Thursday, 5 December 2013

آؤکہ اختلاف رائے پر اتفاق کریں۔۔۔ شاہ جی بلوچ


میرے خیال میں سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ بلوچ قوم کو اپنی سمت کا تعین کرناچاہئے اور یہ سمت آگے بڑھنے کا ہے اور آگے بڑھنے کیلئے سمت کا تعین ضروری ہے ممکنہ طورپر سمت کے تعین کے بعد بھی مسائل کا سامنا ہو لیکن یہ یقین ہے کہ وہ ضمنی مشکلات ہونگی جبکہ اگر سمت کا تعین درست نہیں تو ممکن ہے کہ ضمنی کامیابیاں ملیں لیکن یہ ضمنی کامیابیاں کسی کام کے نہیں۔بلوچ آزادی کی تحریک بندوق کے زور پر محض کسی کو اپنی بات پر متوجہ کرسکتی ہے کسی سے اپنی بات بندوق کے زور پر منوا نہیں سکتی پس ثابت ہوا کہ اصل مرکز بات سمجھانے کا ہے نا کہ بندوق کے ذریعے بات منوانا۔البتہ بندوق ضمنی پیداوار اور ضرورت ہے جبکہ بات ہی اصل مرکز ہے۔بندوق بات چیت مذاکرات کسی کو بات سمجھانے کیلئے راضی کرنے کی حدتک مدد گار ہے اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔البتہ آج کے تناظر میں بندوق اول وآخر کے طورپر زیرا ستعمال ہے جبکہ استدلال اور بات سمجھانے کا نقطہ مفقود نظر آتا ہے ۔ڈاکٹر اللہ نذرنے کہا ہے کہ کتاب اور بندوق میں کتاب کو اولیت دینگے،میر ے خیال میں یہ اس بات کا اظہار ہوسکتا ہے کہ ڈاکٹر کے ہاں بندوق حاوی نظر آرہاہے جہاں وہ بندوق اور کتاب کو موازنہ کے طورپر پیش کررہے ہیں جبکہ دوسری صورت میں کتاب اور بندوق کا کیا موازنہ ؟یہ موازنہ کسی شخص کے ہاں اس وقت کیا جاسکتا ہے جب وہ موازنہ کرنے والی اشیاء کو برابر سمجھے اور ان کو باہم مدغم اور مکس سمجھے۔ڈاکٹر نے بندوق اور کتاب کو برابر قرار دے کر ان میں سے کتاب کو اٹھانے کی بات کی۔ڈاکٹر اللہ نذر کی طرف سے بندوق اور کتاب کو موازنے(برابر) کے طورپر پیش کرنے اوران میں سے کتاب کو ترجیح دینے کی بات کہہ کر اول تو دونوں کو برابر قرار دیا اس کے بعد پھر ان دوحصوں میں سے ایک کو اپنے لئے پسند کیا،یہ ہمارے ہاں فکری کمزوریوں کے سبب ہے اور اس سے یہ بندوق کے حاوی ہونے کا بھی اشارہ ہے۔کسی مسلمان کو اس کے ایمان کے اوپر نیچے ہونے کی نشانیاں بتا دی گئی ہیں کہ جب دل اللہ کی یاد سے غافل ہونے لگے تو دل اور ذہن پر زور ڈال کر اللہ کو یاد کرواور دل میں اللہ کی جگہ جس شہ نے بھی لی ہے اس کا خیال دل سے نکالنے کا واحد طریقہ یہ کہ اللہ کا ذکر کیا جائے۔ممکن ہے کہ حقیقت میں بندوق کا خیال دل سے نکالنے کیلئے کتاب،کتاب اور کتاب کا ذکر کیاجارہاہو۔بندوق کے کثرت استعمال کے حوالے سے اس کے مضمرات سے ہٹ کر یہاں سیاسی کارکن کی تربیت کو اگر اہمیت دی جائے تو شاہد بہتر ہو کیونکہ جنگوں کے بعد قتل ہونے والے انسانوں کی یاد رہ جاتی ہے جبکہ جنگ کے اثرات سے قومیں یا انسانی گروہ کبھی نہیں نکل سکتے۔ سندھ میں محمد بن قاسم عرب سے وارد ہوا ہزاروں لاکھوں انسانوں کو روند ڈالا جبکہ آج ان انسانوں کے قتل کی تو محض یاد رہ گئی ہے لیکن نفسیاتی اثرات تاحال سندھ میں واضح ہے لوگ نیند میں بھی بن قاسم کے گھوڑوں کی ٹاپ کو محسوس کرتے ہوئے گہری نیند سے جاگ اٹھتے ہیں۔ چنانچہ آج مکران اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں مزاحمتی تنظیموں کی کارکردگی کسی کارکن کیلئے حوصلہ افزاء ضرور ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے نفسیاتی اثرات کیا ہونگے،اس عمل میں کسی سیاسی کارکن کی تربیت کیلئے نسل نو کی تعمیر نو کیلئے اس جنگ میں کچھ نفسیاتی اثرات ہیں کہ نہیں،ایسا سیاسی کارکن جو روزانہ کی بنیاد پر اپنی سیاسی پرورش کے مراحل طے کررہاہے اس کیلئے یہ مزاحمتی عوامل جنگ جنگ اور محض جنگ کے علاوہ بھی کوئی نفسیاتی اثرات چھوڑ رہے ہیں ا ور کیا وہ اثرات نومولود سیاسی کارکن تک پہنچ رہے ہیں اوروہ ان اثرات کو بہتر طورپر سمجھ رہاہے یعنی اس کے لئے ان اثرات کو تشریح بھی کی جارہی ہے کہ نہیں، قدم قدم پراس کی رہنمائی ہورہی ہے کہ نہیں،محض بندوق کی گھن گرج سے اس کی رہنمائی کیسے ممکن ہے،تحریک کا وہ سیاسی پہلو کہاں ہے جو مزاحمت کی رہنمائی کرے،یہ باتیں بھی تو ہماری تحریک کے فکری کہلانے والے حلقوں کی طرف سے ہی کی جاتی تھیں اور اخبارات کے صفحے بھرے پڑے رہتے تھے کہ بندوق سے نکلی گولی کی رہنمائی سیاسی تنظیم کریگی نہ کہ کوئی بندوقچی،آج وہ سیاسی تنظیم یا اس کی آواز کہاں ہے،کہیں وہ آمرانہ روایات کے تحت بندوق کے زد میں تو نہیں آئی،یہ کسی سیاسی کارکن کیلئے سمجھنا مشکل نہیں کہ آج سیاسی تنظیم کی آواز بندوق کی گولی کی آواز کے بعد واہ واہ کی صورت میں بلوچستان کے جنوب مغرب کے ایک مخصوص علاقے سے چند اخبارات کی دوکالمی خبر کی صورت میں سننے کو ملتی ہے جو سالوں سے گلے کی خرابی کا شکار نظر آتی ہے۔جس کو بندوق نے پہاڑوں میں کھینچ لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔کونسل سیشنز مزاحمتی کیمپوں میں ہوتے ہیں،ایک تویہ حالات کا جبر ہے دوسری جانب یہ آمریت بھی ہے کیونکہ بندوق بہر صورت فوجی ہتھیار ہے جو کمزورسیاسی آواز پر غالب آتی ہے۔ہمارے مقدس ادارے بی این ایم بی ایس اوآزاد اور بی آرپی آج کس طرح سے بی ایل ایف،اور بی آراے سے اپنی مغلوبیت کو چھپائیں گی، کیا کوئی مطنق یا جواز ہے اس بات کا،گویا بندوق کتاب پر غالب ہے جبکہ ایمان کی تازگی کیلئے کبھی کبھی بندوق سے کتاب کوترجیح دینے کی بات کی جاتی ہے،یہ بات چونکہ تحت شعور میں جاگزین ہیں کبھی کبھی عود کراظہار چاہتی ہے۔ضمناًمجھے یہاں بی ایس اوآزاد کے چیئر مین بلوچ خان کی بے بسی کی بات کرنی پڑ رہی ہے،سیاسی تربیت کے حامل کارکن یا رہنماء کیلئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ زندگی کے تمام اسرار ورموز سے کماحقہ واقف ہوتا ہے اور وہ ذاتی طورپر زندگی اور موت سمیت تمام انسانی فطرت کی پیچیدگیوں کوسمجھتا ہے،وہ کبھی حیرانگی اورسراسیمگی کا شکار نہیں ہوسکتا،چونکہ وہ کشادہ سوچ رکھنے والا ہوتا ہے وہ ہر طرح کے حالات کیلئے تیار رہتاہے اور آپے سے باہر نہیں نکلتا،وہ اپنی حکمت عملی سے کسی صورت پہلو تہی نہیں کرتا کیونکہ وہ قوم کا رہنماء ہوتا ہے،لیکن بلوچ خان مشکے اور آواران کے زلزلے کے اثرات سے اس قدر حیران ہوئے اور اثر لے بیٹھے کہ بی بی سی کے نمائندے کے آواران دورے کے موقع پر کیمرے کے سامنے آگئے،گویا بی ایس اوکی وہ حکمت عملی کہ چیئر مین خفیہ رہے گا،نام خفیہ ہوگا،حکمت عملی کے تحت چیئر مین یا عام کارکن کی کسی علاقے میں موجودگی تک کو خفیہ رکھا جائے گا اس کے برعکس کہ آواران میں زلزلہ سے قبل کے بی ایس او کے جلسے اور شہداء کے دن منانے کے اس دن چیئر مین بلوچ خان نہ صرف کیمرے کے سامنے آکر نہ صرف بلوچ خان نہ رہے بلکہ اپنی علاقائی لوکیشن بھی واضح کردی، اس دومنٹ کی ویڈیو میں کتنے بنیادی سوالات جنم لیتے ہیں اور کیا بلوچ خان سیاسی تنظیم کے چیئرمین ہونے کے ناطے ان سوالات کا جواب دینگے؟مجھے نہیں شاہد بی ایس او آزاد کے ان کارکنوں کو جن کو شاہد ابھی تک یہ نہیں پتہ کہ تنظیم نے خفیہ حکمت عملی کیوں اپنائی اور پھر اس کی خلاف ورزی کے اسباب کیا ہیں؟رضا جہانگیر کوجب شہید کیاگیا توان کی ایسی تصاویر سامنے آئیں جہاں ان کی لوکیشن اور مواصلاتی طورپر لوکیشن ٹریس کرنے کے آلات سمیت تصاویر لئے گئے تھے،یہ تصاویر نہ تو’’غیر مقدس اداروں کے لوگوں نے لی تھیں اور نہ ہی سیاسی تنظیم کے ایسے رہنماؤں کے آس پاس کوئی غیر مقدس ادارہ یاشخص وغیر نظریاتی(؟)شخص کا آنا جانا ممکن تھا،مقدس سیاسی اداروں کی موجودگی اور ہر طرف فکری حلقوں کی موجودگی کے باوجود ایسی غیر موثر حکمت عملیاں کیوں اپنائی گئیں،یہاں پھر وہی بات سامنے آتی ہے کہ سیاسی تنظیم عسکری تنظیم کے تابع ہے اور حکمت عملیاں بھی فوجی نقطہ نظر سے بنائی جارہی ہیں کیونکہ کسی مزاحمتی کمانڈر کیلئے تصاویر اتارنا بلوچ تحریک میں کوئی ممنوع امر نہیں،یہاں کبوتروں کوشانوں پر بٹھا کر بھی تصاویر لے کر ریلیز کی جاتی رہی ہیں،،لیکن کسی سیاسی کارکن کیلئے اول تو خفیہ ہونا سیاسی موت کے مترادف ہے،اس پر اگر کوئی یہ کہے کہ چونکہ حماس اپنے لیڈروں کو خفیہ رکھ رہی ہے تو بی ایس او نے بھی ایسا کیا،تو( حماس کے مسئلے کی نوعیت کے الگ ہونے سے قطع نظر)جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ حماس نے حکمت عملی کے تحت بلدیاتی انتخابات میں بھی حصہ لیا اور اپنے سیاست کو آج بھی جاری رکھی ہوئی ہے،لوگوں سے رابطہ میں ہے،دوسری طرف حماس کیوں ہمارے لئے آئیڈیل ہے؟اس نے اس حکمت عملی سے کون سے بڑے فائدے اٹھائے،اس خفیہ ہونے کی حکمت عملی کے باوجود حماس کے لیڈرکودبئی میں اسرائیلی انٹیلی جنس نے ہلاک کیا۔پھر بلوچ کیوں ہمیشہ
اپنے آپ کو دوسرے نمبر پر رکھ کر سوچتاہے کیوں بلوچ ایسا کچھ نہیں کرسکتا کہ حماس اس کی حکمت عملی اپنانے پر مجبور ہوجائے۔اپنے آپ کو ہر سطح پر دوسرے درجے پر پر کھنا ذہنی پسماندگی ہے ۔آئیڈیل ازم بھی ذہنی پسماندگی کا ایک پہلو ہے جو یہاں عام ہے ۔بلوچ مزاحمتی تحریک میں تو تصاویر کے اسٹائل بھی چے گویرا اور عبداللہ اوجلان سے مستعار لئے جاتے ہیں(ڈاکٹر اللہ نذر کا شانوں پر کبوتر بٹھا کر تصاویر کھچوانا زیر بحث نہیں)بلوچ خان نے بطور طلباء رہنماء حیرانگی کے عالم میں اپنے آپ کو ویڈیو میں ظاہر کرکے عام کارکن کیلئے کیا پیغام چھوڑا اوراس سے بی ایس او کا کارکن کیا اثر لے گا اس کی پرواہ شاہد بلوچ خان کو نہ ہو کیونکہ اسے ذاتی طورپر جوٹھیک لگا اس نے کیا، اور انہوں نے ہمیشہ ذاتی حیثیت میں فیصلے کئے ہیں ۔آج بی ایس اوکا لاپتہ ہونا خفیہ ہونا اور مخصوص سوچ رکھنا اس کی مثالیں ہیں۔وہ زلزلہ کے اثرات سے نفسیاتی طورپرشدید متاثر ہوا اورتنظیمی کی حکمت عملی کوبھول گئے،بلوچ خان نے وہ رویہ اپنایاجو عام انسان کاایسے ماحول میں ہوتا ہے۔ لوگ شدید طوفان زلزلوں اور آفات سے ڈرے اور سہمے رہتے ہیں،مذاہب کے وجود پر تحقیق کرنے والے بھی یہی کہتے ہیں کہ مذاہب کی بنیاد بھی ایسے قدرتی آفات ہوتے ہیں جن سے لوگ پریشان ہوجاتے ہیں انہیں کچھ سمجھ نہیں آتا جو سوچا ہوتا ہے وہ سب بھول جاتے ہیں۔جہاں لوگ ایک دم ڈراور سہم کر خدائے برتر کے ہاں سجدہ ریز ہوجاتے ہیں،مذہبی راہبوں کی قدموں میں گر کر گڑگڑاتے ہیں جس سے مذاہب بنتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں ۔لیکن بلوچ خان کو ایک رہنماء کے طورپر ایک رہنماء کا رویہ اپنانا چاہئے تھا جس کے تحت خواہ کوئی بھی حالات ہوں رہنماء اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھتا ہے بعض اوقات تو رہنماء کو اپنی قوم کی لاشوں سے گزر کر جنگ یا امن کا فیصلہ کرنا پڑتاہے اس وقت وہ جذبات سے نہیں دوراندیشی سے کام لیتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں عام انسان کے ہاں ہر واقعہ دل ہلا دینے والا ہوتا ہے وہ ہر واقعہ میں دنیا کا خاتمہ دیکھتا ہے انسانیت کا خاتمہ دیکھتا ہے تب ہی وہ اپنے سوچے سمجھے منصوبے پر عمل کی بجائے آپے سے باہر ہوجاتاہے اور جذبات اس پر غالب آجاتے ہیں،بلوچ خان اور ڈاکٹر اللہ نذر تو مذہبی رویوں کو قوم پرستی میں بھی اجاگر کررہے ہیں،بلوچ خان جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتے اور ڈاکٹر نذر بیرون ملک جانے سمیت تمام ایسی انسانی ضرورتوں کو عیاشی سے تعبیر کرتا ہے حالانکہ آج کے دور میں بیرون ملک اندرون ملک سفر کرنا رہنا عیاشی کے زمرے میں قطعی نہیں آتے یہ ضروریات زندگی کا حصہ ہیں۔تنگ نظری کے خاتمے کیلئے ماہر نفسیات اپنی معاشرے سے نکل کردوسرے معاشروں کودیکھنا لازمی قرا ردیتے ہیں۔ان کے خیال میں وسیع خیالات اس وقت آسکتے ہیں جب لوگوں کے بارے میں بیٹھے بٹھائے رویہ قائم کرنے کی بجائے انہیں قریب سے دیکھا جائے جبکہ ڈاکٹر اللہ نذر تعلیم یافتہ ہونے کتاب سے رہنمائی لینے کے باوجود اپنے بیرون ملک نہ جانے کی بات کرکے ہمیں ضرور حیران کرگئے ہیں کہ یہ کیسی کتاب ہے جو آپ کو جدوجہد کیلئے ایک علاقہ تک اور ایک طریقہ جدوجہد پر محدود کردے۔وسیع سوچ رکھنے والے کبھی ایسا قول یا وعدہ نہیں کرتے جو انہیں مستقبل میں نقصان دے یا اس کے اردگرد گھیرا لگا دے۔اب ڈاکٹر نذر تو بیرون ملک اپنے بلوچی قول کے مطابق نہیں جاپائیں گے چاہے کوئی بھی صورت ہو حالانکہ رہنماء ہو یاعام کارکن وہ جدوجہد کے سلسلے میں کہیں بھی جاسکتا ہے اور رہ سکتا ہے اور جدوجہد کے طریقے مختلف وسیع ہوتے ہیں اس قدر وسیع جس قدر انسان کے ذہن کی وسعتیں ہیں۔انسان اپنی فطرت میں انسانیت پسند ہے اور قوم پرستی بھی انسانیت پسند ہونے کی ایک شکل ہے۔ لیکن اصل مرکز انسانیت ہے۔ڈاکٹر نذر چے گویرا کا لقب لگانے کے بعدچے گویرا کی جدوجہد کے طریقوں سے انکار کررہے ہیں کیونکہ چے گویرا کتنے ملکوں میں جاکر جدوجہد کاحصہ بنے؟جہاں ضرورت محسوس کی وہ وہاں گئے اور جدوجہد کی۔اصل میں یہ ایک نفسیات ہے انسان کسی بھی تبدیلی کو دیکھ کر اول تو اسے قبول نہیں کرتا بمشکل اگر قبول کرلے توپھراس تبدیلی پرہی ایمان لاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ بس اور تبدیلی نہیں آئے گی یہی اول وآخر تبدیلی ہے تووہ تبدیلی پر عمل پیرا ہونے کا ہی قول کربیٹھتا ہے جبکہ وسیع ذہن والے تو ہمیشہ نئی تبدیلیوں کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ آواران میں ایک بہت بڑی تباہی آئی،لوگ مٹی تلے دب گئے، وہاں کے مناظر کوئی اس وقت تازہ تازہ دیکھتا تووہ بھی ہواس کھو بیٹھتا لیکن بلوچ خان تو ہمارے رہنماء ہیں،اس کو دیکھ ہی لوگوں کو حوصلہ ملنا ہے ،اس کے حوصلے کو دیکھ کر ہی قوم کو ڈٹے رہنا ہے،لیکن بلوچ خان نے تو اس کے الٹ کیا، بی بی سی نے آواران میں دوسرے لوگوں کا بھی انٹرویو کیا جو متاثرین تھے لوگ تھے ان کے جذبات سمجھ میں آنے والے تھے لیکن بلوچ خان کا طریقہ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ انہوں نے اپنی حکمت عملی کو کیوں ختم کیا۔میں نے کیمرے میں بلوچ خان کو دیکھا اوراس کا انداز دیکھا تو مجھے بلوچ خان جس کو میں ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سیپہلے سے جانتا ہوں پھر مجھے بات سمجھ آگئی کیونکہ بلوچ خان ذاتی طورپر کچھ زیادہ جذباتی واقع ہوئے ہیں۔بھرے جلسوں میں بھی انہوں نے اکثر ایسے جذبات سے کام لیا۔گالم گلوچ کا بھی استعمال کیا جس کا بی ایس او اوربلوچ سیاسی کارکنوں کو بخوبی اندازہ ہے۔ یہ ہماری مجموعی تربیت اور ماحول کا اثر ہے ۔ ہمیں الگ اور منفرد طریقے سے کچھ سکھانے کی بجائے دنیا کے ان لوگوں کے طریقے اپنانے کی جانب راغب کرکے نقالی کی تربیت دی جاتی ہے جن کے تجربے شاہد اب زائدالمعیاد ہوچکے ہیں ،چے گویرا چیئر مین ماؤ اور ہوچی منہ کی تعلیمات تو ہمارے کام آسکتی ہیں لیکن ان کا ذاتی انداز زندگی ہمارے کام کی نہیں جس کی وجہ سے بعضرہنماؤں کے اندر فکری خلاء اور کھوکھلا پن دکھائی دیتا ہے کیونکہ ان کے اندر اپنا کچھ نہیں ہوتا وہ جو طریقے استعمال کرتے ہیں وہ دوسروں کے طریقے ہوتے ہیں اور وہ اپنائے ہوئے ہیں ان کے اپنے نہیں ہیں ہر معاملے میں نقالی کی جاتی ہے ۔ان کاانداز کسی طرح سے بھی نیا اور جدید نہیں ،ان کا اندازانتہائی سادہ ہے اور ایسا لگتا ہے کہ کچھ نہیں بدل رہا۔اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایاجائے کہ جب بلوچ مزاحمتی تحریک نے پارلیمنٹ کو اپنے راستے میں رکاوٹ تصور کیاتوپارلیمانی جماعتوں کو قوم سے غداری کے مرتکب قرار دیاتو بی این پی نیشنل پارٹی اور بی این پی عوامی اپنا اعتمادکھوتے دیکھ کر حق خودارادیت کا نعرہ لگانے لگیں تو اس پر ایک لمبی بحث شروع ہوئی جوتاحال جاری ہے۔تمام آزادی پسند اس بات پر متفق تھے کہ حق خودارادیت کا نعرہ دراصل عوام کا اعتماد بحال کرنے اور اپنے آپ کو بلوچ سیاست میں بحال رکھنے کی کوشش ہے۔اس پر حق خودارادیت مانگنے والوں کو’’چور،، قرار دیا،یعنی تحریک آزادی کے فائدے حق خودارادیت کے نام پر حاصل کرکے حق خودارادیت والے چوری کررہے ہیں اوریہ لقب عبدالنبی بنگلزئی نے اپنی رہائی کے بعد دورہ مکران کے دوران پنجگور میں بی این ایم کے چیئر مین خلیل بلوچ کی موجودگی میں ایک سیمینار میں حق خودارادیت والوں کو دیا۔حق خودارادیت اور آزادی کی بحث میں سب نے بھرپور انداز میں حصہ لیا،بلوچ آزادی پسند رہنماؤں نے بھی بھرپور انداز میں حق خودرادیت کو آزادی سے الگ نعرہ قرار دیا،نواب مری ،حیر بیار مری اورڈاکٹراللہ نذر نے بھی حق خوداراردیت کے نعرے کو مسترد کردیا اور اس وقت انہوں نے اپنے حامی لوگوں کو اس بحث میں روکنے کی بجائے بھرپور اندازمیں حصہ لینے دیا۔البتہ براہمدغ بگٹی نے شروع میں اس بحث میں حصہ نہیں لیا لیکن جب یہ بحث عام ہوگئی تو براہمدغ کی پارٹی بی آرپی نے مقدس ادارہ کے طورپر مقدس اداروں کے اتحاد بی این ایف سے نکل جانے کو ترجیح دی ۔اور کہا کہ اختر مینگل پر تنقید وقت کا تقاضہ نہیں ،اس کے باوجود حق خودارادیت پر بحث جاری رہی،اور یہ سلسلہ جاری رہا کسی نے کسی کو اس میں حصہ لینے سے روکنے کا بیان نہیں دیا ،کیا رہنماء یا حامی سب کے سب اس بحث میں شامل رہے ۔بعد میں براہمدغ بگٹی نے بھی کہا کہ اختر مینگل بلوچ تحریک سے دور ہیں انہوں نے کہا کہ بی این پی کے شہید بلوچ قوم کے شہید نہیں اورا نکے بھائی جاوید مینگل کو بھی کہاکہ وہ اپنے والد اور بھائی سے تعلق کو واضح کریں پھر جاوید مینگل کو آزادی پسند تسلیم کیا جائے گا لیکن اس وقت وہ اپنے مقدس ادارے بی آرپی کے ذریعے مقدس اداروں کے اتحاد بی این ایف کو توڑ چکے تھے ۔حق خودارادیت سے پہلے اوراس کے بعد کہیں موضوعات پر بحث ہوئی لیکن ان مباحثوں میں ایک بات مشترک تھی کہ آزادی پسندوں نے کھل کر بات کی اور اپنی آراء کا اظہار کیا اور یہ کہا گیا کہ تحریک کی نظریاتی اور فکری شفافیت کیلئے یہ مباحثیں ضروری ہیں جو سمجھ میں آنے والی بات تھی ،لیکن مجھ جیسے کارکن کیلئے یہ سمجھنا مشکل ہے


کہ اب بی ایل اے کے دوستوں کی جانب سے اپنے اندرونی مسائل اور پیچیدگیوں پر بات کرنے کا جو آغاز کیاجاچکا ہے تویہاں وہ حلقے جو حق خودارادیت سمیت تمام مباحثوں میں پیش پیش رہے وہ آج اس بحث اور سوال وجواب کے مرحلے پر کیوں غیر سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں ۔بحث میں حصہ تو وہ آج بھی برابر رلے رہے ہیں لیکن اعلانیہ طورپر وہ اس بحث میں حصہ نہیں لے رہے وہ کہتے ہیں کہ یہ بحث قومی اتحاد کے خلاف ہے۔کوئی ان سے پوچھے ہر علاقہ میں ایک الگ تنظیم قائم ہے یہ قومی اتحاد ہے کہاں ذرا کتاب سے رہنمائی لے کر اس کی نشاندہی تو کی جائے۔خیر صاف چھپتے بھی نہیں نظرآتے بھی نہیں کے مصداق بحث میں حصہ نہ لینے کا اعلان کرنے والوں میں سے کوئی رہنماء سرمچاروں کو لیکچر دے کر حصہ لے رہا ہے تو کوئی مزاحمتی کمانڈر اپنے مضمون میں بحث بندکرنے کے احکامات دیتے ہیں ؟کمانڈر اختر ندیم نے تو یہاں تک کہاکہ وہ انتظار میں تھے کہ کب یہ بحث ختم ہو لیکن نہ ختم ہونے والے بحث پر انہوں نے آرٹیکل لکھ ڈالا ۔حق خودارادیت کے وقت انہوں نے ایسا آرٹیکل کیوں نہیں لکھا کہ خداراہ اس بحث کو ختم کیا جائے اس سے قومی اتحاد پارہ پارہ ہوجائے گااس سے قوم میں مایوسی پھیلے گی ،اچھا کیا کہ انہوں نے ایسا نہیں کہا کیونکہ میرے خیال میں بحث جب حق خودارادیت پر ہورہی تھی اس وقت بھی صحیح تھی اور آج جب آزادی پسندوں کے نظریاتی فکری اور انتظامی خامیوں پر ہورہی ہے تب بھی صحیح ہے ۔ڈاکٹر اللہ نذراپنے حامیوں کو اس بحث سے روکنے کی بات کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود لوگوں کی نسلوں تک پر بات ہورہی ہے ان کی بلوچیت پر شک کیا جارہاہے ( بلوچ کی تاریخ کا اگر صرف ایک مفروضہ سچ مان لیا جائے تو شاہد کوئی اپنی بلوچیت کو نسلی طورپر واضح کرسکے ) یہاں مجھ پر یہ واضح ہوتا ہے کہ ڈاکٹر نذر نے اپنے حامیوں کو صرف سنجیدہ بحث کرنے سے روکے رکھا ہے ورنہ تو تاجک پٹھان اور ازبک کی باتیں برابر سننے کو مل رہی ہیں (بلوچ کے نسلی قوم ہونے یا نسلی قوم ہونے کی بحث بھی ہونی چاہئے ایسے لوگ جو آج مقدس اداروں کے اہم عہدوں پر فائز ہیں وہ اپنے آپ سے اس بحث کا آغاز کریں تو میرے خیال میں بلوچ کے نسلی کے بجائے غیر نسلی قوم ہونے کا نتیجہ سامنے آئیگا۔بحث کسی بھی بات پر ہونی چاہئے لیکن دلیل منطق اور سنجیدگی ضروری ہے ) مجھے کسی کو کچھ بھی کہنے پر کوئی اعتراض نہیں کوئی کچھ بھی کہہ سکتا ہیکیونکہ یہ ہماری سیاسی تربیت کا نتیجہ ہے جو سامنے آرہاہے ‘کم ازکم اصلاح کی ضرورت تو محسوس ہورہی ہے لیکن اصل بات اصل موضوع اور مسائل پر بات کرنے کی ہے جس سے دانستہ پہلو تہی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔مقدس اداروں کی حالت پاکستانی سیاسی پارٹیوں جیسی ہے جو فوج پر تنقید اور اس سے الگ سیاسی نظام میں آنے کی طاقت نہیں رکھتے ۔میر ے سوالات بی ایل اے اور سنگت حیر بیار مری سے متعلق بھی ہیں لیکن چونکہ وہ خود تجویز دے چکے ہیں کہ اس حوالے سے کمیٹی بنائی جائے تو وہ اپنے سے متعلق سوالات کے جوابات دینے کیلئے تیار ہیں گویا جب وہ اس سنجیدہ کوشش پر راضی ہیں تو میرے خیال میں ان سے ہر فورم پر بات ہوسکتی ہے اوران سے سوالات کئے جاسکتے ہیں ۔البتہ بی ایل اے خود اپنی حکمت عملیوں کی غلطیوں کا وقتاً فوقتاًاوپن اظہار کیا ہے ۔ یہ بحث مباحثہ بھی ان کی طرف سے شروع کیا گیا ہے اور ان پر بھی برابر سوالات آرہے ہیں اور وہ جواب بھی دے رہے ہیں ۔لیکن دوسری طرف ڈاکٹر اللہ نذر براہمدغ اور جاوید مینگل سے متعلق سوالات کا جواب زربیار ،اسلم تاجک اور ایسے غیر سنجیدہ القابات کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔سمجھ میں نہیں آرہاحق خودارادیت پر ان مذکورہ بالاحلقوں بالخصوص ڈاکٹر نذر کے حلقے کی قلم روکنے کا نام ہی نہیں لیتی تھی وہ کیوں آج کے اندرونی بحث کیلئے تیار نہیں؟ وہ کیوں اختر مینگل ڈاکٹر مالک کی نسلوں پر بات نہیں کرتے تھے انہیں کیوں اس بحث میں گالی نہیں دی گئی؟ان کو اس لئے گالی نہیں دی گئی کہ حق خودارادیت پر ڈاکٹر نذر اوران کے حامیوں کے پاس علمی طورپر بحث کرنے کے لئے بہت مواد تھا اوروہ چاہتے تھے کہ آزادی اور حق خودارادیت کے حوالے سے شفافیت آئے اوروہ اس بحث میں مخلص تھے تب ہی اس بحث کا معنی خیز نتیجہ بھی نکلا وہاں مالک اور اختر کی نسلوں پر بات ہی نہیں گئی کیوں کہ سنجیدہ بحث میں غیر سنجیدگی اور منطق اور دلیل سے ہٹ کر کسی بات کے آنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہوتی لیکن آزادی پسندوں کے اندر شفافیت کی بحث کا نمبر آیا توڈاکٹر اوران کے حامی غیر سنجیدہ ہوگئے ، کیا وہ تحریک میں نظریاتی تنظیمی سیاسی اور انتظامی شفافیت لانے کیلئے تیار نہیں۔ دوسروں (حق خودارادیت )پر تنقید جائز اپنے اوپر تنقید قومی اتحاد کے خلاف قرار دینے کی پالیسی کو دوغلی پالیسی ہی کہا جاسکتا ہے یا پھر اگر بی ایل اے غلطیوں کی مرتکب ہورہی ہے تو اسے روکنے اورا س کی نشاندہی کے فرض سے ڈاکٹر اللہ نذر کس طرح پہلو تہی کرسکتے ہیں اور ڈاکٹر یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ بی ایل اے بھی ٹھیک کام کررہی ہے اور دوسرے بھی ٹھیک کیونکہ یہ بھی دوغلی پالیسی ہوگی ۔کہیں تو خرابی ہے جہاں تنظیم پر تنظیم بنتی جارہی ہیں ۔سیاست اور مزاحمت کے علاقائی مراکز وجود میں آرہے ہیں ،لوگوں کو الگ الگ گروہ بنانے پر راغب کیا جارہاہے ۔سب ٹھیک ہے کی پالیسی غلط ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کہیں پرتو غلطی ہے جس کی نشاندہی وقت کی ضرورت ہے ۔ماضی کی تحریکوں پر نظر ڈالی جائے ان کی ناکامیوں کی ذمہ داری کیوں کوئی اٹھانے کیلئے تیار نہیں ۔پنجابیوں کے نکالنے کا کریڈٹ سردار مینگل مزے سے لیتے رہے لیکن ناکامی کی ذمہ داری کسی نے نہیں لی۔ڈاکٹر صاحب کہیں پر کچھ نہ کچھ غلط ضرور ہورہاہے اوراس کی نشاندہی نہ کرنا بہت کچھ غلط کرنے دینے اور ہونے دینے کے مترادف ہے ۔بے شک بی ایل اے پر بات آجائے لیکن خداراہ نشاندہی ضروری ہے ۔بی ایل اے بھی انسانوں کی بنائی ہوئی تنظیم ہے ،اور یہی انسان پھر سے بی ایل اے کو بناسکتے ہیں ،بی ایل ایف بناسکتے ہیں لیکن جب یہی انسان مایوس ہوگئے غلطیوں کا سراغ نہ لگایاجاسکا تو یقین جانیئے نہ تو بی ایل اے بن پائے گی اور نہ ہی بی ایل ایف کی بنیادیں مضبوط ہونگی ۔میں اگر یہ کہوں کہ اس وقت غلطیوں کی نشاندہی نہ کرنا ہی سب سے بڑی غلطی ہے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ ماضی کی تحریکوں کی ناکامی کی بنیادی وجوہات غلطیوں کا تعین نہ ہونا ہے ۔ڈاکٹر اللہ نذر کے اس بیان کو کیسے مفاداتی سیاست کا نام نہ دیا جائے کہ پہلے تو کہا کہ حیر بیار صاحب نے جو چارٹر پیش کیاہے وہ بہترین ہے سب کو اس کی حمایت کرنی چاہئے۔لیکن بعد میں کہاکہ چارٹر تو سب کے پاس ہے ،حیر بیارکے پاس بھی ،بی این ایم کے پاس بھی بی ایل ایف کے پاس بھی اور سب کے پاس۔ڈاکٹر صاحب کو سیاسی جرات کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور کہہ دینا چاہئے کہ بی ایل ایف کا چارٹر ہی سب سے بہتر ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو بی ایل ایف کا سربراہ قرار دے چکے ہیں تو کیوں سب کے چارٹر کو صحیح بھی کہتے ہیں وہ کیوں پھر تمام چارٹروں کو ضم کرکے ایک چارٹر بنانے کی بات نہیں کرتے ۔غیر سنجیدگی کی انتہاء ہے اوردوسری طرف سرمچاروں کو لیکچر کے نام پر زبان بندی کی تربیت دے رہے ہیں ،قومی اتحاد کے نام پر یونائیٹڈ بلوچ آرمی جیسی تنظیموں کے وجود کو خاموشی سے تسلیم کیا جارہاہے،تو میرے خیال میں اگر یہ فراخدلی جاری رہی تو یہ بلوچ قومی فوجی قوت پارہ پارہ ہوجائے گی ۔بی ایل ایف سے خائف گروپس بھی یوبی اے بن سکتے ہیں ۔اگر حیر بیار مری کی سیاسی غلطیوں سے کسی کو اختلاف ہے تو وہ بھی کھل کر سامنے آنے چاہئے اور ڈاکٹر نذر کو قوم پر احسان کردینا چاہئے کہ وہ زبان بندی کی بجائے حقائق سامنے لائیں ۔کیا وجہ ہے کہ بالاچ مری کی شہادت کے فوراً بعد حیر بیارمری اطلاعاً یہ کہتے ہیں کہ براہمدغ نے بی ایل اے کی کمان سنبھال لی ہے اور بلوچ قوم اس کا خیر مقدم کرتی ہے اس وقت جب ریاستی قوتیں پروپیگنڈہ کے طورپر براہمدغ کو بالاچ کا قاتل قرار دینے کی کوششوں میں مصروف تھیں یہ ان کے منہ پر طمانچہ تھا ۔بی ایل اے جو قومی فوج کے طورپر اس وقت بھی موجودتھی تو اس کے کمان براہمدغ کے حوالے کرنے کے بعد وہ کون سی مجبوری تھی کہ براہمدغ کو بی ایل اے کی بجائے بی آراے کو بنانا پڑا۔اسے کیا نام دیا جائے ،بی ایل اے سے عدم اتفاق یا علاقائی اور ذاتی پہچان کی خواہش کہ جس پر بی آراے کو بنایاگیا اور بی ایل اے جیسی تنظیم کی بجائے الگ تنظیم بنائی ۔ براہمدغ کو اخلاقی جرات کا مظاہر ہ کرنا چاہئے تھا کہ وہ کیوں بی ایل اے کی کمان سنبھالنے کی بجائے بی آر اے کو بنانے پر مجبور ہوگئے اگر حیر بیار کی اس میں غلطی ہے تو اس کو براہمدغ کیوں سامنے نہیں لاتے دوسری صورت میں ذاتی قبائلی اور علاقائی شناخت کی ضرورت کے تحت بی آراے کا وجودعمل میں آیا۔یوبی اے کے چلانے والے بھی آج اخلاقی سیاسی اور قومی جرات کا مظاہر ہ کرکے اصل حقائق سامنے لائیں کہ انہیں بی ایل اے کی بجائے یوبی اے کیوں بنانی پڑی ۔یہ قوم پر بہٹ بڑے احسانات ہونگے ۔بی ایل اے اور اس کی قیادت آسمانی مخلوق نہیں اگر ان کی غلطیاں ہیں انہوں نے قوم کے مفاد سے ہٹ کر کام کیا ہے تو اس کو ضرور سامنے آنا چاہئے ۔اصل بات رویوں اور مزاج کا ہے جو قومی ونظریاتی نہیں بلکہ ذاتی شناخت علاقائی تشخص اور ہیروازم کے ہیں جو پسماندہ معاشرے کا بنیادی خاصہ ہیں البتہ ان سے نکلنے کیلئے 
اپنے سیاسی ونظریاتی روش اپنانی ہوگی اور اس کا طریقہ یہ کہ قدم قدم پر اپنے آپ پر جھانکنا اور یہ دیکھنا کہ جو قدم اٹھایا گیا اور جو اٹھایاجارہاہے ان میں کوئی پسماندہ شہ ملاوٹ تو نہیں ۔اس کے لئے باربار اپنے آپ کو مجموعی جائزہ کے لئے پیش کرنا بنیادی اور لازمی ہوتا ہے۔ اندر کا انسان ضمیر اس کام کو بخوبی انجام دے سکتا ہے لیکن اس کے لئے بنیادی شرط یہ کہ فکری طرز سے سوچنے کا ارادہ ہوورنہ ہیروازم اور ذاتی وعلاقائی پہچان اس تحریک کو بھی لے ڈوبے گی قطع نظر پس منظر بی ایس او کے چیئرمین ہونے کا ہو طبقاتی طورپر مڈل کلاس سے تعلق ہو،نظریاتی طورپر بدلنے بھی بھی تڑکا ہو ۔تو اس کے باوجود مجھے حیرانگی ہے کہ دوسروں پر تنقید پر تو کھلے عام بحث کی گئی ، حق خودارادیت والوں کو تحریک سے دور قراردیاگیا،براہمدغ نے بی این پی کے شہیدوں کو قبائلی شہید قرار دیا۔یہ منطقی بات تھی کہ یہ حق خودارادیت کی بحث آگے بڑھ کر آزادی پسندوں کے اندرونی تضادات کو بھی میدان میں کھینچ لائے گی لیکن پھر بھی یہ وسیع النظر کتاب سے رہنمائی لینے والوں کو اس کا ادراک نہیں ہوا کیا انہیں یہ پتہ نہیں تھا کہ دوسروں کی غلطیوں پر بات کرتے کرتے ایک دن اپنے آپ پر بھی نظر پڑے گی اور اگر اپنے آپ پر نظر پڑے گی تو اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے نہ کہ پہلے کمانڈروں سے مضمون لکھوایا گیا کہ خاموش ہوجا ؤپھر جب بات نہ بنی تو سرمچاروں کو لیکچر داغ ڈالاگیا۔ ۔ویسے مجھے اس لیکچر جو بعد میں ایک بیان بن گیا اس میں ڈاکٹر اللہ نذر کو میں نے سحر میں مبتلا پایا کہ بس لوگ شادی بیاہ میں دلہا دلہن کی تعریفیں کرنے کی بجائے ہماری(سرمچاروں کی) تعریف کرتے ہیں ،لوگ ہمیں اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہیں ،وغیر ہ وغیر ہ۔تو میں ڈاکٹر صاحب سے ایک سوال پوچھوں کہ ڈاکٹر صاحب کیا یہ تعریفیں آپ سرمچاروں کیلئے سرٹیفکیٹ اور سند ہیں کہ عوام میں کوئی بے چینی نہیں وہ تو بہت خوش ہیں اگر اس کا مطلب یہ تو میرے خیال میں عوام اس وقت بھی کسی اور بلوچ لیڈر کے گن گاتے تھے جب مکران کا لیڈر ڈاکٹر عبدالحئی اور ڈاکٹر مالک ہوا کرتے تھے ،وہ ان سے بڑے خوش تھے ،تو پھر یہ لڑائی شروع کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ؟اصل بات یہ ہے کہ عوام مجموعی طورپر سادہ لوح ہوتی ہے جو حالات کے رحم وکرم پر ہوتی ہے یہ تو نظریاتی اور فکری لوگوں پر مشتمل تنظیم ہوتی ہے جو عوام سے بالا ہوکر سوچتی ہے اوران کی راہیں متعین کرتی ہے کہ عوام کیلئے جنگ کی ضرورت ہے یا امن ۔یہ ایک تنظیم کا کام ہوتی ہے نہ کہ عوام کاخود۔خود عوام کو آپ آج چھوڑ دیں وہ آپ سے احتساب بھی نہیں کرینگے وہ پھر کسی کی راہ لیں گے پھر کوئی ڈاکٹر عبدالحئی یا ڈاکٹر مالک اور اختر مینگل ان کا لیڈر ہوگا اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا ۔عوام پر تکیہ کرنا کسی نظریاتی رہنماء اور لیڈ ر کاقطعی کام نہیں ۔بی ایل ایف کے سربراہ کہلانے کے ناطے ڈاکٹر صاحب سے میں اپنی دانست کے مطابق دست بستہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ کھل کر اپنا موقف بیان کریں تا کہ ان کا نقطہ نظر سامنے آجائے ورنہ سب کو خوش رکھنے کی کوشش یا پھر اندرونی طورپر الگ پہچان کی تگ ودو ہو اور ظاہری طورپر وہ قومی اتحاد واتفاق کی غیر عملی باتوں کا ورد کریں تو یقیناًاس سے تضادواضح ہوکر سامنے آتا ہے ۔مجھے ڈاکٹر کے بیانات میں مسلسل تضاد نظر آرہاہے اوروہ مسلسل اپنی وضاحت کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ہر وضاحت سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں جبکہ انہیں صرف ایک سوال کا جواب دینا ہے کہ ان کی نظر میں (کسی رہنماء کی حیثیت میں نہیں صرف سیاسی کارکن کی حیثیت سے )کیا غلط ہے اور کیا صحیح ؟جب تک وہ اس سوال کا واضح جواب نہیں دینگے انہیں ہزار وضاحتیں کرنی ہونگی اور ہزار بار تضاد کا شکار ہونا ہوگا ۔یہ میں نہیں کہتا یہ سیاسی سائنس کہتی ہے جس پر کتاب سے رہنمائی لینے والوں کا پکا یقین ہے ۔ڈاکٹر لیڈر بن رہے ہیں لیکن علاقائی پہچان اور شناخت
کے طورپر نا کہ ایک قومی رہنماء کے طورپر ۔آج یہ ہونا چاہئے تھاکہ جعفر آبا د ڈیرہ بگٹی کوہلو بولان اور قلات کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ان سے خوف کھاتی نا کہ محض آواران کے حوالے سے نہیں ،یہ ہمارے علاقوں کی ضرورت ہے کہ انہیں کوئی ایسی شخصیت مل جائے یا شخصیات کی ضرورت ہے کہ انہیں ایسے علاقے مل جائیں جو ان کے نام سے جانے جاتے ہوں اور یہ سیاسی نظام میں ایڈجسٹ ہونے کیلئے ضروری ہے ۔ایک ایسے پارلیمانی سیاست کا شوق رکھنے والے شخص کو جانتا ہوں جو گزشتہ 15سالوں سے تین علاقوں میں اپنی سیاسی پہچان بنانے کی کوشش کررہاہے کبھی کس علاقے سے الیکشن لڑنے کیلئے میدان میں اتارتا ہے تو کبھی کس علاقے سے ،ان تینوں علاقوں میں ان کی برادری کے لوگ تھوڑی تھوڑی تعداد میں آباد ہیں تو یہ بے چارہ کبھی کسی علاقے میں جاکر اپنی برادری کو آزماتا ہے تو کبھی دوسرے علاقے میں ۔برادری بھی بیچاری شخصی شناخت سے محروم ہے وہ بھی چاہتی ہے کہ یہ شخص ہماری پہچان بن جائے لیکن انہیں مشکل یہ ہے کہ وہ برادری ایک انتخابی حلقے میں نہیں ہیں کہ اپنے محبوب رہنماء کو الیکشن جتوا سکیں۔سو یہ شخص اس بار بلدیاتی انتخابات میں دوسرے علاقے سے الیکشن لڑرہے ہیں کیونکہ انہوں نے پچھلا صوبائی اسمبلی کا الیکشن پہلے والے علاقے سے لڑا تھا ۔یہ علاقائی اورشخصی پہچان کے لازم وملزوم ہونے کا چکر دیکھ کر آواران کو ڈاکٹر صاحب کے نام کرکے مجھے سب سمجھ آرہاہے اوروہ یہ کہ کچھ نہیں بدلا،بدلا تو بس ایک علاقے کو ایک شخصی پہچان اور ایک شخص کو علاقائی پہچان ، اور وہ بھی ڈاکٹر کا آبائی علاقہ ہے ناکہ سیاسی طورپر فعال رہنے کی وجہ سے ان کے نام سے پہچان پایاہے حالانکہ ڈاکٹر اللہ نذر نے اپنا سیاسی وقت زیادہ تربت اور کوئٹہ میں گزارہ ہے ۔اوراس حوالے سے ان سے بہت سے لوگوں کی یادیں وابستہ ہیں ۔اس سے زیادہ اس ڈویلپمنٹ میں مجھے کوئی فکری ونظریاتی ترقی نظر نہیں آرہی کہ ایک علاقے کوشخصیت کی پہچان اور شخصیت کو علاقائی پہچان مل گیا اور یہ ان کا آبائی علاقہ ہے عین کوہلو وڈھ اور ڈیرہ بگٹی کی طرح۔میں اپنی دانست کے مطابق یہ بھی کہوں کہ یہ تبدیلی ڈاکٹر کو محدود کرنے کاسبب بنے گا کیونکہ نواب مری جس قدر اپنی فکری اورنظریاتی اصولوں کے باعث بلوچستان بھر میں مقبول ہیں لیکن انہوں نے جو شناخت اپنے علاقے کے حوالے سے پائی تو وہ آ ج تک برقرار ہے نواب بگٹی اور سردار مینگل کیلئے بھی ہوا کہ یہ شخصیات تحریک کے حوالے سے جس قدر قومی رہنماء سمجھے جاتے رہے لیکن اندرونی طورپر علاقائی پہچان سے آگے نہیں بڑھ پائے ۔یہ بات شاہد بعض لوگوں اور حلقوں کو ہضم نہ ہولیکن یہ میرا نقطہ نظر ہے اور میں اپنا نقطہ نظر بیان کررہا ہوں اورکسی کے بھی اختلافات کو خوش آمدید کہوں گا ۔براہمدغ بگٹی کا رویہ دیکھا جائے تو وہ بھی نوابی کا لفظ اپنے نام کیساتھ لگائے بغیر نہیں رہ پارہے۔یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وہ نوابی ضرور چاہتے ہیں اگر ایسا نہیں ہے تو کوئی ان سے یہ سوال کرکے دیکھیں تو کیاجواب آتا ہے۔ کیونکہ وہ نظریاتی اور فکری بنیاد کی بجائے قبائلی شناخت اور ساخت پر روز اول سے انحصار کررہے ہیں اور بلوچستان کے مخصوص معاشرتی بنیادوں کے تحت ایسا کیا جائے تو ٹھیک ہے لیکن روز بروز ترقی آنی چاہئے ناکہ قبائلی ساخت کو مزید مضبوط سے مضبوط تر کیا جائے۔ سردار مینگل کو بھی کسی زمانے میں پوری بلوچ قوم ووٹ دیتی رہی ہے ،لیکن آج اخترمینگل بلوچستان کی بجائے وڈھ کی فکر میں کیوں ہلکان ہوئے جارہے ہیں ۔ویسے اختر مینگل اور ڈاکٹر اللہ نذرکو آج کل ایک ہی مسئلہ درپیش ہے وہ یہ کہ دونوں قابل احترام رہنماء اپنے اپنے آبائی علاقوں تک محدود ہوکر اپنے سیاسی ساکھ کی بحالی میں مصروف ہیں،ڈاکٹر اللہ نذر کی پوزیشن گوکہ اخترمینگل سے کچھ مختلف ضرور ہے لیکن مجموعی طورپر دونوں شخصیات اپنے آبائی علاقوں کیلئے 
حساس ہوتے جارہے ہیں۔ اگر اللہ نذر محض آواران کی شناخت پاچکے تو تربت اور خاران میں قطعی نہیں پھیل پائیں گے لہٰذا علاقائی شناخت سے جس قدر ہو بچا جائے یہ حیر بیارمری کیلئے بھی زہر قاتل ہے یہ


براہمدغ اور اللہ نذر کیلئے بھی ۔اختر مینگل خضدار میں اپنے کارکنوں کی تعزیت تک نہیں جاسکتے لیکن وڈھ کی کلی کلی میں ان کا گشت جاری ہے کیونکہ انہوں نے علاقوں کو بنیاد بنا کر ہمیشہ سیاست کی ہے تو مشکل وقت میں تربت نوشکی اور ماشکیل کی بجائے اس بنیادی علاقے کو بچانے کی کوشش کرینگے جس کی بنیاد پر وہ اپنی پہچان رکھتے ہیں ۔تربت اور کوہلو کو چھوڑیں اختر مینگل تو خضدار سے بھی دستبردارنظرآتے ہیں ۔میں حیر بیار مری کے ان اقدامات کا معترف ہوں کہ انہوں نے اس علاقائی پہچان ،شہداء سے خونی وابستگی سے دستبرداری جبکہ سنگتوں پر اعتبار جیسے اقدامات حوصلہ افزاء ہیں ۔ آج کل جو سیاسی رواج چل رہاہے کہ کوئی تنقید نہیں کرتا بس آگے گھسنے کی کوشش میں لگا ہے اس ماحول میں حیر بیار نے بالاچ سے خونی وابستگی کی بجائے اسے گمنام شہداء کیساتھ شمار کیا ،(بالاچ شہید کے نام کو لے کر یوبی اے نامی تنظیم کابازاروں میں ہونے والے دھماکوں کو بالاچ کے نام سے منسوب کرناحیران کن نہیں کیونکہ ایسی تنظیموں کو ایسے عوامی مقامات پرکارروائیوں اور شہیدوں کے ناموں کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ عوام کو اپنی طرف متوجہ کرسکیں۔شہید کے افکار پر عمل پیرا ہوکر عوام کو نظریاتی طورپر متوجہ کرنا آج وقت کی ضرورت ہے ناکہ کسی شہید کو اپنی تنظیم کی بنیاد قرار دینا جائز سیاسی عمل ہے۔ لشکر بلوچستان آج تک اپنے اس شارٹ کٹ اور دورنگی طریقے کی وجہ سے عوام کی توجہ حاصل نہ کرسکی)حیر بیارمری نے خونی رشتوں کو یکسر عوامی فورمز پر مسترد کردیا ، لیکن مجھے حیرت براہمدغ بگٹی کے رویئے پر ہوتی ہے کہ وہ قبائلی سوچ رکھتے ہیں توزیادہ سے زیادہ نوابزادہ کہلا سکیں گے لیکن قبائلی روایات کے مطابق بھی وہ نواب نہیں بن سکتے کیونکہ نوابی کا جوسلسلہ رائج ہے اس کے تحت عالی نواب ہے ۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے ہمیں تسلیم کرنا ہوگا ،لیکن سارازور نواب کہلانے پر ہے ۔بی آرپی کے پہلے اور آخری کونسل سیشن جو کوئٹہ میں ڈگری کالج میں ہوا میں بھی شوق سیاست میں اس اجلاس میں شریک رہا۔اس اجلاس میں براہمدغ کو نواب قراردینے کی قرار دادمنظور کی گئی اور وہی حیر بیار مری کو بین الاقوامی سفیر مقررکرنے کی بھی قرار داد پاس کی گئی لیکن مقدس ادارے کے طورپر بی آرپی نے نوابی والے قرار داد کو تو یاد رکھا ہوا ہے لیکن حیر بیار مری والے قرا رداد کوشاہد بھول گئی ہے۔آج حیر بیار مری والے قرار دادکی شاہد وقعت بھی باقی نہیں رہی ۔ 
گزشتہ دوتین سالوں سے ایک سلسلے پربھی شاہد کسی نے غور کیا ہو،بلوچستان کی اگر کبھی بات کی جاتی تھی تو کہا جاتا تھا کہ وڈھ کوہلو اور ڈیرہ بگٹی سیاسی طاقت کے مراکز ہیں ۔اس رویئے کو اسٹیبلشمنٹ نے جس قدر اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا اور بلوچ قومی تحریک کو بلوچستان کے طول وعرض میں پھیلانے میں اس رویئے کو رکاوٹ کے طور پر استعمال کیا اس سے شاہد ہی کسی کو انکار ہو۔اس سے عام لوگوں میں بھی یہ تاثر ابھرتاتھا کہ بلوچ سیاست کے تمام فیصلے ان علاقوں میں کئے جاتے ہیں اور جب تک ان علاقوں اورا ن علاقوں کی شخصیات نواب بگٹی ،نواب مر ی اور سردار عطاء اللہ مینگل فیصلے نہیں کرینگے تو مکران ،رخشان بولان اور دیگر بلوچ علاقوں کے عوام رہنمائی سے محروم رہیں گے ۔اس پختہ اور عملاً نافذ اس سلسلہ نے بلوچ سیاست کو یقیناًنقصان پہنچایا اور نواب مری کے علاؤہ شہید اکبر خان اور سردار عطاء اللہ مینگل نے اپنی علاقائی طاقت کے بل پر پورے بلوچستان کی رہنمائی کے طورپر موجود رہے ۔نواب مری پارلیمانی سیاست میں زیادہ ت
ر حصہ نہیں لے سکے جس سے وہ اس عمل سے مذکورہ بالا شخصیات سے کسی قدر کم اپنی علاقائی حیثیت کو بلوچستان کے تناظر میں استعمال کیا البتہ مزاحمتی جدوجہد کی اپنی الگ تاریخ ہے اوروہ سیاسی تنظیم سے بڑھ کر قبائلی تنظیم کو زیادہ اہمیت حاصل ہونے کی بات ضرور کرتے رہے ہیں،نواب بگٹی نے اپنی مزاحمتی جدوجہد کا آغاز مکران مشکے آواران اور لسبیلہ کی بجائے ڈیرہ بگٹی سے ہی کیا ۔آج سردارعطاء اللہ مینگل کے صاحبزادے پارلیمانی مہم جوئی کا مرکز بھی وڈھ کو ہی سمجھتے ہیں ۔اختر مینگل کی گزشتہ سال سے وڈھ میں بیٹھ کر عوام سے رابطہ رکھنے سمیت دیگر سرگرمیوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے ۔لہٰذا آج ان علاقائی مراکز میں ایک اور اضافہ دیکھنے کو مل رہاہے اور وہ ہے آواران جہاں ڈاکٹر اللہ نذر بلاشبہ اس علاقے میں عوام میں اپنی مقبولیت رکھتے ہیں ،جہاں وہ بھی اس علاقے کیلئے دیگر علاقوں سے زیادہ حساس نظر آتے ہیں ۔اس کا اظہار حالیہ آواران میں آنے والے زلزلہ سے لگایاجاسکتا ہے جہاں اسٹیبلشمنٹ اور حکومتی ادارے شدومدسے علاقے کو ڈاکٹر اللہ نذر کا علاقہ کہنے میں عار محسوس نہیں کررہے ۔جبکہ دوسری جانب یہی اسٹیبلشمنٹ روز روشن کی طرح کوئٹہ کے مین چوراہے یا کسی بھی علاقے میں ہونے والی مزاحمتی کارروائی کو مستردکرتی رہی ہے لیکن اسی پالیسی کے ہوتے ہوئے علاقے کو عبدالقدوس بزنجو یا خیر جان کا علاقہ کہنے کی بجائے ڈاکٹر اللہ نذر کا علاقہ کہنے میں اسٹیبلشمنٹ اور ریاستی ادارے کسی طرح سے بھی پیچھے نہیں(ڈاکٹر مالک اور اسٹیبلشمنٹ جمہوری روایات کے تحت اسے قدوس اور خیر جان کے نام کرتے تو حیرانگی نہیں ہوتی) ۔بی بی سی کے ایک پروگرام میں نام نہادامدادی سرگرمیوں کے انچارج فوجی افسر یہ کہہ رہے تھے کہ چونکہ علاقہ ڈاکٹر اللہ نذر کا ہے اور ہم انہیں دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے عوام کی خاطر فی الوقت امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہ ڈالنے کا اعلان کریں ۔وزیراعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ نے بھی ذاتی طورپر ڈاکٹر اللہ نذر کا نام لے کر علاقہ کوا ن سے منسوب کرتے ہوئے انہیں امدادی سرگرمیوں پر حملے نہ کرنے کی اپیل کی ۔دوسری جانب جناب ڈاکٹر اللہ نذر بھی اس عمل میں پیچھے نہیں رہے ۔ذاتی طورپر اپنے نا م سے پریس ریلیز تک جاری کرتے رہے ۔اب تک جاری کررہے ہیں۔بی بی سی اور دیگر نشریاتی اداروں سے ذاتی حیثیت میں بات کرنے کا مشق الگ ہے ۔البتہ یہاں بحث کا ایک اہم اور بنیادی پہلو ضرور جنم لیتا ہے جہاں بلوچستان میں نوابی اور سرداری کے خاتمے کی بات کرکے مڈل کلا س کی قیادت کی بات کی جاتی ہے اور یہ بات یقیناًمارکسز م کی تعلیمات کے تناظر میں ہی کی جاتی ہے اور وہاں یہ بات کرنے والے مارکسز م کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کرکے بلوچستان میں طبقاتی وجود اوراس کے خاتمے کی تشریح سے گریز کرتے ہیں ۔یہاں کی طبقاتی وجود اورسوشلزم کی آمد کیلئے سرمایہ دارانہ نظام کا ہونا اوراس سے قبل جاگیرداری نظام کا اپنی بقاء کوناقابل شکست خطرات کو دیکھ کر سرمایہ دارانہ نظام میں بدلنا اور پھر سرمایہ دارانہ نظام کے عروج کے ناقابل تردیدحقیقتوں کا قطعی ذکر نہیں کیا جاتا ۔اگرچہ یہ کہنے والے مہاتما بدھ طرز کے لوگ بھی نہیں کہ سرداری اور نوابی گھرانوں کو ٹکرا کر جنگل کی راہ لئے ہوں اوران کیلئے جاگیرداری نظام کا عروج واقع ہوا ہو،ایسا بھی نہیں بلکہ ان کی ابتدائی سیاسی تربیت مڈل کلا س اور متوسط طبقے کے ناقابل عمل نعرے لگانے والوں میں ہوئی ،سوشلزم سوویت یونین میں کیوں ناکام ہوئی ؟سوشلزم سیاسی سائنس ہے اس کے اصول سائنسی ہیں جو مادیت پر منحصر ہیں اور وہ ٹھیک ٹھیک حالات کی نشاندہی اور اس دوران وقوع پذیر عمل کے نتائج کا بھی ریاضی کے حساب کی طرح بتادیتا ہے لیکن یہاں بڑے عرصے سے طبقاتی تضادات کی بات کی جاتی ہے اس پر متوسط طبقے نے طویل جدوجہد بھی کی ہے لیکن وہ سیاسی غلطی کو بہت عرصے تک سمجھ نہ سکے ک
ہ بلوچستان میں طبقات اس طرح سے موجود نہیں جس طرح سے ان کی تشریح عمومی طورپر ہوتی ہے اور سوشلزم اپنے عملی پریکٹس میں بھی اس بات کو واضح کرچکا ہے کہ طبقات کا تضاد اپنے عروج پر پہنچ کر جب مصالحانہ کردار کاخواہاں ہوتے ہیں تو وہ ریاست کو درمیان میں لاتے ہیں لیکن ریاست جو مصالحانہ کردار کیلئے آتی ہے وہ مصالحانہ کردار ادا کرنے کی بجائے سرمایہ دار کا آلہ بن جاتی ہے گویا بلوچستان میں سرمایہ دارانہ نظام سرے سے وجود ہی نہیں رکھتا گویا یہاں طبقات کی بات ضرور ہونی چاہئے لیکن اس کو واضح کرنے کیلئے سوشلزم سے مدد لے کر ہی واضح کیا جاناچاہئے ناکہ ڈاکٹر اللہ نذر ابھی تک ڈاکٹر مالک کی تھیوری پر گزارہ کریں ۔ سوویت یونین کے حوالے سے مارکسسٹ دانشور اس بات پرمتفق ہیں کہ سوویت یونین میں جاگیردارانہ نظام سرمایہ دارانہ نظام میں بدلاہی نہیں تھا کہ یہاں سوشلزم کی پریکٹس کی گئی جو دیر پاثابت نہیں ہوئی ۔سرمایہ دارانہ نظام درحقیقت دوسری صورت میں سوشلزم کی ابتداء ہے اور سرمایہ دا رانہ جوں جوں اپنے عروج کی طرف قدم بڑھاتی ہے توں تو ں وہ سوشلزم کیلئے راہ ہموار کرتی رہتی ہے۔سوویت یونین میں سوشلزم کے دیرپانہ ہونے میں ایک بنیادی عنصر یہی تھا جبکہ بلوچستان میں تو طبقات ایک درجہ پیچھے ہیں جہاں نہ تو جاگیرداری نظام ہے اور نہ ہی کسانوں کا وہ جتھہ جو سوشلزم کیلئے پرولتاریہ کا کام دے سکے البتہ سوویت یونین میں جو سیاسی غلطی کی گئی وہ یہ تھی کہ زارشاہی کے خاتمے کو سوشلزم کے انقلاب کا عروج قرار دیا گیاحالانکہ وہ نقطہ آغاز تھا جہاں سوشلزم کو پرولتاریہ کے اقتدار کیلئے انقلابی کیڈر کو تیار کرنا تھا اور وہ ریاستی معاملات کو اس انداز سے چلاتی جہاں وہ پرولتاریہ ڈکٹیٹر شپ کے تابع ہوتی اور ایک تنظیم کی شکل میں سیاسی انتظامیہ ہوتی لیکن اس کے برعکس سوویت انتظامیہ تو زارشاہی کی مستعار انتظامیہ تھی جو پرولتاریہ ڈکٹیٹر شپ کی بجائے حیلے بہانوں سے سوشلزم کا راستہ روکنے کا کام کرگئی رہنماؤں کو آپس میں لڑانے کاکام کرگئی اور پرولتاریہ جو سادہ کسانوں پر مشتمل تھا وہ اس سازش کو سمجھ نہ سکا جبکہ اس تجربہ کے بعد سوشلزم اس بات پر متفق ہے کہ سرمایہ دارنہ نظام کے بعد ہی کامیاب اور عمومی سوشلزم کا قیام ممکن ہے اس حوالے سے سائنسی طورپر تجربہ بیان کیا گیا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام چونکہ اپنے کارندوں کے طورپر مشینر ی صنعتی مزدوروں کا جتھہ جنم دے گا جو کسانوں سے نسبتاً زیادہ باشعور اور معاملات چلانے کی اہلیت سیکھتا ہے اور مشینری نظام سے منسلک ہونے کے باعث مشینری مزدور سرمایہ دارانہ نظام کا کل پرزہ ہوتاہے اور درحقیقت تمام نظام یہی چلاتا ہے اور جب سرمایہ دا رانہ نظام ڈھلنے لگتا ہے سوشلسٹ انقلاب ابھرنے لگتاہے تو صنعتی مزدور جو تمام نظام چلانے والا ہوتا ہے تو وہ نہ صرف نظام پر قبضہ کرتا ہے جبکہ سیاسی اورتنظیمی انتظامیہ کا کام بھی کرتی ہے جس سے پرولتاریہ ڈکٹیٹر شپ کا قیام یقینی ہوتا ہے اور پھر یہ صنعتی مزدورسیاسی قیادت سے مل کر(خود بھی قیادت کاکام کرتا ہے) سرمایہ دارانہ نظام کی نشانوں کو اپنی انتظامی اور سیاسی اہلیت سے مٹاتا ہے اور پھر سوویت یونین کی طرز پر سوشلزم کے انقلاب کے بعد پرانے نظام کے پرزوں اور آلہ کاروں کیلئے کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔یہاں ایک بار پھر فطری طبقات اور ذرائع پیداوارسے تشکیل پانے والے طبقات میں امتیاز کو واضح کرنا ضروری ہے کیونکہ بلوچستان میں ذرائع پیداوار صنعتی اور مشنری نہیں بلکہ یہ خوداختیاری پر مبنی محدود منڈی اور معیشت ہے جونہ تو کسی جاگیر دار کو جنم دینے کی سکت رکھتا ہے اور نہ ہی جاگیرداری سے سرمایہ داری کا سفر طے کرسکتی ہے ۔اس حوالے سے یہ جان کر ہمارے لئے حیرت ہوتی ہے جو دلچسپی سے بھی خالی نہیں کہ بلوچستان کی معیشت ایسی ہے جو خود کیلئے محدود پیداوار تک محدود ہے اور باہر کی دنیا کی منڈی میں اس کا کوئی حصہ نہیں اور یہی سے ہم اپنے معاشرے کے طبقات کا 
موازنہ سوشلزم کیلئے سازگارمتضاد طبقات سے قطعی نہیں کرسکتے ۔یہاں وڈھ میں حالیہ دنوں مینگل قبیلے کے دو متحارب گروپس گتھم گتھا ہوگئے اور یہ کہا گیا کہ یہ دونوں گروپس ایک دوسرے کے کسانوں کو فصل اٹھانے کی اجازت نہیں دے رہے اور فصلیں گل سڑ رہی ہیں تو اس پر غور کیاگیاتو اس کا خضدار کی منڈی پر بھی اثر نہیں پڑا کیونکہ خضدار کی منڈی کی ضروریات خود خضدار کی پیداوار یا سوراب زہری اور گردونواح کے علاقے بخوبی پورا کرتے رہے۔ کراچی کی بین الاقوامی منڈی پراثرات تو دور کی بات ہے ۔گویا یہاں لوگ خود کیلئے پیداوار تک محدود ہیں جو مقامی دیہاتی منڈی تک محدود ہیں۔وسیع پیمانے پر پیداوار ہوتی تو یہاں کسانوں کی بڑی تعدادہوتی جوجاگیرداری نظام کو جنم دیتی اور آگے چل کر اگر صنعتی معیشت ہوتی تو یہ جاگیرداری کو سرمایہ داری میں ضم کرکے سرمایہ دارانہ معیشت کو جنم دیتا تو سوشلزم کی بنیاد پڑتی ۔اس صورتحال میں بلوچستان کی صورتحال پر غور کیا جائے طبقاتی تضادات کو سوشلزم اور مارکسزم کی تعلیمات پر پرکھ کر سوشلزم کے عملی تجربات کو سامنے رکھا جائے تو بلوچستان میں یہ بحث نتائج کا ضرور باعث بنے گی لیکن اس کے برعکس مالک اور ڈاکٹر حئی کی تربیت کے طرز پر متوسط طبقہ کی بات کی جائے گی تو وہ ازخود ایک فکری تضاد کو جنم دینے کاباعث بنے گا۔یہاں بلوچ علاقائی سیاسی مراکز کو بھی اس بحث سے قطعی الگ نہ سمجھا جائے جہاں آواران بھی وڈھ کوہلو اور ڈیرہ بگٹی کی طرز پر ایک الگ منفردسیاسی مرکز قائم ہوگیا ہے ۔ایک طرف نواب بگٹی نواب مری اور سرد ارمینگل کی وجہ سے وڈھ کوہلو اور ڈیرہ بگٹی اگر سیاسی علاقائی مراکز بنے تھے تویہ طویل اور غیر سیاسی عوامل اور تاریخی حادثات کے باعث بنے لیکن باعث افسوس امر یہ کہ آج کتاب سے رہنمائی لینے والے ،وسیع قومی اتحاد اور بلوچ قوم کی بات کرنے والے مڈل کلا س اور متوسط طبقہ کے ایک رہنماء ڈاکٹر اللہ نذر کا عمل ان نعروں کے برعکس گزشتہ دس سال کے پریکٹس نے ایک اور علاقائی سیاسی مرکز کو وجود میں لایا جو یقیناًوسیع سیاسی اور قومی دائرے کے خلاف رویہ ہے اور اس کو مدنظر رکھ کر دیکھا جائے تو کچھ بھی نہیں بدلا بلوچ روایتی سیاسی نظام اسی انداز سے آگے بڑھ رہی ہے اوریہ اس سیاسی عمل کے نتائج سے صاف ظاہر ہے جہاں بلوچ سیاسی تحریک شخصیات اور علاقائی پہچان سے نکل کر بلوچ اور بلوچستان کی پہچان اختیارکرتی وہ چوتھے علاقائی مرکز کو جنم دینے کا باعث بنا ہے ۔اگر ڈاکٹر اللہ نذر کا سیاسی عمل جدت کی حامل ہوتی توتحریک بلوچستان کے علاقائی پہچان کے علاقوں سے آگے بھی بڑھ جاتی ۔آواران ڈاکٹر اللہ نذر کی پہچان بننے کے پیچھے بھی علاقائی سوچ کا رفرما ہے جو پورے بلوچستان کاالمیہ ہے کیونکہ ہر علاقہ کو ایک شخصیت کی پہچان کی ضرورت ہوتی ہے اور چونکہ نواب مری نواب بگٹی اور سردارمینگل بلوچ تحریک سے منسلک ہونے کی وجہ سے اپنے علاقوں کی تاحال پہچان ہیں اسی طرح دوسرے علاقے بھی کسی نہ کسی طرح سے شخصی پہچان رکھتے ہیں اور ہرشخصیات علاقائی پہچان رکھتی ہے اس کو شخص کا علاقائی پہچان کہیں یا علاقہ کا شخصی پہچان کہیں دونوں صورتوں میں نتیجہ ایک ہی آتا ہے ۔میں ڈاکٹر اللہ نذر کو مبارکبادنہیں دے سکتا کہ وہ علاقائی پہچان پا کر سردار مینگل نواب بگٹی اور نواب مری کی طرح پہچان کی طرف گامزن ہیں ۔کیونکہ میرے نذدیک یہ زہر قاتل ہے یہ نظریاتی اور وسیع عوامی رویہ قطعی نہیں ہے ۔جس طرح میں نے کہا کہ اس علاقائی پہچان پانے میں ایک تو بلوچستان کا عمومی سیاسی قبائلی اور علاقائی رویہ کارفرما ہے دوسرا اسٹیبلشمنٹ کارفرماہے جو شخصیات کو محدودکرنے اور تحریک کو وسیع ہونے کی بجائے علاقائی پہچان تک محدود کرنے کی پالیسی پر شروع سے عمل پیرا ہے اور تیسرا بی ایل ایف کا رویہ کارفرما ہے جس نے اس رویئے کو ناصرف خوش آمد ید کہا بلکہ اس شخصی قلعے کو بچانے کیلئے اپنی پوری توجہ وہی 
ددمرکوز کئے ہوئے ہے ۔میڈیا ان مشترکہ نقطہ کو محسوس کرتے ہوئے اس کو اسی انداز میں پیش کررہاہے ۔ایکسپریس ٹریبون کا وہ بیان جسے ’’مقدس اداروں کے ترجمان ’’سنگر،، نے بھی اپنے ٹائٹل پر نقل کیا ہے جس پر رپورٹر نے بی ایل ایف کے سربراہ (؟) ڈاکٹر اللہ نذرکی آواران زلزلہ سے متعلق گفتگو کو رپورٹ کیا ہے ۔اسی رپورٹ میں رپورٹر نے باربار ڈاکٹر کے علاقائی پہچان کو واضح کیاہے کہ زلزلہ سے متاثرہ علاقو ں میں ڈاکٹر صاحب مقبول رہنماء ہے اور وہ قابل احترام رہنماء سمجھے جاتے ہیں۔یہ رپورٹرکا خبر بنانے کا اپنا انداز ہے لیکن گہرام بلوچ جہاں صحافیوں کو لہجوں کے پہچا ن کرانے تک کی تنبیہ کرتے رہتے ہیں۔ایوب ترین اور این این آئی کے بیوروچیف کیساتھ بی ایل ایف کا جھگڑا اسی سبب تھالیکن کمال ہے ڈاکٹراللہ نذرنے رپورٹر کو اپنے علاقائی پہچان پر کوئی سرزنش نہیں کی۔میٹھا ہپ ہپ کڑوا تھوتھو۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر اللہ نذر کا ایسا ذاتی بیان جعفرآباد نصیر آبادکے عموماً سیلاب(جو گزشتہ پانچ سال سے مسلسل آرہاہے) اور ماشکیل کے زلزلے پر میرے سامنے سے نہیں گزرا اور نہ ہی مقدس ترجمان سنگر کی شان بنا۔ڈاکٹر اللہ نذر کی تنظیم وقتاً فوقتاً وضاحت کرتی رہتی ہے جو ایک سیاسی عمل ہے لیکن اسی طرح بعض اچھنبے رویوں پر وضاحت کی توقع ہو اور وضاحت نہ کی جائے تو پھر یہی سمجھاجاسکتا ہے کہ اس پر ڈاکٹر کی تنظیم متفق ہے ۔ مقدس سیاسی ادارے بھی اس عمل میں بی ایل ایف کے ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں ۔ مشکے اور آواران کے حوالے سے بی ایل ایف مقدس اداروں کے رہنماء خلیل بلوچ اور بلوچ خان بلوچ منان بلوچ اور دیگر بڑے ایکٹو اور پریشان دکھائی رہے ہیں اس طرح کی پریشانی گزشتہ پانچ سالوں سے مسلسل آنے والے سیلابی بلوچ علاقوں کیلئے نہیں دیکھی جاسکی۔ماشکیل بھی زلزلہ سے تباہ ہوا ،حساسیت کا یہ پیمانہ دیکھنے میں کو نہیں ملا ۔ اگر یہ مقدس ادارے(؟) جعفر آباد اور نصیر آباد کے سیلاب زدگان کی مدد کو اسی انداز سے سامنے آتے تو ان علاقوں کے عوام جو بلوچ تحریک سے نابلد ہیں وہ اس حساسیت سے کس قدرتحریک سے قریب ہوتے ،جس طرح پاک فوج چاہتی ہے کہ وہ آواران میں اپنے وجود کو برقرار رکھے اسی طرح بلوچ تحریک کیلئے بھی پھیلنا ضروری ہوتا ہے ۔جبکہ ہمارے مقدس ادارے شخصیت کی پرورش میں جت گئے ہیں ۔اور علاقائی پہچان پاکر اسے برقرار رکھنے کیلئے مزاحمتی طاقت کو مخصوص علاقے میں جمع کیا گیا ہے ۔دیکھا جائے تو یہ غیر فوجی حکمت عملی کاحصہ ہے۔اختر مینگل اور ڈاکٹر صاحب اگر آج وڈھ اور مشکے کو بچا پائے تو پھر کیا پائے ۔۔۔اصل بات بلوچستان کے کونے کونے میں پھیلنے اور جدوجہد کرنے کا ہے ۔یادرکھیئے جدوجہد بندوق کی آواز نہیں بلکہ یہ ایک جنگی ہتھیار ہے جو ہماری بات کو دنیا تک پہنچانے کیلئے ایک محدود سی کوشش ہے ۔بڑی اور اہم کوشش تو اپنی بات کو وزن دار بنانے اور اس کو منوانے کا ہے جو دلیل منطق اور سیاسی انداز سے ہی دیا جاسکتا ہے ۔بندوق کے استعمال میں بھی سیاسی انداز اختیار کرنی ہوگی ورنہ روز بروز اور لگاتار بندوق بجتی رہے گی لیکن ہم عوام گنگے ہوتے جائیں گے ۔

Sunday, 21 July 2013

تعمیری جدوجہد سے خائف مڈل کلاس قیادت ! .. (باغی میر)




انسان اس کی آزادی اورتکمیل انسانیت کو لیکر روز اول سے تجربے مشاہدے اور مراکبے ہوتے رہے ہیں تاہم ان سب کی نتیجے میں انسان سے متعلق بہتر زندگی یا پھر اس بابت ضابطے مختلف ضرور ہیں تاہم ان میں انسانیت کو اعلی درجہ حاصل ہے
انسانی آزادی کے جدوجہد کا ہر مر حلہ تعمیر اور تکمیل انسانیت کی جانب رہنمائی کا ضامن ہو تا ہے ۔ رویوں اور مزاج میں تبدیلی ، انسانی شعور نفسیاتی اور اعصابی پختگی اسکا حاصل وصول ہوتے ہیں ۔آزادی محض شعور سے نتہی عمل ہے جو خو دشناسی اور انسانی عمل کے ناطے انا خود فریبی اور خود کو دوسروں کی ضرورت کی خواہش کے خاتمے کاباعث ہوتا ہے ۔غلامی میں جہاں انسان کی انسان ہونے کی نفی کی جاتی ہے وہاں بہت سی بیماریاں بھی غلام کے حصے میں آجاتی ہیں ۔جو غیر محسوس، نفسیاتی اوذہنی نوعیت کی ہوتی ہیں۔جس کے تحت قابض کی خصلتیں غلام کی خواہش اور اس کا منزل ٹھہرتے ہیں جس کی پیروی میں وہ اپنے اندر پیچیدگیوں کا شکار ہوتا ہے اور سماج میں ان رویوں کا ضامن محافظ اور ان کا پیرو بن جاتاہے ۔آزادی کا شعور ہی علم زانت اور تخلیق پر مبنی قابض کی خصلتوں اور اس کی ہر غیر انسانی عمل کی نفی کا باعث ہوتا ہے ۔غلامی کی خصلتوں میں سے ایک بڑی بیماری تبدیلی سے خوف ہوتا ہے جس کی بدولت غلام اپنی وجود کو قائم رکھ کر تبدیلی کے سامنے مزاحم رہتا ہے اوروہ بظاہر آزادی کی جدوجہد سے وابستہ رہتا ہے لیکن اسکا مطمع نظر قابض کی جگہ پالینا ہوتا ہے تبدیلی یا آزادی کے تقاضوں سے وہ بالکل نا واقف رہتا ہے ۔شعور ہی آزادی کا نعم البدل اور تبدیلی کا وجہ ہوتا ہے آزادی ردعمل سے بڑھ کر شعوری عمل ہوتا ہے اورجو عمل شعور کے تابع ہو وہا ں ہر لمحہ تبدیلی کے لئے تیار رہنا پڑھتا ہے جدت اس جدوجہد کی بنیاد ہوتی ہے۔لیکن جہاں ردعمل ہی بنیاد ہو وہاں علم نہیں جنگ انتقام اور قابض کی جگہ منصب کو پانا ہی منزل اور مطمع نظر ٹھہرتے ہیں ۔علمی جدوجہد ہمیشہ منظم اداروں کا شیوہ ہوتا ہے اور تنظیم ہی قوم اور پیروکاروں کی رہنمائی اور ان کی ترجیحات کا تعین کرتی ہے اور پیش بینیوں کی خاصیت کی بنیاد پر ہر اس عمل کے لئے تیار رہتا ہے جو اسے جدوجہد کے کسی بھی مرحلے میں سنجیدگی اور علمی پہلو سے روگردانی نہیں کرنے دیتی اور ہمیشہ تخلیقی عمل کے ذریعے قومی تعمیر کر تی ہے ۔بلوچ جدوجہد میں اداروں اور علمی اعتبار سے جدوجہد کے ضامن بی ایس او آزاد بی این ایم موجود ہیں اوردوسری جانب سے ڈاکٹر اللہ نذر کو مڈل کلاس نوجوان رہنماء کی بنیاد پر اس میدان میں نمایاں کردار ادا کرنا تھا کیونکہ (بقول بعض دوستوں کے )دوسری جانب حیربیار مر ی اور براہمداغ بگٹی کے ساتھ نواب کا لاحقہ موجود ہے اور ان کے پاس قابل بھروسہ اداراہ بی ایس او کی تربیت کا سرٹیفکیٹ بھی تو نہیں ایک اور بڑا مسلہ کہ وہ وطن سے دور یورپ میں ہیں جس سے ان کی حب الوطنی بھی کامل نہیں ہو سکتی (دوسری جانب ڈاکٹر اللہ نذر کا یہ قول جو انکی مقبولیت اور ان کی حب الوطنی کا سب سے بڑا ہتھیار ہے ۔۔۔کہ میرا جینا مرنا بلوچستان میں ہے میں یورپ نہیں جاؤنگا )اور سب سے بڑھ کر بی ایس او کی تا حیات چیرمین شپ کا لاحقہ بھی اسکی علمی حب الوطنی اور نظریاتی ہونے کا ثبوت ہے ان تمام خصلتوں کے بعد ڈاکٹر صاحب کو تو علمی، حب الوطنی ،موجودگی ،اور مڈل کلاس کی سرٹیفکیٹس کے ساتھ قیادت کا پورا حق حاصل ہے جبکہ اس کے مد مقابل حیربیار کے تنظیم کو موجودگی کی بنیاد پر بندوق برداروں کی قیادت علمی اعتبارسے قبائلی قیادت مڈل کلاس کے حوالے سے قبائلی یا پھر ذاتی سنگتوں کی قیادت اور اداروں کے اعتبار سے چھوٹے سرکلوں کا سہارا ہے انہیں کیونکر قیادت علمی حیثیت اداروں کا سرٹیفکیٹ اور نظریاتی ہونے کی قبولیت دی جاسکتی ہے ۔(یہاں یہ بات تلخ حقیقت ہے کہ جب حیربیارکے یہ قبائلی، اداروں کی تربیت سے محروم بندوق بردار آزادی کے شعور کو پا کر اس کے حصول کیلئے افغانستان اور بلوچستان میں برسر پیکار تھے تو ہماری آج کی مڈل کلاس کے نظریاتی ڈاکٹر اللہ نذر اس وقت بھی بلوچستان میں موجود بذرگ سیاستدان ڈاکٹر حئی کی قیادت میں صوبائی خودمختاری کو بلوچ کے مسئلے کا حل اور اس کے لئے محو جہد تھے وہ تو بلا ہو ڈاکڑ حئی صاحب کا کہ جس نے بی ایس او کی چیرمین شپ نہ دیکر ڈاکٹر صاحب کو رد عمل میں ان قبائلی آزادی پسندوں کا ہمنواء بنا دیا ۔واجہ خلیل صاحب کی تاریخ تو علم زانت اور نظریاتی اعتبار سے شاید ہی کسی سے ڈھکی چپی ہو جہاں خاران ہاؤس کا وہ قبائلی سردار(سائیں )ان کا قبلہ و کعبہ ہوا کرتے تھے اب وہاں سے سیاسی نظریاتی تربیت پانے والے خلیل صاحب کیسے ایک بندوق بردار حیربیار کے تنظیم کے بندوق برداروں کے ساتھ سیاست کر سکتے ہیں ۔تب جب یہ بندوق بردار آزادی کی جدوجہد میں مصروف تھے تو اس وقت سائیں کے محفلوں میں پارلیمنٹ کے لیکچر دینے والے خلیل جان کا بھی ان قبائلی آزادی پسندلوگوں سے ہمنوائی بھی بالکل ڈاکٹر اللہ نذر کیطرح بی ایس او کی چیر مین شپ نہ دینے کا ردعمل ہی ہے ۔یقیناًاب یہاں بھی وہ ہی معاملہ درپیش ہے ۔۔۔قیادت کا۔۔۔ تو میری حیربیار کے دوستوں سے دست بستہ اپیل ہے کہ ڈاکٹر صاحب اور خلیل جان کے سیاست کی بنیادی ضروریات کو مد نظر رکھ کر ان کی لاڈلے بچے کی طرح کے فرماہشوں پر در گزر کر لیں کہیں یہ پھر رد عمل میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلوچ جدوجہد میں انسانی آزادی کے اعلی شعوری عمل کو لیکر آج اگر تعمیر اور قومی تشکیل کے لئے کوششیں ہو بھی رہی ہیں تو ان ہی حیربیار کے قبائلیوں کی جانب سے ۔حیربیار کے تنظیم کے ان دوستوں سے تو میر ی کوئی واقفیت نہیں کہ جو علمی اعتبارسے یقینابہت پختہ ہونگے قائدانہ صلاحیتوں کے مالک اور تنظیم میں انکی ایک اعلی حیثیت ہوگی البتہ ایک عام فرد اسلم بلوچ جو کہ یقیناًمر ی قبیلے سے تعلق نہیں رکھتے محض حیربیار مر ی کے نظریاتی ساتھی کے طور پر آج کل ان مقدس اداروں کے علمی دوستوں کے فحش اخلاقیات سے گری القابات کے زد میں ہیں پر آج رشک بھی آتاہے اور توڑا بہت جھلس بھی ہوتا ہوں اسلم بلوچ سے کیونکہ ان کی سیاسی زندگی پر نظر دوڑانے پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلم بلوچ نہ تو بی ایس او میں رہے نہ ان مقدس اداروں میں تربیت پائی پھر بھی آزادی کے شعور کو مجھ جیسے بی ایس او کے تربیت یافتہ کارکنوں سے قبل ہی نہ ٖصرف پا لیا بلکہ اس کے حصول کیلئے جد وجہد بھی شروع کی آج بھی ان مقدس اداروں سے قبل ہی جدوجہد کے مرحلوں کو جان کر تعمیر تشکیل کے لئے اس قدر کوشاں ہیں کہ مقدس ادارے بھی ان کی اس عمل پر اپنی ناکامی اور نالائقی کو چھپانے کی خاطر حواس باختگی میں ان کی کردار کشی کر رہے ہیں میں جھلس ہوتا ہوں کہ ہم تربیت کا گن گاتے نہیں تکتے پھر ایک ذاتی شعور کے حامل اسلم بلوچ کی شعوری پختگی کو کیوں نہیں پہنچ پاتے کہیں سابقہ چیئرمین حضرات، اسلم کی علمی عسکری اور قائدانہ صلاحیتوں سے خائف تونہیں یقیناًمڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے اسلم بلوچ آج ہر محاذپر اپنی ذاتی صلاحیتوں سے وہ مقام حاصل کر چکے ہیں جو اس طویل دورانیے کے بعد ہمارے اداروں کے تربیت یافتہ قائد حضرات پانے سے محروم رہے ۔ ذاتی تشعیرہیرو ازم اور تمام تر خود نمائش کے عمل سے دور علمی جہد اور تخلیق کار کے طور پر آج تاریخ میں نمایاں ہورہے ہیں ۔شاید انکی مڈل کلاس حیثیت اور ان کی علمی زانت آج ہمارے مڈل کلاس ہیروز کو پسند نہیں یا شاید میری ٖطرح جھلس کا عنصر انکی طرف سے بھی فحش القابات کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔
جدوجہد آج زانت علم اور تعمیر کے تحت ہورہی ہے جس میں روایت پسندی ہیرو ازم خود نمائشی اور غلامی کی بیماریوں میں الجھے ذہنی پیچیدگیوں کے شکار سوچ کی گنجائش نہیں ۔آ ج اگر کوئی اداروں کو مقدس اور مذہب کا درجہ دیکر اپنی ذات کی بقاء اور خود نمائشی کیلئے استعمال کرنے کو ہی قومی نجات سے تعبیر کرتی ہے تو آج کی شعوری جدوجہد ان کی ذہنوں پر پڑی مٹی کو ہٹانے کیلئے کافی ہو نا چاہیے ۔ذاتی شعور اور تخلیق کے انفرادی عمل کے نکتہ نظر کے تحت آج آزادی کا عمل اپنے تعمیری اور قومی تشکیل اور رویوں اور مزاج کی تعمیر کے مرحلے سے گذر رہی ہے جدوجہد کے تعمیر ی مرحلے میں مزاحم رہنا خود کے ذاتی انا کے مٹ جانے کے خو ف کا اظہار ہے اسے ختم کئے بغیر ہم انفرادی اور اجتماعی آزادی کے عظیم عمل کو نہیں پا سکتے۔
— with Buzgar Gat and 19 others.

Saturday, 20 July 2013

قومی ادارہے کی بربادی ۔۔۔اور سینہ زوری جبران قمبر بلوچ


15جولائی 2013 کو ڈیلی توار کے ارٹیکل پیج پہ ایک مضمون چھپا جس  میں درشان بلوچ تھا اور ارٹیکل کا 
نام تھا (بی ایس او کو تھوڑنے کی سازشیں) مضمون کا نام دیکھ کر ہی اندازہ ہو گیاتھا کہ اگے پڑھنے کو کیا ملے گا۔ لھکنے والے نے مضمون کا نفص سے زیادہ حصہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کی تعریف میں گزار دی  مضمون  کا یہ حصہ پڑھ کر یہ تو پکا ہوگیا تھا کے لھکنےوالا اُس دربار کا مرید ہیں جس میں سوال کرنا گناہِ کبیرہ ہیں خیر لکھنے والے درباری نے یہ تو واضح کر دیا کہ بی ایس او ازاد کے کارکنان جو الزام مرکز پر لگا رہیں ہیں وہ کسی حد تک سچ ہیں۔ مجھے بھی مسلئے کو سجھنے میں رہنمائی ملی اور پھر مضمون کا کچھ حصہ بی ایس او کے تاریخ کے بارے میں بیان کیاگیا جس میں ڈاکٹر فیکٹر بہت کثرت سے شامل تھا۔ لیکن مجھے حیرت تب ہوئی جب بی ایس او ازاد کا وہ چمکتا دور جس میں بی ایس او ازاد نے تاریخی کامیابیا ں حاصل کی کا بلکل بھی ذکر نہیں تھا اس عمل کو میں خالص بدنیاتی اور تاریخ کے ساتھ دشمنی سمجھ تھا ہوں ڈاکٹر صاحب کا کردار ہمارے لیے صد قابلِ قدر ہیں مگر بی ایس او کی اس کامیابی کے پیچے صرف اُنکا ہاتھ نہیں 2006 سے 2010،2011 تک جو خدمات چیئرمین بشیرزیب نے سر انجام دے ہیں اُنکی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی اج ذاکر جان دشمن کے ہاتھوں میں ہیں نا جانے کس حال میں ہیں لیکن میرے موجودہ قائد اُنھیں بار بار سابقہ یا فارغ دوست جیسے ناموں سے پُکار تے ہیں اُنھوں نے کس حق سے ذاکر مجید کو فارغ کرار دے دیا ؟ درشان بلوچ شاہد یہ بھول گیا تھا کے اج جو کارکنان سوال اُٹھا رہے ہیں وہ دوست اس مشکل وقت میں بی ایس او کے ساتھ کھڑے تھے ریاست کے کُشت ہ خون ریاست کے درندگی جن دوستوں کوتحریک سے جدا نہ کر سکی اج درشان بابو کی نظر میں وہ دوست واحد رحیم اور سمیع روف جیسے قوم دشمن ہوگئے؟ افسوس ہوتا ہیں جب حق پہ سوال کرنے والے غدار اور اداروں کو برباد کرنے والا قومی لیڈر بن جاتے ہیں یہ خالصتاں غیر انقلابی عمل ہیں اس جنگ میں غلطی کے بعد خاموشی مصالیت پسندی شخصی دِفا تحریک کے ساتھ ناانصافی ہیں  
2006 کے سیشن میں اُس وقت سنگل بی ایس او تھا الیکشن کمیٹی میں سابق چئرمین امان سابق چئرمین امداد سابق چئرمین اصف تھے سیشن کی کاراوائی چل رہی تھی دوستوں نے روایاتی انداز میں مختلف عہدوں کے لیے نام لکھوائے چئرمین شپ کے لئے واجہ بشیرزیب اور محی الدین نے نام لکھوائے پھر الیکشن ہوا سنگت بشیرزیب کامیاب ہوگئے محی الدین نے ناکامی تسلیم کی اور بعد میں اعتراض کیا کہ میرے ساتھ نا انصافی ہوئی ہیں خیر بشیر زیب چئیرمین سنگت ثنائ وائس چئیرمین گلزارامان سکٹیری جرنل اور ذاکر مجید جوائنٹ سکڑی بنے بعد میں گلزار امان نے محٰی الدین کی بنائی بی ایس او میں شامولیات کی تو اُن کا عہدہ خالئ ہوگیا تو اسبِ رِوات زاکر مجید سکٹیری جرنل بن گئے چونکے واحد رحیم اور محی الدین بی ایس او کا اپنا دڈھا پہلے ہی بنا چُکے تھے موجودہ بی ایس او ازاد بی ایس او بشیر زیب کے نام سے مشہور ہونے لگی تب چئرمین بشیرزیب نے دوستوں کو مشہوارہ دیا کے بی ایس او بشیر والے تعصُر کو رُکنا ہوگا اور بی ایس او کا افیشل نام بی ایس او سے بدل کر بی ایس او ازاد رکا گیا اور یہاں سے بی ایس او کی تاریخی دور کا کامیاب سفر شُروع ہوا 2 اگست 2006 شہید مجید لانگو کے برسی کے دن بی ایس او ازاد کی جانب سے قلات میں حلف برداری تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں چئیرمین بشیر زیب نے ازادی کے واضح پالیسی کے ساتھ ساتھ بی ایل اے بی ایل ایف خیربخش مری اکبر بگٹی کے قومی پرُگرام کی عملَ حمایت کااعلان کیا ۔ پھر سنگت ثنائ چیرمین بشیر زیب سنگت ذاکر مجید اغا عابد شاہ اور دیگر ساتھیوں کے انتق محنت اور ثابت قدمی سے اج بی ایس او ازاد ایک قابلِ بھروسہ ادارہ بن گیا۔پھر کامیاب حکمتِ عملی سے عوامی حمایت حاصل کی اور تحریک کو کامیابی کی جانب گامزن کیا۔جس میں ازادی کا واضح پروگرام ہر بلوچ گدان تک پہنچانا۔غلامی کے خلاف نفرت 27 مارچ اور 11 اگست جیسے دنوں کو عوام سطح پر لانا۔اور ایک کامیاب سپوتازمعم کا اغاز کرنا جس میں ریاست کا جینا حرام اور لاکھوں روپے کا نقصان شامل ہیں۔
اب بات کرتے ہیں موجودہ مسائل پر بنیادی طور پر دیکا جائے تو یہ مسلے حالیہ سیشن کے بعد سے شروع ہوئے ہیں سب سے پہلے تو کونسلر چوننے کا ایک ائینی عمل ہوتا ہیں جو اس لیے ہوتا ہیں کے اُس میں زون کے قابل اور سمجھدار دوستوں (جن کا تعُین زونل دوست کرتے ہیں) کو مرکزی سیشن تک لیجانا اور بی ایس او کی پُالیسی میکنگ میں اُن دوستوں سے صلہ و مشورہ کرنا ہیں اگر دیکھا جائے تو ائینی کاموں میں یہ سب سے اہم عمل ہوتا ہیں اور سب سے حساس بھی اگر کوئی اس عمل میں کوتائی کرے تو میں یہ سمجتھا ہوں کے وہ شخص بی ایس او اور قوم دونوں کا مجرم ہیں۔ بی ایس او کی موجودہ مرکز نے یہ جرم بہت بڑے پیمانے پر کیا ہیں مرکزی کونسلروں کو باغیر خبر کیے مرکزنے اپنے پسند کے درباروں کو جمع کیا اور ایک محفل سجا دی اس محفل کا نام مرکزی کونسل سیشن رکھا گیا ۔ سیشن ختم ہونے کے بعداخبارات میں خبر ائی کے بی ایس او ازاد کا قومی کونسل سیشن ہوریا ہیں ۔ دوستوں سے پُھچا گیا کے کونسلر وں کے بجھا ئے دوسرے غیر فعال دوستوں کو کیوں لیکے گئے ہو ؟ تو جواب ملا کے سیکورٹی ریزنس تھے جس کی وجہ سے جلد بازی کرنی پڑھی اور سارے عمل کو خفیہ رکھا گیا تھا دوستوں نے سوچا کے دوستوں کی جان کا مسلہ ہے تو سوال کرنا چھوڑ دیا مگر کچھ وقت کے بعد جلسے ریلیہ مظاہرے سب برپور انداز میں شروع ہوگے تو یہاں دوستوں نے سوال کرنا شروع کیا کےاخر کیا وجہ تھی کے سیشن خفیہ رکھا گیا تھا سیشن نے فیصلہ بھی کیا تھا کےراضداری سے کام کرینگے تو اب کیا ہوا ؟ پھر بی این ایم سے رشتے مزید مضبوط کیے گئے۔درحقیقت بی این ایم کی لیڈرشپ بھی اسی انتظار میں تھی کی کب بی ایس او کا سیشن ہوں اور بشیرزیب کی کابینا ختم ہو ۔ اور بلوچ خان کا کابینہ بنے اور ہم اُنھیں استعمال کر سکے اور پھر سیشن کے بعد وہ ہی ہورہا ہیں جس کا منصوبہ پہلے سے تیار تھا۔ مرکز کے چار عہدِداروں کے ان غلطیوں کو تمام دوست بخوبی جانتے اور سمجتھے ہیں۔شاہد وہ ان کے خلاف لکھنے کو بی ایس او کے خلاف سمجھ رہئے ہیں۔ لیکن ایک بات میں واضح کرتا چلوں کہ  چار درباریوں کے خلاف لکھنے کو بی ایس او ازاد کے خلاف نہ سمجھا جائے یہ وہ لوگ ہیں جو کل تک بشیر بشیر کا وِرد لگائے ہوئے تھے اج کل ڈاکٹر خلیل منان کا وِرد لگائے ہوئے ہیں براہوئی زبان میں ایک کعاوت ہیں کہ (ہر دولاِ چاپ خلِنگ)۔بلوچ خان نے اپنی یاری نبانے کی خاطر قومی ادارے کو برباد کردیا ہیں۔ بلوچ خان اب کبھی بھی بشیر زیب کی جگہ نہیں لے سکتا بشیر زیب کے دور میں ہم اپنے سابقہ چئیرمین کو قومی لیڈر اور اُن کے خلاف ایک لفظ برداشت کرنے کو تیار نہیں تھے مگر اج بلوچ خان کے محفل میں بشیر زیب کو گلیاں دی جاتی ہیں ۔ بشیر زیب کے دور میں تمام ازادی پسند تنظیمں ایک جتنی قابلِ قدر تھی مگر اج بی ایس او کی سی سی میٹنگ میں بلوچ خان یہ کِہتھے ہوئے زرا بھی شرم محسوس نہیں کرتا کے بی ایس او کے دوست بی ایل اے سے کسی بھی طرح رابطہ نہ کرے اگر کرنا ہی ہیں تو بی ایل ایف سے رابطہ کرے۔اب ہمیں کیا پتہ تھا کے بلو چ خان کی خلیل اور منان سے یاری شہ مرید کے اختر ندیم سے دوستی بانک کر یمہ کی کسی سے رشتے داری ہماری بربادی ثابت ہوگی۔ ان لوگوں نے اس عظیم قومی ادارِے کو اپنا میراث سمجھ رکھا ہیں جب چاہیے جو کرے اور اگر کوئی ان سے سوال کرئے تو درشان بلوچ جیسے سیاسی چمچے اُنھیں غدار کرار دیتے ہیں۔ مگر ہمیں غداری کا لقب منظور ہیں لیکن قومی وِرثے کی بربادی نہیں۔،اپ اگر غلط کام کروگے تو اس عمل پہ مذامت تو ہوگی، ویسے بھی انقلابی لوگوں کے لئے مایوسی کفر ہیں بلوچ خان اینڈ کمپنی کے سُبق کاموں کو تسلیم کرنا اور پھر ان لوگوں کے بھروسے تنظیم کو چھوڑ دینا بلوچ شہدائ اور اُنکے مقصد سے نا انصافی ہیں  
میری دردمندانہ اپیل ہیں میرے نظریاتی دوستوں سے کے مرکز کے غلط عمل کے خلاف اوازبلند کرے سوال کرے۔ غلط کو غلط کہنے کی ہمت ہر ازاد خیال انسان میں ہیں اور اپ اُنھی ازاد خیال انسانوں میں سے ہو۔چار عہدے داروں کے غلط فیصلوں کے خلاف لکھنا یا کسی فورم پہ سوال کرنا ہم سب کا قومی فرض ہیں۔  اگر اج ہم خاموش رہیں تو شاہد ہمارے چار عہدےدار ہم سے خوش ہونگے مگر تاریخ نہیں۔
                                                                                                               درشان بلوچ جیسے لوگوں کے لیے!
قلم بہت ظالم چیز ہے اگر اسکا غلط استعمال ہوا تو یہ بربادی ہی بر بادی لاتی ہیں اگر اج ہماری رسائی قلم تک ہیں تو ہمیں اسکا سوچ سمجھ کے استعمال کرنا چاہیے۔

قومی ضرورت شعوری جدوجہد ..................... اسلم بلوچ


.قومی تحریک میں جدوجہد کے حوالے سے عملی طور پر مختلف مراحل سے گذارنے کے بعد گذشتہ تمام عرصے میں نسبتاً کم مگر حالیہ کچھ عرصے سے میرے ذہن میں یہ خیال مزید تیزی سے تقویت پارہا ہے کہ آج کے بلوچ تحریک میں چھوٹے سے چھوٹے مسائل سے لیکر تمام بڑے مسائل پر بہت زیادہ غور و فکر کی اشد ضرورت ہے۔ وجوہات آج صاف ظاہر ہیں جن میں قابل ذکر جس پہ آپ غور کرسکتے ہیں وہ یہ کہ جتنے بھی حل طلب مسائل ہیں وہ زوز بروز پیچیدہ ہوتے ہوئے آزادی کی مانگ کرنے والوں کے بیچ دوری کا سبب بنتے جارہے ہیں جسکی وجہ سے تمام قوتوں کے قابلیت و اہلیت پہ سوالیہ نشان لگ جانا لازمی امر بن چکا ہے۔ان تمام قوتوں کے دعوں کے علاوہ یا ان سے قطع نظر اجتماعی سوچ رکھنے والے سیاسی کارکنان کے لیے ان تمام حالات کو ان کے حقیقی وجوہات کے ساتھ سمجھنا اس لیے بھی بے حد ضروری ہے۔ تاکہ وہ کسی بھی نوعیت کے غلط فیصلے سے بچ سکیں جذبات ،تعلق ،روایات کسی بھی وجہ سے اپنے خلوص ،محنت ،قربانی کو لے کر کسی منفی رو کا حصہ نہ بنیں۔میری ناقص رائے یہ ہے کہ آج بدقسمتی سے سیاسی اور انقلابی رویوں کی فقدان کی وجہ سے تمام غلطیوں اور کمزوریوں کے لیے بے بنیاد اور غیر حقیقی جواز گھڑے گئے ہیں تا کہ یہ پردہ پوشی برقرار رہے اور حقائق کو چھپانے اور حقائق کی آشکاری کے کشمکش میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو چکے ہیں ان تمام پیچیدگیوں کے بیچ حقائق کی تلاش کے لیے غور و فکر بھی حقیقی بنیادی زاویوں پہ ہونا لازمی ہے۔کیونکہ اجتماعی قومی سوچ رکھنے والے کارکنان کے لیے آج شاہد یہ سمجھنا اتنا آسان نہیں کہ بلوچ اجتماعی قومی سوچ سے متصادم گروہی علاقائی سوچ کو لے کر تما م غلطیوں، کمزوریوں اور منفی رویوں کے پردہ پوشی کے لیے کھوکھلے نعروں اور خیالات کو بلوچوں کے جذبات اور سادہ لوحی سے جوڑ کر اتحاد،شہیداء،دشمن کے مظالم کا رونا رو کر گمراہ کن خیالات کا پرچار کس سطح سے اور کتنی خوبصورتی سے کیا جارہا ہے۔ جہاں بات سمجھنے سوچنے پوچھنے کی ہو وہاں جیسے بچوں کو اندھیرے سے ڈرا کر خاموش کر دیا جاتا ہے۔ بالکل ویسے ہی شہیدوں کا واسطہ ،قومی اتحاد ،دشمن کو فائدہ وغیرہ جیسے جذباتی خیالات کے ذریعے خاموشی کی تلقین کی جاتی ہے۔ میں چند سوالات آپ دوستوں کے سامنے رکھتا ہوں۔ میرے تشریح سے بہتر یہ ہے۔ کہ آپ میں سے ہر کوئی ان کے جوابات کو ڈھونڈ نے کی کوشش کریں ۔
کیا آزادی کا مطلب صرف اور صرف پنجابی تسلط سے چھٹکارہ ہے؟
آگاہی کیوں اور کس لیے ضروری ہے؟قومی شعور کی بنیاد پر سچ اور جھوٹ ،بُرے اور بھلے میں تمیز کے ساتھ ہی ساتھ خوب سے خوب تر کی تلاش کیوں اور کس لیے ضروری ہے؟کیا آزادی گفتار کے ساتھ ایک مثالی کردار یا کم از کم بہتر کردار لازمی نہیں؟
کسی بھی گروہ شخصیت یا پارٹی یا تنظیم کے افکار و اعمال جس مقام پہ یک جاہ ہو تے ہوں وہاں کیا تضاد کی گنجائش ہے؟کسی سیاسی پارٹی کے آئین و منشور کے علاو ہ سیاسی اخلاقیات یا انقلابی اخلاقیات کی کوئی حقیقت و اہمیت ہے؟
دوران انقلاب پارٹیوں اور تنظیموں کے حیثیت اور پروگرام سے قطع نظر ان کا انقلابی اخلاقیات سے ہم آہنگ ہونا کیوں ضروری ہے۔ بصورت دیگر انقلابی اخلاقیات کا پابند ہو نا کیوں ضروری ہے؟
کسی بھی سطح کے اداروں کو زیر دست کرنا سیاسی عمل ہے؟اداروں کو ان کے حیثیت اور حدود میں پھلنے پھولنے دینا اور اس سے فکری ہم آہنگی کے ذریعے ایک رشتہ قائم کرنا سیاسی عمل ہے؟ان سوالات کے جوابات کے لیے غور و تحقیق آپ سب کا کا م ہے۔طاقت کی تشکیل اور طاقت کے حصول کے لیے پیش کردہ سیاسی خیالات ،ذرائع ،عسکریت وغیرہ ان کے بیچ گروہیت اور اجتماعیت کے لیے واضع شناخت کے لیے سیاسی و اخلاقی حدود کی واضع نشاندہی ان تمام کے بیچ مو جودتضادات کی نشاندہی، حقیقی امر یہ ہے ، کہ انفرادیت سے گروہیت اور اس سے اجتماعیت کا سفر شروع ہوتا ہے۔ اور عسکریت ایک ذریعہ ہے اس سفر میں سرکشی اور زور آوری کو کنٹرول کرنے کا وہ قوتیں جو بزور قوت آپ کے اس ترقی کے سفر کو مشکل اور ناممکن بناتے ہیں۔ان پہ قابو پانے یا پھر جہاں تک ممکن ہو اس سفر کے دوران ان کے طاقت کو محدود کرنے کے لیے استمعال ہوتا ہے ۔ ایک سماجی زند میں ان تمام معمولات پہ ادراک کے حوالے سے کیسے مکمل عبور ہو سکتا ہے یا پھر شروع دن سے طاقت کے حوالے سے گرفت کو وہ مکمل کنٹرول کرسکیں۔ اگر کوئی دعویٰ کرتا ہے تو میرے خیال میں یہ ایک سفید جھوٹ ہو گا۔ آپ دوست باریک بینی سے غور کریں۔کیا یہی تضادات نہیں جن کے آشکار ہونے پہ سوچ بچار ،بحث مباحثوں اور تحقیق کے ذریعے ہی خوب سے خوب تر کی پہچان میں آسانی ہوتی ہے۔ اور اس فطری امر سے کون انکاری ہے کہ جس خوب کو آپ نے حاصل کیا ہے جو آپ کے کنٹرول میں ہے اس سے خوب تر کی تلاش اور حصول اور اس پہ کنٹرول پورا ایک سیاسی مرحلہ وار عمل ہوگایعنی خوب کو چھوڑ کر خوب تر کے لیے جدوجہد ہی ترقی کے لیے جدوجہد کہلاتا ہے (جیسے کہ آج بلوچ قومی سیاست میں جس نے جو بھی بنایا ہے اس کو چھوڑ کر آگے کے لیے سفر ہی تر قی کہلائے گا۔تمام گروپس مکمل ایک دوسرے میں ضم ہونگے تو ایک اجتماعی قومی قوت کی تشکیل ہوگی۔ یا پھر اجتماعی مفادات کے تحت کسی بھی اجتماعی معاہدے کی پابندی کریں گے۔ تب ہی کوئی نئی صورت واضع ہوگی)درحقیقت تضادات کی آشکاری ان کی حقیقی وجوہات کی وضاحت قبولیت ہی معاشرے میں ترقی کے حوالے سے ہر سطح پہ چھوٹے سے چھوٹے غلط پر ہر ممکن صحیح کو غالب لانے کے لیے اس کے تقاضوں اور ضروریات کو پورا کرنے کی محرک بنتی ہے۔۔ اور ظاہر ہے کہ یہ بحث مباحثوں و تحقیق کے بنا ناممکن ہے۔ ہمارے ہاں اتنے بڑے فطری حقیقت سے نظریں چُرا کر اس سیاسی اور انقلابی عمل میں روکاوت پیدا کرنے کے لیے ہر ممکن غیر سیاسی اور غیر اخلاقی حربوں کا سہارا لینے سے بھی گریز نہیں کیا جارہا ہے۔ کیوں؟وجوہات پر غور انتہائی ضروری ہے۔ اس بارے میں اپنی ناقص رائے لکھنے سے پہلے دنیا کے کچھ جانے مانے کامیاب انقلابی لیڈروں کے دوران عمل بالکل ایسے ہی حالات سے گُزرتے وقت کے ارشادات کا حوالہ دینا ضروری سمجھوں گا۔ ماؤزے تنگ کی کتا ب تعلمات ماؤزے تنگ یوں کہتاہے۔’’کامریڈوں کو ہمیشہ ہر چیز کی اچھی طرح چھان بین کرنی چاہییں اور گہرے طور پر سوچنا چاہیے کہ کیا وہ چیز حقیقت سے مشابہت رکھتی ہے اور اسکی بنیاد مضبوط ہے؟انہیں کسی حالت میں بھی کسی بات کی اندھا دھند تقلید نہ کرنی چاہیے کیونکہ ایسا رویہ غلامانہ ذہنیت کی ہمت افزائی کرتا ہے‘‘ایک اور جگہ کہتا ہے۔ ’’پارٹی کے اندر تنقید کا معیار پست اور حاسدانہ نہ ہونا چاہیے۔بیانات وغیرہ استدلال اور حقائق پرمبنی ہوں اور تنقید زیادہ تر سیاسی پہلو پر ہو۔‘‘
ایک جگہ اور وہ یوں کہتا ہے۔ ’’اگر ہمارے اندر خامیاں ہیں توہمیں ان پر تنقید وغیرہ سے گھبرانا نہ چاہیے کیونکہ ہم نے عوام کی خدمت کرنی ہے ۔خواہ کوئی بھی ہو اسے ہماری خامیوں پر انگلی رکھنے دیں۔ اگر وہ ٹھیک کہتا ہے تو ہم اپنی خامیاں دور کریں گے اگر اسکی تجاویز سے عوام کو فائدہ پہنچتاہے تو ہمیں اس پر عمل کرنا ہوگا‘‘ ماؤزے تنگ مزید کہتا ہے۔’’داخلیت ‘فرقہ واری اور پارٹی کی دقیانوسی تحریوں کی مخالفت کرتے وقت ہمارے ذہین میں دو مقصد ہونے چاہئیں۔اور مستقبل کی غلطیوں سے بچنے کے لیے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں۔دوم مریض کو بچانے کے لیے اسکا علاج کریں۔ کسی کا خیال کئے بغیر ماضی کی غلطیوں کا پول کھول دیں۔ایک سیاسی نقطہ نظر سے ماضی کی برائیوں کا تجزیہ اور محاسبہ ضروری ہے۔ تاکہ مستقبل کا کام زیادہ احتیاط اور بہتر طور پر کیا جاسکے۔ مستقبل کی غلطیوں سے بچنے کے لیے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں کا یہی مطلب ہے۔ لیکن اپنی غلطیوں کو بھرم کھولنے اور اپنی خامیوں پر نکتہ چینی کرنے سے ہمارا مقصد ایک ڈاکٹر جیسا ہے۔جو مریض کو مارنے کی بجائے اسے صحت یاب کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔جب کسی شخص کے اندر کچھ ‘غدود غیر متوقع طور پر بڑھ جائیں تو اسے بچانے کے لیے اشکا آپریشن کرکے فالتو غدود نکال دیئے جاتے ہیں۔اگر کوئی شخص علاج کے خوف کی پرواہ نہ کرتے
ہوئے اپنی بیماری کو چھپانا چھوڑ دے اور اس کا مرض لاعلاج نہ ہو جائے اور وہ خلوص دل سے اپنی غلطی کی معافی مانگ لے اور علاج کی خواہش کرے تو ہمیں بھی اسے ایک اچھا کامریڈ بنانے کے لیے اس کا علاج کرنا چاہیے ۔ اسے بُرا بھلا کہنے سے ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہونگے۔کسی سیاسی یا نظریاتی بیماری کا علاج کرتے وقت ہمیں ایسے شخص پر بگڑنا نہ چاہیے بلکہ ایسے مریض کی جان بچانے کے لئے اس کا علاج کرنا چاہیے کیونکہ یہی صحیح اور مؤثر طریقہ ہے‘‘ وہ مزید لکھتا ہے۔’’ہم چینی کامریڈ جن کے تمام فعل چینی عوام کے بلند مفادات پر مبنی ہیں اور جو اپنے نصب العین کی سچائی کے پوری طرح قائل ہیں۔ اور جو ذاتی قربانویں سے کھبی نہیں گھبراتے اور اپنے نصب العین کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کو تیار ہتے ہیں۔کیا ہم کوئی ایسا خیال یا نقطہ نظر رد کرسکتے ہیں جو عوام کے مفادات کے مطابق ہو؟کیا ہم سیاسی گرد کو اپنے چہروں پر جمنے یاجراثیم کو اپنے صحت مند جسموں میں داخل ہونے کی اجازت دے سکتے ہیں؟ہمارے ان گنت شہید عوام کے مفادات کے لیے اپنی جانیں قربان کرچکے ہیں او ر انہیں یاد کرکے ہمارے دل درد سے بھر جاتے ہیں ۔ ان سب باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہمارے لیے ذاتی مفادات کو قربان کرنا اور اپنی غلطیوں کو درست کرنا مشکل ہے؟‘‘ اسی حوالے سے ماوزے تنگ یوں رقمطراز ہے۔’’غلطیوں سے سبق سیکھ کر ہم اپنے معاملات کو بہتر طور پر چلانے کے قابل ہوگئے ہیں۔ کسی سیاسی جماعت یا فرد کے لیے غلطیاں ناگزیر ہیں‘لیکن ہمیں کم از کم غلطیاں کرنی چاہئیں ۔ کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو اسے فورادرست کریں کیونکہ اسی میں ہماری بھلائی ہے۔‘‘اور آگے چل کر ماؤ زے تنگ کہتا ہے۔’’ہمیں اپنی کسی کامیابی پر مطمئن نہ ہونا چاہیے ۔ ہمیں ایسے اطمینان کا سد باب اور اپنی خامیوں کا ہمیشہ مخاسبہ کرنا چاہیے ۔ بالکل اسی طرح جیسے ہم جراثیم کو دور کرنے کے لیے ہر روز اپنا چہرہ دھوتے ہیں یا فرش کو گرد سے پاک رکھنے کے لیے صاف کرتے ہیں‘‘
مجھے لگتا ہے کہ یہاں ہمارے ہاں اکثریت کا نقطہ نظر مخصوص حالات کے اثرات کے تحت بن چکا ہے۔
مثلاً علاقائی اور روایتی سیاست کے اثرات کے تحت،گروہی و قبائلی سیاست کے اثرات کے تحت ہم نے اپنا نقطہ نظر خاص قومی اجتماعی مفادات کے معیار کے تحت نہیں بنایا جب ہم کو مسائل درپیش آتے ہیں۔ اور ان کی جانچ پڑتال کرتے ہیں۔ تو ہمارا پورا زاویہ نظر مخصوص شخصیات ،مخصوص گروپس ،مختلف علاقائی مفادات کے گرد گھومتی ہے۔ اور ان سے باہر کا ہم سوچ ہی نہیں سکتے اور وہ مسائل مزید پیچیدہ اور گھمبیر اسی وجہ سے ہو جاتے ہیں۔ کہ ہم نام لیوا ہیں۔ بلوچ قومی اجتماعی مفادات کا قومی جغرافیہ اور قومی شناخت کا اور ان کے ہی مفادات تحفظ کے لیے ہم نے پوری ایک جنگ چھیڑ رکھی ہے تو یہاں ہم سے تقاضا اجتماعیت کے حوالے سے اجتماعی فیصلوں کا ہو رہا ہے۔ اور بدقسمتی ہمارا زاویہ نظر ہی گروہیت ،قبائلیت اور روایتی سیاست پہ استوار ہے۔ جب ہمارا زاویہ نظر ہی اجتماعی سوچ کے تحت نہیں تو پھر یہ اندر ہی اند ر ایک بہت بڑی تضاد ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ فی الوقت اس سے چھٹکارہ آسان نہیں ۔ تو ان حالات میں زیادہ اجتماعی سوچ رکھنے والے کارکنان کو ہی متوجہ کر سکتا ہوں۔ کہ وہ اجتماعی سوچ کو مزید توانا اور پر اثر بنانے کے لیے عملی طور پہ ایک مثالی کردار ادا کرنے کے لیے کمربستہ ہوں۔ میری رائے یا سوچ ان لوگوں کے لیے ضرور ایک سازش یا کہ یہ پروپگنڈہ ہوگی۔ جو ایک محدود نقطہ نظر سے سوچتے ہیں۔ میں ان تما م شخصیات ،پارٹی ،تنظیموں اور گروپس کو اجتماعی قومی مفادات کے تناظر میں دیکھتا ہوں ۔ جو جہاں بھی اجتماعی سوچ سے میل نہیں کھاتااسکی نشاندہی میں اپنا فرض سمجھتا ہوں اور یہ ہر اس بلوچ کا فرض ہے ۔ جو اجتماعی سوچ کو لیکر بلوچ قومی مفادات کا نگہبان ہے جو دوست آج سیاسی کارکنان کو سوچنے سمجھنے کے لیے بولنے اور غور و تحقیق سے روک رہے ہیں۔ وہ بالکل بچوں کو اندھیرے سے ڈرانے کے مانند ہے ۔قومی نفاق،دشمن کو فائدہ ہوگا ،ہم مزید دور ہو نگے،سوشل میڈیل صحیح نہیں وغیرہ وغیرہ تو میرا سوال یہ ہے۔ کہ جو اعمال پچھلے چند سالوں سے قومی سیاست کے نام پہ ان حضرات سے سرزد ہو چکے ہیں وہ کیوں اجتماعی قوت کے تشکیل میں رکاوٹ بن چکے ہیں۔کیا اس سے دشمن کو فائدہ نہیں ہو رہا ہے ؟اس کمزوری کے بارے میں آگاہی سوچنا بولنا تحقیق کرنا کیسے دشمن کو فائدہ دے سکے گا؟ کیا محدود علاقائی و گروہی سوچ کے تحت گروپس اور پارٹیاں تشکیل دینا اور فخراً علاقائی کارکردگی و گروہیت کی تشریح یا پھر علاقائی حوالے سے کمزوریوں پہ غیر سیاسی انداز میں طعنہ زنی از خود ایک منقسم اور محدود سوچ کی نشاندہی نہیں، مثلاًقومی آزادی کی جدوجہد کے تنا ظر میں قومی جغرافیہ کو لے کر مکران یا ڈیرہ غازی یا کولاچی میں کسی بھی قومی کمزوری پہ کوئی بھی دعوے دار اپنے آپ کو علاقائی حوالے سے بری الذمہ قرار دے سکتاہے۔مثلاً میں مکران کا ہوں جھالاوان کا مسئلہ میرا نہیں۔یا میں بولان کا ہوں تو مکران میں بلوچوں کو درپیش مسئلہ میرا نہیں وغیرہ بصورت دیگر صرف ایک مخصوص علاقے میں کسی ایک چھوٹی سی کامیابی پہ فخر بھٹرک بازی کو لیکر غیر سیاسی غیر انقلابی طریقے سے اسکی تشریح کیا قومی سیاست و قومی سوچ کی نشاندہی کرئے گا۔تو پھر اس کے بارے میں آگاہی پھیلانا ،سوال اٹھانا ،غور و فکر سوچنابولنا،تحقیق کرنا کیسے نفاق ہو سکتا ہے؟ایک قومی سوچ کے تحت ایک مضبوط اور حقیقی قوت کی تشکیل کا سوال،انقلابی اخلاقیات ،سیاسی اخلاقیات کی پرچار اس پر غور و فکر تحقیق ہمیں مزید کیسے دور کرے گا؟ آج یہ صاف ظاہر ہے کہ موجودہ سیاسی طرز عمل ایک محدودحد تک تو قابل قبول ضرور ہے۔ مگر بلوچ قومی اجتماعی سوچ و مفادات کے معیار کے تحت ہر گز نہیں محدود علاقائی روایتی اور گروہی سوچ کے تحت طرزعمل اپنی بساط لپیٹ چکا ہے۔ تو اجتماعی سوچ رکھنے والے کارکنا ن کے لیے اس اندھیرے میں جھانکنے یا پوری طرح گھومنے کے سواء کوئی چارہ نہیں۔ جس سے ان کو ڈریا جارہا ہے ۔تو دوستوں آج قومی سوچ رکھنے والے تمام کارکنان کو مکمل غیر جانبداری سے اجتماعی سوچ کے معیار کے تحت اپنا زاویہ 
نظر استوار کرنا ہوگاتاکہ قومی مفادات کی پہچان آسان ہو۔

سہ ماہی میگزین ’’ہمگام ‘‘
میں شائع ہونے والا 

Sunday, 30 June 2013

ڈاکٹر اللہ نذر کا انٹر ویو اور بلوچ جدو جہد........ مہراب مہر



 ڈیلی توار :
 

”جنگ مقصد کے حصول کا ذریعۂ ہے۔ اور اسے بجائے خود مقصد قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ جنگ انقلابیوں کا ہتھیار ہے۔ اہم ترین چیز انقلاب ہے۔ انقلابی مقصد، انقلابی تصورات، انقلابی اہداف، انقلابی جذبات اور انقلابی سچائیاں ہی اہم ہیں۔“ فیڈل کاسترو کے ان جملوں پر غور کیا جائے، اور ان کے پیچھے اس عمل اور شعوری پختگی کو دیکھا جائے، تو یہ کھل کر واضح ہوجائے گا کہ جنگ ایک ذریعہ ہے مقصد کو حاصل کرنے کیلئے۔ اور آج بلوچ بھی جنگ کے ذریعئے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔ اس کوشش میں کچھ بلوچ مزاحمتی تنظیمیں منظر عام پر اپنی جدو جہد کر رہے ہیں۔ اور ہر تنظیم اپنی سوچ و فکر کے ساتھ آزادی کیلئے ریاستی فورسز کے ساتھ بر سر پیکار ہے۔ لیکن اس سچائی کے ساتھ ساتھ یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ ان مزاحمتی تنظیموں کے بیچ تضادات سر اُٹھا چکے ہیں۔ اور یہ تضادات اسی دن سے موجود تھے، جب ان تنظیموں کی بنیادیں رکھی گئی تھیں۔ لیکن وقت و حالات کے گزرنے کے ساتھ ان میں انقلابی تصورات، انقلابی اہداف، انقلابی مقصد اور انقلابی سچائیاں اس طرح پروان نہ چڑھ سکیں، بلکہ انتہائی سست رفتار رہی۔جو تضادات یا مسائل جو امتنائی حوالے سے تھی یا کہ نظریاتی حوالے سے۔ لیکن انہیں حل کرنے کی بجائے زیادہ تر کام پر زور دیا گیا۔ اور مسائل و تضادات کو چھیڑا نہ گیا۔ بلکہ انہیں حالات و ہر ایک کی سمجھ بوجھ پر چھوڑ دیا گیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ حل ہونگے۔ اور مختلف مزاج و مختلف خیال کے لوگ ایک طرح سے ایک نظریے کے تحت اپنی جدو جہد جاری رکھے ہوئے تھے۔ جب ہر ایک کے ساتھ ایک مضبوط طاقت آگئی۔ اور ہر ایک کے کھاتے میں قربانیوں کا ایک چھوٹا سا حصہ نظر آنے لگا۔ تو وہ تضادات سر اُٹھانے لگے۔ اگر انہیں ان حالات میں حل نہ کیا گیا۔ تو وہی حالت ہوگی جو افغانستان میں مجاہدین کا ہوا۔ مذہب کے نام پر روس سے لڑے۔ اور یہ لڑائی مختلف شکل تبدیل کرتی ہوئی پھر سیکو لر جمہوری معاشرے کی تبدیلی کیلئے میدان میں نظر آئی۔ کیوں کہ اس وقت مذہب کے نام پر مختلف خیال کے لوگ ایک نظریے کے تحت جمع ہوگئے۔ اور ان کا وژن و تصور صرف روس کا انخلاء تھا۔ جبکہ ان میں انقلابی خیالات، انقلابی اہداف مفقود ہو کر رہے گئی۔ اور بلکل اسی طرح آج بلوچ تحریک کی یہی حالت ہے۔ آج تضادات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں سارے جہد کار سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔
لیکن دوسری طرف انقلابی سچائی کیا ہے۔ اور بلوچ رہنماء ڈاکٹر اللہ نذر نے تضادات کے حوالے سے وش ٹی وی کو انٹر ویو دیتے ہوئے تضادات کو اختلاف کہہ کر کم از کم مجھے تو حیران کردیا۔ اور ساتھ ہی ڈاکٹر اللہ نذر نے یہ کہہ کر میرے ذہن میں مزید پیچیدگی پیدا کردی کہ ہم یونا ئیٹڈ کمانڈ کی طرف جا رہے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ ڈاکٹر صاحب نے انتظامی و نظریاتی تضادات کو اختلاف کہہ کر ایک کنفیوز ماحول پیدا کر دیا ہے۔ اور ڈاکٹر صاحب حقیقت کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان تضادات کو چھپانے کے پیچھے وہ کون سے عوامل کار فرما ہیں۔ اس کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر صاحب سے یہ سوال ہے کہ کیا یو بی اے کا وجود اختلاف رائے ہے یا نظریاتی تضاد؟ اختلاف رائے کسی بھی مسئلے پر ہو سکتا ہے۔ لیکن تضاد مکمل طور ایک عمل سے دوسرے عمل کی ضد ہے۔ جب اختلافات و اختلاف رائے نظریاتی بنیادوں پر حل نہ ہو سکیں گے۔ تو وہ نظریاتی تضاد کی شکل میں نمودار ہونگے۔ کیوں کہ اختلاف رائے رکھنا ایک مثبت عمل ہے۔ اور جب اختلاف رائے اختلافات بن جائیں گے۔ تو پھر مخالفت در مخالفت کا نہ تمنے والا سلسلہ بن کر مضبوط تضاد کی شکل اختیار کرینگے۔ کیوں کہ اختلاف رائے رکھنے کے عمل سے لیکر اختلافات بن جانے تک مسلسل عمل جب مخالفت کے سلسلے تک پہنچائیں گے۔ تو پھر وہ تضادات کی شکل اختیار کرینگے۔ چائیے پھر انہیں کوئی بھی نام دیا جائے وہ اسی ڈگر پر رواں ہونگے۔ اب اگر ڈاکٹر صاحب کی اس بات کو لے لیں کہ ہمارے بیچ تضادات موجود نہیں۔ تو پھر ان سے یہ سوال کرنے میں میں حق بجانب ہوں گا کہ ایک مزاحمتی تنظیم کا عمل تحریک کیلئے فائدہ مند، جبکہ دوسرے کیلئے نقصاندہ اور تحریک کیلئے نقصاندہ ثابت ہوگا۔ تو ڈاکٹر صاحب کیا یہ نقطہ نظر کا فرق ہے؟ اگر ہے تو کس طرح؟ جہاں تک بات نقطہ نظر کی ہے نقطہ نظر کوئی بھی فردیا ادارہ ایک نظریاتی سوچ کے تحت ڈویلپ کرتی ہے۔ آج بی ایل اے، بی ایل ایف اور بی آر اے سے تعلق رکھنے کا کوئی بھی سیاسی کارکن ایک مخصوص نظریاتی سوچ کے تحت ان عوامل کو دیکھتا ہے۔ تو یہاں پر بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایک مخصوص نقطہ نظر اس نظریاتی سوچ کی نشاندہی کرتی ہے۔ چاہے عسکری یا سیاسی حوالے سے ہو۔ جب ادارے کسی بھی عمل کو ایک مخصوص نظریاتی سوچ کے ساتھ دیکھتے ہیں، پرکھتے ہیں جانچتے ہیں تو وہ اس سوچ کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر اللہ نذر کی ان نظریاتی تضادات پر پردہ ڈالنے کی وجہ سے بلوچ عوام اور سیاسی ورکروں میں کنفیوژن پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب وار سائیکی کی مثال دے کر تضادات رکھنے والے گروپ یا دوستوں کو وار سائیکو کہہ کر مخاطب کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ جنگیں تباہی لاتی ہیں، نسل در نسلیں تباہی کا شکار ہوتی ہیں، دوسری جنگ عظیم کے بعد جو نفسیاتی امراض یورپ میں پلے بڑھے ان کی بنیاد جنگ تھی۔ اور بلوچستان میں ہر عام و خاص ڈپریشن و فریسٹریشن کا شکار ہے۔ یہاں تک کہ ہر علاقے میں آپ کو ایسے لوگ دیکھنے کو ملیں گے۔ کیوں کہ جنگی اثرات معاشرے کے تمام پہلوؤں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اور آج بھی بہت سے ایسے جہد کار ہیں، جو گولیوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اثر کسی بھی تضاد کی نشاندہی کر تا ہے۔ تو اسے جنگی نفسیاتی مریض کہہ کر ان تضادات پر پردہ ڈالا جائے۔ ڈاکٹر صاحب وار سائیکو کے پیچھے ان تضادات پر پردہ ڈال کر حیران کن انداز میں کچھ سوالات چھوڑ گئے۔ ڈاکٹر صاحب تضادات موجود ہیں۔ اور آپ بخوبی ان سے واقف ہیں۔ کیوں کہ آپ رہنمائی کر رہے ہیں۔ اور ساتھ ساتھ تضادات پر پردہ ڈالنے کیلئے جو حربے استعمال ہو رہے ہیں۔ چاہیے وار سائیکی کی صورت میں ہوں۔ یا کہ کسی اور صورت میں یہ سیاسی حربے ہیں۔
شاید حیر بیار مری کے پیش کردہ چار ٹر کو فرد یا ادارے کے حوالے سے آپ بخوبی واقفیت رکھتے ہیں کہ وہ کسی فرد کا خیال تھا یا کسی ادارے کا۔ لیکن چارٹر کے بارے میں جو رائے ڈاکٹر صاحب آپ کی جانب سے پیش کی گئی۔ وہ انتہائی ریزرو اور ٹیکنیکل انداز میں پیش کردہ موقف تھا کہ وہ چارٹر کو کسی فرد یا ادارے کا منشور سمجھ رہے ہیں۔ حالانکہ ڈاکٹر صاحب اچھی طرح سے با خبر ہیں کہ کسی ادارے کا منشور جب بنایا جاتا ہے۔ تو وہ اس ادارے تک محدود رہتا ہے۔ اور وہ اس ادارے کے اندرونی مسائل و ان کے مقصد کی نشاندہی کیلئے ہوتا ہے۔ جبکہ چارٹر بلوچ عوام کیلئے ہے۔ اور اس میں پوری بلوچ قوم و تمام آزادی پسند و سیاسی تنظیموں کی رائے شامل ہے۔ اور اس چارٹر میں بلوچ قوم سے بھی رائے لی جائے گی۔ اب حیرانگی کی بات ہے کہ ڈاکٹر صاحب جیسے سیاسی سوج بوجھ رکھنے والے رہنماء کیوں کر بے خبری کا سا تاثر دے رہے ہیں؟ کیا اس کے پیچھے مقاصد موجود نہیں؟ بہرحال آزادی کی جدو جہد میں شامل تمام تنظیمیں آزادی کی موقف پر ایک نظریہ رکھتے ہیں۔ لیکن ہر ایک کی علیحدہ شناخت و خیال اس بات کی ضمانت ہے کہ ہر ایک
علیحدہ نظریاتی سوچ کے تحت آزادی کیلئے جدو جہد کر رہا ہے۔ اور اس دوران قومی یکجہتی سے زیادہ گروئیت کی مضبوطی اس نظریاتی تضاد کی نشاندہی کر رہی ہے۔ اور تضادات نہ ہونے پر جو بات کی جاتی ہے۔ تو اس پر اگر کوئی کہتا ہے کہ تضادات نہیں ہیں۔ تو یہ حقائق کو چھپانے کی نشاندہی کرتا ہے۔ لہذا تضادات پر پردہ ڈال کر بلوچ عوام کو دھوکہ دینا کیا معنی رکھتا ہے؟ اور کیا ہم اس سوچ کے ساتھ اپنی منزل کو پاسکیں گے؟ کہ گروپوں کی مضبوطی کیلئے سرگرداں نظر آتے ہیں۔ قومی یکجہتی کے حوالے سے ہماری دوری کیا معنی رکھتی ہے؟ اگر تضادات حل نہ ہوسکے، تو دوریاں کسی اور طوفان کا پیش خیمہ ہونگے۔ اور وہ بنیادی نقاط

جس کی بنیاد پر یہ تضادات اُٹھی ہیں۔ انہیں حل کرنے کیلئے حقائق کی روشنی میں ان تضادات کی نشاندہی ضروری ہے۔ اور وہ کمزوریاں جو کہ مزاحمتی تنظیموں و لیڈر شپ میں موجود ہیں۔ انہیں ظاہر کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ حقائق تمام بلوچ عوام تک پہنچ سکیں۔ اور عوامی رائے پر پھر تحریک و تنظیمیں مضبوط ہو سکیں۔
آزادی مقصد ہے لیکن جنگ ایک ذریعۂ ہے۔ آج آزادی کے یک نقاطی ایجنڈے پر ساری مزاحمتی تنظیمیں متفق ہیں، پھر یہ پرشت و پروش کیا ہے؟ کیا یہ نقطہ نظر کی وجہ سے سامنے آئے ہیں؟ یا پھر وہی تضادات ہیں، جو ہمارے بیچ موجود ہیں۔ آزادی کیلئے جدو جہد کرنے والی تنظیمیں ہر ایک اپنی مخصوص نظریاتی سوچ کے تحت اسے آگے لے جا رہے ہیں۔ لیکن نظریاتی بنیاد پر سماجی ارتقاء کے عمل کو بی ایل اے، بی ایل ایف و بی آر اے کس نظر سے دیکھتی ہیں۔ کچھ تنظیمیں پہلے منزل کو پانے کی بات کرتے ہیں کہ پہلے آزادی حاصل کرنی چائیے۔ اس کے بعد انقلاب کیلئے جدو جہد کرنی چائیے۔ اور سماجی انقلاب کیلئے راستے ہموار ہونگے۔ جو کہ ایک خواب ہی ہوگا کیوں کہ دنیا میں آزادی کی جو تحریکیں چلی ہیں۔ جہاں انہوں نے پہلے آزادی کو منزل سمجھ کر جدو جہد کی۔ تو وہاں پر خانہ جنگی ہوئی۔آج اگر ہم اپنے تمام سماجی اداروں کو تبدیل کرنے کی بجائے صرف آزادی کو منزل سمجھ کر جدو جہد کریں گے۔ تو اس جدو جہد کے دوران جو سوچ عوام میں پروان چڑھے گی۔ تو آزادی کے بعد جو خانہ جنگی کا منظر نامہ سامنے آئے گا۔ وہ انتہائی خطرناک شکل میں ہوگا۔ اور بلوچستان جہاں ایک مزاحمتی تنظیم کی نہیں، بلکہ مختلف مزاحمتی تنظیموں کے علاقے ہیں۔ اور ہر ایک اپنے علاقے تک محدود اپنی جدو جہد کر رہا ہے۔ تو آزادی کے بعد ان تنظیموں کی طاقت کی جنگ اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے اور ہر ایک کا مخصوص نظریہ انہیں ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرے گا۔ ایک مخصوص علاقے کی بات ڈاکٹر صاحب نے خود بھی اپنے اس انٹر ویوں میں واضح کردی ہے کہ انہوں نے پورے بلوچستان کی بجائے مشکے، مکران تک اپنے اثر و رسوخ کی بات کی۔ اگر یہی علاقائیت و طاقت کی سوچ اسی طرح برقرار رہی۔ تو پھر ہمسائیہ ملک افغانستان کی خانہ جنگی کا منظر نامہ بلوچستان میں بھی ہوگا۔ اور دوسری طرف ڈاکٹر اللہ نذر نے اپنے انٹرویو میں بلوچستان لبریشن چارٹر کو تنظیمی آئین سمجھ کر ایک فردکی کوشش کہہ کر اس کی حمایت کی۔لیکن ساتھ ساتھ ڈاکٹر صاحب نے یہ بھی وضاحت کردی کہ دیگر تنظیموں کے بھی چارٹر ہیں۔ جب بلوچستان لبریشن چارٹر بنا۔ اور اس کے 82 شق جو کہ ایک تنظیم کے نہیں، بلکہ ایک قوم کیلئے ہیں۔ اور اس کے کچھ شق تمام آزادی پسند تنظیموں کے منشور میں بھی ہیں۔ لیکن چارٹر کو قوم کے سامنے پیش کرنے کا مقصد ایک جمہوری سیاسی نظام کی طرف پہلا قدم ہے۔ اور تمام لیڈروں سے اس کے حوالے سے مشورے و تجاویز مانگے گئے۔ اس پر خاموشی کا مقصد کچھ اور ہی ثابت کرے گا۔ نہ کھل کر مخالفت کی گئی، اور نہ ہی کھل کر حمایت کی گئی۔ کیوں؟ یہ سوال اب تک جواب طلب ہے۔ وطن کی آزادی کے بعد ایک نظام کا تصور جو کہ آزادی سے پہلے بلوچ قوم کے دلوں میں زندہ رکھنا ہے۔ تاکہ آزادی سے پہلے اس نظام کیلئے رائے عامہ ہموار کی جائے۔ اور تمام سماجی اداروں میں تبدیلی لائی جائے۔اور ایک مکمل انقلاب کے ساتھ ہم آزاد ہوسکیں۔ لیکن اس پر ڈاکٹر صاحب کی سوچ نے اس تضاد کو واضح کردیا کہ پہلے آزادی پھر انقلاب۔ جبکہ چارٹر سماجی تبدیلی و انقلاب کے ساتھ آزادی کے تصور کو زندہ کر رہی ہے۔ تاکہ آزادی حاصل کرنے کے عمل کے دوران انصاف، برابری، سماجی و شہری حقوق تک تمام قوانین کو جدو جہد کے دوران لاگو کرتے جائیں۔ اس طرح نہ ہو، جس طرح الجزائر میں ہوا۔ الجزائر میں آزادی حاصل کرکے وہ فوج جس نے آزادی کی جنگ لڑی تھی۔ اسے حکومت کا ماتحت ہونا تھا۔ لیکن فوج نے عام شہریوں کی زرعی زمینوں پر قبضہ کرنا شروع کردیا۔ کیوں کہ فوج یہ خوائش رکھتی تھی کہ ہم نے وطن کیلئے قربانی دی ہے۔ لہذا ہمیں اس کا صلہ ملنا چائیے۔ الجزائر کے حالات کو دیکھ کر آج ہماری تحریک میں یہی عوامل دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ نجانے آزادی حاصل کرنے کے بعد پھر حالات کیا ہونگے۔ آج مزاحمتی تنظیمیں اپنی قربانیوں کا ڈھنڈورا پیٹتے نظر آتے ہیں۔ اور ذمہ دار لوگ ہر جگہ اپنی قربانیوں کے بدلے صلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اور بعض جگہوں پر حاصل بھی کر رہے ہیں۔ چارٹر کا مقصد بھی دنیا کے دیگر تحریکوں سے سبق سیکھتے ہوئے بعد میں آنے والے وقت میں ان تضادات سے بچنا ہے۔ لیکن اس پر پھر نہ چاہنے والا رضا مندی، اور نہ کھل کر حمایت کرنا، نہ کھل کر مخالفت کرنے کی خاموشی ان تضادات کے شاخسانے ہیں۔ اور جہاں تک بات ایک دوسرے سے رابطے کی ہے۔ یہ رابطے بھی تنظیمی ہونے کی بجائے ذاتی نوعیت کے نظر آتے ہیں۔ ایک جہد کے دوران رابطے ضروری امر ٹھہرتے ہیں۔ لیکن ان کی بنیاد اگر مسائل و تضادات کو حل کرنے کے حوالے سے ہوں تو یہ انتہائی مثبت عمل ہوگا۔ لیکن یہ رابطے زیادہ تر روایتی انداز میں ہو رہے ہیں۔
بی این ایم کے حوالے سے ڈاکٹر اللہ نذر نے کھل کر وضاحت کردی ہے کہ بی این ایم ماس پارٹی ہے۔ بی این ایم ایک پارٹی ضرور ہے۔ لیکن ماس پارٹی کا تصور غلط ہے۔ کیوں کہ ماس پارٹی سیاسی حوالے سے کسی قوم یا وطن کے تمام ادواروں تک، عوام کے اندر اپنی جدو جہد کرتی ہے۔ اور وہ ہر حوالے سے مکمل طور پر ایک مضبوط ادارہ ہوتی ہے۔ لیکن بی این ایم اس حوالے سے ایک ماس پارٹی نہ بن سکی ہے۔ اس طرح بی این ایف کے اتحاد کی بات سامنے آتی ہے۔ تو یہ اتحاد جو کہ بلوچ وطن موومنٹ، بلوچ بار کونسل، بلوچ یونٹی کونسل اور بی آر پی کی علیحدگی کے بعد یہ کس قسم کا اتحاد ہے؟ ایک سٹوڈنٹ تنظیم اور ایک پارٹی آپس میں آزادی یا کسی بھی ایشو پر اتحاد کر سکتے ہیں۔ اور اگر دیگر آزادی پسندوں سے وہ اتحاد نہیں کرتے تو یہاں پر ضرور سوال پیدا ہوتا ہے کہ بی این ایف ایک چھوڑی ہوئی اتحاد تھی۔ اور اب ایک سٹوڈنٹ ونگ و ایک پارٹی آپس میں پرانے اتحاد کے نام پر سرفیس میں جہد کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر اللہ نذر کی حمایت نے یہ واضح کردی ہے کہ یہ اتحاد (بی ایس او آزاد اور بی این ایم) قومی آزادی کی جہد کے ساتھ ساتھ ایک مزاحمتی تنظیم سے زیادہ قربت رکھتے ہیں۔ اور ان کی اس سوچ کی بنیاد بھی یہی ہے۔ کہ ڈاکٹر اللہ نذر نے جس سوچ کے تحت تاریخی ہڑتال کو بی ایس او و بی این ایم تک محدود کر دیا یہاں پر کچھ سوالات ضرور جنم لیں گے۔ کیوں کہ یہ تاریخی ہڑتال تھی یا نہیں۔ اس پر بحث کی گنجائش ہے۔ لیکن اس ہڑتال کا سیاسی سہرا بی ایس او و بی این ایم کے سر سجایا گیا۔ نا انصافی کے ساتھ ساتھ اس سوچ کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔ جہاں سے گروہیت شروع ہوتی ہے۔ کیوں کہ ہڑتال کی کال بی این ایم و بی ایس او نے دی۔ لیکن اس کی کامیابی مزاحمتی تنظیموں کی چودہ سالہ کا روائیوں، شہدا کی قربانیوں اور ریاستی جبر و تشدد کی وجہ سے ہے۔ کیوں کہ شہداء کی سوچ کی پختگی اس جدو جہد کا ثمر ہے، نہ کہ ایک مخصوص اتحاد کے۔ بی آر پی، بلوچ نیشنل وائس، بلوچ بار کونسل سمیت دیگر خاموش سیاسی ادارے جو ابھی تک منظر عام پر نہیں آئے اس ہڑتال کی کامیابی کا سہرا ان تمام جہد کاروں کے سر جاتا ہے۔ نہ کہ ایک تنظیم کے۔ اور آج یہ نقطہ نظر جسے ڈاکٹر اللہ نذر پیش کر رہا ہے۔ یہ نقطہ نظر ہی ان تضادات کی بنیاد ہے۔ جسے ڈاکٹر صاحب نقطہ نظر و اختلافات کا نام دے رہا ہے۔ اس طرح چار ٹر کو حیر بیار مری تک محدود کرکے ایک فرد سے منسلک کرنا، اور بی این ایف کو ایک اتحاد سمجھنا، یہ سب تضادات کی بنیادیں ہیں۔ لیکن ان پر پردہ ڈال کر جو سوچ سامنے لائی جا رہی ہے۔ وہ صرف اور صرف کنفیوز سیاسی ورکر پیدا کر ے گی۔ نہ کہ مکمل انقلابی۔
اگر آج ہم اپنے سماج کے ارتقاء و سیاسی اداروں پر نظر دوڑائیں، تو اس سے ڈاکٹر اللہ نذر سمیت کوئی بھی انکار نہیں کر سکے گا، کہ جو ادارے خود شعوری طور پر نا پختہ ہیں۔ جدو جہد ضرور کر رہے ہیں۔ لیکن کم از کم میں انہیں قومی ادارہ نہیں کہہ سکتا۔ کیوں کہ یہ سارے ادارے بشمول مزاحمتی تنظیمں قومی جہد ضرور کر رہے ہیں۔ لیکن یہ قومی ادارے نہیں بن سکے ہیں۔ اور ابھی تک قومی لیڈر پیدا نہیں ہو سکا ہے۔ قومی ادارے دور کی بات آج ہر ایک، ایک مخصوص ٹولہ کی شکل میں آزادی کیلئے جدو جہد کر رہے ہیں۔ انہیں قومی تنظیمیں یا قومی اداروں کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ کیوں کہ ابھی تک تمام لیڈران سمیت ہر سیاسی ورکر کو ثابت ہونا ہے۔
تب کہیں جاکر ایک مضبوط و منظم ادارہ وجود میں آسکے گا۔ نہ کہ اتنے گروہ، سوچ و افراد کوایک مضبوط و قومی ادارہ سمجھنا خام خیالی ہی ہوگا۔ لہذا جو حقائق ہیں ان پر دھیان دینا اور حقیقی رو سے جدو جہد و تحریک کے پہلوؤں پر چار و بچار کی ضرورت ہے۔ سیاسی حربوں سے نہ ہم کسی کو دھوکہ دے سکیں گے۔ اور نہ ہی کامیاب ہو سکیں گے۔ بلکہ حقائق کو حقیقی بنیادیں فراہم کریں۔ اور غور و تحقیق کے دروازے کھول دیں۔ تب یہ ممکن ہو سکے گا کہ ہم تضادات کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ منزل کی طرف ایک آواز ہو کر چل سکیں گے۔

Friday, 21 June 2013

انتشار و حقائق اسلم بلوچ


آج کا ہمارا سیاسی منظر نامہ جس انتشار کی وجہ سے مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ اس انتشار کی بنیادی وجوہات بارے حقائق (حقائق قابل غور ہو) جاننا تمام آزادی پسند کارکنان کیلئے بے حد ضروری ہیں۔ اس بابت میں یہ ناقص رائے اس لئے رکھتا ہوں، کیوں کہ گزشتہ تمام عرصے میں آزادی پسند ذمہ دار حلقوں میں اس انتشار کی وجوہات کو جس غیر سیاسی اور روایتی انداز میں لیا گیا۔ وہ مزید اس انتشار کو لیکر دباؤ میں اضافے کا باعث بنیں۔ ہونا تو یہ چائیے تھا کہ ہمارے آزادی پسند ذمہ دار حلقے ان مسائل کو جو ہمارے سیاسی جہد سے تعلق رکھتے ہیں۔ سیاسی انداز میں حل کرتے، اور ان کے نتائج کی تشریح بھی سیاسی انداز میں کرتے۔ مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہونے کی صورت میں آج ہمیں اس صورتحال کا سامنا ہے۔ سیاسی معمولات میں درپیش مسائل کے وجوہات کو روایتی سوچ کے تحت جس نقطہ نگاہ سے دیکھا گیا۔ وہ شاید شروع میں تمام آزادی پسند ذمہ داران کو ذاتی نوعیت کے لگے۔ اور آج کم و بیش یہ تمام حضرات اس کی لپیٹ میں ہیں۔ میں بذات خود اس وقت تک ان کو مختلف سطحوں پہ تقسیم دیکھتا ہوں جو عزائم کے لحاظ سے بالکل ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مثلاً کچھ مصلحت پسندی کے تحت خاموش ہیں۔ اور کچھ حقائق کو چھپانے اور مسخ کرنے کیلئے گمراہ کن حربوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ اور کچھ سیاسی فوائد حاصل کرنے کیلئے بظاہر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ مگر درپردہ ان حالات کے وجوہات کو دو فریقین کے آپسی ذاتی جھگڑے سے جُوڑ کر خود کو تیسری بالغ نظر ، دور اندیش، سیاسی و غیر جانبدار قوت کے طور پر متعارف کرنے کے چکر میں لگے ہوئے ہیں۔ اور ان حالات میں فائدہ اُٹھانے کیلئے ان تمام کے سیاسی مخالفین بھی میدان عمل میں موجود ہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ کچھ انقلاب دشمن قوتیں بھی ان حضرات کی کمزوریوں سے فائدہ اُٹھانے میں پیچھے نہیں۔ ان کے علاوہ آزادی پسند دانشوروں کی اکثریت بھی تحقیق و معلومات کے بغیر روایتی گرمجوشی میں ذاتی خدشات کو لیکر نصیحت کرنے میں پیش پیش رہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ سیاسی کارکنان کے جذباتی لگاؤ نے بھی خدشات اور مفروضوں کا ایک طوفان اُٹھا رکھا ہے۔ جنہیں میں بیان کر چکا ہوں۔ ان تمام سے ہٹ کر میں جن حقائق کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں، وہ ہمارے ابتدائی جُہد کو لیکر ایک تسلسل رکھتے ہیں۔ اور یہ جو مسائل آج ہمیں نظر آرہے ہیں جن میں اپنے ابتدائی حیثیت کو لیکر سنگت حیر بیار مری کے بارے سفارتی مسئلہ پہ اختلاف ، 13 نومبر ، چارٹر، بی ایل اے کا مشروط جدو جہد کیلئے عندیہ اور اگر کچھ اور دور 2008ء
میں دیکھیں جنگ بندی کا اعلان ، سنگت حیر بیار مری کا آزادی پسند قیادت میں اختلافات کی نشاندہی کیلئے اخباری بیان ۔یہ سب کچھ اپنے انتہا کیلئے آج عوامی دہلیز پہ دستک دے رہے ہیں۔ ان تمام کے باوجود حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی وجہ سے یہ انتشار اور دباؤ مزید بڑھتا جا رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس انتشار کے پیچھے کار فرما وجوہات اپنے اندر جس تسلسل کو سمیٹ کر بیھٹا ہے۔ وہ ہمارے ذہنی سطح سے تعلق رکھتا ہے۔ جس کا سر چشمہ ہمارے آزادی پسند ذمہ دار حلقے ہیں۔ یہ آج کی بات نہیں اس کو پچھلے پانچ سالوں سے محسوس کیا جا رہا ہے۔ اور وقتاً فوقتاً اس کا اظہار بھی ہوتا رہا ہے۔ ہو سکتا ہے زیادہ کھل کر نہیں اشاروں میں۔ مگر اس میں روک تھام کی بجائے اضافہ ہوتا رہا ہے۔ اور انتہا کی طرف جاتے ہوئے اس انتشار کی نوعیت کو ہم محسوس کر رہے ہیں۔ میں اپنا قومی فرض سمجھتا ہوں اس اظہار کو جس کا بحیثیت فرد میں گواہ ہوں۔ میں شاید کمزور ذہنیت کا مالک ہوں۔ مزید صبر کو گناہ سمجھتا ہوں۔ اور مجھے حیرت و افسوس اس امر پہ ہے کہ ہمارے سیاسی کارکنان اور آزادی پسند حلقوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ یہ سیاسی مسائل ہیں ، سیاسی حل چاہتے ہیں۔ یہ مل بیٹھ کر بانٹنے کے فارمولے سے حل ہی نہیں ہونگے۔ میں حقیقی وجوہات کی نشاندہی اپنے محسوسات اور نقطہ نگاہ سے کرونگا۔ ہوسکتا ہے میرے اس طریقہ کار سے دوستوں کو اختلاف
ہو۔ مگر مجھے یقین ہے کہ میری باتوں سے کسی کو اختلاف نہیں ہوگا۔ کیوں کہ یہ وہ حقائق ہیں، جو ہمارے آج کے انتشار کی بنیادی وجوہات سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس نقطے کو میں بیان کر رہا ہوں، اسے آپ ضرور مد نظر رکھیں۔ ہم سائنسی تحریک کی بات تو بہت کرتے ہیں۔ آیا ہم اپنی تحریک کے سائنسی پہلو کو سمجھتے ہیں بھی یا نہیں۔ جہاں کہیں بھی ایسے حالات درپیش ہوتے ہیں، جن کا آج ہمیں سامنا ہے۔ یعنی ایک ہی مقصد کو لیکر مختلف قوتوں کا الگ الگ شناخت اور مقام الگ حکمت عملیوں کے تحت جدو جہد کرنا ، جدو جہد کے دوران سرانجام دینے والے ان کے عمل کے نتائج کم و بیش ان کے مقصد کو لیکر یکساں ہوتے ہیں۔ (ہمارے ہاں تو اب تک حکمت عملی بھی یکساں ہے۔ انڈر گراؤنڈ مسلح گوریلا طریقہ کار مارو اور چھپ جاؤ، کھلے عام سیاسی محاذ میں مظاہرے، تعزیتی ریفرنسز اور اخباری بیانات)اوریہ یکساں نتائج ان کے بیچ ایک ربط و کنٹرول کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اور ایسا بھی نہیں ہوتا کہ وہ باہمی ربط و کنٹرول کیلئے کسی تحریری متفقہ معاہدے سے گزر کر سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ بصورت دیگر اگر ان کے عمل کے نتائج متضاد ہوں۔ تو یہ نتائج بذات خود ان کے بیچ متضاد سوچ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اور بلوچ جہد میں یہ ربط و کنٹرول ہمیں اکثر مقامات سے غائب نظر آتا ہے۔ اس وقت تک جن وجوہات تک میرا ذہنی حواس پہنچ چکا ہے۔ ان پہ روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔ اس سے قبل یہاں جو کچھ ہو چکا ہے، اور اب ہو رہا ہے۔ وہ بہت ہی مختلف اور الگ ہے۔ اس سب کچھ سے جس کو پیش کیا جا رہا ہے جو منظر کشی آج ہو رہا ہے۔ وہ حقائق سے کسی صورت میل نہیں کھاتا۔آج اس دباؤ اور انتشار کیلئے صرف اور صرف لکھاری اور سوال اُٹھانے والوں کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ تفصیل سے پہلے میں یہاں ایک وضاحت ضروری سمجھتا ہوں، تاکہ پڑھنے والوں کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ کیا یہ باعث حیرت نہیں کہ آزادی پسند ذمہ دار حلقے جن میں سر فہرست نواب خیر بخش مری ، سنگت
حیر بیار مری ، استاد واحد قمبر، ڈاکٹر اللہ نذر ، میر براہمدغ بگٹی ، میر جاوید مینگل اور بقول اختر ندیم کے واجہ خلیل بلوچ ، بانک کریمہ بلوچ، عرفی بلوچ خان وغیرہ کے ہوتے ہوئے اتنا انتشار کیوں؟ یہ دباؤ کیوں؟ (جسے کچھ ہوش مند دوست بلیک میلنگ قرار دے رہے ہیں) اور کچھ خیر خواہ بڑی تشویش کے ساتھ چند نام نہاد لکھاریوں کی شرارت یا مخفی دوست نما دشمنوں کی کار ستانیاں قرار دے رہے ہیں۔ تو اتنے سارے (بقول انہی حضرات کے میں اعزازی لقب دینے کے معاملے میں ذرا کنجوس ہوں) قومی انقلابی لیڈروں، گوریلا ہیروز ، ویژنری قیادت کی موجودگی میں یہ دوچار شریر لکھاری اور چند مخفی دوست نما دشمنوں نے ایسا اُودھم مچایا ہے۔ جس سے اتنا انتشار اور دباؤ پیدا ہوچکا ہے کہ ایک بحرانی کیفیت کا تاثر اُبھر کر مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ (ایک وقت وہ تھا جب دشمن شہید اکبر خان بگٹی کے قتل کا الزام شہید بالاچ پہ، اور شہید بالاچ کے شہادت کو براہمدغ بگٹی کے سر تھونپ رہا تھا، ہمارے ہاں ایسے سوالات ذرہ برابر توجہ حاصل نہ کر سکے۔ اور آج معمولی سوالات کیلئے ہمارے اندر اتنا اشتعال کیوں ہے؟ کچھ تو ہوگا جس کی پردہ پوشی کی جا رہی ہے۔) اور بد قسمتی دیکھیں کہ ان شریر لکھاریوں اور مخفی دوست نما دشمنوں کی پہچان بھی ہو چکی ہے۔ تو یہاں سوچنے والی بات یہ ہے کہ اتنے سارے انقلابی لیڈرز، گوریلا ہیروز، ویژنری قیادت کو دو چار شریر لکھاری ایسے بحرانی کیفیت میں جھکڑ لیتے ہیں۔ جس سے وہ پچھلے تین سالوں سے نکل نہیں پاتے۔ تو اس قابض ریاست ، اس کی اتنی بڑی عسکری طاقت اور شاطرانہ و منافقانہ چالوں سے کیسے نکلیں گے۔ اور اس بد نصیب قوم کو کیسے نجات دلائیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ اس سوال کی اہمیت سے بھی انکار ہو ،جس کا مجھے خدشہ ہے۔ مگر حقائق سے کوئی کب تک انکار کرے گا۔ ویسے ہمارے ہاں حقائق سے فرار کیلئے بڑے بچگانہ اور غیر اخلاقی طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ جو درپیش مسائل کو حل کرنے میں اور بھی مشکلات اور پیچیدگیاں پیدا کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے اول ہمارے ہاں کسی بھی منفی اور متضاد عمل کی نشاندہی کو لیکر کوئی با ضابطہ طور داخل دفتر کرنے کیلئے کوئی طریقہ کار نہیں۔ مقصد ایک ، طریقہ کار ایک ، اب تک حکمت عملی ایک (اپنے طور سرگردانی کو حکمت عملی کا نام میں نہیں دونگا وہ زیر غور نہیں) عمل کے نتائج متضاد، جب عمل کے نتائج یکساں نہیں۔ تو غور ہو کہ بیچ میں کچھ تو ضرور ہے۔ تمام قوتوں نے ایک ہی مقصد کو لیکر اپنے( شناخت نہیں) ، وجود کو ایسے ترتیب دیا ہے کہ ان کی طرف دیکھنا بھی گناہ ہے۔ جیسے قومی تنظیم اور پارٹی نہ ہو ، کسی مولانا کی بیٹی ہو۔ اس موجودہ سیٹ اپ میں مجھے اکثریت کا پتہ نہیں ۔لیکن کچھ ایسے لوگوں کو میں ضرور جانتا ہوں، جو بحثیت قومی رضاکار آج سے نہیں 1994ء سے جو میری پہچان کی حد ہے، بلکہ اس سے بھی پہلے ہلمند (افغانستان) سے ایک تاریخ لیکر جدو جہد کر رہے ہیں۔ ان کی سنگت میں رہے کر یہ سمجھنا ہمارے لئے مشکل نہیں کہ ایک پارٹی اور اس کے ادارے کیا ہوتے ہیں۔ (بقول اختر ندیم مقدس ادارے) اور ان میں مداخلت کیا ہوتا ہے ، اس بارے بہت زیادہ نہیں کچھ نہ کچھ جانتے ہیں۔ میری ناقص رائے کے مطابق اداروں میں مداخلت اور پالیسیوں یا متضاد سرزد عمل پہ سوال اٹھانے میں فرق سیاسی کارکنان کو سمجھنا چائیے۔ بحیثیت رضاکار میرا ہم مقصد ہونے کے ناطے وہ میرا ہے۔ بی این ایم میری پارٹی ہے ، بی آر پی میری پارٹی ہے ، بی ایل ایف، بی ایس او یہ سب بلوچ ہونے کے ناطے میرا ہیں ، ایک سیاسی رضاکار ہونے کے ناطے مجھ سے جو بن پڑتا ہے ، میں کرتا ہوں ، چاہے وہ ان پارٹیوں کیلئے صرف اور صرف ایک جھنڈا خرید کر دینے کی اوقات ہو ں، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں مگر جب میں کسی متضاد سرزد عمل کی نشاندہی کرتا ہوں۔ تو میں غیر اور ان کے اداروں میں مداخلت کرنے والا یا پھر دشمن کہلاتا ہوں۔ یہ کیوں ؟ میری طرف سے یہاں یہ ذکر شاید مناسب ہو کہ بلوچستان نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی کو جو لوگ تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ وہ کس سیاسی جواز کے تحت اس تنقید کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اگر واقعی کوئی حق ہے۔ اور اس حق کو کوئی اور سیاسی رضاکار ان کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ تو وہ دشمن ، سازشی اور توڑنے والا کیسے بن جاتا ہے۔ یہ سوچ بذات خود قومی بلوچ سیاست میں پرتضاد عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ ایسے کہ اگر کوئی حضرت اپنے کسی بھی پر تضاد اور منفی عمل کی نشاندہی اور اس پہ تنقید کو اپنے جداگانہ گروہی حیثیت میں مداخلت قرار دے گا۔ چاہے وہ بی ایل اے ہو یا بی ایل ایف یا بی این ایم و بی ایس او ہو، تو پھر وہ محترم خود کس حق کو لیکر بی این پی یا نیشنل پارٹی کے کسی بھی متضاد عمل یا منفی سرگرمیوں بارے نشاندہی کرکے ان کے جداگانہ حیثیت میں مداخلت کرکے کیسے تنقید کریگا ۔ کیا یہ بادشاہت کو لیکر درباری طرز عمل نہیں ہوگا؟ ویسے ہونا تو یہ چائیے کہ قومی سیاست میں کسی بھی سطح پر کوئی بھی متضاد یا منفی عمل سرزد ہو اس کی نشاندہی حقائق کی بنیاد پر سیاسی انداز میں سیاسی حدود کے اندر ہونی چائیے بصورت دیگربیان کردہ جواز یا نشاندہی شدہ عوامل ہی حقائق پر مبنی نہ ہو۔ وہ بے بنیاد اور گمراہ کن ہو۔ تب بھی ان کیلئے یہی طریقہ و انداز اپنا کر ان کو حقائق کی بنیاد پر گمراہ کن اور بے بنیاد ثابت کیا جائے۔ یہ کیسے ثابت ہو کہ دشمنی کے حدود کیا ہیں؟ اداروں کی حیثیت اور ان میں بیرونی مداخلت کسی بھی سطح پر اس کے حدود کیا ہیں؟ صلاح مشورہ کیلئے حیثیت ، علم، قابلیت اور اختیار کے حدود کیا ہیں؟ کسی متضاد عمل کیلئے نشاندہی کی اصولی حدود کیا ہیں؟ دوستی اور دشمنی کیلئے عمل ، گفتار کے حدود کیا ہیں؟ عقل مندی کیا ہوتی ہے؟ اور بے وقوفی کیا ہے؟ آج ان تمام باتوں کی وضاحت بے حد ضروری ہیں۔ میرے پڑھنے والے برائے مہربانی قربانی، قید و بند کی صعوبتیں ، بے گھر ہونا، جلا وطنی، باپ، بیٹے، رشتہ داروں کا شہید ہونا ، گھروں کا مسمار کرنا ، جلانا ان تمام کو ایک طرف رکھیں۔ کیوں کہ یہ جذباتی بلیک میلنگ کے ذریعئے غلطیوں اور صلاحیتوں کے فقدان پہ ریلیف لینے کے زمرے میں آتے ہیں۔ اور آج کل بڑے بہتر انداز میں ان کا استعمال بھی ہو رہا ہے۔ کسی دوست نے اپنے بھائی کی شہادت کے حوالے سے پارٹی پہ احسان جتانے کی کوشش کی۔ تو میں نے یہ سوال رکھا کہ آپ کے تین دیگر بھائی سرکاری ملازم ہیں ۔اور کزن پولیس میں ملازم۔ تم ان کے کردار کی ذمہ داری بھی اٹھانے کیلئے تیار ہو، شہید کے ساتھ رہنے مشترکہ سوچ کے حوالے سے ہو
سکتا ہے۔ تمھارا کوئی کردار ہو، مگر اپنے مفاد کیلئے شہید کے کردار کو مسخ مت کرو۔ جو تمھارا کردار ہے اس کو بہتر کرو۔ اگر کوئی حضرت شہید بالاچ مری کی شہادت کا کریڈٹ سنگت حیر بیار مری یا نواب خیر بخش مری کو دے گا۔ تو کیا یہ سوال پیدا نہیں ہوگا کہ جنگریز مری کے کردار کا کون ذمہ دار ہے؟ اور جدو جہد کے تمام عرصے میں جلا وطنی سے لیکر شہادت تک سوائے
فکری وابستگی اور تنظیمی نظم کے محنت، تکلیف، سردی، گرمی تمام کے برداشت کرنے میں بالاچ شہید کے ساتھ کون رہا ؟ اور اگر اسلم بلوچ عرفان سرور کی شہادت کو لیکر اپنا سینہ چوڑا کرے گا۔ تو کیا باقی رشتہ داروں کے سرکاری ملازمت اور گھر بیٹھے زندگی گزارنے پر بھی ذمہ داری اٹھانے کو تیار ہوگا؟ یہ قابل غور ہے کہ کوئی تنظیم ، پارٹی یا شخصیات اگر بار بار ریاستی جبر یا پھر اس جبر سے وابستہ حساس اور روحانی پہلو (شہداء ) کا سہارا لیں۔ تو ان کے پروگرام کارکردگی ، کردار، محنت میں ضرور کوئی کمی ہوگا۔ کیوں کہ جو نظریہ یا پروگرام انسانی لہو کا تقاضا کرتا ہے۔ انسانی لہو سے آبیاری بذات خود اس نظریے اور پروگرام کی عظمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ جہاں ایسے عظیم نظریہ اور پروگرام کے ہوتے ہوئے اس پر قربان ہونے والوں کا سہارا لیا جائے، ان کی قربانیوں کی حیثیت و مقدار کا تقاضا ہو تو یہ عمل بذات خود اشارہ کرتا ہے کہ اس عظیم نظریہ اور پروگرام کے تقاضوں سے روگردانی ہو رہی ہے۔ ایک انقلابی تنظیم کیلئے اجتماعیت کے نظریے کے تحت مثلا بی ایل اے کیلئے ہر وہ بلوچ جس کا تعلق بلوچ گلزمین کے کسی بھی کونے سے ہو، اور وہ ریاستی جبر کا شکار ہو، وہ نقصان کے حوالے سے بی ایل اے کا ہے۔ بحیثیت انقلابی تنظیم کے وہ اس کا وارث و ذمہ دار ہے۔ چاہے اس کا انتظامی تعلق بی ایل اے سے ہو یا نہ ہو۔ تو پھر اس فکر سے متضاد تعداد کی شمار برسی وغیرہ پہ جداگانہ حیثیت کیلئے پرچار چہ معنی دارد۔ تو یہاں اس پہ غور ہو کہ جبر کی نشاندہی اور جبر سے شرمناک طریقے سے سیاسی فوائد حاصل کرنے کے بیچ بھی حدود کا تعین نہایت ضروری ہے ۔کیوں کہ یہ دونوں متضاد عمل ہیں۔ مثلاً اگر کوئی شخص ایک نظریے بابت پروگرام کو لیکر نکلتا ہے۔ جب وہ نکلتا ہے۔ تو با لکل اکیلا ہوتا ہے۔ ہزاروں لوگ اس کے نظریے سے متفق ہوکر اس کے کاروان میں شامل ہوتے ہیں۔ اور ان میں سے ہزاروں اس نظریے اور پروگرام پر قربان ہوتے ہیں۔ اس بیچ میں کوئی اس نظریے اور پروگرام سے ہٹ کر قربان ہونے والوں کی قربانی پر ناچنا شروع کردیں۔ تو یہ عمل کیا کہلائے گا؟ کم و بیش ہمارے سیاسی میدان میں با لکل یہی سب کچھ ہو رہا ہے۔ آزادی کے متعلق اجتماعی نظریہ اور پروگرام کیلئے اجتماعی قوت کے حصول سے روگردانی آج ہمیں شہداء اور ریاستی جبر کے سہارے زندہ رہنے پہ مجبور کر رہا ہے۔ تو برائے مہربانی انصاف یہاں بھی تقاضہ کرتا ہے کہ قومی وراثت کے دعوے دار بن کر 1973 اور اس سے پہلے انگریز کے خلاف لڑنے والے بلوچوں کے وارث بنو۔ ان تمام شہداء کے فکر کو لیکر اپنے اعمال درست کرو۔ گھر روزانہ بلوچوں کے جلائے جاتے ہیں، بیٹے شہید کئے جاتے ہیں ،گھر ڈیرہ بگٹی میں بہت جلے، کاہان میں جلے، کوئٹہ شہر میں ہزار گنجی میں پچھلے دس سالوں سے مسمار ہوتے آ رہے ہیں۔ ارباب کرم خان روڈ پہ پچھلے سال شیید بالاچ کا گھر لوٹا، جلایا اور گرایا گیا۔یہ بیان کرنا ضروری نہیں کیا کیا ہوا ہے۔ کیوں کہ جو کچھ ہوا، اس کو سب دیکھ رہے ہیں۔ ضروری یہ ہے کہ یہ کیوں ہو رہا ہے؟ اس کو کیوں ہم ساٹھ سالوں سے روک نہیں سکتے ؟ اس روک نہ سکنے کی وجوہات کیا ہیں؟ تو یہاں بد بختی دیکھیں، ہم دشمن کے جبر و بر بریت سے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس جبر اور بربریت کو اپنی طاقت نہیں بناتے۔ ایک قومی رضا کار کیلئے کسی غریب کا جھونپڑی جلے یا سنگت حیر بیار مری کا بولک ، دونوں کی تکلیف یکساں ہونا
چائیے بلوچ کا گھر مکران میں جلے یا ڈیرہ بگٹی، کاہان، ساراوان یا جھالاوان میں، دکھ، تکلیف ایک ہی ہونا چائیے۔ اور ضروری یہ ہے کہ ہم جلد از جلد حقائق کا سامنا کریں۔ ان حقیقی عوامل کو ڈھونڈ کر ان پہ کام کریں۔ جو ہماری جدو جہد میں حقیقی طور رکاوٹ ہیں۔
میں عمل کے مشترکہ یا کم و بیش یکساں نتائج کی طرف آتا ہوں۔ جو ہمارے تفرق اور تقسیم کو سمجھنے میں شاید کچھ نہ کچھ آزادی پسند کار کنان کو مدد دیں۔ ایک دو مثال جو ہماری جہد سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب ریاست کی طرف سے اسیران کو دوران حراست قتل کرنے کا سلسلہ شروع ہوا، کچھ حالات تبدیل ہوئے، تو مچھ سے تعلق رکھنے والے تین نوجوانوں نے مچھ کیقریب ایک مزاحمتی تنظیم کے کیمپ آکر ساتھیوں کے سامنے یہ جواز پیش کیا کہ حالات مناسب نہیں، اور اس سے پہلے ہم مکران میں ساتھیوں کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔ اور اگر اجازت ہوتو اب ہم آپ کے ساتھ مل کر اس علاقے میں کام کریں گے۔ تو ذمہ دار ساتھیوں کی طرف سے ان کو اس ہدایت کے ساتھ کہ آنے جانے اور فون کے استعمال میں احتیاط کے ساتھ اپنے پہلے والے یعنی مکران کے ساتھیوں کے ساتھ اپنا کام جاری رکھیں۔ کیوں کہ اس علاقے میں ضروریات زیادہ ہیں، مگر مشکلات کم۔ مکران کے
دوستوں کو بہت سی مشکلات درپیش ہیں۔ اس لئے وہاں کام کی زیادہ ضرورت ہے۔ آپ ساتھی اپنے پہلے والے سیٹ اپ میں رہ کر کام کریں۔( ابتداء میں بی ایل ایف اور بی ایل اے کی مشترکہ کاروائیاں زیر بحث نہیں ) اور مکران کے اکثر ساتھی جن میں شہید طارق کریم بھی شامل ہیں۔ ان کی اس خوائش کو کہ ہم بی ایل اے کے پلیٹ فارم سے جدو جہد کرنا چاہتے ہیں۔ ان کو یہ سوچ اس ہدایت کے ساتھ دی جاتی ہے کہ مکران میں بی ایل ایف کام کر رہی ہے۔ تو ضرورت کیا، آپ دوستوں کے ساتھ رہ کر کام کریں۔ ابتداء سے لیکر 2012ء کے اختتام تک پورے مکران میں بی ایل اے کی طرف سے جداگانہ حیثیت میں سرگرمیاں نہ کرنے کی پالیسیاں یکجہتی کو لیکر اجتماعی سوچ کی نشاندہی کیلئے کافی ہیں۔ (آج کے حالات زیر بحث نہیں) سوچ پالیسی اور عمل یہاں ایک نتیجہ دیتے ہیں۔ اب آتے ہیں دوسری طرف، مکران میں ایک مزاحمتی کیمپ میں جب رات کو فکری نشست کا اہتمام ہوتا ہے۔ تو اس نشست میں ابتداء اپنی تنظیم کی تعریف سے، اور انتہا دوسرے تنظیم کے بارے قائم کردہ بے بنیاد مفروضوں پر ہوتا ہے ۔جس میں ان کیلئے قبائلی، ان پڑھ، غیر سیاسی وغیرہ کا پرچار ہوتا ہے۔ اب یہ سوچ، پالیسی اور عمل با لکل متضاد نتیجہ دیتے ہیں۔ اور اسی ایک مقصد کیلئے کام کرنے والے تیسری تنظیم دوسرے تنظیموں کے کار کنان کو اپنی تنظیم میں
شمولیت کرنے پر زیادہ مراعات، سہولت وغیرہ کی پیش کش کرنے کیلئے دن رات سرگرداں نظر آتا ہے۔ اور بہت سے مقامات پہ ان کو کامیابی بھی حاصل ہوتی ہے۔ تو یہ سوچ،
پالیسی اور عمل ایک اور متضاد نتیجہ دیتا ہے۔ تو اب یہ تین متضاد نتائج کس طرح کے ربط اور کنٹرول کو لیکر ایک ہی مقصد کیلئے سود مند ثابت ہونگے ۔تو ان کی نشاندہی اور ان پر سوال اٹھانے والا شریر نام نہاد دوست نما دشمن ہی ہو سکتا ہے۔ شروع سے تسلسل کے ساتھ پیش آنے والے ایسے ہزاروں واقعات ہیں۔ اگر موقع دیا گیا، اور سیاسی طرز عمل اپنایا گیا، تو ذمہ دار حلقوں کے بیچ پیش کرکے ان کی تدارک کی کوشش کرونگا۔ اگر دروازے بند ہوئے ، حربے استعمال کئے گئے تو مجبوراً کار کنان سے رابطہ ہوگا۔ ان میں سے ایک اور مثال یہاں میں پیش کرناضروری سمجھونگا۔ مکران میں قومی جدوجہد کیلئے ابتدائی کوششیں سنگت حیر بیار مری کا 1996ء میں استاد واحد قمبر سے رابطہ، استاد واحد قمبر کی طرف سے مشروط جدو جہد کیلئے رضا مندی، اور پھر 2000ء اور 2001 ء کی کوششیں، بحث مباحثے اور ان کے نتائج، بی ایل ایف کی بنیاد کیلئے جواز، اس کے پیچے کار فرما سوچ، ان سب کے
بارے میں معلومات کو لیکر جب مئی2007 ء میں نوشکی کے قریب کیمپ میں ڈاکٹر اللہ نذر ، شہید سعادت عرف ماموں مری اور میں ایک نشست میں ساتھ تھے مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کو بھی ضرور یاد ہوگا۔ بولان میں میری غیر موجودگی میں بولان کے ساتھیوں کے حوالے سے سعادت عرف ماموں مری کو کچھ عرصے کیلئے ذمہ داریاں سونپنے کیلئے صلاح و مشورے ہورہے تھے۔ جب ماموں شہید کے سامنے یہ تجویز رکھا گیا، تو ماموں کی طرف سے یہ شرط کہ میں بولان جاکر کام ضرور کرونگا، مگر بی ایل اے کی زیر نگرانی نہیں ، بی ایل ایف کی زیر نگرانی کرونگا۔ ایسے ذمہ دار حلقے سے ایسی سوچ کی توقع مجھے ہرگز نہیں تھی۔ میں اپنی حیرانگی کے ساتھ ساتھ اپنے جذباتی ردعمل کو نہیں روک سکا ۔اور میں نے یہ سوال اٹھایا کہ یہ کیا ہے؟ B L F, B L A ان کی حقیقت کیا ہے؟ اور ہم سوچ کیا رہے ہیں؟ ڈاکٹر اللہ نذر نے کہا کہ استاد آپ سمجھ نہیں پائے۔ میں نے کہا ڈاکٹر یہ سیدھی سی بات ہے کہ اگر ہمارے اس ذمہ دار سطح پہ ایسا سوچا جاتا ہے، تو ہمارے دیگرساتھی ، کارکنان، ہمدردان کیا سوچ رکھیں گے۔ (اختر ندیم کا بی ایل ایف کے چارٹر کا ذکر زیر غور نہیں) ہوتے ہوتے آج بی ایل ایف اور بی ایل اے آپ کے سامنے ہیں۔ اس تفریق کیلئے ذمہ دار سوچ ہمارے اندر شروع سے تسلسل کے ساتھ پرورش پا رہی ہے۔ اور اس کے تقویت پانے میں یہ کمزوری بھی کار فرما ہے کہ اتنے طویل عرصے کے جدو جہد میں اتحاد و یکجہتی کے حصول میں حائل اصولی رکاوٹ جس میں اول اعتماد کا فقدان ہی ہو سکتا ہے مثلا اگر بی ایل ایف کے ساتھیوں کو بی ایل اے کے ذمہ دار حلقوں یا ان کی پالیسیوں یا پھر حکمت عملی بارے کسی بھی قسم کے خدشات کو لیکر بد اعتمادی کا سامنا ہے تو ان کے وجوہات آج تک سامنے کیوں نہیں آئے (2007ء سے مسلسل 2011ء تک وہ کوششیں جن میں دونوں تنظیموں کو یکجا کرنے کیلئے بی ایل اے کے ساتھیوں کی طرف سے پیش پیش رہنا اور بی ایل ایف کے ساتھیوں کا مکمل سرد مہری زیر بحث نہیں) میرے خیال میں بی آر اے اور لشکر بلوچستان کیلئے کسی مثال کی ضرورت نہیں۔میںآگے جانے سے پہلے ایک اور مثال دونگا۔ 2007ء میں کسی گھریلو مسئلے بارے دو فریق ہمارے پاس آئے۔ مجھے ان کا مسئلہ کچھ بھی سمجھ نہیں آیا۔ میں نے ان کو اپنے کسی قبائلی معتبر یا پھر نواب صاحب کی طرف جانے کا مشورہ دیا۔ کچھ دن بعد جب وہ دوبارہ میرے پاس آئے۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے اپنے احوال میں کہا کہ ہم نواب صاحب کے پاس گئے تھے۔ اور مسئلے کے بارے میں ان کو آگاہی دی۔ اور آپ کا نام لیکر بتایا کہ آپ کو بھی ہمارے مسئلے کے بارے میں مکمل معلومات ہیں۔ تو میرے پوچھنے پر کہ نواب صاحب نے کیا کہا؟ تو انہوں نے بتایا کہ نواب صاحب نے کہا کہ وہ تو حیر بیار کا ساتھی ہے۔ میں اس کو اچھی طرح نہیں جانتا۔ یہ سن کر مجھے سخت حیرت اور صدمہ ہوا۔ اور میں اس بات کے متعلق سوچتا رہا کہ یہ کیا بات ہوئی ۔دو چار دن سوچ بچار کے بعد اپنے آپ کو اس بات پہ تسلی دی کہ ہو سکتا ہے سیکیورٹی کا مسئلہ ہو۔ جو تقسیم، تفریق شروع سے ہماری نیت میں تھی۔ اس کو ظاہر ہونا ہی تھا سنگت حیر بیار مری اور میر مہران کے مسئلے میں جب ابتدائی معلومات ہم تک پہنچیں۔ اور ہماری طرف سے اس معاملے کے سدھار بارے کسی بھی طرح کے کردار ادا کرنے سے پہلے ہم پر 2007 ء والا لیبل لگ چکا تھا۔ یعنی سنگت حیر بیار کے ساتھی۔ اور اس کے ساتھ ہی جب ہم دوسری طرف نظر دوڑائیں۔ یعنی غیر مسلح محاذ کی طرف، تو وہاں بھی ہمیں یہ تماشا ذرا اور زیادہ شرمناک انداز میں ملے گا۔ اس بات کیلئے ہزاروں سیاسی کار کنان بطور گواہ موجود ہیں کہ اسٹیج کے صدارتی تقریر ملنے یا نہ ملنے، اور اپنی مرضی کے تصاویر لگانے اور نہ لگانے پر اختلافات، ناراضگیاں آزادی پسند ذمہ داران کے ماتھے کا جھومر ہیں۔بی این ایف کے انجام کا سہرا کچھ دوست سنگت حیر بیار مری کے سر زبردستی سجانا چاہتے ہیں۔ مگر شاید زاہد کرد صاحب بھی اس بات کے گواہ ہوں کہ مختلف جلسے جلوسوں اور تقاریب میں اسٹیج کی صدارت اور تقاریر اور اخباری بیانات جاری کرنے یا نہ کرنے کیلئے اتحادی کیسی کیسی حرکتیں کرتے تھے۔ ایک دوسرے کو اتحاد سے نکالنے کی وجوہات کھبی بھی سیاسی اصولی یا نظریاتی تضاد کی بنیاد پر نہیں ہوئے ہیں۔ یہاں اب تک لوگ بی این ایف کونہیں بھول پائے ہیں۔ اور کیا نئے اتحاد کیلئے شوشہ قابل حیرت نہیں؟ اتحاد ایک ایسا عمل ہے، جس سے کوئی بد بخت و بد قسمت انکار کرے گا۔ مگر پہلے والی اتحادیں جن انجام سے دوچار ہوئیں کیا ان کے حساب کا مطالبہ اصولی نہیں؟ سنگت حیر بیار مری سمیت جو بھی بی این ایف کے شرمناک انجام کا ذمہ دار ہے اس کو سامنے لاکر اس کے عمل کا احاطہ کیا جائے۔ پھر شاید دوسری اتحاد کیلئے کوشش سود مند ہو۔
بہت سے حیرت انگیز واقعات میں سے ایک اور میرے لئے باعث حیرت ثابت ہوا۔ شہید غلام محمد کی شہادت سے تقریبا آٹھ ماہ قبل کراچی میں اتفاقاً ایک بزرگ کامریڈ سے ملاقات ہوئی۔ تین گھنٹے کی ملاقات میں کامریڈ بزرگ نے شہید غلام محمد کی مخالفت میں زمین آسمان ایک کردی۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس بات پہ زور دیتا رہا کہ سنگت حیر بیار مری
شہید غلام محمد بلوچ کو کیوں کر کمک کر رہا ہے۔ اس کو اس طرح نہیں کرنا چائیے۔ میرا کامریڈ بزرگ کو آخری مشورہ یہ تھا کہ غلام محمد بلوچ کو جو بھی سپورٹ کر رہا ہے۔ آپ یہ باتیں ان کے سامنے رکھیں۔ اس وقت وہ مخالفت سمجھ میں آنے والی بات تھی۔ مگر شہید غلام محمد کی شہادت کے بعد ان کے نام سے پارٹی بنانا میرے لئے باعث حیرت ثابت ہوا۔ یہ سوچ اور ذہنیت کے لوگ آج بھی اپنے ماضی کے طرز عمل سے تحریک کی تقویت میں رکاوٹ بنکر مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ اور پھر سوال اٹھانے یا کسی بھی تضاد کی نشاندہی پر مشتعل ہوکر من گھڑت قصے کہانیاں ترتیب دے کر ماحول کو مزید پراگندہ کر رہے ہیں۔ یہ چند مثالیں میں نے اس لئے آپ لوگوں کے سامنے رکھنے کی کوشش کی، تاکہآپ
دوستوں کو کچھ اندازہ ہو۔ ان مسائل کی بنیادی وجوہات میں سے کچھ ٹھوس حقائق یہ بھی ہیں، جن کی مکمل پردہ پوشی ہمارے کردار کشی سے لازم و ملزوم ہوچکی ہے۔ بے بنیاد الزامات کو لیکر دباؤ کا مقصد صرف اور صرف ہمیں چپ کرانا مقصود ہوتا ہے۔ شروع دن سے ہم نے اپنے سوجھ بوجھ کے مطابق اجتماعیت کے مقابلے کسی بھی منفی یا متضاد عمل کو محسوس کیا یا اس کی نشاندہی کی، اور جہاں کہیں یہ ضروری سمجھا کہ اس عمل کے متعلق اپنا نقطہ نظر تمام آزادی پسند دوستوں کے سامنے رکھیں۔ تو اس اظہار کا مقصد بھی واضح یہ رہا کہ مختلف زاویوں سے ایسے متضاد اور منفی عمل کی جانچ پرکھ ہو۔ تاکہ بہتر نتائج برآمد ہوں۔ بد قسمتی سے یہی سوچ ہمارا جرم ٹھہر اور رد عمل میں کسی نے کہا کہ یہ تو توجہ حاصل کرنے کیلئے ہو رہا ہے۔ کہیں سے آواز آئی کہ یہ سب لیڈری کے شوق میں ہو رہا ہے۔ اور کچھ صدائے احتجاج لیکر اس کو بلوچوں میں انتشار کا سبب بیان کر رہے ہیں۔ کسی نے کہا کہ ڈکٹیٹر شپ ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں، اپنی صفائی میں ، عرض، گزارش کو ہم نے کم از کم اپنے منہ میاں مٹھو کے مترادف سمجھا۔ اور روز اول سے توجہ صرف اور صرف مسائل کو لیکر ان کی وجوہات کی نشاندہی پر رہی۔ مقابلے میں الزامات مزید شدید ہوتے ہوتے من گھڑت قصہ کہانیوں میں تبدیل ہوتے گئے۔ ان کی طرف آنے سے پہلے ایک واقع بیان کرنا ضروری سمجھوں گا۔ اگست 2010ء میں اپنے ایک محترم بزرگ نظریاتی استاد سے سنگت حیر بیار مری اور میر مہران مری والے مسئلے بابت کوششوں بارے ملاقات میں میرے بزرگ نظریاتی استاد نے میری سیھٹی اس جملے کے ساتھ گم کردی کہ تم لوگ کیا حیر بیار حیر بیار کرتے ہو ، کیا وہ پہاڑوں میں رہا ہے ؟ کیا کیا ہے اس نے؟ میں نے نہایت ادب سے کہا کہ آپ کو معلوم نہیں ہے کہ اس نے کیا کیا ہے ، یہ سوال آپ کیسے اٹھا رہے ہیں؟ میں نے اپنے سوال کو اس دلیل کے ساتھ بڑھاوا دیا کہ کیا یہ امریکی فوجی جو افغانستان اور عراق میں لڑ رہے ہیں ان کے کمانڈر پیٹا گون میں بیٹھ کر جنگ کو کمان نہیں کر رہے ہیں؟ میرے دلیل کے بدلے ان کے روایتی جواب نے مجھے اور زیادہ حیرت زدہ کردیا، کہ کیا تم لوگ اپنے آپ کو امریکی سمجھتے ہو؟ میں نے جواب دیا ہرگز نہیں۔ مگر طریقہ کار تو وہی ہے۔ رفتہ رفتہ میں دیکھ رہا ہوں کہ یہی سوال ہر طرف سے اٹھایا جا رہا ہے۔ (جو سنگت حیر بیار مری کے کردار کے حوالے سے ہے) اب اگر ابتداء اور تسلسل کو لیکر آج کے شور پر غور کریں۔ تو اس لیپا پوتی کا ذمہ دار کون ہوگا۔ جس سنگت حیر بیار کو میں جانتا ہوں، وہ میری تعریف کا ہرگز محتاج نہیں۔ مجھے افسوس اس عمل پہ ہو رہا ہے کہ تاریخ کے ساتھ ہی ساتھ ایک ایسے کردار کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ جس نے شروع دن سے اس قومی جہد میں بحیثیت رضا کار اپنا کردار ادا کیا ہے۔ 1994ء میری پہچان کی حد سے بھی پہلے ہلمند سے فعال و جاندار کردار ہمیشہ متحرک رہا۔ جس نے مجھ سمیت میر غفارشہید ، سگار بلوچ شہید امیر بخش لانگو اور بہت سے نوجوانوں کو قومی تحریک میں ایک بہتر کردار ادا کرنے کیلئے ایک سیاسی متوازن سلیقہ اپنانے کیلئے ایک زاویہ نظر دیا۔ میں نے دوران وزارت بھی ان کو چند دوستوں سمیت سریاب کے قبرستانوں ، چلتن کے دامن اور میاں غنڈی کے میدانوں میں راتوں کو کھڈے کھودتے ہوئے پایا۔ قومی اثاثوں کو دشمن سے چھپاتے ہوئے ہر وقت فکر مند پایا۔ (انہی اثاثوں (مڈی) سے آج کے مشکل حالات میں بلوچ نوجوانوں کو حیر بیار مری کا گروپ قرار دے کر محروم کرنا زیر بحث نہیں) شروع سے آج تک قومی تحریک میں مجتمع قوت کو اداروں کی طرف منتقل کرنے کیلئے شخصیت پرستی اور گروہ بندی کی مکمل حو صلہ شکنی کیلئے عملی طور متحرک پایا۔ اس کے اپنے کردار کے حوالے سے ایک جاندار کردار ادا کرنے کے باوجود اس کردار کو مخفی رکھنا اسی سوچ کی عکاس ہے۔ جن مواقعوں سے میں گزرا، ان میں بی این ایم اور بی آر پی جیسے ایک پارٹی کی تشکیل کیلئے بہت سے ساز گار حالات میسر آئے، بہت سے نظریاتی ساتھیوں کی موجودگی کے باوجود اس گروہی سیاسی عمل سے اجتناب برتا گیا۔ اور سیاسی دوستوں کو (بی این ایم و بی آر پی) ہر قسم کے حالات میں موقع فراہم کیا گیا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کو اجتماعی سوچ کے حوالے سے بہتر ، مضبوط اور پختہ کرتے جائیں۔ مگر بد قسمتی سے پچھلے تمام عرصے میں جو کچھ یہاں ہوتا آ رہا ہے۔ وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، میں کسی اور سے نہیں جتنے ذمہ دار حلقے ہیں، ان سے درخواست کرتا ہوں، وہ بلوچ لیڈر شپ اور ان تمام کے گروپس کا ایماندارانہ احاطہ کریں۔ ان کا آپس میں تقابلی جائزہ ان کے کردار کے حوالے سے قابلیت ، خلوص ، صلاحیت، فیصلہ کرنے کی بروقت قوت کے حوالے سے ،اور اس کے علاوہ ایک اور تقابلی جائزہ علمی حوالے سے انقلابی لیڈر شپ کے صفات سے اور سوئم بین الاقوامی تاریخی لیڈر شپ کے حوالے سے ( اختر ندیم کا لفاظی اور خود فریبی کو لیکر نواب مری کیلئے بلوچوں کا عمر مختیار لکھنا زیر بحث نہیں) میری ناقص رائے یہ ہے کہ ان حالات کو بہتری کی طرف لانے کیلئے سب سے ضروری عمل یہ ہوگا، کہ ہم ایک رضا کار سے لیکر نواب خیر بخش مری تک کے عمل کا ایک مرتبہ ایمانداری سے احاطہ کریں۔ اور رضا کار سے لیکر لیڈر شپ کے عمل و علم و صلاحیت و قابلیت خلوص و کردار و کار کردگی کو قومی تحریک کو نقطہ مرکز بنا کر اس سے جانچ پرکھ کے بعد سیاسی عمل میں توازن پیدا کریں۔ کیوں کہ گروہی سیاست کے حوالے سے ذاتی و خاندانی و گروہی مفادات نے اور علاقائی و قبائلی سوچ کے تحت کشمکش اور ساتھ ہی ساتھ نیم پختہ سیاسی طرز عمل نے آج کے حالات پر ایک بہت ہی گہرا منفی اثر چھوڑا ہے۔ ان خاندانی ذاتی
علاقائی و قبائلی تعلقات نے جس مجرمانہ طرز عمل کو تقویت دی ہے۔ (بی ایل ایف، بی این ایم کا قومی سیاست کو لیکر نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے یکساں متضاد و منفی اعمال پر دونوں کیلئے مختلف رویہ رکھنا ، نیشنل پارٹی گناہ گار و غدار اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل پہ مصلحت پسندی کا شکار ہونا زیر غور ہو) اس طرح کے متضاد رویوں نے سیاسی عمل کو مکمل بگاڑ دیا ہے۔ جلد از جلد حقائق کا سامنا ہو تو بہتر ہے۔ الزامات ایک دوسرے کے سر تھونپنے سے مسائل مزید پیچیدہ ہونگے، نا کہ حل کی طرف کوئی بہتر نتیجہ دینگے۔ ہمیں کوئی جو نام بھی دے، ہم اپنا کردار اس نقطہ نظر کے ساتھ ادا کرتے رہیں گے کہ تمام قوتیں توازن کے ساتھ تحریک کو آگے بڑھائیں۔ تاکہ وہ روایتی ، سماجی ٹوٹ پھوٹ جو انقلابی عمل کے دوران آج ہمیں درپیش ہے اس کے اگلے ترتیب کیلئے یعنی تشکیل کیلئے سیاسی عمل کے نتائج میں حقیقی توازن کو لیکر شخصیات کے کردار کے حوالے سے پارٹیوں اور تنظیموں کے کردار کے حوالے سے حقیقی توازن کیلئے (اختر ندیم کا بی ایس او کیلئے ثناء خوانی زیر بحث نہیں) لازمی دور اندیشی ، معاملہ فہمی اور ذہانت کو لیکر اجتماعی پالیسیوں بابت ہر چھوٹے بڑے عمل کے نتائج کو لیکر ان کو اگلی سطح کیلئے بروئے کار لایا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ ان نتائج کے بل بوتے پر شخصی بت تراشی گروہی مصنوعی بڑھوتری کیلئے غیر اخلاقی حربے سیاسی گروہی فوائد کیلئے گروہی کشمکش میں اجتماعی اصولوں کو تہہ و بالا کرنے جیسے مجرمانہ حرکتیں کی جائیں۔ ان حالات میں جہاں طرز عمل ایسے غیر اخلاقی رویوں پر استوار ہوں، اتحاد گمراہ کن نعرہ ہوگا۔ دوستوں کیلئے نیک خوائشات کے ساتھ ہم ایک نظریاتی قوت کے حصول کیلئے جدو جہد کریں گے۔ جو قومی تحریک میں دشمن کے مقابلے کے ساتھ ہی ساتھ ایسے دوستوں کیلئے ایک بہتر اپوزیشن کی صورت میں موجود رہے، جو کم سے کم آزادی پسند سیاسی کارکنان کیلئے علمی حوالے سے پیچیدہ اور پوشیدہ مسائل کی بہتر تشریح کیلئے تحقیق کر سکیں۔ امید ہے ہمارے ہر عمل اور پالیسیوں پر ہمارے مہربان دوست کسی بھی نقطہ نظر سے تنقید کریں۔ ہم تشریح کیلئے تیار ہیں۔ امید کرتے ہیں کہ جھوٹ اور من گھڑت قصے کہانیوں کے ذریعئے کردار کشی کو لیکر چپ کرانے کے حربے استعمال نہیں ہونگے۔ اگر ایسا ہوگا۔ تو ہمارے صفائی کے دلیل کیلئے مزید بہت سے حقائق جن سے بہت سے راز بھی وابستہ ہیں، باحالت مجبوری آزادی پسند کار کنان کے معلومات کیلئے ان کے سامنے ہونگے۔ میں کوشش کرونگا کہ اپنے اگلے مضمون میں کچھ ایسے بے بنیاد اور من گھڑت الزامات جن کو بطور سوال اٹھایا گیا ہے، ایسے حادثات جن سے کچھ راز وابستہ تھے، جو شاید اب نہیں رہے، جن میں شہید سگار بلوچ کا روڈ ایکسیڈنٹ ، ٹکری حمل خان کا حادثاتی شہادت اور شہید علی شیر کرد کے کردار کے متعلق ایسے حقائق جن کی پوشیدگی کو ہماری کمزوری جان کر کچھ ایسے سوالات اٹھائے گئے، جن کو میں سیاسی حربوں کے طور پر لونگا۔ ان کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں۔ کسی دوست نے کہا کہ مجھ پر ایک اور الزام یہ ہے کہ میں نے تنظیم کی بھاری رقم چوری کرکے کچھ عرصے دالبندین میں روپوشی اختیار کرلی۔ اور پیسے ختم ہونے پر دوبارہ معافی مانگ کر تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی۔ میری ناقص رائے کے مطابق اس الزام کو ثابت ہو نے کیلئے الزام لگانے والے کو ثبوت کی ضرورت ہوگی۔ کب ،کیسے اور کہاں، میری صفائی کیلئے میرا تنظیمی ریکارڈ موجود ہے۔ اس تنظیم سے تعلق رکھنے والے بہت سے بلوچ نوجوان موجود ہیں۔ خیر یہ تو سیاست کے نیچ اور غلیظ داؤ پیچ ہیں ۔جن کو اسی ذہنی سطح سے بروئے کار لایا جاتا ہے۔ جہاں سے وہ تعلق رکھتے ہیں۔ کسی رضا کار کیلئے یہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ یاد رکھنے والی بات یہ کہ ہمارے حلقے نے جس مقام و سطح سے غیر متوازن ، متضاد اور منفی عوامل کو متحرک اور سرگرم عمل دیکھ کر ان کی نشاندہی کی ہے، چاہے وہ شخصیات کے عمل سے تعلق رکھتے ہوں یا مختلف گروپس کے کردار سے، ان کی روک تھام کیلئے اصولی موقف کو لیکر ہم نے جو کوششیں کیں انہی کوششوں کی وجہ سے ایسے شرمناک حالات سے گزرے ہیں، ہمارے لئے جس کا تصور بھی نا ممکن تھا۔ جسے کم و بیش سیاسی آزادی پسند کارکنان کی اکثریت نے محسوس کیا ہوگا۔ مستقبل میں بھی اپنے اصولی موقف سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ کیوں کہ یہ ہمارے جدوجہد کا علمی ، فکری ، نظریاتی تقاضا ہے کہ ہم اجتماعی تقاضوں کو لیکر کسی بھی سطح پر مصلحت پسندی کا شکار نہ ol