Sunday, 30 June 2013

ڈاکٹر اللہ نذر کا انٹر ویو اور بلوچ جدو جہد........ مہراب مہر



 ڈیلی توار :
 

”جنگ مقصد کے حصول کا ذریعۂ ہے۔ اور اسے بجائے خود مقصد قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ جنگ انقلابیوں کا ہتھیار ہے۔ اہم ترین چیز انقلاب ہے۔ انقلابی مقصد، انقلابی تصورات، انقلابی اہداف، انقلابی جذبات اور انقلابی سچائیاں ہی اہم ہیں۔“ فیڈل کاسترو کے ان جملوں پر غور کیا جائے، اور ان کے پیچھے اس عمل اور شعوری پختگی کو دیکھا جائے، تو یہ کھل کر واضح ہوجائے گا کہ جنگ ایک ذریعہ ہے مقصد کو حاصل کرنے کیلئے۔ اور آج بلوچ بھی جنگ کے ذریعئے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔ اس کوشش میں کچھ بلوچ مزاحمتی تنظیمیں منظر عام پر اپنی جدو جہد کر رہے ہیں۔ اور ہر تنظیم اپنی سوچ و فکر کے ساتھ آزادی کیلئے ریاستی فورسز کے ساتھ بر سر پیکار ہے۔ لیکن اس سچائی کے ساتھ ساتھ یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ ان مزاحمتی تنظیموں کے بیچ تضادات سر اُٹھا چکے ہیں۔ اور یہ تضادات اسی دن سے موجود تھے، جب ان تنظیموں کی بنیادیں رکھی گئی تھیں۔ لیکن وقت و حالات کے گزرنے کے ساتھ ان میں انقلابی تصورات، انقلابی اہداف، انقلابی مقصد اور انقلابی سچائیاں اس طرح پروان نہ چڑھ سکیں، بلکہ انتہائی سست رفتار رہی۔جو تضادات یا مسائل جو امتنائی حوالے سے تھی یا کہ نظریاتی حوالے سے۔ لیکن انہیں حل کرنے کی بجائے زیادہ تر کام پر زور دیا گیا۔ اور مسائل و تضادات کو چھیڑا نہ گیا۔ بلکہ انہیں حالات و ہر ایک کی سمجھ بوجھ پر چھوڑ دیا گیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ حل ہونگے۔ اور مختلف مزاج و مختلف خیال کے لوگ ایک طرح سے ایک نظریے کے تحت اپنی جدو جہد جاری رکھے ہوئے تھے۔ جب ہر ایک کے ساتھ ایک مضبوط طاقت آگئی۔ اور ہر ایک کے کھاتے میں قربانیوں کا ایک چھوٹا سا حصہ نظر آنے لگا۔ تو وہ تضادات سر اُٹھانے لگے۔ اگر انہیں ان حالات میں حل نہ کیا گیا۔ تو وہی حالت ہوگی جو افغانستان میں مجاہدین کا ہوا۔ مذہب کے نام پر روس سے لڑے۔ اور یہ لڑائی مختلف شکل تبدیل کرتی ہوئی پھر سیکو لر جمہوری معاشرے کی تبدیلی کیلئے میدان میں نظر آئی۔ کیوں کہ اس وقت مذہب کے نام پر مختلف خیال کے لوگ ایک نظریے کے تحت جمع ہوگئے۔ اور ان کا وژن و تصور صرف روس کا انخلاء تھا۔ جبکہ ان میں انقلابی خیالات، انقلابی اہداف مفقود ہو کر رہے گئی۔ اور بلکل اسی طرح آج بلوچ تحریک کی یہی حالت ہے۔ آج تضادات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں سارے جہد کار سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔
لیکن دوسری طرف انقلابی سچائی کیا ہے۔ اور بلوچ رہنماء ڈاکٹر اللہ نذر نے تضادات کے حوالے سے وش ٹی وی کو انٹر ویو دیتے ہوئے تضادات کو اختلاف کہہ کر کم از کم مجھے تو حیران کردیا۔ اور ساتھ ہی ڈاکٹر اللہ نذر نے یہ کہہ کر میرے ذہن میں مزید پیچیدگی پیدا کردی کہ ہم یونا ئیٹڈ کمانڈ کی طرف جا رہے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ ڈاکٹر صاحب نے انتظامی و نظریاتی تضادات کو اختلاف کہہ کر ایک کنفیوز ماحول پیدا کر دیا ہے۔ اور ڈاکٹر صاحب حقیقت کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان تضادات کو چھپانے کے پیچھے وہ کون سے عوامل کار فرما ہیں۔ اس کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر صاحب سے یہ سوال ہے کہ کیا یو بی اے کا وجود اختلاف رائے ہے یا نظریاتی تضاد؟ اختلاف رائے کسی بھی مسئلے پر ہو سکتا ہے۔ لیکن تضاد مکمل طور ایک عمل سے دوسرے عمل کی ضد ہے۔ جب اختلافات و اختلاف رائے نظریاتی بنیادوں پر حل نہ ہو سکیں گے۔ تو وہ نظریاتی تضاد کی شکل میں نمودار ہونگے۔ کیوں کہ اختلاف رائے رکھنا ایک مثبت عمل ہے۔ اور جب اختلاف رائے اختلافات بن جائیں گے۔ تو پھر مخالفت در مخالفت کا نہ تمنے والا سلسلہ بن کر مضبوط تضاد کی شکل اختیار کرینگے۔ کیوں کہ اختلاف رائے رکھنے کے عمل سے لیکر اختلافات بن جانے تک مسلسل عمل جب مخالفت کے سلسلے تک پہنچائیں گے۔ تو پھر وہ تضادات کی شکل اختیار کرینگے۔ چائیے پھر انہیں کوئی بھی نام دیا جائے وہ اسی ڈگر پر رواں ہونگے۔ اب اگر ڈاکٹر صاحب کی اس بات کو لے لیں کہ ہمارے بیچ تضادات موجود نہیں۔ تو پھر ان سے یہ سوال کرنے میں میں حق بجانب ہوں گا کہ ایک مزاحمتی تنظیم کا عمل تحریک کیلئے فائدہ مند، جبکہ دوسرے کیلئے نقصاندہ اور تحریک کیلئے نقصاندہ ثابت ہوگا۔ تو ڈاکٹر صاحب کیا یہ نقطہ نظر کا فرق ہے؟ اگر ہے تو کس طرح؟ جہاں تک بات نقطہ نظر کی ہے نقطہ نظر کوئی بھی فردیا ادارہ ایک نظریاتی سوچ کے تحت ڈویلپ کرتی ہے۔ آج بی ایل اے، بی ایل ایف اور بی آر اے سے تعلق رکھنے کا کوئی بھی سیاسی کارکن ایک مخصوص نظریاتی سوچ کے تحت ان عوامل کو دیکھتا ہے۔ تو یہاں پر بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایک مخصوص نقطہ نظر اس نظریاتی سوچ کی نشاندہی کرتی ہے۔ چاہے عسکری یا سیاسی حوالے سے ہو۔ جب ادارے کسی بھی عمل کو ایک مخصوص نظریاتی سوچ کے ساتھ دیکھتے ہیں، پرکھتے ہیں جانچتے ہیں تو وہ اس سوچ کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر اللہ نذر کی ان نظریاتی تضادات پر پردہ ڈالنے کی وجہ سے بلوچ عوام اور سیاسی ورکروں میں کنفیوژن پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب وار سائیکی کی مثال دے کر تضادات رکھنے والے گروپ یا دوستوں کو وار سائیکو کہہ کر مخاطب کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ جنگیں تباہی لاتی ہیں، نسل در نسلیں تباہی کا شکار ہوتی ہیں، دوسری جنگ عظیم کے بعد جو نفسیاتی امراض یورپ میں پلے بڑھے ان کی بنیاد جنگ تھی۔ اور بلوچستان میں ہر عام و خاص ڈپریشن و فریسٹریشن کا شکار ہے۔ یہاں تک کہ ہر علاقے میں آپ کو ایسے لوگ دیکھنے کو ملیں گے۔ کیوں کہ جنگی اثرات معاشرے کے تمام پہلوؤں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اور آج بھی بہت سے ایسے جہد کار ہیں، جو گولیوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اثر کسی بھی تضاد کی نشاندہی کر تا ہے۔ تو اسے جنگی نفسیاتی مریض کہہ کر ان تضادات پر پردہ ڈالا جائے۔ ڈاکٹر صاحب وار سائیکو کے پیچھے ان تضادات پر پردہ ڈال کر حیران کن انداز میں کچھ سوالات چھوڑ گئے۔ ڈاکٹر صاحب تضادات موجود ہیں۔ اور آپ بخوبی ان سے واقف ہیں۔ کیوں کہ آپ رہنمائی کر رہے ہیں۔ اور ساتھ ساتھ تضادات پر پردہ ڈالنے کیلئے جو حربے استعمال ہو رہے ہیں۔ چاہیے وار سائیکی کی صورت میں ہوں۔ یا کہ کسی اور صورت میں یہ سیاسی حربے ہیں۔
شاید حیر بیار مری کے پیش کردہ چار ٹر کو فرد یا ادارے کے حوالے سے آپ بخوبی واقفیت رکھتے ہیں کہ وہ کسی فرد کا خیال تھا یا کسی ادارے کا۔ لیکن چارٹر کے بارے میں جو رائے ڈاکٹر صاحب آپ کی جانب سے پیش کی گئی۔ وہ انتہائی ریزرو اور ٹیکنیکل انداز میں پیش کردہ موقف تھا کہ وہ چارٹر کو کسی فرد یا ادارے کا منشور سمجھ رہے ہیں۔ حالانکہ ڈاکٹر صاحب اچھی طرح سے با خبر ہیں کہ کسی ادارے کا منشور جب بنایا جاتا ہے۔ تو وہ اس ادارے تک محدود رہتا ہے۔ اور وہ اس ادارے کے اندرونی مسائل و ان کے مقصد کی نشاندہی کیلئے ہوتا ہے۔ جبکہ چارٹر بلوچ عوام کیلئے ہے۔ اور اس میں پوری بلوچ قوم و تمام آزادی پسند و سیاسی تنظیموں کی رائے شامل ہے۔ اور اس چارٹر میں بلوچ قوم سے بھی رائے لی جائے گی۔ اب حیرانگی کی بات ہے کہ ڈاکٹر صاحب جیسے سیاسی سوج بوجھ رکھنے والے رہنماء کیوں کر بے خبری کا سا تاثر دے رہے ہیں؟ کیا اس کے پیچھے مقاصد موجود نہیں؟ بہرحال آزادی کی جدو جہد میں شامل تمام تنظیمیں آزادی کی موقف پر ایک نظریہ رکھتے ہیں۔ لیکن ہر ایک کی علیحدہ شناخت و خیال اس بات کی ضمانت ہے کہ ہر ایک
علیحدہ نظریاتی سوچ کے تحت آزادی کیلئے جدو جہد کر رہا ہے۔ اور اس دوران قومی یکجہتی سے زیادہ گروئیت کی مضبوطی اس نظریاتی تضاد کی نشاندہی کر رہی ہے۔ اور تضادات نہ ہونے پر جو بات کی جاتی ہے۔ تو اس پر اگر کوئی کہتا ہے کہ تضادات نہیں ہیں۔ تو یہ حقائق کو چھپانے کی نشاندہی کرتا ہے۔ لہذا تضادات پر پردہ ڈال کر بلوچ عوام کو دھوکہ دینا کیا معنی رکھتا ہے؟ اور کیا ہم اس سوچ کے ساتھ اپنی منزل کو پاسکیں گے؟ کہ گروپوں کی مضبوطی کیلئے سرگرداں نظر آتے ہیں۔ قومی یکجہتی کے حوالے سے ہماری دوری کیا معنی رکھتی ہے؟ اگر تضادات حل نہ ہوسکے، تو دوریاں کسی اور طوفان کا پیش خیمہ ہونگے۔ اور وہ بنیادی نقاط

جس کی بنیاد پر یہ تضادات اُٹھی ہیں۔ انہیں حل کرنے کیلئے حقائق کی روشنی میں ان تضادات کی نشاندہی ضروری ہے۔ اور وہ کمزوریاں جو کہ مزاحمتی تنظیموں و لیڈر شپ میں موجود ہیں۔ انہیں ظاہر کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ حقائق تمام بلوچ عوام تک پہنچ سکیں۔ اور عوامی رائے پر پھر تحریک و تنظیمیں مضبوط ہو سکیں۔
آزادی مقصد ہے لیکن جنگ ایک ذریعۂ ہے۔ آج آزادی کے یک نقاطی ایجنڈے پر ساری مزاحمتی تنظیمیں متفق ہیں، پھر یہ پرشت و پروش کیا ہے؟ کیا یہ نقطہ نظر کی وجہ سے سامنے آئے ہیں؟ یا پھر وہی تضادات ہیں، جو ہمارے بیچ موجود ہیں۔ آزادی کیلئے جدو جہد کرنے والی تنظیمیں ہر ایک اپنی مخصوص نظریاتی سوچ کے تحت اسے آگے لے جا رہے ہیں۔ لیکن نظریاتی بنیاد پر سماجی ارتقاء کے عمل کو بی ایل اے، بی ایل ایف و بی آر اے کس نظر سے دیکھتی ہیں۔ کچھ تنظیمیں پہلے منزل کو پانے کی بات کرتے ہیں کہ پہلے آزادی حاصل کرنی چائیے۔ اس کے بعد انقلاب کیلئے جدو جہد کرنی چائیے۔ اور سماجی انقلاب کیلئے راستے ہموار ہونگے۔ جو کہ ایک خواب ہی ہوگا کیوں کہ دنیا میں آزادی کی جو تحریکیں چلی ہیں۔ جہاں انہوں نے پہلے آزادی کو منزل سمجھ کر جدو جہد کی۔ تو وہاں پر خانہ جنگی ہوئی۔آج اگر ہم اپنے تمام سماجی اداروں کو تبدیل کرنے کی بجائے صرف آزادی کو منزل سمجھ کر جدو جہد کریں گے۔ تو اس جدو جہد کے دوران جو سوچ عوام میں پروان چڑھے گی۔ تو آزادی کے بعد جو خانہ جنگی کا منظر نامہ سامنے آئے گا۔ وہ انتہائی خطرناک شکل میں ہوگا۔ اور بلوچستان جہاں ایک مزاحمتی تنظیم کی نہیں، بلکہ مختلف مزاحمتی تنظیموں کے علاقے ہیں۔ اور ہر ایک اپنے علاقے تک محدود اپنی جدو جہد کر رہا ہے۔ تو آزادی کے بعد ان تنظیموں کی طاقت کی جنگ اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے اور ہر ایک کا مخصوص نظریہ انہیں ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرے گا۔ ایک مخصوص علاقے کی بات ڈاکٹر صاحب نے خود بھی اپنے اس انٹر ویوں میں واضح کردی ہے کہ انہوں نے پورے بلوچستان کی بجائے مشکے، مکران تک اپنے اثر و رسوخ کی بات کی۔ اگر یہی علاقائیت و طاقت کی سوچ اسی طرح برقرار رہی۔ تو پھر ہمسائیہ ملک افغانستان کی خانہ جنگی کا منظر نامہ بلوچستان میں بھی ہوگا۔ اور دوسری طرف ڈاکٹر اللہ نذر نے اپنے انٹرویو میں بلوچستان لبریشن چارٹر کو تنظیمی آئین سمجھ کر ایک فردکی کوشش کہہ کر اس کی حمایت کی۔لیکن ساتھ ساتھ ڈاکٹر صاحب نے یہ بھی وضاحت کردی کہ دیگر تنظیموں کے بھی چارٹر ہیں۔ جب بلوچستان لبریشن چارٹر بنا۔ اور اس کے 82 شق جو کہ ایک تنظیم کے نہیں، بلکہ ایک قوم کیلئے ہیں۔ اور اس کے کچھ شق تمام آزادی پسند تنظیموں کے منشور میں بھی ہیں۔ لیکن چارٹر کو قوم کے سامنے پیش کرنے کا مقصد ایک جمہوری سیاسی نظام کی طرف پہلا قدم ہے۔ اور تمام لیڈروں سے اس کے حوالے سے مشورے و تجاویز مانگے گئے۔ اس پر خاموشی کا مقصد کچھ اور ہی ثابت کرے گا۔ نہ کھل کر مخالفت کی گئی، اور نہ ہی کھل کر حمایت کی گئی۔ کیوں؟ یہ سوال اب تک جواب طلب ہے۔ وطن کی آزادی کے بعد ایک نظام کا تصور جو کہ آزادی سے پہلے بلوچ قوم کے دلوں میں زندہ رکھنا ہے۔ تاکہ آزادی سے پہلے اس نظام کیلئے رائے عامہ ہموار کی جائے۔ اور تمام سماجی اداروں میں تبدیلی لائی جائے۔اور ایک مکمل انقلاب کے ساتھ ہم آزاد ہوسکیں۔ لیکن اس پر ڈاکٹر صاحب کی سوچ نے اس تضاد کو واضح کردیا کہ پہلے آزادی پھر انقلاب۔ جبکہ چارٹر سماجی تبدیلی و انقلاب کے ساتھ آزادی کے تصور کو زندہ کر رہی ہے۔ تاکہ آزادی حاصل کرنے کے عمل کے دوران انصاف، برابری، سماجی و شہری حقوق تک تمام قوانین کو جدو جہد کے دوران لاگو کرتے جائیں۔ اس طرح نہ ہو، جس طرح الجزائر میں ہوا۔ الجزائر میں آزادی حاصل کرکے وہ فوج جس نے آزادی کی جنگ لڑی تھی۔ اسے حکومت کا ماتحت ہونا تھا۔ لیکن فوج نے عام شہریوں کی زرعی زمینوں پر قبضہ کرنا شروع کردیا۔ کیوں کہ فوج یہ خوائش رکھتی تھی کہ ہم نے وطن کیلئے قربانی دی ہے۔ لہذا ہمیں اس کا صلہ ملنا چائیے۔ الجزائر کے حالات کو دیکھ کر آج ہماری تحریک میں یہی عوامل دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ نجانے آزادی حاصل کرنے کے بعد پھر حالات کیا ہونگے۔ آج مزاحمتی تنظیمیں اپنی قربانیوں کا ڈھنڈورا پیٹتے نظر آتے ہیں۔ اور ذمہ دار لوگ ہر جگہ اپنی قربانیوں کے بدلے صلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اور بعض جگہوں پر حاصل بھی کر رہے ہیں۔ چارٹر کا مقصد بھی دنیا کے دیگر تحریکوں سے سبق سیکھتے ہوئے بعد میں آنے والے وقت میں ان تضادات سے بچنا ہے۔ لیکن اس پر پھر نہ چاہنے والا رضا مندی، اور نہ کھل کر حمایت کرنا، نہ کھل کر مخالفت کرنے کی خاموشی ان تضادات کے شاخسانے ہیں۔ اور جہاں تک بات ایک دوسرے سے رابطے کی ہے۔ یہ رابطے بھی تنظیمی ہونے کی بجائے ذاتی نوعیت کے نظر آتے ہیں۔ ایک جہد کے دوران رابطے ضروری امر ٹھہرتے ہیں۔ لیکن ان کی بنیاد اگر مسائل و تضادات کو حل کرنے کے حوالے سے ہوں تو یہ انتہائی مثبت عمل ہوگا۔ لیکن یہ رابطے زیادہ تر روایتی انداز میں ہو رہے ہیں۔
بی این ایم کے حوالے سے ڈاکٹر اللہ نذر نے کھل کر وضاحت کردی ہے کہ بی این ایم ماس پارٹی ہے۔ بی این ایم ایک پارٹی ضرور ہے۔ لیکن ماس پارٹی کا تصور غلط ہے۔ کیوں کہ ماس پارٹی سیاسی حوالے سے کسی قوم یا وطن کے تمام ادواروں تک، عوام کے اندر اپنی جدو جہد کرتی ہے۔ اور وہ ہر حوالے سے مکمل طور پر ایک مضبوط ادارہ ہوتی ہے۔ لیکن بی این ایم اس حوالے سے ایک ماس پارٹی نہ بن سکی ہے۔ اس طرح بی این ایف کے اتحاد کی بات سامنے آتی ہے۔ تو یہ اتحاد جو کہ بلوچ وطن موومنٹ، بلوچ بار کونسل، بلوچ یونٹی کونسل اور بی آر پی کی علیحدگی کے بعد یہ کس قسم کا اتحاد ہے؟ ایک سٹوڈنٹ تنظیم اور ایک پارٹی آپس میں آزادی یا کسی بھی ایشو پر اتحاد کر سکتے ہیں۔ اور اگر دیگر آزادی پسندوں سے وہ اتحاد نہیں کرتے تو یہاں پر ضرور سوال پیدا ہوتا ہے کہ بی این ایف ایک چھوڑی ہوئی اتحاد تھی۔ اور اب ایک سٹوڈنٹ ونگ و ایک پارٹی آپس میں پرانے اتحاد کے نام پر سرفیس میں جہد کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر اللہ نذر کی حمایت نے یہ واضح کردی ہے کہ یہ اتحاد (بی ایس او آزاد اور بی این ایم) قومی آزادی کی جہد کے ساتھ ساتھ ایک مزاحمتی تنظیم سے زیادہ قربت رکھتے ہیں۔ اور ان کی اس سوچ کی بنیاد بھی یہی ہے۔ کہ ڈاکٹر اللہ نذر نے جس سوچ کے تحت تاریخی ہڑتال کو بی ایس او و بی این ایم تک محدود کر دیا یہاں پر کچھ سوالات ضرور جنم لیں گے۔ کیوں کہ یہ تاریخی ہڑتال تھی یا نہیں۔ اس پر بحث کی گنجائش ہے۔ لیکن اس ہڑتال کا سیاسی سہرا بی ایس او و بی این ایم کے سر سجایا گیا۔ نا انصافی کے ساتھ ساتھ اس سوچ کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔ جہاں سے گروہیت شروع ہوتی ہے۔ کیوں کہ ہڑتال کی کال بی این ایم و بی ایس او نے دی۔ لیکن اس کی کامیابی مزاحمتی تنظیموں کی چودہ سالہ کا روائیوں، شہدا کی قربانیوں اور ریاستی جبر و تشدد کی وجہ سے ہے۔ کیوں کہ شہداء کی سوچ کی پختگی اس جدو جہد کا ثمر ہے، نہ کہ ایک مخصوص اتحاد کے۔ بی آر پی، بلوچ نیشنل وائس، بلوچ بار کونسل سمیت دیگر خاموش سیاسی ادارے جو ابھی تک منظر عام پر نہیں آئے اس ہڑتال کی کامیابی کا سہرا ان تمام جہد کاروں کے سر جاتا ہے۔ نہ کہ ایک تنظیم کے۔ اور آج یہ نقطہ نظر جسے ڈاکٹر اللہ نذر پیش کر رہا ہے۔ یہ نقطہ نظر ہی ان تضادات کی بنیاد ہے۔ جسے ڈاکٹر صاحب نقطہ نظر و اختلافات کا نام دے رہا ہے۔ اس طرح چار ٹر کو حیر بیار مری تک محدود کرکے ایک فرد سے منسلک کرنا، اور بی این ایف کو ایک اتحاد سمجھنا، یہ سب تضادات کی بنیادیں ہیں۔ لیکن ان پر پردہ ڈال کر جو سوچ سامنے لائی جا رہی ہے۔ وہ صرف اور صرف کنفیوز سیاسی ورکر پیدا کر ے گی۔ نہ کہ مکمل انقلابی۔
اگر آج ہم اپنے سماج کے ارتقاء و سیاسی اداروں پر نظر دوڑائیں، تو اس سے ڈاکٹر اللہ نذر سمیت کوئی بھی انکار نہیں کر سکے گا، کہ جو ادارے خود شعوری طور پر نا پختہ ہیں۔ جدو جہد ضرور کر رہے ہیں۔ لیکن کم از کم میں انہیں قومی ادارہ نہیں کہہ سکتا۔ کیوں کہ یہ سارے ادارے بشمول مزاحمتی تنظیمں قومی جہد ضرور کر رہے ہیں۔ لیکن یہ قومی ادارے نہیں بن سکے ہیں۔ اور ابھی تک قومی لیڈر پیدا نہیں ہو سکا ہے۔ قومی ادارے دور کی بات آج ہر ایک، ایک مخصوص ٹولہ کی شکل میں آزادی کیلئے جدو جہد کر رہے ہیں۔ انہیں قومی تنظیمیں یا قومی اداروں کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ کیوں کہ ابھی تک تمام لیڈران سمیت ہر سیاسی ورکر کو ثابت ہونا ہے۔
تب کہیں جاکر ایک مضبوط و منظم ادارہ وجود میں آسکے گا۔ نہ کہ اتنے گروہ، سوچ و افراد کوایک مضبوط و قومی ادارہ سمجھنا خام خیالی ہی ہوگا۔ لہذا جو حقائق ہیں ان پر دھیان دینا اور حقیقی رو سے جدو جہد و تحریک کے پہلوؤں پر چار و بچار کی ضرورت ہے۔ سیاسی حربوں سے نہ ہم کسی کو دھوکہ دے سکیں گے۔ اور نہ ہی کامیاب ہو سکیں گے۔ بلکہ حقائق کو حقیقی بنیادیں فراہم کریں۔ اور غور و تحقیق کے دروازے کھول دیں۔ تب یہ ممکن ہو سکے گا کہ ہم تضادات کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ منزل کی طرف ایک آواز ہو کر چل سکیں گے۔

0 comments:

Post a Comment