتب ہو رہے ہیں ایک طرف وہ سوچ موجود ہے جو کہ سیاسی حوالے سے پختہ شکل میں ہے لیکن اس میں تبدیلی نہیں لائی گئی ہے،جبکہ دوسری طرف وہ سوچ تقویت پار ہی ہے جس میں آئے روز تبدیلی آرہی ہے،بلوچ سیاست میں دو واضح گروپ کی صورت میں موجود ہے۔ اشارتاً یہاں پر بزرگ بلوچ سیاستدانوں کی بات ہو رہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف وہ نوجوان طبقہ ہے جن میں اس سوچ سے متاثر ہونے کے بعد ہزار گناہ تبدیلی آ ئی ہے ، ان دو سوچوں کے بعد ایک اور سوچ بھی وجود رکھتی ہے جو کہ سماج کے ساتھ تبدیل بھی ہو رہی ہے لیکن وہ سماجی رویوں و روایات کی پاسداری کرتی نظر آتی ہے۔ جبکہ چوتھی طرف ایک اور سوچ بھی موجود ہے ،جو تمام چیزوں سے واقفیت رکھنے کے بعد بھی خاموش انقلاب کی طرف گامزن ہے اور روایات کی بھی پاسداری کررہی ہے اور کسی حد تک روایت کو تھوڑ بھی رہی ہے۔ لیکن جس انداز سے انھیں توڑنے کی ضرورت ہے اس تک نہیں جارہا۔اب اس تمام عمل کے بعد ایک اور سوچ جو ریاستی اثر کے نیچے دب چکی ہے جسے حرف عام میں عوام کہا جاتاہے یہ طبقہ تمام سوچوں سے متاثر ہے لیکن یہ طاقت و حالت کے رحم و کرم پر اپنے آپکو ڈال لیتی ہے اور صرف انکی رہنمائی کرنی ہوتی ہے۔
یہ تمام باتیں بلوچ سماج کے سیاسی پہلووں کی طرف اشارہ ہے اگر ہم بغور جائزہ لیں تو ہمارے سامنے واضح ہوگا کہ نواب خیر بخش مری اور اس سے منسلک لوگ زیادہ تر وہی لوگ ہیں جو قبائلیت کے زیر اثر رہے ہیں اور اسی سوچ کے تحت تمام اعمال کو پرکھتے اور جانتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف حیر بیار اور اسکے سوچ کے وہ لوگ ہیں جو سماج کو سماج کی رفتار کے ساتھ تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور دنیا کی ترقی کے ساتھ اپنی رفتار بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ جبکہ تیسری طرف براہمدغ بگٹی اور اسکے دوست و اسکے فکر سے منسلک لوگ اس کوشش میں ہیں کہ قبائلیت پر کوئی آنچ نہ آئے اور جدوجہد اسی طرح سے جاری رہے اور چوتھی طرف ڈاکٹر اللہ نظر اور اسکے ساتھی اس سوچ کو تقویت دے رہے ہیں کہ خاموشی کے ساتھ کام کیا جائے اور سماج کے اداروں کو تبدیل کرنے سے زیادہ وہ مصلحت پسندی کا شکار نظر آتے ہیں اور سیاسی مسئلوں پر چھپ ہو کر انھیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ چکے ہیں اور چھپ کر سیاسی مسئلوں و تضادات پر لب کشائی کرتے نظر آتے ہیں لیکن جرات سے عاری نظر آتے ہیں۔
یہ تمام سوچ آزادی سے منسلک ہیں اور آزادی کے لیے ہی ہو رہے ہیں۔ لیکن ان میں تبدیلی کی کس حد تک ضرورت ہے اس پر ہر ایک کی رائے مختلف ہو سکتی ہے لیکن حقیقی و حقائق د لائل کی رائے اصل رائے ہوتی ہے کہ جس سے سماج کو تبدیل کیا جاسکتا ہے اگر آج یہ سوچیں کہ ایک سطح پر آکر ایک نہ ہو سکیں تو ممکن ہے کہ اسکی شکل خانہ جنگی کی صورت میں نمودار ہو کیونکہ ایک عشرے بعد وہ تضادات یا وہ انقلابی سوچ رکھنے والے جب ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے نظر آتے ہیں تو اس سے ظاہر ہے کہ یہ ایک دوسرے سے نزدیک ہونے کی بجائے دور ہوتے جارہے ہیں حکمت عملی و نظر یہ سے لیکر سوچنے کے انداز تک سب مختلف تھے اور ہیں۔ کیونکہ آزادی کے لیے جس نظریہ و سوچ کے تحت آپ انقلابیوں کی تربیت کرتے ہیں و ہ آنے والے سماج کے وہ ستارے ہونگے جو اس نئے سماج کو ایک ڈھانچے میں ڈالنے کی کوشش کریں گے۔ وہ تمام تضادات جو تحریک شروع ہونے کے وقت موجود تھے۔ اور انھیں وقت و حالات کے ساتھ تبدیل کرنے کی ضرورت تھی اور تمام تضادات وقت و حالات کے ساتھ تیزی کے ساتھ تبدیل ہو رہی تھیں تو عین وقت پر روایتی سوچ کے مالک سیاستدان علحیدہ سوچ کے ساتھ نمودار ہوئے جب ریفرنڈم کی بات سامنے آئی تو دوسری سوچ بھی واضح ہو کر سامنے آئی کہ ہم ریفرنڈم کی حمایت کرتے ہیں اور کچھ عرصے کے بعد جب چارٹر سامنے آئی تو تیسری سوچ بھی واضح ہو کر سامنے آئی کہ چارٹر ایک اچھا عمل ہے دوسروں کو اسکی حمایت کرنی چاہیے ، جب مزید آگے جاکر شہدا ء کے برسی کے حوالے سے بات سامنے آئی تو یہ سوچ بھی واضح ہو گئی اور تیرہ نومبر کے بعد باقی شہداء کی برسی منائی گئی۔ اب یہاں پر تمام سوچیں واضح ہوئیں۔ اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو یہ علحیدہ علیحدہ سوچ ہیں۔ اور انکا فرق واضح نظر آئے گا۔ نہ کہ سارے آزادی پسند و سرمچار نظر آئیں گے۔ لیکن انکے بیچ ایک بہت بڑی خلا موجود ہے۔ اور یہ خلا وسعت پارہی ہے۔ چارٹر کو نواب خیر بخش مری و براہمدغ بگٹی مسترد کرچکے ہیں۔ خیر بخش مری اب تک روایتی انداز میں اس پر اپنا کھلم کھلا اظہار نہیں کر رہے ہیں۔ لیکن بہت سے لوگوں سے ملاقات کے بعد انھوں نے بھی کچھ ایسا ہی اظہار کیا ہے کہ وہ چارٹر سے متفق نہیں ہیں۔ جبکہ براہمدغ بگٹی نے بھی مسترد نہیں کیا ہے۔ بلکہ ایک ریزرو سوچ کے تحت تحفظا ت کا اظہار کر چکا ہے۔ اب یہاں پر براہمدغ بگٹی اور نواب خیربخش مری کے سوچ کے پس منظر میں دیکھا جائے ، تو بہت سے لوگ اسکی ضرور گواہی دیں گے کہ ابھی تک قبائلی سوچ و روایتی سوچ سے انھوں نے چھٹکارہ حاصل نہیں کی ہے۔جبکہ دوسری طرف وہ سوچ جو کہ قبائلیت کے خلاف ایک متوسط طبقے کی نمائندہ لیڈر شپ ہے۔ جو کہ علم و شعور سے لیکر انقلاب کے نئے طریقوں و عمل کی بات کرتی نظر آتی ہے اور ایک مضبوط حلقہ اور مضبوط سوچ رکھتی ہے ۔ لیکن وہ بھی مصلحت پسندی کے شکار نظر آتے ہیں۔ایک طرف سیاسی لیڈر شپ پر حملے کرنے کا بھر پور جواز دیتے ہیں تو دوسرے طرف اپنے مخالفین کو قتل کرنے کی نفی کرتے نظر آتے ہیں۔قبائلی نظام کے خلاف ہے لیکن قبائلی سرداروں سے اپنے رشتوں کو دن بہ دن مضبوط کررہی ہے اور روایتی انداز میں جہد کو آگے لے جارہے ہیں۔اور قومی تضادات کو حل کرنے کے لیے بحث مباحثے سے گریز کرتے ہیں ۔ اور مصلحت پسندی اور انقلابی ہونے کے بیچ کا سفر طے کررہے ہوتے ہیں۔ اب یہاں وہ سوچ ان تمام کی نفی کرتا نظر آتاہے۔ وہ سوچ انقلاب کی برق رفتاری کے ساتھ سوچوں کی تبدیلی پر زور دیتی نظر آتی ہے اور ساتھ ساتھ مصلحت پسندی و قبائلیت کی توڑ کے طور پر اپنے آپکو متعارف کررہی ہے ایک طرف قبائلی نواب و سیاسی بزرگ نواب خیر بخش پر تنقید کرتی نظر آتی ہے تو دوسری طرف براہمد غ بگٹی و تیسری طرف ڈاکٹر اللہ نظر پر تنقید کرتی نظر آتی ہے۔ اور اپنے سوچ و فکر پر مضبوطی کے ساتھ ڈٹے نظر آتے ہیں۔ اور کھل کر ہر قومی مسئلے پر بحث کے دروازے کھول چکے ہیں جبکہ دیگر تما م ادارے و بلوچ قوم کا ایک طبقہ اسکی مخالفت کرتی نظر آتی ہے کہ اس سے مسئلے خرابی کی طرف جائیں گے اب ان حالات کا جائزہ لینے کے لیے یہ ضروری ہو جاتا ہیکہ ان تمام تنظیموں کے بیچ کا جو سفر ہے اس پر تحقیق و غور و فکر کی جائے تو کچھ چیزیں واضح ہو نگی کیونکہ آزادی کے حوالے سے سب ایک نقطے کی طرف رواں ہیں لیکن اس سفر میں اتاروچڑھاؤ کے بعد ہر ایک تنظیم کے فیصلے مختلف نظر آتے ہیں،اور تحریک کو ہر تنظیم مختلف زاویوں سے دیکھتا ہے اور یہی زاویہ نظر تحریک کی صحیح سمت و غلط سمت کی نشاندہی کرے گا۔ اب یہی نقطہ نظر جو تمام تنظیموں کی مختلف سمتوں کی نشاند ہی کرتا ہے اب ان حالات میں صحیح سمت کی نشاندہی کس طرح ممکن ہو سکتی ہے؟ تمام آزادی پسند ہیں اور جدوجہد میں سب کا کردار ہے کسی کا کم و کسی کا زیادہ لیکن سب عزت واحترام و قربانیوں کے حوالے سے ایک مقام رکھتے ہیں۔ اب اس صحیح سمت کی نشاندہی کے لیے کوئی متفقہ قومی ادارے کا وجود نہیں،اور دوسری طرف بلوچ دانشور جو کہ غیر جانبداری کے ساتھ فیصلہ کرسکتے ہیں انکی خاموشی اور خوف اور تحریک سے بیگانگی انکی کم زانتی کا ثبوت ہے اور تنظیموں کے اندر موجود ایک مضبوط فکر رکھنے والے لکھاری بھی کسی حد تک ہر ایک اپنی صحیح سمت پر ڈٹا نظر آتا ہے تو اس بیچ اس فرق کو کیسے اور کیونکر واضح کیا جاسکتا ہے؟اب اس بیچ کے تضادات اور مسائل کو جانچ و پرکھ کر دیکھا جائے تو ہر تنظیم کے حوالے سے دوسرے تنظیم کے خدشات نظر آتے ہیں۔ تو پھر یہ تمام مسائل کسی ایک نقطے کی طرف جانے کی بجائے منتشر نظر آتے ہیں۔ کسی کے لیے بی ایل اے قابل قبول نہیں اور کسی کے لیے بی ایل ایف، اسی طرح باقی سب۔ اب کیا یہ ضروری نہیں کہ اس پر سنجیدگی کے ساتھ سوچ بچار کی جائے اور اسی تناظر میں تحریک کے وہ تضادات و مسائل جو کہ ایک طبقہ ایک تواتر کے ساتھ مضامین کی شکل میں سامنے لارہا ہے اور انھیں سوشل میڈیا میں قوم کے سامنے رکھ رہا ہے تاکہ ان کیلئے ایک عوامی رائے کوہموار بنایا جاسکے اور اس کوشش میں ایک چیز یہ بھی واضح ہے کہ ایک طرف ان تنظیموں کے بیچ جو کمزوریاں ہے انھیں کھل کر بحث کرنے کے لیے ماحول پیدا کی جارہی ہے اور وہ لیڈرشپ جو کل تک اپنے آپکو اور بحثیت بلوچ قوم انھیں پیغمبری کا لقب دے رہا تھا اور کوئی انھیں بابائے بلوچ کہہ کر مخاطب تھا۔ ان پر سوالات اٹھ کر یہ ثابت کررہے ہیں کہ اب حقیقت و حقائق کے لیے شعور کی ضرورت ہے نہ کہ ایک روایتی سوچ کے تحت تحریک سے جڑجانا، بلکہ تحریک کے ساتھ جڑنے کے بعد ان تمام منفی و فرسودہ روایات کی نفی بھی ضروری امر ٹھہرا ہے۔ اب بی ایل اے سمیت تمام مزاحمتی ادارے قابل قدر ہیں۔ لیکن ان کی تمام کاروائیاں قابل قدر نہیں۔ یہ میری نظر ہے اسے کوئی متفقہ ادارہ دلیل و بحث مباحثے سے ہی کنڈم کرسکتا ہے۔اب ان حالات میں جہاں پر دنیا کی ترقی کے ساتھ سوشل میڈیا پر جب بحث و مباحثے کے لیے ماحول پیدا کی جاتی ہے۔ تو سوالات منفی یا مثبت دونوں صورتوں میں سامنے آتے ہیں۔لکھنے اور پڑھنے کے لیے ماحول پیدا کی جاتی ہے ۔ اگر ان حالات میں کوئی اس بحث مباحثے کو غلط سمجھتا ہے تو میری نظر میں وہ غلطی پر ہے۔ کیونکہ متفقہ ادارے نہ ہونے کی سبب آج ہر تنظیم علیحدہ شناخت و سوچ کے ساتھ اپنی جدوجہد کر رہا ہے۔ اور یہ تمام مسئلے اداروں میں حل نہ ہو سکے۔ تو پھر انکا حل کھلم کھلا بحث مباحثے کی ہی صورت میں ہو سکتا ہے۔ اور تنقید ہی وہ علم ہے جہاں سے نئے راستے و نئے سوچ متعارف ہو نگے اور فرسودہ روایتوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کھلم کھلا بحث مباحثے میں یہ اشد ضروری ہے کہ سیاسی اخلاقیات کے دائرے میں ہو۔ اور ہر وہ شخص جو کسی بھی طرح سے تحریک سے وابستگی رکھتا ہے وہ اس اخلاقیات کو اپنے اوپر خود لاگو کرے سیاسی اخلاقیات میں،انا پرستی ،بغض،ضد،بدنیتی کی گنجائش نہیں ہوتی ۔ بلکہ شرف و عزت کے ساتھ کسی پر انتہائی درجے کی سختی تک تنقید لازم ٹھہرتا ہے لیکن وہ زبان بھی سیاسی زبان ہو۔ نہ کہ پاکستانی ذہنیت رکھنے والی زبان ہوجو گالی گلوچ کی شکل میں واضح ہے۔ اب ایک بحث اور ساتھ ساتھ وہ تما م سیاسی ورکر جو کہ تمام چیزوں سے بخوبی واقفیت رکھتے ہیں ان پر فرض عائد ہوتا ہے کہ بے ہودگی سے لیکر وہ تنظیمی اصول جو کہ سب پر لاگو ہے ان کی پاسداری کریں اور اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھیں۔ تو اس بحث مباحثے میں ایک نتیجہ تک پہنچنا آسان ہوگا۔ سوشل میڈیا پر بحث مباحثہ اتنی بری بات نہیں کہ جسے ہم اس حد تک برا بھلا کہتے ہیں کہ یہ بحث کی جگہ نہیں، تو پھر میں یہ کہتا ہوں کہ سات سال پہلے جب سیاسی ورکر اور لیڈر ہوٹلوں میں بیٹھ کر اور عوام کے سامنے جلسے جلسوں میں اپنی فکر پیش کرتے تھے تو وہی فکر عوام تک پہنچ جاتی اور عوام میں بحث ہوتی تھی۔ لیکن اب وہ حالات نہیں رہے۔حالات بدل گئے سیاسی رویے بدلے ، جدوجہد کے طریقے بدلے، سیاسی مزاج بدل گئے۔اور خصوصاً وہ طریقے جو برسوں سے سماج میں رائج الوقت تھے اب چیزوں کوانھی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کہ حالات کے ساتھ اپنی جدوجہد کے طریقوں کے ساتھ سماج کی تبدیلی اور عوام میں سیاسی شعور کی بیداری کے لیے نئے طریقوں کی ضرورت ہے اور تمام سیاسی ورکر و پارٹیاں سمیت وہ ہمدرداں جو کہ ایک سوچ کے ساتھ تحریک سے وابستہ ہیں انھیں صرف میڈیا ہی کے ذریعے ہی شعور دی جاسکتی ہے تاکہ وہ کھلم کھلا اپنی سوچ و فکر کو دیگر اداروں تک پھیلائیں۔ آج میڈیا و دیگر وہ ذرائع جنھیں ریاست اپنے پروپگنڈوں کی شکل میں تحریک کے خلاف استعمال کررہی ہے ۔ اور آج یہی ادارے ہم اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اور اپنے تضادات کو کھلم کھلا اخلاقیات کے دائرے میں بحث مباحثے کی صورت میں حل کرسکتے ہیں۔اور وہ تضادات جنھیں سیاسی ورکر سمجھتے ہیں کہ بلوچ عوام ان سے ناواقف ہے یہ انکی خام خیالی ہے اور یہ ایک روایتی سوچ ہے کیونکہ عوام میڈیا کے ذریعے بہت سے مسائل و حالات سے واقف ہو چکے ہیں اور وہ تما م مزاحمتی تنظیموں کی کاروائیوں کے اثر اور انکے نتائج سے واقفیت رکھنے کے ساتھ ساتھ یہ اداراک بھی رکھتے ہیں۔ کہ بلوچ لیڈر شپ کے درمیان ایک خلیج ہے لیکن اس خلیج اور اس تقسیم کاری کو بھی انکا حق ہے کہ جان لیں پہچان لیں تاکہ آنے والے وقت میں انھیں یہ فیصلہ کرنے میں کوئی دقت نہ ہو کہ کون غلط و کون صحیح ،جب ایک مسئلے کو سرعام بحث کے لیے کھولا جاتا ہے تو یہاں پر تربیت کے حوالے سے لوگوں کی سوچ میں آہستہ آہستہ تبدیلی آتی ہے اس طرح نئے طریقوں نئے ذرائعوں سے فائدہ حاصل کرنا ہماری ضرورت ہے اور ہمیں اسے مثبت نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے اور وہ لوگ جو اسکی مخالفت کرتے ہیں انھیں ایک چیز ذہین نشین کرنی چاہیے کہ سماج میں ہر نئی چیز کو متعارف کرنے میں مشکلات درپیش ہونگے لیکن وقت و حالات کے ساتھ وہ لوگوں کے لیے عام ہو جاتا ہے۔ لیکن اس دوران ایک شرط سیاسی حوالے سے ضروری ہے کہ مسائل و تضادات کو کھلم کھلا سیاسی مسائل کی بنیاد پر بحث کرنا فرض ٹھہرتا ہے اور اس بحث میں نیت مثبت ہو نی چاہیے تو ہم اپنے ان قومی تضادات و قومی مسائل کو حل کرسکتے ہیں۔ آج جس صورتحال کا ہم شکار ہیں اور جس نقطہ نظر سے لوگ آج کے حالات کو دیکھ رہے ہیں ظاہراً یہ عمل ویہ بحث مباحثہ غیر سیاسی نظر آتاہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ یہ مسائل اداروں میں حل نہ ہو سکے اوراداروں میں چار سال جہد مسلسل کے بعد بھی حل نہ ہو ئے کیونکہ اداروں میں بھی روایتی طرز جہد حاوی ہے اور سیاسی مسئلوں کو بھی روایتی پسند و ناپسند و دوستی و عزیزی کی خاطر اپنی خواہش کے مطابق دیکھا جاتا ہے آ ج صورتحال یہی ہے اور حقیقی رخ بھی یہی ہے کہ قومی اتحاد و اتفاق کے بجائے سہانے خواب دیکھے جاتے ہیں بلکہ ایک چھوٹے سے علاقے میں اپنی طاقت و اثر کو دیکھ کر دوست خوشی سے پھولے نہیں سماتے کیونکہ انکی سوچ پختہ نہیں اور حادثاتی لیڈر بھی جہد کو اپنی خواہشات کے تابع کرکے ایک دوڑ میں لگے ہیں اور بلوچ عوام کے لیے سب قابل قدر ہیں لیکن بلوچ عوام انکی اصلیت سے ناواقف ہے اور حقیقت یہی ہے ان سولہ سالوں میں جہد آزادی کی جنگ تو رہی لیکن ادارے کی بجائے کردار مضبوط ہوئے اور یہی بلوچ جہد کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر غور سے تجزیہ کیا جائے۔ تو بی ایل اے و لشکر بلوچستان کا کوئی بھی نمائندہ منظر عام پر نظر نہیں آتا۔ لیکن بی ایل ایف کی حیثیت ڈاکٹر اللہ نظر بن گئی ہے اور بی آر اے کی صورتحال یہی ہے کہ اسکی ظاہراًلیڈرشپ واضح نہیں لیکن بی آرپی و بی آر ایس او کی صورتحال سے انکی بھی جہد واضح ہو کر آگئی کہ وہ ادارے سے زیادہ شخصیت کو فوقیت دے رہے ہیں اب ان حالات میں وہ تضادات جو کہ ایک عشرے سے موجود تھے اور ہیں انہیں حل کرنے کے لیے یہ ضروری ٹھہرتا ہے کہ بلوچ عوام کو آگاہی دی جائے کہ حقیقت کیا ہے کہ جن لیڈر شپ کو ہم قوم کا نجات دہندہ سمجھتے تھے انہوں نے اس جہد میں کیا کردار ادا کیا ہے ؟اور اداروں کے بدلے فرد بن کر فیصلہ کرنے لگے اب ان حالات میں بلوچ قوم خود فیصلہ کرے کہ اس حقیقت و ان حالات سے نظر چرائی جائے یا انہیں حل کرنے کے لیے بحث مباحثہ کے دروازے کھولے جائیں آج سوشل میڈیا میں جو بحث سامنے آتی ہے وہ حقیقت پر مبنی ہے کیونکہ اب کوئی دوسرا ذریعہ ہی نہیں کہ ان تضادات سے بلوچ عوام کو آگاہ کیا جاسکے
0 comments:
Post a Comment