Thursday, 9 May 2013

بلوچ لبریشن آرمی کا بیان۔

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان میرک بلوچ نے کہا ہے۔ آج ہم بلوچ قوم کو بحثیت ایک ذمہ دار تنظیم کے شعور ی طور پہ یہ احساس دلانا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ وہ باریک بینی سے شعوری حوالے سے اس اذیت ناک غلامی کے طوالت کے اسباب کو جاننے کی کوشش کریں‘بلوچ بحثیت قوم ان کا تاریخی جغرافیہ ‘زبان ثقافت ‘رسم رواج کو درپیش خطرات کے سطح کے حوالے سے آج کی صورتحال کی سنگینی کا اندازہ بالکل واضع طور قومی بقاءکا مسئلہ بن چکا ہے اور اس میں سب سے بڑی اور بنیادی وجہ بلوچوں سے کئی گناہ زیادہ طاقتور قابض ریاست پاکستان ہے جو اپنے غیر اخلاقی اور غیر قانونی قبضے کو ہر حالت میں قانونی اور اخلاقی بنیادیں فراہم کرنے کے لیے بطور جواز کھبی مذہب تو کھبی جمہوریت ‘بھائی چارے اور ترقی تک کے کھوکھلے اور بے بنیاد نعروں کا سہارا لیتا آرہا ہے۔ اور درپردہ انسانیت سوز ظلم و بربریت کے ذریعے بلوچوں پہ اپنے غیر اخلاقی اور انسانیت کے منافی فیصلے مسلط کرتارہا ہے۔ اور دوسری طرف شروع دن سے سچے فرزندان وطن اپنے لوگوں اور ان کے قومی مفادات کے نگہبانی کا فریضہ اپنے بساط اور سوچ کے مطابق کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرتے ہوئے انجام دیتے آرہے ہیں۔اس طویل اور کھٹن جدوجہد میں بدقسمتی سے کامیابی اور ناکامی کے اسباب میں سے ایک بنیادی سبب کا تعلق ہمیشہ سے ہمارے جدوجہد کے شعوری پہلو کے کمزور ی سے رہا ہے۔شعوری حوالے سے دوست اور دشمن میں پہچان بُر ے اور بھلے میں پہچان دشمن کو کسی بھی سطح پہ دشمن تسلیم نہ کرنے والا کیسے دوست ہو سکتا ہے؟قابض و قاتل دشمن کو آقا تسلیم کرنے والے ان کے ووٹ الیکشن و جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے اور انکا حصہ بننے والے کیسے بلوچ دوست ہوسکتے ہیں؟مسلح جدوجہد کے طریقہ کار سے انکار اور اس پہ سوال اٹھاتے ہوئے مسلح جدوجہد سے انکار کے لیے سیاسی جواز کے اہمیت سے شاہد انکار ممکن نہیں لیکن پوری تاریخ کو مسخ کرکے بلوچوں کے مقبوضہ حیثیت سے انکار ان کے تاریخی قومی جغرافیہ سے انکار ثقافت رسم و رواج زبان کے بدولت ان کے الگ قومی شناخت سے انکار کو کسی بھی سطح پہ کیسے علمی سیاسی یا اخلاقی جواز تسلیم کرکے ان کے لیے کسی بھی طرح میدان کھلی چھوڑ دی جائے ۔ دشمن کے صف میں کھڑے یا کسی بھی سطح پہ دشمن کے لیے معاون و مددگار ہونے والے دشمن ہی تسلیم ہوتے ہیں۔تو نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی یا عوامی صرف اور صرف دعوﺅں سے بلوچ دوست نہیں ہوسکتے بلوچوں کی گلزمین کی مقبوضہ حیثیت کو تسلیم کرکے ہی وہ قوم دوستی کے لیے کسی بھی طریقہ کار پر بحثیت قوم دوست بحث مباحثے کے لیے حقدار ٹھہر سکتے ہیںکیونکہ آج کی تحریک قابض دشمن کے مکمل پہچان کے علاوہ وہ تمام اسباب جو ہمارے اندرونی کردار کے حوالے سے محدود سوچ ،خودغرضی ،آزاد خیالی ،جھوٹ ،منافقت ،ذاتی رشتہ داری و دوستی ،گروہیت ،اناپرستی ،شخصیت پرستی ،بناوٹی ہیرو ازم جو تحریک کے راہ میں روکاوٹ بن رہے ہیں انکی نشاندہی اور حوصلہ شکنی کے لیے کسی کو بھی خاطر میں نہ لاتے ہوئے جراتمندانہ کردار کا تقاضا کررہا ہے آج کا ہمار ا پیغام بلوچ عوام کے لیے واضع اور بیباک ہے کہ اذیت ناک غلامی سے چٹکارہ صرف اور صرف شعوری جدوجہد سے وابستہ ہے اور شعوری جدوجہد کا اولین تقاضہ بے غرض کردار ہے 11 مئی ایک بہتر موقع ہے پوری دنیا کو باور کرانے کے لیے کہ بلوچوں کی تاریخی قومی جغرافیائی حدود کی تسلیم قومی واک و اختیار و اقتدار اعلی کے حصول زبان ،ثقافت رسم ورواج کی حفاظت پہ قابض ریاست کے ووٹ الیکشن و نام نہاد جمہوریت ایک کاری ضرب ہیں اور اس گلزمین کے فرزند کھبی بھی اس کا حصہ نہیں بنیں گے۔بلوچ قوم11مئی کو اپنے گھروں میں رہ کر اپنے قومی حیثیت کا احساس پوری دنیا کو دلائیں۔

0 comments:

Post a Comment