Sunday, 30 June 2013

ڈاکٹر اللہ نذر کا انٹر ویو اور بلوچ جدو جہد........ مہراب مہر



 ڈیلی توار :
 

”جنگ مقصد کے حصول کا ذریعۂ ہے۔ اور اسے بجائے خود مقصد قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ جنگ انقلابیوں کا ہتھیار ہے۔ اہم ترین چیز انقلاب ہے۔ انقلابی مقصد، انقلابی تصورات، انقلابی اہداف، انقلابی جذبات اور انقلابی سچائیاں ہی اہم ہیں۔“ فیڈل کاسترو کے ان جملوں پر غور کیا جائے، اور ان کے پیچھے اس عمل اور شعوری پختگی کو دیکھا جائے، تو یہ کھل کر واضح ہوجائے گا کہ جنگ ایک ذریعہ ہے مقصد کو حاصل کرنے کیلئے۔ اور آج بلوچ بھی جنگ کے ذریعئے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔ اس کوشش میں کچھ بلوچ مزاحمتی تنظیمیں منظر عام پر اپنی جدو جہد کر رہے ہیں۔ اور ہر تنظیم اپنی سوچ و فکر کے ساتھ آزادی کیلئے ریاستی فورسز کے ساتھ بر سر پیکار ہے۔ لیکن اس سچائی کے ساتھ ساتھ یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ ان مزاحمتی تنظیموں کے بیچ تضادات سر اُٹھا چکے ہیں۔ اور یہ تضادات اسی دن سے موجود تھے، جب ان تنظیموں کی بنیادیں رکھی گئی تھیں۔ لیکن وقت و حالات کے گزرنے کے ساتھ ان میں انقلابی تصورات، انقلابی اہداف، انقلابی مقصد اور انقلابی سچائیاں اس طرح پروان نہ چڑھ سکیں، بلکہ انتہائی سست رفتار رہی۔جو تضادات یا مسائل جو امتنائی حوالے سے تھی یا کہ نظریاتی حوالے سے۔ لیکن انہیں حل کرنے کی بجائے زیادہ تر کام پر زور دیا گیا۔ اور مسائل و تضادات کو چھیڑا نہ گیا۔ بلکہ انہیں حالات و ہر ایک کی سمجھ بوجھ پر چھوڑ دیا گیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ حل ہونگے۔ اور مختلف مزاج و مختلف خیال کے لوگ ایک طرح سے ایک نظریے کے تحت اپنی جدو جہد جاری رکھے ہوئے تھے۔ جب ہر ایک کے ساتھ ایک مضبوط طاقت آگئی۔ اور ہر ایک کے کھاتے میں قربانیوں کا ایک چھوٹا سا حصہ نظر آنے لگا۔ تو وہ تضادات سر اُٹھانے لگے۔ اگر انہیں ان حالات میں حل نہ کیا گیا۔ تو وہی حالت ہوگی جو افغانستان میں مجاہدین کا ہوا۔ مذہب کے نام پر روس سے لڑے۔ اور یہ لڑائی مختلف شکل تبدیل کرتی ہوئی پھر سیکو لر جمہوری معاشرے کی تبدیلی کیلئے میدان میں نظر آئی۔ کیوں کہ اس وقت مذہب کے نام پر مختلف خیال کے لوگ ایک نظریے کے تحت جمع ہوگئے۔ اور ان کا وژن و تصور صرف روس کا انخلاء تھا۔ جبکہ ان میں انقلابی خیالات، انقلابی اہداف مفقود ہو کر رہے گئی۔ اور بلکل اسی طرح آج بلوچ تحریک کی یہی حالت ہے۔ آج تضادات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں سارے جہد کار سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔
لیکن دوسری طرف انقلابی سچائی کیا ہے۔ اور بلوچ رہنماء ڈاکٹر اللہ نذر نے تضادات کے حوالے سے وش ٹی وی کو انٹر ویو دیتے ہوئے تضادات کو اختلاف کہہ کر کم از کم مجھے تو حیران کردیا۔ اور ساتھ ہی ڈاکٹر اللہ نذر نے یہ کہہ کر میرے ذہن میں مزید پیچیدگی پیدا کردی کہ ہم یونا ئیٹڈ کمانڈ کی طرف جا رہے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ ڈاکٹر صاحب نے انتظامی و نظریاتی تضادات کو اختلاف کہہ کر ایک کنفیوز ماحول پیدا کر دیا ہے۔ اور ڈاکٹر صاحب حقیقت کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان تضادات کو چھپانے کے پیچھے وہ کون سے عوامل کار فرما ہیں۔ اس کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر صاحب سے یہ سوال ہے کہ کیا یو بی اے کا وجود اختلاف رائے ہے یا نظریاتی تضاد؟ اختلاف رائے کسی بھی مسئلے پر ہو سکتا ہے۔ لیکن تضاد مکمل طور ایک عمل سے دوسرے عمل کی ضد ہے۔ جب اختلافات و اختلاف رائے نظریاتی بنیادوں پر حل نہ ہو سکیں گے۔ تو وہ نظریاتی تضاد کی شکل میں نمودار ہونگے۔ کیوں کہ اختلاف رائے رکھنا ایک مثبت عمل ہے۔ اور جب اختلاف رائے اختلافات بن جائیں گے۔ تو پھر مخالفت در مخالفت کا نہ تمنے والا سلسلہ بن کر مضبوط تضاد کی شکل اختیار کرینگے۔ کیوں کہ اختلاف رائے رکھنے کے عمل سے لیکر اختلافات بن جانے تک مسلسل عمل جب مخالفت کے سلسلے تک پہنچائیں گے۔ تو پھر وہ تضادات کی شکل اختیار کرینگے۔ چائیے پھر انہیں کوئی بھی نام دیا جائے وہ اسی ڈگر پر رواں ہونگے۔ اب اگر ڈاکٹر صاحب کی اس بات کو لے لیں کہ ہمارے بیچ تضادات موجود نہیں۔ تو پھر ان سے یہ سوال کرنے میں میں حق بجانب ہوں گا کہ ایک مزاحمتی تنظیم کا عمل تحریک کیلئے فائدہ مند، جبکہ دوسرے کیلئے نقصاندہ اور تحریک کیلئے نقصاندہ ثابت ہوگا۔ تو ڈاکٹر صاحب کیا یہ نقطہ نظر کا فرق ہے؟ اگر ہے تو کس طرح؟ جہاں تک بات نقطہ نظر کی ہے نقطہ نظر کوئی بھی فردیا ادارہ ایک نظریاتی سوچ کے تحت ڈویلپ کرتی ہے۔ آج بی ایل اے، بی ایل ایف اور بی آر اے سے تعلق رکھنے کا کوئی بھی سیاسی کارکن ایک مخصوص نظریاتی سوچ کے تحت ان عوامل کو دیکھتا ہے۔ تو یہاں پر بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایک مخصوص نقطہ نظر اس نظریاتی سوچ کی نشاندہی کرتی ہے۔ چاہے عسکری یا سیاسی حوالے سے ہو۔ جب ادارے کسی بھی عمل کو ایک مخصوص نظریاتی سوچ کے ساتھ دیکھتے ہیں، پرکھتے ہیں جانچتے ہیں تو وہ اس سوچ کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر اللہ نذر کی ان نظریاتی تضادات پر پردہ ڈالنے کی وجہ سے بلوچ عوام اور سیاسی ورکروں میں کنفیوژن پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب وار سائیکی کی مثال دے کر تضادات رکھنے والے گروپ یا دوستوں کو وار سائیکو کہہ کر مخاطب کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ جنگیں تباہی لاتی ہیں، نسل در نسلیں تباہی کا شکار ہوتی ہیں، دوسری جنگ عظیم کے بعد جو نفسیاتی امراض یورپ میں پلے بڑھے ان کی بنیاد جنگ تھی۔ اور بلوچستان میں ہر عام و خاص ڈپریشن و فریسٹریشن کا شکار ہے۔ یہاں تک کہ ہر علاقے میں آپ کو ایسے لوگ دیکھنے کو ملیں گے۔ کیوں کہ جنگی اثرات معاشرے کے تمام پہلوؤں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اور آج بھی بہت سے ایسے جہد کار ہیں، جو گولیوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اثر کسی بھی تضاد کی نشاندہی کر تا ہے۔ تو اسے جنگی نفسیاتی مریض کہہ کر ان تضادات پر پردہ ڈالا جائے۔ ڈاکٹر صاحب وار سائیکو کے پیچھے ان تضادات پر پردہ ڈال کر حیران کن انداز میں کچھ سوالات چھوڑ گئے۔ ڈاکٹر صاحب تضادات موجود ہیں۔ اور آپ بخوبی ان سے واقف ہیں۔ کیوں کہ آپ رہنمائی کر رہے ہیں۔ اور ساتھ ساتھ تضادات پر پردہ ڈالنے کیلئے جو حربے استعمال ہو رہے ہیں۔ چاہیے وار سائیکی کی صورت میں ہوں۔ یا کہ کسی اور صورت میں یہ سیاسی حربے ہیں۔
شاید حیر بیار مری کے پیش کردہ چار ٹر کو فرد یا ادارے کے حوالے سے آپ بخوبی واقفیت رکھتے ہیں کہ وہ کسی فرد کا خیال تھا یا کسی ادارے کا۔ لیکن چارٹر کے بارے میں جو رائے ڈاکٹر صاحب آپ کی جانب سے پیش کی گئی۔ وہ انتہائی ریزرو اور ٹیکنیکل انداز میں پیش کردہ موقف تھا کہ وہ چارٹر کو کسی فرد یا ادارے کا منشور سمجھ رہے ہیں۔ حالانکہ ڈاکٹر صاحب اچھی طرح سے با خبر ہیں کہ کسی ادارے کا منشور جب بنایا جاتا ہے۔ تو وہ اس ادارے تک محدود رہتا ہے۔ اور وہ اس ادارے کے اندرونی مسائل و ان کے مقصد کی نشاندہی کیلئے ہوتا ہے۔ جبکہ چارٹر بلوچ عوام کیلئے ہے۔ اور اس میں پوری بلوچ قوم و تمام آزادی پسند و سیاسی تنظیموں کی رائے شامل ہے۔ اور اس چارٹر میں بلوچ قوم سے بھی رائے لی جائے گی۔ اب حیرانگی کی بات ہے کہ ڈاکٹر صاحب جیسے سیاسی سوج بوجھ رکھنے والے رہنماء کیوں کر بے خبری کا سا تاثر دے رہے ہیں؟ کیا اس کے پیچھے مقاصد موجود نہیں؟ بہرحال آزادی کی جدو جہد میں شامل تمام تنظیمیں آزادی کی موقف پر ایک نظریہ رکھتے ہیں۔ لیکن ہر ایک کی علیحدہ شناخت و خیال اس بات کی ضمانت ہے کہ ہر ایک
علیحدہ نظریاتی سوچ کے تحت آزادی کیلئے جدو جہد کر رہا ہے۔ اور اس دوران قومی یکجہتی سے زیادہ گروئیت کی مضبوطی اس نظریاتی تضاد کی نشاندہی کر رہی ہے۔ اور تضادات نہ ہونے پر جو بات کی جاتی ہے۔ تو اس پر اگر کوئی کہتا ہے کہ تضادات نہیں ہیں۔ تو یہ حقائق کو چھپانے کی نشاندہی کرتا ہے۔ لہذا تضادات پر پردہ ڈال کر بلوچ عوام کو دھوکہ دینا کیا معنی رکھتا ہے؟ اور کیا ہم اس سوچ کے ساتھ اپنی منزل کو پاسکیں گے؟ کہ گروپوں کی مضبوطی کیلئے سرگرداں نظر آتے ہیں۔ قومی یکجہتی کے حوالے سے ہماری دوری کیا معنی رکھتی ہے؟ اگر تضادات حل نہ ہوسکے، تو دوریاں کسی اور طوفان کا پیش خیمہ ہونگے۔ اور وہ بنیادی نقاط

جس کی بنیاد پر یہ تضادات اُٹھی ہیں۔ انہیں حل کرنے کیلئے حقائق کی روشنی میں ان تضادات کی نشاندہی ضروری ہے۔ اور وہ کمزوریاں جو کہ مزاحمتی تنظیموں و لیڈر شپ میں موجود ہیں۔ انہیں ظاہر کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ حقائق تمام بلوچ عوام تک پہنچ سکیں۔ اور عوامی رائے پر پھر تحریک و تنظیمیں مضبوط ہو سکیں۔
آزادی مقصد ہے لیکن جنگ ایک ذریعۂ ہے۔ آج آزادی کے یک نقاطی ایجنڈے پر ساری مزاحمتی تنظیمیں متفق ہیں، پھر یہ پرشت و پروش کیا ہے؟ کیا یہ نقطہ نظر کی وجہ سے سامنے آئے ہیں؟ یا پھر وہی تضادات ہیں، جو ہمارے بیچ موجود ہیں۔ آزادی کیلئے جدو جہد کرنے والی تنظیمیں ہر ایک اپنی مخصوص نظریاتی سوچ کے تحت اسے آگے لے جا رہے ہیں۔ لیکن نظریاتی بنیاد پر سماجی ارتقاء کے عمل کو بی ایل اے، بی ایل ایف و بی آر اے کس نظر سے دیکھتی ہیں۔ کچھ تنظیمیں پہلے منزل کو پانے کی بات کرتے ہیں کہ پہلے آزادی حاصل کرنی چائیے۔ اس کے بعد انقلاب کیلئے جدو جہد کرنی چائیے۔ اور سماجی انقلاب کیلئے راستے ہموار ہونگے۔ جو کہ ایک خواب ہی ہوگا کیوں کہ دنیا میں آزادی کی جو تحریکیں چلی ہیں۔ جہاں انہوں نے پہلے آزادی کو منزل سمجھ کر جدو جہد کی۔ تو وہاں پر خانہ جنگی ہوئی۔آج اگر ہم اپنے تمام سماجی اداروں کو تبدیل کرنے کی بجائے صرف آزادی کو منزل سمجھ کر جدو جہد کریں گے۔ تو اس جدو جہد کے دوران جو سوچ عوام میں پروان چڑھے گی۔ تو آزادی کے بعد جو خانہ جنگی کا منظر نامہ سامنے آئے گا۔ وہ انتہائی خطرناک شکل میں ہوگا۔ اور بلوچستان جہاں ایک مزاحمتی تنظیم کی نہیں، بلکہ مختلف مزاحمتی تنظیموں کے علاقے ہیں۔ اور ہر ایک اپنے علاقے تک محدود اپنی جدو جہد کر رہا ہے۔ تو آزادی کے بعد ان تنظیموں کی طاقت کی جنگ اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے اور ہر ایک کا مخصوص نظریہ انہیں ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرے گا۔ ایک مخصوص علاقے کی بات ڈاکٹر صاحب نے خود بھی اپنے اس انٹر ویوں میں واضح کردی ہے کہ انہوں نے پورے بلوچستان کی بجائے مشکے، مکران تک اپنے اثر و رسوخ کی بات کی۔ اگر یہی علاقائیت و طاقت کی سوچ اسی طرح برقرار رہی۔ تو پھر ہمسائیہ ملک افغانستان کی خانہ جنگی کا منظر نامہ بلوچستان میں بھی ہوگا۔ اور دوسری طرف ڈاکٹر اللہ نذر نے اپنے انٹرویو میں بلوچستان لبریشن چارٹر کو تنظیمی آئین سمجھ کر ایک فردکی کوشش کہہ کر اس کی حمایت کی۔لیکن ساتھ ساتھ ڈاکٹر صاحب نے یہ بھی وضاحت کردی کہ دیگر تنظیموں کے بھی چارٹر ہیں۔ جب بلوچستان لبریشن چارٹر بنا۔ اور اس کے 82 شق جو کہ ایک تنظیم کے نہیں، بلکہ ایک قوم کیلئے ہیں۔ اور اس کے کچھ شق تمام آزادی پسند تنظیموں کے منشور میں بھی ہیں۔ لیکن چارٹر کو قوم کے سامنے پیش کرنے کا مقصد ایک جمہوری سیاسی نظام کی طرف پہلا قدم ہے۔ اور تمام لیڈروں سے اس کے حوالے سے مشورے و تجاویز مانگے گئے۔ اس پر خاموشی کا مقصد کچھ اور ہی ثابت کرے گا۔ نہ کھل کر مخالفت کی گئی، اور نہ ہی کھل کر حمایت کی گئی۔ کیوں؟ یہ سوال اب تک جواب طلب ہے۔ وطن کی آزادی کے بعد ایک نظام کا تصور جو کہ آزادی سے پہلے بلوچ قوم کے دلوں میں زندہ رکھنا ہے۔ تاکہ آزادی سے پہلے اس نظام کیلئے رائے عامہ ہموار کی جائے۔ اور تمام سماجی اداروں میں تبدیلی لائی جائے۔اور ایک مکمل انقلاب کے ساتھ ہم آزاد ہوسکیں۔ لیکن اس پر ڈاکٹر صاحب کی سوچ نے اس تضاد کو واضح کردیا کہ پہلے آزادی پھر انقلاب۔ جبکہ چارٹر سماجی تبدیلی و انقلاب کے ساتھ آزادی کے تصور کو زندہ کر رہی ہے۔ تاکہ آزادی حاصل کرنے کے عمل کے دوران انصاف، برابری، سماجی و شہری حقوق تک تمام قوانین کو جدو جہد کے دوران لاگو کرتے جائیں۔ اس طرح نہ ہو، جس طرح الجزائر میں ہوا۔ الجزائر میں آزادی حاصل کرکے وہ فوج جس نے آزادی کی جنگ لڑی تھی۔ اسے حکومت کا ماتحت ہونا تھا۔ لیکن فوج نے عام شہریوں کی زرعی زمینوں پر قبضہ کرنا شروع کردیا۔ کیوں کہ فوج یہ خوائش رکھتی تھی کہ ہم نے وطن کیلئے قربانی دی ہے۔ لہذا ہمیں اس کا صلہ ملنا چائیے۔ الجزائر کے حالات کو دیکھ کر آج ہماری تحریک میں یہی عوامل دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ نجانے آزادی حاصل کرنے کے بعد پھر حالات کیا ہونگے۔ آج مزاحمتی تنظیمیں اپنی قربانیوں کا ڈھنڈورا پیٹتے نظر آتے ہیں۔ اور ذمہ دار لوگ ہر جگہ اپنی قربانیوں کے بدلے صلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اور بعض جگہوں پر حاصل بھی کر رہے ہیں۔ چارٹر کا مقصد بھی دنیا کے دیگر تحریکوں سے سبق سیکھتے ہوئے بعد میں آنے والے وقت میں ان تضادات سے بچنا ہے۔ لیکن اس پر پھر نہ چاہنے والا رضا مندی، اور نہ کھل کر حمایت کرنا، نہ کھل کر مخالفت کرنے کی خاموشی ان تضادات کے شاخسانے ہیں۔ اور جہاں تک بات ایک دوسرے سے رابطے کی ہے۔ یہ رابطے بھی تنظیمی ہونے کی بجائے ذاتی نوعیت کے نظر آتے ہیں۔ ایک جہد کے دوران رابطے ضروری امر ٹھہرتے ہیں۔ لیکن ان کی بنیاد اگر مسائل و تضادات کو حل کرنے کے حوالے سے ہوں تو یہ انتہائی مثبت عمل ہوگا۔ لیکن یہ رابطے زیادہ تر روایتی انداز میں ہو رہے ہیں۔
بی این ایم کے حوالے سے ڈاکٹر اللہ نذر نے کھل کر وضاحت کردی ہے کہ بی این ایم ماس پارٹی ہے۔ بی این ایم ایک پارٹی ضرور ہے۔ لیکن ماس پارٹی کا تصور غلط ہے۔ کیوں کہ ماس پارٹی سیاسی حوالے سے کسی قوم یا وطن کے تمام ادواروں تک، عوام کے اندر اپنی جدو جہد کرتی ہے۔ اور وہ ہر حوالے سے مکمل طور پر ایک مضبوط ادارہ ہوتی ہے۔ لیکن بی این ایم اس حوالے سے ایک ماس پارٹی نہ بن سکی ہے۔ اس طرح بی این ایف کے اتحاد کی بات سامنے آتی ہے۔ تو یہ اتحاد جو کہ بلوچ وطن موومنٹ، بلوچ بار کونسل، بلوچ یونٹی کونسل اور بی آر پی کی علیحدگی کے بعد یہ کس قسم کا اتحاد ہے؟ ایک سٹوڈنٹ تنظیم اور ایک پارٹی آپس میں آزادی یا کسی بھی ایشو پر اتحاد کر سکتے ہیں۔ اور اگر دیگر آزادی پسندوں سے وہ اتحاد نہیں کرتے تو یہاں پر ضرور سوال پیدا ہوتا ہے کہ بی این ایف ایک چھوڑی ہوئی اتحاد تھی۔ اور اب ایک سٹوڈنٹ ونگ و ایک پارٹی آپس میں پرانے اتحاد کے نام پر سرفیس میں جہد کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر اللہ نذر کی حمایت نے یہ واضح کردی ہے کہ یہ اتحاد (بی ایس او آزاد اور بی این ایم) قومی آزادی کی جہد کے ساتھ ساتھ ایک مزاحمتی تنظیم سے زیادہ قربت رکھتے ہیں۔ اور ان کی اس سوچ کی بنیاد بھی یہی ہے۔ کہ ڈاکٹر اللہ نذر نے جس سوچ کے تحت تاریخی ہڑتال کو بی ایس او و بی این ایم تک محدود کر دیا یہاں پر کچھ سوالات ضرور جنم لیں گے۔ کیوں کہ یہ تاریخی ہڑتال تھی یا نہیں۔ اس پر بحث کی گنجائش ہے۔ لیکن اس ہڑتال کا سیاسی سہرا بی ایس او و بی این ایم کے سر سجایا گیا۔ نا انصافی کے ساتھ ساتھ اس سوچ کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔ جہاں سے گروہیت شروع ہوتی ہے۔ کیوں کہ ہڑتال کی کال بی این ایم و بی ایس او نے دی۔ لیکن اس کی کامیابی مزاحمتی تنظیموں کی چودہ سالہ کا روائیوں، شہدا کی قربانیوں اور ریاستی جبر و تشدد کی وجہ سے ہے۔ کیوں کہ شہداء کی سوچ کی پختگی اس جدو جہد کا ثمر ہے، نہ کہ ایک مخصوص اتحاد کے۔ بی آر پی، بلوچ نیشنل وائس، بلوچ بار کونسل سمیت دیگر خاموش سیاسی ادارے جو ابھی تک منظر عام پر نہیں آئے اس ہڑتال کی کامیابی کا سہرا ان تمام جہد کاروں کے سر جاتا ہے۔ نہ کہ ایک تنظیم کے۔ اور آج یہ نقطہ نظر جسے ڈاکٹر اللہ نذر پیش کر رہا ہے۔ یہ نقطہ نظر ہی ان تضادات کی بنیاد ہے۔ جسے ڈاکٹر صاحب نقطہ نظر و اختلافات کا نام دے رہا ہے۔ اس طرح چار ٹر کو حیر بیار مری تک محدود کرکے ایک فرد سے منسلک کرنا، اور بی این ایف کو ایک اتحاد سمجھنا، یہ سب تضادات کی بنیادیں ہیں۔ لیکن ان پر پردہ ڈال کر جو سوچ سامنے لائی جا رہی ہے۔ وہ صرف اور صرف کنفیوز سیاسی ورکر پیدا کر ے گی۔ نہ کہ مکمل انقلابی۔
اگر آج ہم اپنے سماج کے ارتقاء و سیاسی اداروں پر نظر دوڑائیں، تو اس سے ڈاکٹر اللہ نذر سمیت کوئی بھی انکار نہیں کر سکے گا، کہ جو ادارے خود شعوری طور پر نا پختہ ہیں۔ جدو جہد ضرور کر رہے ہیں۔ لیکن کم از کم میں انہیں قومی ادارہ نہیں کہہ سکتا۔ کیوں کہ یہ سارے ادارے بشمول مزاحمتی تنظیمں قومی جہد ضرور کر رہے ہیں۔ لیکن یہ قومی ادارے نہیں بن سکے ہیں۔ اور ابھی تک قومی لیڈر پیدا نہیں ہو سکا ہے۔ قومی ادارے دور کی بات آج ہر ایک، ایک مخصوص ٹولہ کی شکل میں آزادی کیلئے جدو جہد کر رہے ہیں۔ انہیں قومی تنظیمیں یا قومی اداروں کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ کیوں کہ ابھی تک تمام لیڈران سمیت ہر سیاسی ورکر کو ثابت ہونا ہے۔
تب کہیں جاکر ایک مضبوط و منظم ادارہ وجود میں آسکے گا۔ نہ کہ اتنے گروہ، سوچ و افراد کوایک مضبوط و قومی ادارہ سمجھنا خام خیالی ہی ہوگا۔ لہذا جو حقائق ہیں ان پر دھیان دینا اور حقیقی رو سے جدو جہد و تحریک کے پہلوؤں پر چار و بچار کی ضرورت ہے۔ سیاسی حربوں سے نہ ہم کسی کو دھوکہ دے سکیں گے۔ اور نہ ہی کامیاب ہو سکیں گے۔ بلکہ حقائق کو حقیقی بنیادیں فراہم کریں۔ اور غور و تحقیق کے دروازے کھول دیں۔ تب یہ ممکن ہو سکے گا کہ ہم تضادات کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ منزل کی طرف ایک آواز ہو کر چل سکیں گے۔

Friday, 21 June 2013

انتشار و حقائق اسلم بلوچ


آج کا ہمارا سیاسی منظر نامہ جس انتشار کی وجہ سے مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ اس انتشار کی بنیادی وجوہات بارے حقائق (حقائق قابل غور ہو) جاننا تمام آزادی پسند کارکنان کیلئے بے حد ضروری ہیں۔ اس بابت میں یہ ناقص رائے اس لئے رکھتا ہوں، کیوں کہ گزشتہ تمام عرصے میں آزادی پسند ذمہ دار حلقوں میں اس انتشار کی وجوہات کو جس غیر سیاسی اور روایتی انداز میں لیا گیا۔ وہ مزید اس انتشار کو لیکر دباؤ میں اضافے کا باعث بنیں۔ ہونا تو یہ چائیے تھا کہ ہمارے آزادی پسند ذمہ دار حلقے ان مسائل کو جو ہمارے سیاسی جہد سے تعلق رکھتے ہیں۔ سیاسی انداز میں حل کرتے، اور ان کے نتائج کی تشریح بھی سیاسی انداز میں کرتے۔ مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہونے کی صورت میں آج ہمیں اس صورتحال کا سامنا ہے۔ سیاسی معمولات میں درپیش مسائل کے وجوہات کو روایتی سوچ کے تحت جس نقطہ نگاہ سے دیکھا گیا۔ وہ شاید شروع میں تمام آزادی پسند ذمہ داران کو ذاتی نوعیت کے لگے۔ اور آج کم و بیش یہ تمام حضرات اس کی لپیٹ میں ہیں۔ میں بذات خود اس وقت تک ان کو مختلف سطحوں پہ تقسیم دیکھتا ہوں جو عزائم کے لحاظ سے بالکل ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مثلاً کچھ مصلحت پسندی کے تحت خاموش ہیں۔ اور کچھ حقائق کو چھپانے اور مسخ کرنے کیلئے گمراہ کن حربوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ اور کچھ سیاسی فوائد حاصل کرنے کیلئے بظاہر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ مگر درپردہ ان حالات کے وجوہات کو دو فریقین کے آپسی ذاتی جھگڑے سے جُوڑ کر خود کو تیسری بالغ نظر ، دور اندیش، سیاسی و غیر جانبدار قوت کے طور پر متعارف کرنے کے چکر میں لگے ہوئے ہیں۔ اور ان حالات میں فائدہ اُٹھانے کیلئے ان تمام کے سیاسی مخالفین بھی میدان عمل میں موجود ہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ کچھ انقلاب دشمن قوتیں بھی ان حضرات کی کمزوریوں سے فائدہ اُٹھانے میں پیچھے نہیں۔ ان کے علاوہ آزادی پسند دانشوروں کی اکثریت بھی تحقیق و معلومات کے بغیر روایتی گرمجوشی میں ذاتی خدشات کو لیکر نصیحت کرنے میں پیش پیش رہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ سیاسی کارکنان کے جذباتی لگاؤ نے بھی خدشات اور مفروضوں کا ایک طوفان اُٹھا رکھا ہے۔ جنہیں میں بیان کر چکا ہوں۔ ان تمام سے ہٹ کر میں جن حقائق کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں، وہ ہمارے ابتدائی جُہد کو لیکر ایک تسلسل رکھتے ہیں۔ اور یہ جو مسائل آج ہمیں نظر آرہے ہیں جن میں اپنے ابتدائی حیثیت کو لیکر سنگت حیر بیار مری کے بارے سفارتی مسئلہ پہ اختلاف ، 13 نومبر ، چارٹر، بی ایل اے کا مشروط جدو جہد کیلئے عندیہ اور اگر کچھ اور دور 2008ء
میں دیکھیں جنگ بندی کا اعلان ، سنگت حیر بیار مری کا آزادی پسند قیادت میں اختلافات کی نشاندہی کیلئے اخباری بیان ۔یہ سب کچھ اپنے انتہا کیلئے آج عوامی دہلیز پہ دستک دے رہے ہیں۔ ان تمام کے باوجود حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی وجہ سے یہ انتشار اور دباؤ مزید بڑھتا جا رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس انتشار کے پیچھے کار فرما وجوہات اپنے اندر جس تسلسل کو سمیٹ کر بیھٹا ہے۔ وہ ہمارے ذہنی سطح سے تعلق رکھتا ہے۔ جس کا سر چشمہ ہمارے آزادی پسند ذمہ دار حلقے ہیں۔ یہ آج کی بات نہیں اس کو پچھلے پانچ سالوں سے محسوس کیا جا رہا ہے۔ اور وقتاً فوقتاً اس کا اظہار بھی ہوتا رہا ہے۔ ہو سکتا ہے زیادہ کھل کر نہیں اشاروں میں۔ مگر اس میں روک تھام کی بجائے اضافہ ہوتا رہا ہے۔ اور انتہا کی طرف جاتے ہوئے اس انتشار کی نوعیت کو ہم محسوس کر رہے ہیں۔ میں اپنا قومی فرض سمجھتا ہوں اس اظہار کو جس کا بحیثیت فرد میں گواہ ہوں۔ میں شاید کمزور ذہنیت کا مالک ہوں۔ مزید صبر کو گناہ سمجھتا ہوں۔ اور مجھے حیرت و افسوس اس امر پہ ہے کہ ہمارے سیاسی کارکنان اور آزادی پسند حلقوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ یہ سیاسی مسائل ہیں ، سیاسی حل چاہتے ہیں۔ یہ مل بیٹھ کر بانٹنے کے فارمولے سے حل ہی نہیں ہونگے۔ میں حقیقی وجوہات کی نشاندہی اپنے محسوسات اور نقطہ نگاہ سے کرونگا۔ ہوسکتا ہے میرے اس طریقہ کار سے دوستوں کو اختلاف
ہو۔ مگر مجھے یقین ہے کہ میری باتوں سے کسی کو اختلاف نہیں ہوگا۔ کیوں کہ یہ وہ حقائق ہیں، جو ہمارے آج کے انتشار کی بنیادی وجوہات سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس نقطے کو میں بیان کر رہا ہوں، اسے آپ ضرور مد نظر رکھیں۔ ہم سائنسی تحریک کی بات تو بہت کرتے ہیں۔ آیا ہم اپنی تحریک کے سائنسی پہلو کو سمجھتے ہیں بھی یا نہیں۔ جہاں کہیں بھی ایسے حالات درپیش ہوتے ہیں، جن کا آج ہمیں سامنا ہے۔ یعنی ایک ہی مقصد کو لیکر مختلف قوتوں کا الگ الگ شناخت اور مقام الگ حکمت عملیوں کے تحت جدو جہد کرنا ، جدو جہد کے دوران سرانجام دینے والے ان کے عمل کے نتائج کم و بیش ان کے مقصد کو لیکر یکساں ہوتے ہیں۔ (ہمارے ہاں تو اب تک حکمت عملی بھی یکساں ہے۔ انڈر گراؤنڈ مسلح گوریلا طریقہ کار مارو اور چھپ جاؤ، کھلے عام سیاسی محاذ میں مظاہرے، تعزیتی ریفرنسز اور اخباری بیانات)اوریہ یکساں نتائج ان کے بیچ ایک ربط و کنٹرول کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اور ایسا بھی نہیں ہوتا کہ وہ باہمی ربط و کنٹرول کیلئے کسی تحریری متفقہ معاہدے سے گزر کر سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ بصورت دیگر اگر ان کے عمل کے نتائج متضاد ہوں۔ تو یہ نتائج بذات خود ان کے بیچ متضاد سوچ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اور بلوچ جہد میں یہ ربط و کنٹرول ہمیں اکثر مقامات سے غائب نظر آتا ہے۔ اس وقت تک جن وجوہات تک میرا ذہنی حواس پہنچ چکا ہے۔ ان پہ روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔ اس سے قبل یہاں جو کچھ ہو چکا ہے، اور اب ہو رہا ہے۔ وہ بہت ہی مختلف اور الگ ہے۔ اس سب کچھ سے جس کو پیش کیا جا رہا ہے جو منظر کشی آج ہو رہا ہے۔ وہ حقائق سے کسی صورت میل نہیں کھاتا۔آج اس دباؤ اور انتشار کیلئے صرف اور صرف لکھاری اور سوال اُٹھانے والوں کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ تفصیل سے پہلے میں یہاں ایک وضاحت ضروری سمجھتا ہوں، تاکہ پڑھنے والوں کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ کیا یہ باعث حیرت نہیں کہ آزادی پسند ذمہ دار حلقے جن میں سر فہرست نواب خیر بخش مری ، سنگت
حیر بیار مری ، استاد واحد قمبر، ڈاکٹر اللہ نذر ، میر براہمدغ بگٹی ، میر جاوید مینگل اور بقول اختر ندیم کے واجہ خلیل بلوچ ، بانک کریمہ بلوچ، عرفی بلوچ خان وغیرہ کے ہوتے ہوئے اتنا انتشار کیوں؟ یہ دباؤ کیوں؟ (جسے کچھ ہوش مند دوست بلیک میلنگ قرار دے رہے ہیں) اور کچھ خیر خواہ بڑی تشویش کے ساتھ چند نام نہاد لکھاریوں کی شرارت یا مخفی دوست نما دشمنوں کی کار ستانیاں قرار دے رہے ہیں۔ تو اتنے سارے (بقول انہی حضرات کے میں اعزازی لقب دینے کے معاملے میں ذرا کنجوس ہوں) قومی انقلابی لیڈروں، گوریلا ہیروز ، ویژنری قیادت کی موجودگی میں یہ دوچار شریر لکھاری اور چند مخفی دوست نما دشمنوں نے ایسا اُودھم مچایا ہے۔ جس سے اتنا انتشار اور دباؤ پیدا ہوچکا ہے کہ ایک بحرانی کیفیت کا تاثر اُبھر کر مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ (ایک وقت وہ تھا جب دشمن شہید اکبر خان بگٹی کے قتل کا الزام شہید بالاچ پہ، اور شہید بالاچ کے شہادت کو براہمدغ بگٹی کے سر تھونپ رہا تھا، ہمارے ہاں ایسے سوالات ذرہ برابر توجہ حاصل نہ کر سکے۔ اور آج معمولی سوالات کیلئے ہمارے اندر اتنا اشتعال کیوں ہے؟ کچھ تو ہوگا جس کی پردہ پوشی کی جا رہی ہے۔) اور بد قسمتی دیکھیں کہ ان شریر لکھاریوں اور مخفی دوست نما دشمنوں کی پہچان بھی ہو چکی ہے۔ تو یہاں سوچنے والی بات یہ ہے کہ اتنے سارے انقلابی لیڈرز، گوریلا ہیروز، ویژنری قیادت کو دو چار شریر لکھاری ایسے بحرانی کیفیت میں جھکڑ لیتے ہیں۔ جس سے وہ پچھلے تین سالوں سے نکل نہیں پاتے۔ تو اس قابض ریاست ، اس کی اتنی بڑی عسکری طاقت اور شاطرانہ و منافقانہ چالوں سے کیسے نکلیں گے۔ اور اس بد نصیب قوم کو کیسے نجات دلائیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ اس سوال کی اہمیت سے بھی انکار ہو ،جس کا مجھے خدشہ ہے۔ مگر حقائق سے کوئی کب تک انکار کرے گا۔ ویسے ہمارے ہاں حقائق سے فرار کیلئے بڑے بچگانہ اور غیر اخلاقی طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ جو درپیش مسائل کو حل کرنے میں اور بھی مشکلات اور پیچیدگیاں پیدا کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے اول ہمارے ہاں کسی بھی منفی اور متضاد عمل کی نشاندہی کو لیکر کوئی با ضابطہ طور داخل دفتر کرنے کیلئے کوئی طریقہ کار نہیں۔ مقصد ایک ، طریقہ کار ایک ، اب تک حکمت عملی ایک (اپنے طور سرگردانی کو حکمت عملی کا نام میں نہیں دونگا وہ زیر غور نہیں) عمل کے نتائج متضاد، جب عمل کے نتائج یکساں نہیں۔ تو غور ہو کہ بیچ میں کچھ تو ضرور ہے۔ تمام قوتوں نے ایک ہی مقصد کو لیکر اپنے( شناخت نہیں) ، وجود کو ایسے ترتیب دیا ہے کہ ان کی طرف دیکھنا بھی گناہ ہے۔ جیسے قومی تنظیم اور پارٹی نہ ہو ، کسی مولانا کی بیٹی ہو۔ اس موجودہ سیٹ اپ میں مجھے اکثریت کا پتہ نہیں ۔لیکن کچھ ایسے لوگوں کو میں ضرور جانتا ہوں، جو بحثیت قومی رضاکار آج سے نہیں 1994ء سے جو میری پہچان کی حد ہے، بلکہ اس سے بھی پہلے ہلمند (افغانستان) سے ایک تاریخ لیکر جدو جہد کر رہے ہیں۔ ان کی سنگت میں رہے کر یہ سمجھنا ہمارے لئے مشکل نہیں کہ ایک پارٹی اور اس کے ادارے کیا ہوتے ہیں۔ (بقول اختر ندیم مقدس ادارے) اور ان میں مداخلت کیا ہوتا ہے ، اس بارے بہت زیادہ نہیں کچھ نہ کچھ جانتے ہیں۔ میری ناقص رائے کے مطابق اداروں میں مداخلت اور پالیسیوں یا متضاد سرزد عمل پہ سوال اٹھانے میں فرق سیاسی کارکنان کو سمجھنا چائیے۔ بحیثیت رضاکار میرا ہم مقصد ہونے کے ناطے وہ میرا ہے۔ بی این ایم میری پارٹی ہے ، بی آر پی میری پارٹی ہے ، بی ایل ایف، بی ایس او یہ سب بلوچ ہونے کے ناطے میرا ہیں ، ایک سیاسی رضاکار ہونے کے ناطے مجھ سے جو بن پڑتا ہے ، میں کرتا ہوں ، چاہے وہ ان پارٹیوں کیلئے صرف اور صرف ایک جھنڈا خرید کر دینے کی اوقات ہو ں، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں مگر جب میں کسی متضاد سرزد عمل کی نشاندہی کرتا ہوں۔ تو میں غیر اور ان کے اداروں میں مداخلت کرنے والا یا پھر دشمن کہلاتا ہوں۔ یہ کیوں ؟ میری طرف سے یہاں یہ ذکر شاید مناسب ہو کہ بلوچستان نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی کو جو لوگ تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ وہ کس سیاسی جواز کے تحت اس تنقید کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اگر واقعی کوئی حق ہے۔ اور اس حق کو کوئی اور سیاسی رضاکار ان کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ تو وہ دشمن ، سازشی اور توڑنے والا کیسے بن جاتا ہے۔ یہ سوچ بذات خود قومی بلوچ سیاست میں پرتضاد عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ ایسے کہ اگر کوئی حضرت اپنے کسی بھی پر تضاد اور منفی عمل کی نشاندہی اور اس پہ تنقید کو اپنے جداگانہ گروہی حیثیت میں مداخلت قرار دے گا۔ چاہے وہ بی ایل اے ہو یا بی ایل ایف یا بی این ایم و بی ایس او ہو، تو پھر وہ محترم خود کس حق کو لیکر بی این پی یا نیشنل پارٹی کے کسی بھی متضاد عمل یا منفی سرگرمیوں بارے نشاندہی کرکے ان کے جداگانہ حیثیت میں مداخلت کرکے کیسے تنقید کریگا ۔ کیا یہ بادشاہت کو لیکر درباری طرز عمل نہیں ہوگا؟ ویسے ہونا تو یہ چائیے کہ قومی سیاست میں کسی بھی سطح پر کوئی بھی متضاد یا منفی عمل سرزد ہو اس کی نشاندہی حقائق کی بنیاد پر سیاسی انداز میں سیاسی حدود کے اندر ہونی چائیے بصورت دیگربیان کردہ جواز یا نشاندہی شدہ عوامل ہی حقائق پر مبنی نہ ہو۔ وہ بے بنیاد اور گمراہ کن ہو۔ تب بھی ان کیلئے یہی طریقہ و انداز اپنا کر ان کو حقائق کی بنیاد پر گمراہ کن اور بے بنیاد ثابت کیا جائے۔ یہ کیسے ثابت ہو کہ دشمنی کے حدود کیا ہیں؟ اداروں کی حیثیت اور ان میں بیرونی مداخلت کسی بھی سطح پر اس کے حدود کیا ہیں؟ صلاح مشورہ کیلئے حیثیت ، علم، قابلیت اور اختیار کے حدود کیا ہیں؟ کسی متضاد عمل کیلئے نشاندہی کی اصولی حدود کیا ہیں؟ دوستی اور دشمنی کیلئے عمل ، گفتار کے حدود کیا ہیں؟ عقل مندی کیا ہوتی ہے؟ اور بے وقوفی کیا ہے؟ آج ان تمام باتوں کی وضاحت بے حد ضروری ہیں۔ میرے پڑھنے والے برائے مہربانی قربانی، قید و بند کی صعوبتیں ، بے گھر ہونا، جلا وطنی، باپ، بیٹے، رشتہ داروں کا شہید ہونا ، گھروں کا مسمار کرنا ، جلانا ان تمام کو ایک طرف رکھیں۔ کیوں کہ یہ جذباتی بلیک میلنگ کے ذریعئے غلطیوں اور صلاحیتوں کے فقدان پہ ریلیف لینے کے زمرے میں آتے ہیں۔ اور آج کل بڑے بہتر انداز میں ان کا استعمال بھی ہو رہا ہے۔ کسی دوست نے اپنے بھائی کی شہادت کے حوالے سے پارٹی پہ احسان جتانے کی کوشش کی۔ تو میں نے یہ سوال رکھا کہ آپ کے تین دیگر بھائی سرکاری ملازم ہیں ۔اور کزن پولیس میں ملازم۔ تم ان کے کردار کی ذمہ داری بھی اٹھانے کیلئے تیار ہو، شہید کے ساتھ رہنے مشترکہ سوچ کے حوالے سے ہو
سکتا ہے۔ تمھارا کوئی کردار ہو، مگر اپنے مفاد کیلئے شہید کے کردار کو مسخ مت کرو۔ جو تمھارا کردار ہے اس کو بہتر کرو۔ اگر کوئی حضرت شہید بالاچ مری کی شہادت کا کریڈٹ سنگت حیر بیار مری یا نواب خیر بخش مری کو دے گا۔ تو کیا یہ سوال پیدا نہیں ہوگا کہ جنگریز مری کے کردار کا کون ذمہ دار ہے؟ اور جدو جہد کے تمام عرصے میں جلا وطنی سے لیکر شہادت تک سوائے
فکری وابستگی اور تنظیمی نظم کے محنت، تکلیف، سردی، گرمی تمام کے برداشت کرنے میں بالاچ شہید کے ساتھ کون رہا ؟ اور اگر اسلم بلوچ عرفان سرور کی شہادت کو لیکر اپنا سینہ چوڑا کرے گا۔ تو کیا باقی رشتہ داروں کے سرکاری ملازمت اور گھر بیٹھے زندگی گزارنے پر بھی ذمہ داری اٹھانے کو تیار ہوگا؟ یہ قابل غور ہے کہ کوئی تنظیم ، پارٹی یا شخصیات اگر بار بار ریاستی جبر یا پھر اس جبر سے وابستہ حساس اور روحانی پہلو (شہداء ) کا سہارا لیں۔ تو ان کے پروگرام کارکردگی ، کردار، محنت میں ضرور کوئی کمی ہوگا۔ کیوں کہ جو نظریہ یا پروگرام انسانی لہو کا تقاضا کرتا ہے۔ انسانی لہو سے آبیاری بذات خود اس نظریے اور پروگرام کی عظمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ جہاں ایسے عظیم نظریہ اور پروگرام کے ہوتے ہوئے اس پر قربان ہونے والوں کا سہارا لیا جائے، ان کی قربانیوں کی حیثیت و مقدار کا تقاضا ہو تو یہ عمل بذات خود اشارہ کرتا ہے کہ اس عظیم نظریہ اور پروگرام کے تقاضوں سے روگردانی ہو رہی ہے۔ ایک انقلابی تنظیم کیلئے اجتماعیت کے نظریے کے تحت مثلا بی ایل اے کیلئے ہر وہ بلوچ جس کا تعلق بلوچ گلزمین کے کسی بھی کونے سے ہو، اور وہ ریاستی جبر کا شکار ہو، وہ نقصان کے حوالے سے بی ایل اے کا ہے۔ بحیثیت انقلابی تنظیم کے وہ اس کا وارث و ذمہ دار ہے۔ چاہے اس کا انتظامی تعلق بی ایل اے سے ہو یا نہ ہو۔ تو پھر اس فکر سے متضاد تعداد کی شمار برسی وغیرہ پہ جداگانہ حیثیت کیلئے پرچار چہ معنی دارد۔ تو یہاں اس پہ غور ہو کہ جبر کی نشاندہی اور جبر سے شرمناک طریقے سے سیاسی فوائد حاصل کرنے کے بیچ بھی حدود کا تعین نہایت ضروری ہے ۔کیوں کہ یہ دونوں متضاد عمل ہیں۔ مثلاً اگر کوئی شخص ایک نظریے بابت پروگرام کو لیکر نکلتا ہے۔ جب وہ نکلتا ہے۔ تو با لکل اکیلا ہوتا ہے۔ ہزاروں لوگ اس کے نظریے سے متفق ہوکر اس کے کاروان میں شامل ہوتے ہیں۔ اور ان میں سے ہزاروں اس نظریے اور پروگرام پر قربان ہوتے ہیں۔ اس بیچ میں کوئی اس نظریے اور پروگرام سے ہٹ کر قربان ہونے والوں کی قربانی پر ناچنا شروع کردیں۔ تو یہ عمل کیا کہلائے گا؟ کم و بیش ہمارے سیاسی میدان میں با لکل یہی سب کچھ ہو رہا ہے۔ آزادی کے متعلق اجتماعی نظریہ اور پروگرام کیلئے اجتماعی قوت کے حصول سے روگردانی آج ہمیں شہداء اور ریاستی جبر کے سہارے زندہ رہنے پہ مجبور کر رہا ہے۔ تو برائے مہربانی انصاف یہاں بھی تقاضہ کرتا ہے کہ قومی وراثت کے دعوے دار بن کر 1973 اور اس سے پہلے انگریز کے خلاف لڑنے والے بلوچوں کے وارث بنو۔ ان تمام شہداء کے فکر کو لیکر اپنے اعمال درست کرو۔ گھر روزانہ بلوچوں کے جلائے جاتے ہیں، بیٹے شہید کئے جاتے ہیں ،گھر ڈیرہ بگٹی میں بہت جلے، کاہان میں جلے، کوئٹہ شہر میں ہزار گنجی میں پچھلے دس سالوں سے مسمار ہوتے آ رہے ہیں۔ ارباب کرم خان روڈ پہ پچھلے سال شیید بالاچ کا گھر لوٹا، جلایا اور گرایا گیا۔یہ بیان کرنا ضروری نہیں کیا کیا ہوا ہے۔ کیوں کہ جو کچھ ہوا، اس کو سب دیکھ رہے ہیں۔ ضروری یہ ہے کہ یہ کیوں ہو رہا ہے؟ اس کو کیوں ہم ساٹھ سالوں سے روک نہیں سکتے ؟ اس روک نہ سکنے کی وجوہات کیا ہیں؟ تو یہاں بد بختی دیکھیں، ہم دشمن کے جبر و بر بریت سے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس جبر اور بربریت کو اپنی طاقت نہیں بناتے۔ ایک قومی رضا کار کیلئے کسی غریب کا جھونپڑی جلے یا سنگت حیر بیار مری کا بولک ، دونوں کی تکلیف یکساں ہونا
چائیے بلوچ کا گھر مکران میں جلے یا ڈیرہ بگٹی، کاہان، ساراوان یا جھالاوان میں، دکھ، تکلیف ایک ہی ہونا چائیے۔ اور ضروری یہ ہے کہ ہم جلد از جلد حقائق کا سامنا کریں۔ ان حقیقی عوامل کو ڈھونڈ کر ان پہ کام کریں۔ جو ہماری جدو جہد میں حقیقی طور رکاوٹ ہیں۔
میں عمل کے مشترکہ یا کم و بیش یکساں نتائج کی طرف آتا ہوں۔ جو ہمارے تفرق اور تقسیم کو سمجھنے میں شاید کچھ نہ کچھ آزادی پسند کار کنان کو مدد دیں۔ ایک دو مثال جو ہماری جہد سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب ریاست کی طرف سے اسیران کو دوران حراست قتل کرنے کا سلسلہ شروع ہوا، کچھ حالات تبدیل ہوئے، تو مچھ سے تعلق رکھنے والے تین نوجوانوں نے مچھ کیقریب ایک مزاحمتی تنظیم کے کیمپ آکر ساتھیوں کے سامنے یہ جواز پیش کیا کہ حالات مناسب نہیں، اور اس سے پہلے ہم مکران میں ساتھیوں کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔ اور اگر اجازت ہوتو اب ہم آپ کے ساتھ مل کر اس علاقے میں کام کریں گے۔ تو ذمہ دار ساتھیوں کی طرف سے ان کو اس ہدایت کے ساتھ کہ آنے جانے اور فون کے استعمال میں احتیاط کے ساتھ اپنے پہلے والے یعنی مکران کے ساتھیوں کے ساتھ اپنا کام جاری رکھیں۔ کیوں کہ اس علاقے میں ضروریات زیادہ ہیں، مگر مشکلات کم۔ مکران کے
دوستوں کو بہت سی مشکلات درپیش ہیں۔ اس لئے وہاں کام کی زیادہ ضرورت ہے۔ آپ ساتھی اپنے پہلے والے سیٹ اپ میں رہ کر کام کریں۔( ابتداء میں بی ایل ایف اور بی ایل اے کی مشترکہ کاروائیاں زیر بحث نہیں ) اور مکران کے اکثر ساتھی جن میں شہید طارق کریم بھی شامل ہیں۔ ان کی اس خوائش کو کہ ہم بی ایل اے کے پلیٹ فارم سے جدو جہد کرنا چاہتے ہیں۔ ان کو یہ سوچ اس ہدایت کے ساتھ دی جاتی ہے کہ مکران میں بی ایل ایف کام کر رہی ہے۔ تو ضرورت کیا، آپ دوستوں کے ساتھ رہ کر کام کریں۔ ابتداء سے لیکر 2012ء کے اختتام تک پورے مکران میں بی ایل اے کی طرف سے جداگانہ حیثیت میں سرگرمیاں نہ کرنے کی پالیسیاں یکجہتی کو لیکر اجتماعی سوچ کی نشاندہی کیلئے کافی ہیں۔ (آج کے حالات زیر بحث نہیں) سوچ پالیسی اور عمل یہاں ایک نتیجہ دیتے ہیں۔ اب آتے ہیں دوسری طرف، مکران میں ایک مزاحمتی کیمپ میں جب رات کو فکری نشست کا اہتمام ہوتا ہے۔ تو اس نشست میں ابتداء اپنی تنظیم کی تعریف سے، اور انتہا دوسرے تنظیم کے بارے قائم کردہ بے بنیاد مفروضوں پر ہوتا ہے ۔جس میں ان کیلئے قبائلی، ان پڑھ، غیر سیاسی وغیرہ کا پرچار ہوتا ہے۔ اب یہ سوچ، پالیسی اور عمل با لکل متضاد نتیجہ دیتے ہیں۔ اور اسی ایک مقصد کیلئے کام کرنے والے تیسری تنظیم دوسرے تنظیموں کے کار کنان کو اپنی تنظیم میں
شمولیت کرنے پر زیادہ مراعات، سہولت وغیرہ کی پیش کش کرنے کیلئے دن رات سرگرداں نظر آتا ہے۔ اور بہت سے مقامات پہ ان کو کامیابی بھی حاصل ہوتی ہے۔ تو یہ سوچ،
پالیسی اور عمل ایک اور متضاد نتیجہ دیتا ہے۔ تو اب یہ تین متضاد نتائج کس طرح کے ربط اور کنٹرول کو لیکر ایک ہی مقصد کیلئے سود مند ثابت ہونگے ۔تو ان کی نشاندہی اور ان پر سوال اٹھانے والا شریر نام نہاد دوست نما دشمن ہی ہو سکتا ہے۔ شروع سے تسلسل کے ساتھ پیش آنے والے ایسے ہزاروں واقعات ہیں۔ اگر موقع دیا گیا، اور سیاسی طرز عمل اپنایا گیا، تو ذمہ دار حلقوں کے بیچ پیش کرکے ان کی تدارک کی کوشش کرونگا۔ اگر دروازے بند ہوئے ، حربے استعمال کئے گئے تو مجبوراً کار کنان سے رابطہ ہوگا۔ ان میں سے ایک اور مثال یہاں میں پیش کرناضروری سمجھونگا۔ مکران میں قومی جدوجہد کیلئے ابتدائی کوششیں سنگت حیر بیار مری کا 1996ء میں استاد واحد قمبر سے رابطہ، استاد واحد قمبر کی طرف سے مشروط جدو جہد کیلئے رضا مندی، اور پھر 2000ء اور 2001 ء کی کوششیں، بحث مباحثے اور ان کے نتائج، بی ایل ایف کی بنیاد کیلئے جواز، اس کے پیچے کار فرما سوچ، ان سب کے
بارے میں معلومات کو لیکر جب مئی2007 ء میں نوشکی کے قریب کیمپ میں ڈاکٹر اللہ نذر ، شہید سعادت عرف ماموں مری اور میں ایک نشست میں ساتھ تھے مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کو بھی ضرور یاد ہوگا۔ بولان میں میری غیر موجودگی میں بولان کے ساتھیوں کے حوالے سے سعادت عرف ماموں مری کو کچھ عرصے کیلئے ذمہ داریاں سونپنے کیلئے صلاح و مشورے ہورہے تھے۔ جب ماموں شہید کے سامنے یہ تجویز رکھا گیا، تو ماموں کی طرف سے یہ شرط کہ میں بولان جاکر کام ضرور کرونگا، مگر بی ایل اے کی زیر نگرانی نہیں ، بی ایل ایف کی زیر نگرانی کرونگا۔ ایسے ذمہ دار حلقے سے ایسی سوچ کی توقع مجھے ہرگز نہیں تھی۔ میں اپنی حیرانگی کے ساتھ ساتھ اپنے جذباتی ردعمل کو نہیں روک سکا ۔اور میں نے یہ سوال اٹھایا کہ یہ کیا ہے؟ B L F, B L A ان کی حقیقت کیا ہے؟ اور ہم سوچ کیا رہے ہیں؟ ڈاکٹر اللہ نذر نے کہا کہ استاد آپ سمجھ نہیں پائے۔ میں نے کہا ڈاکٹر یہ سیدھی سی بات ہے کہ اگر ہمارے اس ذمہ دار سطح پہ ایسا سوچا جاتا ہے، تو ہمارے دیگرساتھی ، کارکنان، ہمدردان کیا سوچ رکھیں گے۔ (اختر ندیم کا بی ایل ایف کے چارٹر کا ذکر زیر غور نہیں) ہوتے ہوتے آج بی ایل ایف اور بی ایل اے آپ کے سامنے ہیں۔ اس تفریق کیلئے ذمہ دار سوچ ہمارے اندر شروع سے تسلسل کے ساتھ پرورش پا رہی ہے۔ اور اس کے تقویت پانے میں یہ کمزوری بھی کار فرما ہے کہ اتنے طویل عرصے کے جدو جہد میں اتحاد و یکجہتی کے حصول میں حائل اصولی رکاوٹ جس میں اول اعتماد کا فقدان ہی ہو سکتا ہے مثلا اگر بی ایل ایف کے ساتھیوں کو بی ایل اے کے ذمہ دار حلقوں یا ان کی پالیسیوں یا پھر حکمت عملی بارے کسی بھی قسم کے خدشات کو لیکر بد اعتمادی کا سامنا ہے تو ان کے وجوہات آج تک سامنے کیوں نہیں آئے (2007ء سے مسلسل 2011ء تک وہ کوششیں جن میں دونوں تنظیموں کو یکجا کرنے کیلئے بی ایل اے کے ساتھیوں کی طرف سے پیش پیش رہنا اور بی ایل ایف کے ساتھیوں کا مکمل سرد مہری زیر بحث نہیں) میرے خیال میں بی آر اے اور لشکر بلوچستان کیلئے کسی مثال کی ضرورت نہیں۔میںآگے جانے سے پہلے ایک اور مثال دونگا۔ 2007ء میں کسی گھریلو مسئلے بارے دو فریق ہمارے پاس آئے۔ مجھے ان کا مسئلہ کچھ بھی سمجھ نہیں آیا۔ میں نے ان کو اپنے کسی قبائلی معتبر یا پھر نواب صاحب کی طرف جانے کا مشورہ دیا۔ کچھ دن بعد جب وہ دوبارہ میرے پاس آئے۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے اپنے احوال میں کہا کہ ہم نواب صاحب کے پاس گئے تھے۔ اور مسئلے کے بارے میں ان کو آگاہی دی۔ اور آپ کا نام لیکر بتایا کہ آپ کو بھی ہمارے مسئلے کے بارے میں مکمل معلومات ہیں۔ تو میرے پوچھنے پر کہ نواب صاحب نے کیا کہا؟ تو انہوں نے بتایا کہ نواب صاحب نے کہا کہ وہ تو حیر بیار کا ساتھی ہے۔ میں اس کو اچھی طرح نہیں جانتا۔ یہ سن کر مجھے سخت حیرت اور صدمہ ہوا۔ اور میں اس بات کے متعلق سوچتا رہا کہ یہ کیا بات ہوئی ۔دو چار دن سوچ بچار کے بعد اپنے آپ کو اس بات پہ تسلی دی کہ ہو سکتا ہے سیکیورٹی کا مسئلہ ہو۔ جو تقسیم، تفریق شروع سے ہماری نیت میں تھی۔ اس کو ظاہر ہونا ہی تھا سنگت حیر بیار مری اور میر مہران کے مسئلے میں جب ابتدائی معلومات ہم تک پہنچیں۔ اور ہماری طرف سے اس معاملے کے سدھار بارے کسی بھی طرح کے کردار ادا کرنے سے پہلے ہم پر 2007 ء والا لیبل لگ چکا تھا۔ یعنی سنگت حیر بیار کے ساتھی۔ اور اس کے ساتھ ہی جب ہم دوسری طرف نظر دوڑائیں۔ یعنی غیر مسلح محاذ کی طرف، تو وہاں بھی ہمیں یہ تماشا ذرا اور زیادہ شرمناک انداز میں ملے گا۔ اس بات کیلئے ہزاروں سیاسی کار کنان بطور گواہ موجود ہیں کہ اسٹیج کے صدارتی تقریر ملنے یا نہ ملنے، اور اپنی مرضی کے تصاویر لگانے اور نہ لگانے پر اختلافات، ناراضگیاں آزادی پسند ذمہ داران کے ماتھے کا جھومر ہیں۔بی این ایف کے انجام کا سہرا کچھ دوست سنگت حیر بیار مری کے سر زبردستی سجانا چاہتے ہیں۔ مگر شاید زاہد کرد صاحب بھی اس بات کے گواہ ہوں کہ مختلف جلسے جلوسوں اور تقاریب میں اسٹیج کی صدارت اور تقاریر اور اخباری بیانات جاری کرنے یا نہ کرنے کیلئے اتحادی کیسی کیسی حرکتیں کرتے تھے۔ ایک دوسرے کو اتحاد سے نکالنے کی وجوہات کھبی بھی سیاسی اصولی یا نظریاتی تضاد کی بنیاد پر نہیں ہوئے ہیں۔ یہاں اب تک لوگ بی این ایف کونہیں بھول پائے ہیں۔ اور کیا نئے اتحاد کیلئے شوشہ قابل حیرت نہیں؟ اتحاد ایک ایسا عمل ہے، جس سے کوئی بد بخت و بد قسمت انکار کرے گا۔ مگر پہلے والی اتحادیں جن انجام سے دوچار ہوئیں کیا ان کے حساب کا مطالبہ اصولی نہیں؟ سنگت حیر بیار مری سمیت جو بھی بی این ایف کے شرمناک انجام کا ذمہ دار ہے اس کو سامنے لاکر اس کے عمل کا احاطہ کیا جائے۔ پھر شاید دوسری اتحاد کیلئے کوشش سود مند ہو۔
بہت سے حیرت انگیز واقعات میں سے ایک اور میرے لئے باعث حیرت ثابت ہوا۔ شہید غلام محمد کی شہادت سے تقریبا آٹھ ماہ قبل کراچی میں اتفاقاً ایک بزرگ کامریڈ سے ملاقات ہوئی۔ تین گھنٹے کی ملاقات میں کامریڈ بزرگ نے شہید غلام محمد کی مخالفت میں زمین آسمان ایک کردی۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس بات پہ زور دیتا رہا کہ سنگت حیر بیار مری
شہید غلام محمد بلوچ کو کیوں کر کمک کر رہا ہے۔ اس کو اس طرح نہیں کرنا چائیے۔ میرا کامریڈ بزرگ کو آخری مشورہ یہ تھا کہ غلام محمد بلوچ کو جو بھی سپورٹ کر رہا ہے۔ آپ یہ باتیں ان کے سامنے رکھیں۔ اس وقت وہ مخالفت سمجھ میں آنے والی بات تھی۔ مگر شہید غلام محمد کی شہادت کے بعد ان کے نام سے پارٹی بنانا میرے لئے باعث حیرت ثابت ہوا۔ یہ سوچ اور ذہنیت کے لوگ آج بھی اپنے ماضی کے طرز عمل سے تحریک کی تقویت میں رکاوٹ بنکر مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ اور پھر سوال اٹھانے یا کسی بھی تضاد کی نشاندہی پر مشتعل ہوکر من گھڑت قصے کہانیاں ترتیب دے کر ماحول کو مزید پراگندہ کر رہے ہیں۔ یہ چند مثالیں میں نے اس لئے آپ لوگوں کے سامنے رکھنے کی کوشش کی، تاکہآپ
دوستوں کو کچھ اندازہ ہو۔ ان مسائل کی بنیادی وجوہات میں سے کچھ ٹھوس حقائق یہ بھی ہیں، جن کی مکمل پردہ پوشی ہمارے کردار کشی سے لازم و ملزوم ہوچکی ہے۔ بے بنیاد الزامات کو لیکر دباؤ کا مقصد صرف اور صرف ہمیں چپ کرانا مقصود ہوتا ہے۔ شروع دن سے ہم نے اپنے سوجھ بوجھ کے مطابق اجتماعیت کے مقابلے کسی بھی منفی یا متضاد عمل کو محسوس کیا یا اس کی نشاندہی کی، اور جہاں کہیں یہ ضروری سمجھا کہ اس عمل کے متعلق اپنا نقطہ نظر تمام آزادی پسند دوستوں کے سامنے رکھیں۔ تو اس اظہار کا مقصد بھی واضح یہ رہا کہ مختلف زاویوں سے ایسے متضاد اور منفی عمل کی جانچ پرکھ ہو۔ تاکہ بہتر نتائج برآمد ہوں۔ بد قسمتی سے یہی سوچ ہمارا جرم ٹھہر اور رد عمل میں کسی نے کہا کہ یہ تو توجہ حاصل کرنے کیلئے ہو رہا ہے۔ کہیں سے آواز آئی کہ یہ سب لیڈری کے شوق میں ہو رہا ہے۔ اور کچھ صدائے احتجاج لیکر اس کو بلوچوں میں انتشار کا سبب بیان کر رہے ہیں۔ کسی نے کہا کہ ڈکٹیٹر شپ ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں، اپنی صفائی میں ، عرض، گزارش کو ہم نے کم از کم اپنے منہ میاں مٹھو کے مترادف سمجھا۔ اور روز اول سے توجہ صرف اور صرف مسائل کو لیکر ان کی وجوہات کی نشاندہی پر رہی۔ مقابلے میں الزامات مزید شدید ہوتے ہوتے من گھڑت قصہ کہانیوں میں تبدیل ہوتے گئے۔ ان کی طرف آنے سے پہلے ایک واقع بیان کرنا ضروری سمجھوں گا۔ اگست 2010ء میں اپنے ایک محترم بزرگ نظریاتی استاد سے سنگت حیر بیار مری اور میر مہران مری والے مسئلے بابت کوششوں بارے ملاقات میں میرے بزرگ نظریاتی استاد نے میری سیھٹی اس جملے کے ساتھ گم کردی کہ تم لوگ کیا حیر بیار حیر بیار کرتے ہو ، کیا وہ پہاڑوں میں رہا ہے ؟ کیا کیا ہے اس نے؟ میں نے نہایت ادب سے کہا کہ آپ کو معلوم نہیں ہے کہ اس نے کیا کیا ہے ، یہ سوال آپ کیسے اٹھا رہے ہیں؟ میں نے اپنے سوال کو اس دلیل کے ساتھ بڑھاوا دیا کہ کیا یہ امریکی فوجی جو افغانستان اور عراق میں لڑ رہے ہیں ان کے کمانڈر پیٹا گون میں بیٹھ کر جنگ کو کمان نہیں کر رہے ہیں؟ میرے دلیل کے بدلے ان کے روایتی جواب نے مجھے اور زیادہ حیرت زدہ کردیا، کہ کیا تم لوگ اپنے آپ کو امریکی سمجھتے ہو؟ میں نے جواب دیا ہرگز نہیں۔ مگر طریقہ کار تو وہی ہے۔ رفتہ رفتہ میں دیکھ رہا ہوں کہ یہی سوال ہر طرف سے اٹھایا جا رہا ہے۔ (جو سنگت حیر بیار مری کے کردار کے حوالے سے ہے) اب اگر ابتداء اور تسلسل کو لیکر آج کے شور پر غور کریں۔ تو اس لیپا پوتی کا ذمہ دار کون ہوگا۔ جس سنگت حیر بیار کو میں جانتا ہوں، وہ میری تعریف کا ہرگز محتاج نہیں۔ مجھے افسوس اس عمل پہ ہو رہا ہے کہ تاریخ کے ساتھ ہی ساتھ ایک ایسے کردار کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ جس نے شروع دن سے اس قومی جہد میں بحیثیت رضا کار اپنا کردار ادا کیا ہے۔ 1994ء میری پہچان کی حد سے بھی پہلے ہلمند سے فعال و جاندار کردار ہمیشہ متحرک رہا۔ جس نے مجھ سمیت میر غفارشہید ، سگار بلوچ شہید امیر بخش لانگو اور بہت سے نوجوانوں کو قومی تحریک میں ایک بہتر کردار ادا کرنے کیلئے ایک سیاسی متوازن سلیقہ اپنانے کیلئے ایک زاویہ نظر دیا۔ میں نے دوران وزارت بھی ان کو چند دوستوں سمیت سریاب کے قبرستانوں ، چلتن کے دامن اور میاں غنڈی کے میدانوں میں راتوں کو کھڈے کھودتے ہوئے پایا۔ قومی اثاثوں کو دشمن سے چھپاتے ہوئے ہر وقت فکر مند پایا۔ (انہی اثاثوں (مڈی) سے آج کے مشکل حالات میں بلوچ نوجوانوں کو حیر بیار مری کا گروپ قرار دے کر محروم کرنا زیر بحث نہیں) شروع سے آج تک قومی تحریک میں مجتمع قوت کو اداروں کی طرف منتقل کرنے کیلئے شخصیت پرستی اور گروہ بندی کی مکمل حو صلہ شکنی کیلئے عملی طور متحرک پایا۔ اس کے اپنے کردار کے حوالے سے ایک جاندار کردار ادا کرنے کے باوجود اس کردار کو مخفی رکھنا اسی سوچ کی عکاس ہے۔ جن مواقعوں سے میں گزرا، ان میں بی این ایم اور بی آر پی جیسے ایک پارٹی کی تشکیل کیلئے بہت سے ساز گار حالات میسر آئے، بہت سے نظریاتی ساتھیوں کی موجودگی کے باوجود اس گروہی سیاسی عمل سے اجتناب برتا گیا۔ اور سیاسی دوستوں کو (بی این ایم و بی آر پی) ہر قسم کے حالات میں موقع فراہم کیا گیا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کو اجتماعی سوچ کے حوالے سے بہتر ، مضبوط اور پختہ کرتے جائیں۔ مگر بد قسمتی سے پچھلے تمام عرصے میں جو کچھ یہاں ہوتا آ رہا ہے۔ وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، میں کسی اور سے نہیں جتنے ذمہ دار حلقے ہیں، ان سے درخواست کرتا ہوں، وہ بلوچ لیڈر شپ اور ان تمام کے گروپس کا ایماندارانہ احاطہ کریں۔ ان کا آپس میں تقابلی جائزہ ان کے کردار کے حوالے سے قابلیت ، خلوص ، صلاحیت، فیصلہ کرنے کی بروقت قوت کے حوالے سے ،اور اس کے علاوہ ایک اور تقابلی جائزہ علمی حوالے سے انقلابی لیڈر شپ کے صفات سے اور سوئم بین الاقوامی تاریخی لیڈر شپ کے حوالے سے ( اختر ندیم کا لفاظی اور خود فریبی کو لیکر نواب مری کیلئے بلوچوں کا عمر مختیار لکھنا زیر بحث نہیں) میری ناقص رائے یہ ہے کہ ان حالات کو بہتری کی طرف لانے کیلئے سب سے ضروری عمل یہ ہوگا، کہ ہم ایک رضا کار سے لیکر نواب خیر بخش مری تک کے عمل کا ایک مرتبہ ایمانداری سے احاطہ کریں۔ اور رضا کار سے لیکر لیڈر شپ کے عمل و علم و صلاحیت و قابلیت خلوص و کردار و کار کردگی کو قومی تحریک کو نقطہ مرکز بنا کر اس سے جانچ پرکھ کے بعد سیاسی عمل میں توازن پیدا کریں۔ کیوں کہ گروہی سیاست کے حوالے سے ذاتی و خاندانی و گروہی مفادات نے اور علاقائی و قبائلی سوچ کے تحت کشمکش اور ساتھ ہی ساتھ نیم پختہ سیاسی طرز عمل نے آج کے حالات پر ایک بہت ہی گہرا منفی اثر چھوڑا ہے۔ ان خاندانی ذاتی
علاقائی و قبائلی تعلقات نے جس مجرمانہ طرز عمل کو تقویت دی ہے۔ (بی ایل ایف، بی این ایم کا قومی سیاست کو لیکر نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے یکساں متضاد و منفی اعمال پر دونوں کیلئے مختلف رویہ رکھنا ، نیشنل پارٹی گناہ گار و غدار اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل پہ مصلحت پسندی کا شکار ہونا زیر غور ہو) اس طرح کے متضاد رویوں نے سیاسی عمل کو مکمل بگاڑ دیا ہے۔ جلد از جلد حقائق کا سامنا ہو تو بہتر ہے۔ الزامات ایک دوسرے کے سر تھونپنے سے مسائل مزید پیچیدہ ہونگے، نا کہ حل کی طرف کوئی بہتر نتیجہ دینگے۔ ہمیں کوئی جو نام بھی دے، ہم اپنا کردار اس نقطہ نظر کے ساتھ ادا کرتے رہیں گے کہ تمام قوتیں توازن کے ساتھ تحریک کو آگے بڑھائیں۔ تاکہ وہ روایتی ، سماجی ٹوٹ پھوٹ جو انقلابی عمل کے دوران آج ہمیں درپیش ہے اس کے اگلے ترتیب کیلئے یعنی تشکیل کیلئے سیاسی عمل کے نتائج میں حقیقی توازن کو لیکر شخصیات کے کردار کے حوالے سے پارٹیوں اور تنظیموں کے کردار کے حوالے سے حقیقی توازن کیلئے (اختر ندیم کا بی ایس او کیلئے ثناء خوانی زیر بحث نہیں) لازمی دور اندیشی ، معاملہ فہمی اور ذہانت کو لیکر اجتماعی پالیسیوں بابت ہر چھوٹے بڑے عمل کے نتائج کو لیکر ان کو اگلی سطح کیلئے بروئے کار لایا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ ان نتائج کے بل بوتے پر شخصی بت تراشی گروہی مصنوعی بڑھوتری کیلئے غیر اخلاقی حربے سیاسی گروہی فوائد کیلئے گروہی کشمکش میں اجتماعی اصولوں کو تہہ و بالا کرنے جیسے مجرمانہ حرکتیں کی جائیں۔ ان حالات میں جہاں طرز عمل ایسے غیر اخلاقی رویوں پر استوار ہوں، اتحاد گمراہ کن نعرہ ہوگا۔ دوستوں کیلئے نیک خوائشات کے ساتھ ہم ایک نظریاتی قوت کے حصول کیلئے جدو جہد کریں گے۔ جو قومی تحریک میں دشمن کے مقابلے کے ساتھ ہی ساتھ ایسے دوستوں کیلئے ایک بہتر اپوزیشن کی صورت میں موجود رہے، جو کم سے کم آزادی پسند سیاسی کارکنان کیلئے علمی حوالے سے پیچیدہ اور پوشیدہ مسائل کی بہتر تشریح کیلئے تحقیق کر سکیں۔ امید ہے ہمارے ہر عمل اور پالیسیوں پر ہمارے مہربان دوست کسی بھی نقطہ نظر سے تنقید کریں۔ ہم تشریح کیلئے تیار ہیں۔ امید کرتے ہیں کہ جھوٹ اور من گھڑت قصے کہانیوں کے ذریعئے کردار کشی کو لیکر چپ کرانے کے حربے استعمال نہیں ہونگے۔ اگر ایسا ہوگا۔ تو ہمارے صفائی کے دلیل کیلئے مزید بہت سے حقائق جن سے بہت سے راز بھی وابستہ ہیں، باحالت مجبوری آزادی پسند کار کنان کے معلومات کیلئے ان کے سامنے ہونگے۔ میں کوشش کرونگا کہ اپنے اگلے مضمون میں کچھ ایسے بے بنیاد اور من گھڑت الزامات جن کو بطور سوال اٹھایا گیا ہے، ایسے حادثات جن سے کچھ راز وابستہ تھے، جو شاید اب نہیں رہے، جن میں شہید سگار بلوچ کا روڈ ایکسیڈنٹ ، ٹکری حمل خان کا حادثاتی شہادت اور شہید علی شیر کرد کے کردار کے متعلق ایسے حقائق جن کی پوشیدگی کو ہماری کمزوری جان کر کچھ ایسے سوالات اٹھائے گئے، جن کو میں سیاسی حربوں کے طور پر لونگا۔ ان کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں۔ کسی دوست نے کہا کہ مجھ پر ایک اور الزام یہ ہے کہ میں نے تنظیم کی بھاری رقم چوری کرکے کچھ عرصے دالبندین میں روپوشی اختیار کرلی۔ اور پیسے ختم ہونے پر دوبارہ معافی مانگ کر تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی۔ میری ناقص رائے کے مطابق اس الزام کو ثابت ہو نے کیلئے الزام لگانے والے کو ثبوت کی ضرورت ہوگی۔ کب ،کیسے اور کہاں، میری صفائی کیلئے میرا تنظیمی ریکارڈ موجود ہے۔ اس تنظیم سے تعلق رکھنے والے بہت سے بلوچ نوجوان موجود ہیں۔ خیر یہ تو سیاست کے نیچ اور غلیظ داؤ پیچ ہیں ۔جن کو اسی ذہنی سطح سے بروئے کار لایا جاتا ہے۔ جہاں سے وہ تعلق رکھتے ہیں۔ کسی رضا کار کیلئے یہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ یاد رکھنے والی بات یہ کہ ہمارے حلقے نے جس مقام و سطح سے غیر متوازن ، متضاد اور منفی عوامل کو متحرک اور سرگرم عمل دیکھ کر ان کی نشاندہی کی ہے، چاہے وہ شخصیات کے عمل سے تعلق رکھتے ہوں یا مختلف گروپس کے کردار سے، ان کی روک تھام کیلئے اصولی موقف کو لیکر ہم نے جو کوششیں کیں انہی کوششوں کی وجہ سے ایسے شرمناک حالات سے گزرے ہیں، ہمارے لئے جس کا تصور بھی نا ممکن تھا۔ جسے کم و بیش سیاسی آزادی پسند کارکنان کی اکثریت نے محسوس کیا ہوگا۔ مستقبل میں بھی اپنے اصولی موقف سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ کیوں کہ یہ ہمارے جدوجہد کا علمی ، فکری ، نظریاتی تقاضا ہے کہ ہم اجتماعی تقاضوں کو لیکر کسی بھی سطح پر مصلحت پسندی کا شکار نہ ol

Saturday, 15 June 2013

پاکستان میں سائبر جاسوسی اور نگرانی میں اضافہ ہارون رشید



پاکستان میں انٹرنیٹ کی ہیکنگ کا تو شاید سب کو معلوم ہے اور بڑی تعداد میں نوجوان ایسا شغل کے طور پر اکثر کرتے بھی رہتے ہیں، پھر خود سرکاری سطح پر بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو دیگر ممالک میں ریاستی سطح پر ہیکنگ کرتے اور کرواتے ہیں۔
لیکن میرا رابطہ ٹوئٹر پر گزشتہ دنوں کراچی کے ایک ایسے نوجوان سے ہوا جو اپنے آپ کو ہیکٹاوسٹ (hacktavist) کہتا ہے، یعنی ہیکنگ کا ماہر ایسا شخص جو عام لوگوں کے مفاد میں اور حکومتوں کے غیرقانونی اقدامات کے خلاف ہیکنگ کرتا ہے۔
متعلقہ عنوانات
پاکستان, انٹرنیٹ
شناخت نہ بتانے کی شرط پر اس نے ہمارے سامنے اپنا دعویٰ سچ کر دکھایا کہ وہ کسی بھی ہوٹل کے وائی فائی کا کنٹرول حاصل کر کے اس سے منسلک تمام کمپوٹروں اور سمارٹ فونوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اس ہیکٹاوسٹ نے بتایا کہ نائن الیون کے بعد پاکستان میں اس نگرانی اور جاسوسی کے نظام کا استعمال کافی بڑھا ہے۔
’امریکہ اور برطانیہ نے انٹرنیٹ پر نظر رکھنا شروع کی تاکہ شدت پسندوں کے رابطوں پر نظر رکھ سکیں۔ اسے سنجیدگی سے لیا جانے لگا۔ چیٹ رومز میں باتیں ہو رہی تھیں۔‘
ایک سوال کے جواب میں کہ کیا پاکستان میں یہ نگرانی ہو رہی ہے، تو ان کا کہنا تھا: ’مجھے حیرت ہوگی اگر ایسا نہیں ہو رہا ہوگا۔ مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ نہیں ہو رہی ہوگی۔ اس کے ثبوت موجود ہیں۔ ہم نے خود اسے کئی مرتبہ دیکھا ہے۔ حکومت آپ کی جاسوسی کرتی ہے۔ امریکی صحافی ڈینیل پرل کے اغوا میں اس کا استعمال کافی کیا گیا۔‘
دنیا بھر میں جہاں امریکہ کی جانب سے انٹرنیٹ کے ذریعے جاسوسی کا چرچا ہے وہیں پاکستان میں بھی اس کی موجودگی کے اشارے ملے ہیں۔ اس بابت گذشتہ دنوں کینیڈا کی ٹورنٹو یونیورسٹی کے ایک تحقیقی گروپ نے پاکستان میں بھی انٹرنیٹ کے ذریعے نگرانی کے اس نظام کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے۔
’مشتری ہوشیار باش‘ طرز کا یہ پیغام یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے ’دی سٹیزن لیب‘ نامی تحقیقی گروپ نے اپنی ایک رپورٹ ’فار دئیر آئیز اونلی: ڈیجٹل سپائینگ کی کمرشلائزیشن‘ میں کی ہے۔ اس رپورٹ نے پاکستان میں بھی فن فشر نامی نظام کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سرور پایا۔ یہ سافٹ ویئر ایک برطانوی کمپنی گیما گروپ تیار کرتی ہے جو کسی ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے کمپیوٹر کا کنٹرول حاصل کر کے دستاویزات کاپی کر سکتا ہے، سکائپ کالز سن سکتا ہے اور ہر ٹائپ کیے ہوئے لفظ کا لاگ حاصل کر سکتا ہے۔
دی سٹیزن لیب کا الزام ہے کہ یہ نظام پاکستان میں سرکاری کمپنی پی ٹی سی ایل میں پایا گیا ہے۔ اس بابت کمپنی کے اہلکاروں سے رابطے کے باوجود جواب موصول نہیں ہو سکا ہے۔
ہم نے انٹرنیٹ پر رازداری کے لیے سرگرم تنظیم ’بولو بھی‘ کی ڈائریکٹر ثنا سلیم سے پوچھا کہ ٹورانٹو یونیورسٹی کی یہ رپورٹ آخر کتنی مصدقہ ہو سکتی ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ اس تحقیق میں ثبوت کے ساتھ بات کی گئی ہے اور جب وہ رپورٹ جاری کرتے ہیں تو یہ بھی ساتھ بتاتے ہیں کہ یہ تحقیق کس طرح سے کی گئی: ’یہ ادارہ 2008 سے کام کر رہا ہے اور یہ کوئی سرکاری یا کارپورِٹ فنڈنگ نہیں لیتا لہٰذا اسے ایک آزاد ادارہ تصور کیا جاتا ہے۔‘
"ہم نے خود اسے کئی مرتبہ دیکھا ہے کہ حکومت آپ کی جاسوسی کرتی ہے۔ امریکی صحافی ڈینیل پرل کے اغوا میں اس کا استعمال کافی کیا گیا۔"
ایک ’ہیکٹاوسٹ‘
فن فشر نامی اس نظام کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ کسی ادارے یا شخص کے بارے میں معلومات اکٹھی کر سکتا ہے: ’یہ نظام آپ کے ونڈوز، میک اور لینکس سسٹم، بلیک بیری اور اینڈروئڈ فونز پر لگایا جا سکتا ہے۔ یہ آپ کو ای میل میں بھیجا جائے گا، یہ کمپیوٹر کے پاس ورڈ لے لیتا ہے۔‘
لیکن ان کا الزام تھا کہ پاکستان میں یہ پی ٹی سی ایل کے ہاں پایا گیا ہے: ’یہ نظام کوئی کمپنی نہیں حاصل کر سکتی، اسے حکومت ہی لے سکتی ہے۔ ہم نے حکومت سے اور پی ٹی سی ایل سے دریافت کیا ہے کہ ملک میں ایسا کوئی قانون نہیں جو صحافیوں، سیاستدانوں یا کسی شخص کو اس سے بچا سکے تو ایسے میں اس کا استعمال کیوں کر ہو رہا ہے۔‘
ثنا کا اصرار تھا کہ اگر حکومت نے یہ نظام نہیں حاصل کیا تو پھر وہ معلوم کرے کہ اسے کون استعمال کر رہا ہے۔
سابق پارلیمان کی رکن اور عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما بشریٰ گوہر نے پارلیمان میں اپنی ٹیلیفون ٹیپنگ کا الزام عائد کیا تھا۔ انہوں نے گذشتہ برس حکومت پاکستان کی جانب سے انٹرنیٹ پر فلٹرنگ کا نظام لگانے کے فیصلے کی بھی شدید مخالفت کی تھی۔
اس نظام کے نصب کیے جانے کے بارے میں آج تک حکومت نے باضابطہ طور پر اس کو روکنے کا کوئی اعلان تو نہیں کیا ہے لیکن بشریٰ گوہر کہتی ہیں اس وقت اسے موخر کر دیا گیا تھا: ’اسے مکمل روکنے کی بات نہیں کی گئی۔ ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایسا کوئی فیصلہ کیا جائے۔‘
بشریٰ کا کہنا ہے کہ جاسوسی انٹرنیٹ کی آزادی کے خلاف اقدام ہے:’دہشت گرد تو انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سب کچھ آزادی سے استعمال کر رہے ہیں، مسئلہ عام شہریوں اور سیاستدانوں کا ہے کہ ان کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے، انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے۔‘
انہوں نے حکومت کی جانب سے اس پر مکمل وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم وہ اقرار کرتی ہیں کہ سابق پارلیمان نے آخر میں فیر ٹرائل بل بھی مختصر بحث کے بعد جلد بازی میں منظور کر دیا جس میں ای میل اور ٹیلی فون کو بطور ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے۔ بعض تنظیمیں اس کی بعض شقوں کو بھی حقوقِ انسانی کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔
اسلام آباد کے ایک انٹرنیٹ کیفے میں کسی نجی کمپنی کا ڈیٹا اپ لوڈ کرنے والے پارٹ ٹائم ملازم عامر جاوید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس قسم کی جاسوسی سے لاعلمی کا اظہار کیا:’یہ تو کافی تشویش کی بات ہے کہ لوگوں کا ڈیٹا بغیر کسی وجہ کے دوسرے لوگ دیکھ سکیں گے۔ آپ کو اس کا علم ہی نہ ہو تو یہ تو ٹھیک نہیں۔ یہ کسی کو حق نہیں پہنچتا۔ حکومت کو چاہیے کہ اس کے بارے میں بتائے۔‘
کہیں سی آئی اے کے سابق ملازم ایڈورڈ سنوڈن اس نگرانی کا بھانڈا پھوڑ رہے ہیں تو کہیں خود صدر براک اوباما ای میل اور ٹیلی فون نگرانی کا دفاع کر رہے ہیں۔ ایسے نگرانی کے نظام کی موجودگی کی اطلاعات تو ہیں، سرکاری تصدیق ابھی تک نہیں ہے۔ کیا پاکستانی حکومت اس بابت کچھ وضاحت کرے گی؟

سوشل میڈیا اور بلوچ تحریر۔۔۔۔مہراب مہر سوشل میڈیا اور بلوچ تحریر۔۔۔۔مہراب مہر


دنیا جس تیز رفتاری سے ترقی کررہی ہے اسی ترقی سے ہر عام و خاص سے لیکر،کلچر،زبان ،تہذیب غرض ہر پہلو متاثر ہو رہے ہیں۔ کارل مارکس نے کیا خوب کہا تھا۔’’کہ مادی ترقی ہی ذہنی ترقی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا‘‘ کارل مارکس کی اس سوچ کو لیکر آج ہم اپنے سماج پر نظر دوڑائیں تو اسکے مثبت و منفی دونوں پہلو ہم پر واضح طور پر ظاہر ہونگے، کیونکہ ایک طرف ٹی وی سے ہم دنیا کے مختلف ممالک و اقوام و انکے کلچر ثقافت کے بارے معلومات حاصل کرتے ہیں تو دوسری طرف ہم فلموں سے لیکر فحش حرکات و اعمال سے واقفیت رکھنے کے ساتھ ساتھ انکے منفی پہلو ہمارے سماج پر اثر انداز ہو رہے ہیں، نہ ہم اس عمل کو روک سکتے ہیں اور نہ ہی اسی برق رفتاری کے ساتھ اسکا حصہ بن رہے ہیں۔ ہم اس ترقی یافتہ دنیا کے ان لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں ایک طرف سے ہم اس سے فائدہ حاصل کررہے ہیں تو اسی رفتار سے اپنے کلچر ،سماجی اطوار، تاریخ و زبان کو بربادی کے نہج پر پہنچا رہے ہیں۔ ایک بلوچ لڑکی انٹرنیٹ کی دنیا میں آکر کچھ سرگرمی کرے گی تو کمزور ذہنیت کے مالک اس لڑکی پر اسکے منفی اثرات ہی پڑینگے۔ اور وہ سماج کے بہت سے پہلوؤں کو نظرانداز کرکے اس عمل کا حصہ بنے گی تو اس سے فائدہ لینے کے بدلے وہ نقصان ہی اٹھائے گی۔ اور بلوچ سماج جہاں پر ایک بھائی اپنی بہن کا نام کسی کے سامنے لینے میں شرم محسوس کرتا ہے لیکن اسی سماج میں دوسری طرف اسکی وہی بہن بی ایم سی یا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کررہی ہوتی ہے۔ اور اسی تناظر میں جہاں ایک بلوچ لڑکی سیاسی دنیا میں قدم رکھتی ہے تو دوسری طرف سماج کے بہت سے لوگ اس پر انگلیاں اٹھاتی ہیں اسے مختلف زاویوں سے منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے اور یہ ارتقاء دنیا کی تمام اقوام میں اسی انداز میں ہوئی ہے اور زبان،ثقافت،تاریخ تک سماجی زندگی کے تمام پہلو اسی طرح آہستہ آہستہ تبدیل ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔اگر آج ہم دنیا کے دیگر اقوام پر نظر دوڑائیں۔ تو وہ ہمیں مختلف انداز میں نظر آئیں گے وہ تمام اقوام جو آج اور جس ترقی کے ساتھ سماجی تبدیلیوں کو قبول کرچکے ہیں وہ ماضی میں ہماری طرح کے اقوام تھے انکا کلچر اور سماجی نظام ہماری طرح ہی تھا ارتقاء اور ترقی نے انکی زندگی تبدیل کردی کرد قوم کو دیکھیں جسے بلوچ اپنا حصہ سمجھتے ہیں اور اسی طرح کرد بلوچوں کو کرد قوم کا حصہ سمجھتے ہیں۔ لیکن آج کرد جن ممالک کے ساتھ زندگی بسر کررہے ہیں وہاں کی ترقی و زندگی کے اثرات کو قبول کرچکے ہیں لیکن ساتھ ساتھ اپنے کلچر سے جڑے نظر آتے ہیں اور اسی طرح الجزائری قوم جب فرانس سے آزادی حاصل کررہی تھی تو اس وقت الجزائر میں اسلامی زندگی کے ساتھ ساتھ ان پر قبائلیت حاوی تھی لیکن انھوں نے وقت و حالات کے ساتھ اپنے اندر تبدیلی پیدا کی اور الجزائری اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے کرد بھی وقت و حالات کے ساتھ تبدیل ہوگئے اور یہاں تک کہ خواتین کی فوج بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے۔ کہ وقت و حالات و ترقی ہم سے یہی تقاضا کرتی ہے کہ ہم تیزی کے ساتھ اپنے اندر تبدیلی لائیں،ورنہ ہم اس تیز ترقی سے کچھ حاصل نہ کرسکیں گے بلکہ اپنا سب کچھ کھو دیں گے۔
میں اب سوشل میڈیا کے اس پہلو پر کچھ کہنے کی جسارت کرونگا کہ ایک عرصے سے فیس بک بلوچ سماج کے قریباً نوجوان و بزرگ استعمال کررہے ہیں کوئی اسے معلومات کے لیے، تو کوئی اسے وقت زوالی کے لیے اورکوئی اسے انٹرٹینمنٹ کے لیے استعمال کرتا ہے۔ تیونس سے لیکر مصر ،شام ،لبنان،بحرین و ایران تک کا سفر انقلابات کی کامیابی و ناکامی میں کسی نہ کسی حد تک سوشل میڈیا کا ہاتھ بھی تھا کیونکہ نوجوانوں کی سیاسی سرگرمیاں زیادہ تر فیس بک و دیگر سائٹس کے ذریعے سے ہوئیں جو ڈکٹیٹر شپ کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوئے۔ان انقلابات کے پیھچے ایک گریٹ گیم کے ساتھ ساتھ یہ سوچ بھی تقویت پارہی تھی کہ دنیا میں نئی نسل ترقی و سماج کی تبدیلی کے اثرات کو قبول کرچکی تھی اور ایک نسل سے دوسری نسل کے درمیان جو سوچ و فکر کا فرق تھا وہ آہستہ آہستہ واضح ہو کر انقلاب کی شکل اختیار کرلی آج دنیا میں تمام سماج تبدیل ہو رہے ہیں اور بلوچ بھی اسی دنیا کا ایک حصہ ہیں بلوچوں پر بھی اسکے اثرات مرتب ہو رہے ہیں ایک طرف وہ سوچ موجود ہے جو کہ سیاسی حوالے سے پختہ شکل میں ہے لیکن اس میں تبدیلی نہیں لائی گئی ہے،جبکہ دوسری طرف وہ سوچ تقویت پار ہی ہے جس میں آئے روز تبدیلی آرہی ہے،بلوچ سیاست میں دو واضح گروپ کی صورت میں موجود ہے۔ اشارتاً یہاں پر بزرگ بلوچ سیاستدانوں کی بات ہو رہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف وہ نوجوان طبقہ ہے جن میں اس سوچ سے متاثر ہونے کے بعد ہزار گناہ تبدیلی آ ئی ہے ، ان دو سوچوں کے بعد ایک اور سوچ بھی وجود رکھتی ہے جو کہ سماج کے ساتھ تبدیل بھی ہو رہی ہے لیکن وہ سماجی رویوں و روایات کی پاسداری کرتی نظر آتی ہے۔ جبکہ چوتھی طرف ایک اور سوچ بھی موجود ہے ،جو تمام چیزوں سے واقفیت رکھنے کے بعد بھی خاموش انقلاب کی طرف گامزن ہے اور روایات کی بھی پاسداری کررہی ہے اور کسی حد تک روایت کو تھوڑ بھی رہی ہے۔ لیکن جس انداز سے انھیں توڑنے کی ضرورت ہے اس تک نہیں جارہا۔اب اس تمام عمل کے بعد ایک اور سوچ جو ریاستی اثر کے نیچے دب چکی ہے جسے حرف عام میں عوام کہا جاتاہے یہ طبقہ تمام سوچوں سے متاثر ہے لیکن یہ طاقت و حالت کے رحم و کرم پر اپنے آپکو ڈال لیتی ہے اور صرف انکی رہنمائی کرنی ہوتی ہے۔
یہ تمام باتیں بلوچ سماج کے سیاسی پہلووں کی طرف اشارہ ہے اگر ہم بغور جائزہ لیں تو ہمارے سامنے واضح ہوگا کہ نواب خیر بخش مری اور اس سے منسلک لوگ زیادہ تر وہی لوگ ہیں جو قبائلیت کے زیر اثر رہے ہیں اور اسی سوچ کے تحت تمام اعمال کو پرکھتے اور جانتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف حیر بیار اور اسکے سوچ کے وہ لوگ ہیں جو سماج کو سماج کی رفتار کے ساتھ تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور دنیا کی ترقی کے ساتھ اپنی رفتار بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ جبکہ تیسری طرف براہمدغ بگٹی اور اسکے دوست و اسکے فکر سے منسلک لوگ اس کوشش میں ہیں کہ قبائلیت پر کوئی آنچ نہ آئے اور جدوجہد اسی طرح سے جاری رہے اور چوتھی طرف ڈاکٹر اللہ نظر اور اسکے ساتھی اس سوچ کو تقویت دے رہے ہیں کہ خاموشی کے ساتھ کام کیا جائے اور سماج کے اداروں کو تبدیل کرنے سے زیادہ وہ مصلحت پسندی کا شکار نظر آتے ہیں اور سیاسی مسئلوں پر چھپ ہو کر انھیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ چکے ہیں اور چھپ کر سیاسی مسئلوں و تضادات پر لب کشائی کرتے نظر آتے ہیں لیکن جرات سے عاری نظر آتے ہیں۔
یہ تمام سوچ آزادی سے منسلک ہیں اور آزادی کے لیے ہی ہو رہے ہیں۔ لیکن ان میں تبدیلی کی کس حد تک ضرورت ہے اس پر ہر ایک کی رائے مختلف ہو سکتی ہے لیکن حقیقی و حقائق د لائل کی رائے اصل رائے ہوتی ہے کہ جس سے سماج کو تبدیل کیا جاسکتا ہے اگر آج یہ سوچیں کہ ایک سطح پر آکر ایک نہ ہو سکیں تو ممکن ہے کہ اسکی شکل خانہ جنگی کی صورت میں نمودار ہو کیونکہ ایک عشرے بعد وہ تضادات یا وہ انقلابی سوچ رکھنے والے جب ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے نظر آتے ہیں تو اس سے ظاہر ہے کہ یہ ایک دوسرے سے نزدیک ہونے کی بجائے دور ہوتے جارہے ہیں حکمت عملی و نظر یہ سے لیکر سوچنے کے انداز تک سب مختلف تھے اور ہیں۔ کیونکہ آزادی کے لیے جس نظریہ و سوچ کے تحت آپ انقلابیوں کی تربیت کرتے ہیں و ہ آنے والے سماج کے وہ ستارے ہونگے جو اس نئے سماج کو ایک ڈھانچے میں ڈالنے کی کوشش کریں گے۔ وہ تمام تضادات جو تحریک شروع ہونے کے وقت موجود تھے۔ اور انھیں وقت و حالات کے ساتھ تبدیل کرنے کی ضرورت تھی اور تمام تضادات وقت و حالات کے ساتھ تیزی کے ساتھ تبدیل ہو رہی تھیں تو عین وقت پر روایتی سوچ کے مالک سیاستدان علحیدہ سوچ کے ساتھ نمودار ہوئے جب ریفرنڈم کی بات سامنے آئی تو دوسری سوچ بھی واضح ہو کر سامنے آئی کہ ہم ریفرنڈم کی حمایت کرتے ہیں اور کچھ عرصے کے بعد جب چارٹر سامنے آئی تو تیسری سوچ بھی واضح ہو کر سامنے آئی کہ چارٹر ایک اچھا عمل ہے دوسروں کو اسکی حمایت کرنی چاہیے ، جب مزید آگے جاکر شہدا ء کے برسی کے حوالے سے بات سامنے آئی تو یہ سوچ بھی واضح ہو گئی اور تیرہ نومبر کے بعد باقی شہداء کی برسی منائی گئی۔ اب یہاں پر تمام سوچیں واضح ہوئیں۔ اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو یہ علحیدہ علیحدہ سوچ ہیں۔ اور انکا فرق واضح نظر آئے گا۔ نہ کہ سارے آزادی پسند و سرمچار نظر آئیں گے۔ لیکن انکے بیچ ایک بہت بڑی خلا موجود ہے۔ اور یہ خلا وسعت پارہی ہے۔ چارٹر کو نواب خیر بخش مری و براہمدغ بگٹی مسترد کرچکے ہیں۔ خیر بخش مری اب تک روایتی انداز میں اس پر اپنا کھلم کھلا اظہار نہیں کر رہے ہیں۔ لیکن بہت سے لوگوں سے ملاقات کے بعد انھوں نے بھی کچھ ایسا ہی اظہار کیا ہے کہ وہ چارٹر سے متفق نہیں ہیں۔ جبکہ براہمدغ بگٹی نے بھی مسترد نہیں کیا ہے۔ بلکہ ایک ریزرو سوچ کے تحت تحفظا ت کا اظہار کر چکا ہے۔ اب یہاں پر براہمدغ بگٹی اور نواب خیربخش مری کے سوچ کے پس منظر میں دیکھا جائے ، تو بہت سے لوگ اسکی ضرور گواہی دیں گے کہ ابھی تک قبائلی سوچ و روایتی سوچ سے انھوں نے چھٹکارہ حاصل نہیں کی ہے۔جبکہ دوسری طرف وہ سوچ جو کہ قبائلیت کے خلاف ایک متوسط طبقے کی نمائندہ لیڈر شپ ہے۔ جو کہ علم و شعور سے لیکر انقلاب کے نئے طریقوں و عمل کی بات کرتی نظر آتی ہے اور ایک مضبوط حلقہ اور مضبوط سوچ رکھتی ہے ۔ لیکن وہ بھی مصلحت پسندی کے شکار نظر آتے ہیں۔ایک طرف سیاسی لیڈر شپ پر حملے کرنے کا بھر پور جواز دیتے ہیں تو دوسرے طرف اپنے مخالفین کو قتل کرنے کی نفی کرتے نظر آتے ہیں۔قبائلی نظام کے خلاف ہے لیکن قبائلی سرداروں سے اپنے رشتوں کو دن بہ دن مضبوط کررہی ہے اور روایتی انداز میں جہد کو آگے لے جارہے ہیں۔اور قومی تضادات کو حل کرنے کے لیے بحث مباحثے سے گریز کرتے ہیں ۔ اور مصلحت پسندی اور انقلابی ہونے کے بیچ کا سفر طے کررہے ہوتے ہیں۔ اب یہاں وہ سوچ ان تمام کی نفی کرتا نظر آتاہے۔ وہ سوچ انقلاب کی برق رفتاری کے ساتھ سوچوں کی تبدیلی پر زور دیتی نظر آتی ہے اور ساتھ ساتھ مصلحت پسندی و قبائلیت کی توڑ کے طور پر اپنے آپکو متعارف کررہی ہے ایک طرف قبائلی نواب و سیاسی بزرگ نواب خیر بخش پر تنقید کرتی نظر آتی ہے تو دوسری طرف براہمد غ بگٹی و تیسری طرف ڈاکٹر اللہ نظر پر تنقید کرتی نظر آتی ہے۔ اور اپنے سوچ و فکر پر مضبوطی کے ساتھ ڈٹے نظر آتے ہیں۔ اور کھل کر ہر قومی مسئلے پر بحث کے دروازے کھول چکے ہیں جبکہ دیگر تما م ادارے و بلوچ قوم کا ایک طبقہ اسکی مخالفت کرتی نظر آتی ہے کہ اس سے مسئلے خرابی کی طرف جائیں گے اب ان حالات کا جائزہ لینے کے لیے یہ ضروری ہو جاتا ہیکہ ان تمام تنظیموں کے بیچ کا جو سفر ہے اس پر تحقیق و غور و فکر کی جائے تو کچھ چیزیں واضح ہو نگی کیونکہ آزادی کے حوالے سے سب ایک نقطے کی طرف رواں ہیں لیکن اس سفر میں اتاروچڑھاؤ کے بعد ہر ایک تنظیم کے فیصلے مختلف نظر آتے ہیں،اور تحریک کو ہر تنظیم مختلف زاویوں سے دیکھتا ہے اور یہی زاویہ نظر تحریک کی صحیح سمت و غلط سمت کی نشاندہی کرے گا۔ اب یہی نقطہ نظر جو تمام تنظیموں کی مختلف سمتوں کی نشاند ہی کرتا ہے اب ان حالات میں صحیح سمت کی نشاندہی کس طرح ممکن ہو سکتی ہے؟ تمام آزادی پسند ہیں اور جدوجہد میں سب کا کردار ہے کسی کا کم و کسی کا زیادہ لیکن سب عزت واحترام و قربانیوں کے حوالے سے ایک مقام رکھتے ہیں۔ اب اس صحیح سمت کی نشاندہی کے لیے کوئی متفقہ قومی ادارے کا وجود نہیں،اور دوسری طرف بلوچ دانشور جو کہ غیر جانبداری کے ساتھ فیصلہ کرسکتے ہیں انکی خاموشی اور خوف اور تحریک سے بیگانگی انکی کم زانتی کا ثبوت ہے اور تنظیموں کے اندر موجود ایک مضبوط فکر رکھنے والے لکھاری بھی کسی حد تک ہر ایک اپنی صحیح سمت پر ڈٹا نظر آتا ہے تو اس بیچ اس فرق کو کیسے اور کیونکر واضح کیا جاسکتا ہے؟اب اس بیچ کے تضادات اور مسائل کو جانچ و پرکھ کر دیکھا جائے تو ہر تنظیم کے حوالے سے دوسرے تنظیم کے خدشات نظر آتے ہیں۔ تو پھر یہ تمام مسائل کسی ایک نقطے کی طرف جانے کی بجائے منتشر نظر آتے ہیں۔ کسی کے لیے بی ایل اے قابل قبول نہیں اور کسی کے لیے بی ایل ایف، اسی طرح باقی سب۔ اب کیا یہ ضروری نہیں کہ اس پر سنجیدگی کے ساتھ سوچ بچار کی جائے اور اسی تناظر میں تحریک کے وہ تضادات و مسائل جو کہ ایک طبقہ ایک تواتر کے ساتھ مضامین کی شکل میں سامنے لارہا ہے اور انھیں سوشل میڈیا میں قوم کے سامنے رکھ رہا ہے تاکہ ان کیلئے ایک عوامی رائے کوہموار بنایا جاسکے اور اس کوشش میں ایک چیز یہ بھی واضح ہے کہ ایک طرف ان تنظیموں کے بیچ جو کمزوریاں ہے انھیں کھل کر بحث کرنے کے لیے ماحول پیدا کی جارہی ہے اور وہ لیڈرشپ جو کل تک اپنے آپکو اور بحثیت بلوچ قوم انھیں پیغمبری کا لقب دے رہا تھا اور کوئی انھیں بابائے بلوچ کہہ کر مخاطب تھا۔ ان پر سوالات اٹھ کر یہ ثابت کررہے ہیں کہ اب حقیقت و حقائق کے لیے شعور کی ضرورت ہے نہ کہ ایک روایتی سوچ کے تحت تحریک سے جڑجانا، بلکہ تحریک کے ساتھ جڑنے کے بعد ان تمام منفی و فرسودہ روایات کی نفی بھی ضروری امر ٹھہرا ہے۔ اب بی ایل اے سمیت تمام مزاحمتی ادارے قابل قدر ہیں۔ لیکن ان کی تمام کاروائیاں قابل قدر نہیں۔ یہ میری نظر ہے اسے کوئی متفقہ ادارہ دلیل و بحث مباحثے سے ہی کنڈم کرسکتا ہے۔اب ان حالات میں جہاں پر دنیا کی ترقی کے ساتھ سوشل میڈیا پر جب بحث و مباحثے کے لیے ماحول پیدا کی جاتی ہے۔ تو سوالات منفی یا مثبت دونوں صورتوں میں سامنے آتے ہیں۔لکھنے اور پڑھنے کے لیے ماحول پیدا کی جاتی ہے ۔ اگر ان حالات میں کوئی اس بحث مباحثے کو غلط سمجھتا ہے تو میری نظر میں وہ غلطی پر ہے۔ کیونکہ متفقہ ادارے نہ ہونے کی سبب آج ہر تنظیم علیحدہ شناخت و سوچ کے ساتھ اپنی جدوجہد کر رہا ہے۔ اور یہ تمام مسئلے اداروں میں حل نہ ہو سکے۔ تو پھر انکا حل کھلم کھلا بحث مباحثے کی ہی صورت میں ہو سکتا ہے۔ اور تنقید ہی وہ علم ہے جہاں سے نئے راستے و نئے سوچ متعارف ہو نگے اور فرسودہ روایتوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کھلم کھلا بحث مباحثے میں یہ اشد ضروری ہے کہ سیاسی اخلاقیات کے دائرے میں ہو۔ اور ہر وہ شخص جو کسی بھی طرح سے تحریک سے وابستگی رکھتا ہے وہ اس اخلاقیات کو اپنے اوپر خود لاگو کرے سیاسی اخلاقیات میں،انا پرستی ،بغض،ضد،بدنیتی کی گنجائش نہیں ہوتی ۔ بلکہ شرف و عزت کے ساتھ کسی پر انتہائی درجے کی سختی تک تنقید لازم ٹھہرتا ہے لیکن وہ زبان بھی سیاسی زبان ہو۔ نہ کہ پاکستانی ذہنیت رکھنے والی زبان ہوجو گالی گلوچ کی شکل میں واضح ہے۔ اب ایک بحث اور ساتھ ساتھ وہ تما م سیاسی ورکر جو کہ تمام چیزوں سے بخوبی واقفیت رکھتے ہیں ان پر فرض عائد ہوتا ہے کہ بے ہودگی سے لیکر وہ تنظیمی اصول جو کہ سب پر لاگو ہے ان کی پاسداری کریں اور اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھیں۔ تو اس بحث مباحثے میں ایک نتیجہ تک پہنچنا آسان ہوگا۔ سوشل میڈیا پر بحث مباحثہ اتنی بری بات نہیں کہ جسے ہم اس حد تک برا بھلا کہتے ہیں کہ یہ بحث کی جگہ نہیں، تو پھر میں یہ کہتا ہوں کہ سات سال پہلے جب سیاسی ورکر اور لیڈر ہوٹلوں میں بیٹھ کر اور عوام کے سامنے جلسے جلسوں میں اپنی فکر پیش کرتے تھے تو وہی فکر عوام تک پہنچ جاتی اور عوام میں بحث ہوتی تھی۔ لیکن اب وہ حالات نہیں رہے۔حالات بدل گئے سیاسی رویے بدلے ، جدوجہد کے طریقے بدلے، سیاسی مزاج بدل گئے۔اور خصوصاً وہ طریقے جو برسوں سے سماج میں رائج الوقت تھے اب چیزوں کوانھی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کہ حالات کے ساتھ اپنی جدوجہد کے طریقوں کے ساتھ سماج کی تبدیلی اور عوام میں سیاسی شعور کی بیداری کے لیے نئے طریقوں کی ضرورت ہے اور تمام سیاسی ورکر و پارٹیاں سمیت وہ ہمدرداں جو کہ ایک سوچ کے ساتھ تحریک سے وابستہ ہیں انھیں صرف میڈیا ہی کے ذریعے ہی شعور دی جاسکتی ہے تاکہ وہ کھلم کھلا اپنی سوچ و فکر کو دیگر اداروں تک پھیلائیں۔ آج میڈیا و دیگر وہ ذرائع جنھیں ریاست اپنے پروپگنڈوں کی شکل میں تحریک کے خلاف استعمال کررہی ہے ۔ اور آج یہی ادارے ہم اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اور اپنے تضادات کو کھلم کھلا اخلاقیات کے دائرے میں بحث مباحثے کی صورت میں حل کرسکتے ہیں۔اور وہ تضادات جنھیں سیاسی ورکر سمجھتے ہیں کہ بلوچ عوام ان سے ناواقف ہے یہ انکی خام خیالی ہے اور یہ ایک روایتی سوچ ہے کیونکہ عوام میڈیا کے ذریعے بہت سے مسائل و حالات سے واقف ہو چکے ہیں اور وہ تما م مزاحمتی تنظیموں کی کاروائیوں کے اثر اور انکے نتائج سے واقفیت رکھنے کے ساتھ ساتھ یہ اداراک بھی رکھتے ہیں۔ کہ بلوچ لیڈر شپ کے درمیان ایک خلیج ہے لیکن اس خلیج اور اس تقسیم کاری کو بھی انکا حق ہے کہ جان لیں پہچان لیں تاکہ آنے والے وقت میں انھیں یہ فیصلہ کرنے میں کوئی دقت نہ ہو کہ کون غلط و کون صحیح ،جب ایک مسئلے کو سرعام بحث کے لیے کھولا جاتا ہے تو یہاں پر تربیت کے حوالے سے لوگوں کی سوچ میں آہستہ آہستہ تبدیلی آتی ہے اس طرح نئے طریقوں نئے ذرائعوں سے فائدہ حاصل کرنا ہماری ضرورت ہے اور ہمیں اسے مثبت نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے اور وہ لوگ جو اسکی مخالفت کرتے ہیں انھیں ایک چیز ذہین نشین کرنی چاہیے کہ سماج میں ہر نئی چیز کو متعارف کرنے میں مشکلات درپیش ہونگے لیکن وقت و حالات کے ساتھ وہ لوگوں کے لیے عام ہو جاتا ہے۔ لیکن اس دوران ایک شرط سیاسی حوالے سے ضروری ہے کہ مسائل و تضادات کو کھلم کھلا سیاسی مسائل کی بنیاد پر بحث کرنا فرض ٹھہرتا ہے اور اس بحث میں نیت مثبت ہو نی چاہیے تو ہم اپنے ان قومی تضادات و قومی مسائل کو حل کرسکتے ہیں۔ آج جس صورتحال کا ہم شکار ہیں اور جس نقطہ نظر سے لوگ آج کے حالات کو دیکھ رہے ہیں ظاہراً یہ عمل ویہ بحث مباحثہ غیر سیاسی نظر آتاہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ یہ مسائل اداروں میں حل نہ ہو سکے اوراداروں میں چار سال جہد مسلسل کے بعد بھی حل نہ ہو ئے کیونکہ اداروں میں بھی روایتی طرز جہد حاوی ہے اور سیاسی مسئلوں کو بھی روایتی پسند و ناپسند و دوستی و عزیزی کی خاطر اپنی خواہش کے مطابق دیکھا جاتا ہے آ ج صورتحال یہی ہے اور حقیقی رخ بھی یہی ہے کہ قومی اتحاد و اتفاق کے بجائے سہانے خواب دیکھے جاتے ہیں بلکہ ایک چھوٹے سے علاقے میں اپنی طاقت و اثر کو دیکھ کر دوست خوشی سے پھولے نہیں سماتے کیونکہ انکی سوچ پختہ نہیں اور حادثاتی لیڈر بھی جہد کو اپنی خواہشات کے تابع کرکے ایک دوڑ میں لگے ہیں اور بلوچ عوام کے لیے سب قابل قدر ہیں لیکن بلوچ عوام انکی اصلیت سے ناواقف ہے اور حقیقت یہی ہے ان سولہ سالوں میں جہد آزادی کی جنگ تو رہی لیکن ادارے کی بجائے کردار مضبوط ہوئے اور یہی بلوچ جہد کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر غور سے تجزیہ کیا جائے۔ تو بی ایل اے و لشکر بلوچستان کا کوئی بھی نمائندہ منظر عام پر نظر نہیں آتا۔ لیکن بی ایل ایف کی حیثیت ڈاکٹر اللہ نظر بن گئی ہے اور بی آر اے کی صورتحال یہی ہے کہ اسکی ظاہراًلیڈرشپ واضح نہیں لیکن بی آرپی و بی آر ایس او کی صورتحال سے انکی بھی جہد واضح ہو کر آگئی کہ وہ ادارے سے زیادہ شخصیت کو فوقیت دے رہے ہیں اب ان حالات میں وہ تضادات جو کہ ایک عشرے سے موجود تھے اور ہیں انہیں حل کرنے کے لیے یہ ضروری ٹھہرتا ہے کہ بلوچ عوام کو آگاہی دی جائے کہ حقیقت کیا ہے کہ جن لیڈر شپ کو ہم قوم کا نجات دہندہ سمجھتے تھے انہوں نے اس جہد میں کیا کردار ادا کیا ہے ؟اور اداروں کے بدلے فرد بن کر فیصلہ کرنے لگے اب ان حالات میں بلوچ قوم خود فیصلہ کرے کہ اس حقیقت و ان حالات سے نظر چرائی جائے یا انہیں حل کرنے کے لیے بحث مباحثہ کے دروازے کھولے جائیں آج سوشل میڈیا میں جو بحث سامنے آتی ہے وہ حقیقت پر مبنی ہے کیونکہ اب کوئی دوسرا ذریعہ ہی نہیں کہ ان تضادات سے بلوچ عوام کو آگاہ کیا جاسکے

Friday, 7 June 2013

مکالمہ اور سوشل میڈیا .................... تحریر اسلم بلوچ .........................



کہتے ہیں کہ انسانی وجود ہرگز خاموش نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اسکی جھوٹے الفاظ سے پرورش ہو سکتی ہے بلکہ سچے الفاظ سے ہی اسکی نشوونما ممکن ہے جن کی توسط سے ہی انسان سماج کو تبدیل کرسکتے ہیں۔ یہاں ہمیں دو ہی قوی پہلو ملتے ہیں فکر اور عمل،یہ دونوں پہلو بنیادی تفاعل کے طور پر سامنے آتے ہیں جن میں سے اگر ایک کو بھی قربان کیا جائے یا پھر اس کے کچھ حصے ہی قربان کیے جائیں تو دوسرا فوری طور پر متاثر ہو جاتا ہے۔ لہذا کوئی بھی لفظ اس وقت تک سچا نہیں ہو سکتا جب تک وہ ایک معتبر عمل سے جڑا نہ ہو اس طرح سچا لفظ بولنے کا مطلب سماج کو تبدیل کر نا ہے حقیقت کو تبدیل کرنے کی اہلیت سے محروم جھوٹے الفاظ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے۔ اس کے عناصر ترکیبی پر دوہری تقسیم ٹھونسی جاتی ہے جب ایک لفظ کو عمل کے حقیقی پہلو سے محروم کردیا جاتا ہے تو فکر خود بخود متاثر ہوتی ہے تو الفاظ محض زبانی جمع خرچ ،بیگانگی اور بے فاہدہ بکواس بدل جاتے ہیں۔دوسری طرف اگر عمل امتیازی طور پر فکر کے ضیاں پر زور دے تو الفاظ اندھی بھاگ دوڑ میں بدل جاتے ہیں ۔فعل برائے فعل معتبر عمل کی نفی کرتا ہے۔ اور مکالمے کو ناممکن بناتا ہے وجود کی جھوٹی شکلوں کی تخلیق کے ذریعے دوہری تقسیم ہو تو فکر کی جھوٹی شکلیں پیدا ہوتی ہیں جو ابتدائی دوہری تقسیم کو مضبوط کرتی ہیں
مکالمہ ایک تخلیقی کام ہے ایسے ایک شخص کا دوسرے پر تسلط قائم رکھنے کے لیے چالاک آلے کے طور پہ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔مکالمے میں مضمر تسلط کو بے نقاب کرنے کے لیے مکالمے میں داخل ہونا چاہیے۔ یہ انسانوں کے آزادی کا عمل ہے مکالمہ ایک وجودی ضرورت ہے چونکہ یہ دو فریقین کے درمیان آمنا سامنا ہے جس میں مکالمہ کرنے والوں کے فکر اور عمل کا توازن ہی سماج کو مخاطب کرتا ہے ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ مکالمہ ایک شخص کے خیالات کو دوسرے شخص میں بطور امانت رکھنے کا کام ہو اور نہ ہی یہ سادہ خیالات کا تبادلہ خیال ہے۔جیسے شرکاء کو ہر حالت میں ہضم کرنا ہوتا ہے اور نہ ہی ایسے انسانوں کے درمیان مخالفانہ مناظراتی مباحثہ ہے جو اپنے سماج کو تبدیلی کے لیے تخلیقی خیالات دینے کی بجائے اپنی اپنی حقیقت کو زیر دستی ایک دوسرے پر ٹھوسنے کے لیے طلعہ آزمائی پراتر آئیں ہوں(موجودہ بلوچی سیاسی صورت حال پر غورو تحقیق)
تخلیق اور تخلیق نو کا عمل مکالمہ میں ہی مضمر ہے اور مکالمہ کے بنیادی مقاصد میں اگر سچی لگن اور محبت نہ ہو تو اس کا نتیجہ خیز ہونا ناممکن ہوتا ہے۔ کیونکہ مکالمہ کی بنیاد ہی محبت پہ استوار ہوتا ہے اس لیے یہ مکالمہ کرنے والے دونوں فاعلوں پہ فرض ہوتا ہے یہ تسلط کے رشتے میں کسی صورت بھی جنم نہیں لے سکتا اس کا نتیجہ خیز ہونا درکنار،اگر اسے تسلط کے رشتے کی بنیاد پر استوار کرنا ہو تو فریب ،چالبازی ،جھوٹ ،الزام ،بوتان اس کے بنیادی ستون ہو نگے۔
کیونکہ مکالمہ مشترکہ طور پر سیکھنے پھر عمل کرنے اور دوبارہ سوچنے کے بعد پھر عمل کرنے سیکھنے کے بعد پھر سوچنے ،سیکھنے سکھانے اور عمل سے رابطہ کرنے کا تسلسل ہے یہ سب کچھ مکالمہ کے بغیر ممکن ہو ہی نہیں سکتا ۔تسلط کے رشتے کے لیے لازمی فریب ساز باز محبت کے ضدہیں یا محبت کے لیے مرضیات کا مکمل انکشاف کرتا ہے۔
یعنی جبر کو لیکر کسی بھی سطح کے جابر میں سادیت پسندی ازخود کسی نہ کسی کو اذیت پہنچانے کا باعث بن جاتا ہے ۔ اور ضرور جابر اس سادیت پسندی سے لطف اٹھاتا ہے بالکل اسی طرح دوسری طرف ایک مغلوب شخص کسی بھی تسلط کے رشتے میں ذہنی اور جسمانی اذیت میں مبتلا ہونے کے باوجود خوشی کے احساس کا اظہار کرتا پھرتا ہے۔یہ دونوں رویے کسی صورت بھی مکالمے کو فروغ نہیں دے سکتے ،سچی لگن اور محبت ہر صورت جرات کا تقاضا کرتے ہیں نہ کہ خوف کا ،قطع نظر اس سے حقیقی کون اور کہاں ہے۔
اپنوں کے ساتھ سچی لگن اور محبت کا عمل ہی مقصد(آزادی) سے کمٹمنٹ ہے،سچی لگن چونکہ محبت سے لازم و ملزوم ہے اس لیے یہ مکالماتی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ایک دوسرے پہ برس پڑنا،الزامات
،جھوٹ اور بے بنیاد قصے کہانیاں ،کیا یہ سیاسی طرز فعل کے طورپہ تسلیم کیے جائیں میرے خیال سے ہرگز نہیں کیونکہ سچی لگن اور محبت کسی صورت بھی جذباتی نہیں ہوتے:۔
تو ضروری یہ ہے کہ ان غیر سیاسی حرکات کو آزادی کے جُز کے نام پہ ساز باز کے لیے ہر گز استعمال نہیں کرنا چاہیے۔انسانوں کے درمیان مشترکہ طور پہ سیکھنے اور عمل کرنے کا طریقہ کار اس وقت ٹوٹ جاتا ہے ۔جب دونوں فریقین (یا ان میں سے ایک) انکساری سے محروم ہو۔
یہ قابل غور ہے کہ دوسروں پہ ہمیشہ جہالت طاری کرنے والا کوئی بھی شخص کیا کھبی اپنے جہالت کا ادراک کرسکتا ہے ؟ہر گز نہیں میں کیسے مکالمہ کرسکتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو دوسروں سے جدا اور اعلی سمجھتا ہوں ان کو بے جان سمجھتا ہوں اور اپنے آپ کو قومی ادارے سیاسی ادارے سمجھتا ہوں اپنے آپ کو خالص سیاسی علم و زانت کا سرغنہ مالک سمجھتا ہوں۔ باقی تمام کو قباعلی سردار ،جاہل سمجھتا ہوں۔
اگر میں اس تمہید کے ساتھ شروع کرتا ہوں تو اس کا مطلب صاف یہ ہے کہ یہ سب صرف اور صرف میرا حق اور فرض ہے ۔ اگر میں اپنے آپ تک محدود ہوں ۔اپنے شرائط کے علاوہ (اجتماعی شرائط سے قطع نظر)دوسروں کی کردار اور شمولیت سے ٹھیس محسوس کرتا ہوں اگر مجھے اپنی جگہ سے ہٹنے کے احساس سے بڑی تکلیف ہوتی ہے ۔توپھر کیسے مکالمہ ہو سکتا ہے ذاتی استعداد کا مکالمے کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں،
جو لوگ مکمل انکساری کو لیکر اپنی تمام حقائق کے ساتھ اپنے عوام کے پاس نہیں جاتے اور دوسری طرف اپنے آپ کو سب کچھ سمجھنے کی خوش فہمی میں مبتلا ہو کر ایک لمبے سفر کی تیاری کو لیکر اجارہ داری والے عزائم رکھتے ہیں۔تو یہ ایک ایسے منفی رویے کو جنم دیتا ہے جو صاف ظاہر جاہلیت کی نشاندہی کرتا ہے ۔ مکمل دانائی کے لیے دعوی داری از خود بدبختی کی نشادہی ہے ۔ انسانی بقاء کے لیے سائنسی اصول کیا یہ نہیں کہ آپ سب ملکر جو کچھ جانتے ہیں اس سے زیادہ اور بہترجاننے کی جستجوکو لے کر ہر وقت کوشش کریں۔مکالمہ انسانوں پر گہرائی سے تعین کا مطالبہ کرتا ہے ۔ اس کے بننے اور دوبارہ بننے اور بار بار بننے تخلیق کرنے اور تخلیق نو کرنے کے لیے مکمل انسان بننے تک خدادا انسانی صلاحیتوں پر یقین کا مطالبہ کرتا ہے ۔یہ صرف چند لوگوں یا ایک گروہ کا استحقاق نہیں ہوتا بلکہ یہ سب انسانوں کا پیدائشی حق ہے ۔ انسانوں پر یقین مکالمے کی بنیادی شرط ہے۔ مکالماتی انسان دوسرے انسانوں کا سامنا کرنے سے پہلے اس بنیادی شرط پر یقین ضرور دکھتا ہے ۔یہ بھی ضرور ہے کہ اس کا یقین سادہ لوحی پر مبنی نہ ہو۔ مکالماتی انسان تنقیدی ہوتا ہے اور وہ یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ جتنے مسائل ہیں وہ انسانی تعلقات سے تعلق رکھتے ہیں چاہیے وہ روایتی ہوں سیاسی یا اقتصادی ہوں اور یہ انسانی اختیار میں ہوتے ہیں
ان سے ڈر اور خوف کیسا ؟اگر کسی بھی قسم کے خوف نے اس یقین سے محرومی کو ممکن بنایا تو مسائل میں مزید بگاڑ ممکن ہیں۔ تو اس بھاگ دوڑ میں ہمیں یہ بات کا یقین اچھی طرح ذہین نشین کرلینا چاہیے کہ آج کی ہماری محنت اور قربانیاں کہیں جگہوں سے گھوم پھیر کر پھر سے غلامانہ محنت اورغلامانہ قربانیاں بن کرتاریخ کا حصہ تو نہیں بننے جارہے ہیں کیونکہ ہمارا مقصد تو مکمل آزادی دلانے کے لیے محنت کرنا اور قربانیاں دینا ہیں۔ اس یقین کے بغیر مکالمہ ایک مذاق بن جاتا ہے جو بدقسمتی سے روایتی اور غیر اخلاقی او ر غیر حقیقی نعروں میں چالبازی اور چالاکی سے مسخ ہو جاتا ہے۔آج ان آفاقی حقائق سے انکار کسی بھی سطح پر ہو وہ تخلیقی جدوجہد سے انکار ہے۔اس سوال پر بھی اشد غور کرنے کی ضرورت ہیں کہ کیوں سوشل میڈیا کو آج ایسا ڈراؤنا بنایا جارہا ہے ؟اور کیا سوشل میڈیا سے ڈرانے والے لوگ اسکی اہمیت افادیت اور حقیقت کو مسخ نہیں کررہے ہیں؟میری ناقص رائے کچھ یوں ہے کہ شاہد یہ مکالمے سے فرار کی بنیاد ہیں کیونکہ ایک ایسا پلیٹ فارم جس کی وسعت ہزاروں بلوچوں کی شرکت سے منسلک ہے۔اور مکالمے کے لیے اتنے بڑے اور وسیع پیمانے پر خیالات کا تبادلہ خیال کیسے نادر اور سنہری موقع نہیں ہو سکتا ہے۔اس میں ہمارے لیے بدقسمتی والی بات تو یہ ہے کہ اس کے لیے نظریاتی اور سیاسی بنیادوں پر کوئی ضابطہ اخلاق موجود نہیں،یہ ایک ایسے گھنے جنگل کی مثل ہے جس کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اکثر و بیشتر درندے اور چرندے پرندوں کی بولی میں شکار کرتے نظر آتے ہیں۔گذشتہ کچھ عرصے میں بلوچ قومی سیاست کے حوالے سے جو بحث مباحثے نتیجہ خیز بننے کی بجائے الجھاؤ اور پیچیدگیوں کا شکار بنے ہیں ان کے واضع وجوہات ہمارے شعور طرز عمل رویوں کے ساتھ ساتھ کچھ سابقہ پوشیدہ جنگی اور سیاسی مایوس مجاہدوں کی بھی مرحوم منت ہے جو ایک فریق کے آڑ میں اپنی حقیقی میدان کے ناکامیوں کے باعث فرار کی ندامت کو مٹانے کے لیے غیر سیاسی طرز پہ دوستوں پہ سوالات اٹھا کراپنی دل کی بھٹراس نکالتے آرہے ہیں۔میری ناقص رائے یہ ہے کہ کسی بھی مسئلے بابت اسکی سیاسی پہلو سے ہٹ کر غیراخلاقی اور غیر سیاسی پہلووں جنکی وجہ سے الجھاؤ پیدا ہونے کے خدشات ہوں اجتناب برتا جائے ۔سیاسی مسائل پر سیاسی اندا ز میں بحث مباحثوں میں جتنی بھی الجھاؤ ہو وہ شاہد نقصان دہ ثابت نہ ہوں۔ان حالات میں قومی راز اور قومی سیاست سے جڑے اہم احوال کی اہمیت سے قطع نظر انکو افشاں کرنے کا شعور میرے خیال میں سب کو اچھی طرح ہے۔جو بھی جو کچھ کررہا ہے وہ اپنے اعمال و افعال کا مکمل ذمہ دار ہو گا۔

Saturday, 1 June 2013

ون پوائنٹ ایجنڈا

اسلم بلوچ (پیر پرستوں سے معذرت) کردار کے بغیر صرف شخصیت پر توجہ مرکوز کرنا ایسا ہے جیسے کہ کیلے کے پتوں کا جڑ کے بغیر نمو کرنا۔ اجتماعیت کیلئے کام اور ہمارے سیاسی معمولات میں آج صاف طور پر شخصی اثر و رسوخ کیلئے جوڑ توڑ اور حربوں کی جھلک نظر آ رہی ہے ۔ انہی حربوں کے سبب کچھ کردار صاف طور پہ عدم اخلاص کو لیکر دوغلے پن کا مظاہرہ کرکے ناخوش گواری اور بد اعتمادی کا باعث بن رہے ہیں ۔ یہ تو طے ہے کہ ایک بہتر اور مثالی سماجی نظام میں نہ تو کسی قسم کی سحر انگیزی سے اور نہ ہی لوگوں کو خوفزدہ کرکے کوئی کسی بھی قسم کی مستقل کا میابی حاصل کر سکتا ہے ۔ کیوں کہ سحر انگیزی اور خوفزدہ کرنے جیسے حربے طویل المدت انسانی تعلقات میں کوئی مستقل حیثیت نہیں رکھتے ۔ یہ حربے ثانوی قسم کے شخصیات اُبھارتے ہیں ۔ جن میں مکمل دیانت اور کردار کی مکمل قوت نہیں ہوتی ۔ ہو سکتا ہے ان میں سماجی روایتی مرتبہ ، شہرت ، دولت یا ہنر ہوتے ہوں۔ لیکن ان میں بنیادی اور حقیقی عظمت نہیں ہوتی۔ جسے آپ کردار کی خوبی کہہ سکتے ہیں ۔ سقراط کے بقول اس دنیا میں عزت و احترام کے ساتھ زندگی گزارنے کا زبردست طریقہ یہ ہے کہ ہم جیسا نظر آنا چاہتے ہیں با لکل ویسا بن کر دکھائیں ۔دنیا میں سب سے بری تعلیم جو ’’خود‘‘ کو مسترد کرنا سکھاتی ہے ۔ اس اعلی تعلیم سے بہتر ہے جو انسان کو سب کچھ تو سکھاتی ہے ۔ مگر خود کو مسترد کرنا نہیں سکھاتی ۔ انسان اپنے راستے میں خود بڑی رکاوٹ ہے ۔ کیوں کہ ذاتی خوائشات ، ذاتی مفادات ، ذاتی اشتہائیں اور ذاتی جذبات بہت زیادہ طاقتور ہوتے ہیں ۔ جب تک ان کو مسترد نہ کیا جائے یعنی خود کو مسترد نہ کیا جائے کوئی تعلیم و علم کارگر نہیں ہوتا ۔ ہر قسم کے اقدار آفاقی توازن کو لیکر تمام مسائل پر جب فطری قوانین سے ہم آہنگ ہوتے ہیں ۔ تو ان کے بابت دیانتداری کو لیکر بے لاگ ، بے باک اور صاف گو ہونا آسان ہوجاتا ہے ۔ بصورت دیگر ذاتی ترجیحات کو لیکر ذاتی مفاد و ذاتی کام کو اہمیت دی جائے تو لاز ما دوغلے پن اور عیاری کا سہارا لینا پڑتا ہے ۔ تو ایسے لوگ دیانتدار لوگوں کے مقابلے زیادہ پریشانی میں مبتلا رہتے ہیں ۔ جس کی تازہ ترین مثال بی آر پی کے سربراہ براہمداغ بگٹی کے تازہ ترین انٹرویو میں دیکھنے کو ملا ۔ جس نے بہت سے معاملات پہ پوشیدہ سوالات کو ابھار کر منظر عام پر لایا ۔میری رائے کے مطابق کچھ تو ہے جس کی پردہ پوشی کیلئے ایسے پر تضاد اور حقائق کے منافی موقف اختیار کیا گیا ۔ ذرا ان پرتضاد نکات پر غور کرتے ہیں جن کا ذکر براہمداغ بگٹی نے کیا۔ اول -: وہ چارٹر آف لبریشن کو زبردستی مستقبل کے بلوچ ریاست کا آئین قرار دے رہے ہیں ۔ میرے خیال میں ایک ادنی سا سیاسی کارکن بھی یہ سمجھ رہا ہے کہ چارٹر آف لبریشن نہ تو ریاستی آئین ہے اور نہ ہی عبوری آئین ہے ۔بلکہ جدو جہد آزادی کو لیکر چارٹر آف لبریشن کے تمام نقاط ایک بہتر سماجی ، سیاسی و معاشی نظام کے خدو خال ہیں ۔ جس کی ضرورت بیرون ملک کام کرنے والے دوستوں کو اس لئے پیش آئی کہ بلوچ تحریک بارے حمایت حاصل کرنے کیلئے سفارتی رابطوں کے دوران ( ون پوائنٹ ایجنڈا آزادی) کے علاوہ فلاحی و قومی ریاست بارے تصور کا با ضابطہ دستاویزی شکل ۔جس کو متفقہ بنانے کیلئے تمام آزادی پسندوں کے علاوہ نام نہاد قوم پرستوں تک پہنچایا گیا ۔ تاکہ وہ تمام اس دستاویز میں دو نقاط کے علاوہ باقی تمام نقاط میں ترمیم کی گنجائش کو لیکر بہتری لائیں ۔ تاکہ بین الا قوامی سفارتی رابطوں میں چارٹر کو ایک متفقہ دستاویز کی شکل میں پیش کیا جاسکے ۔ چارٹر کو زبردستی ریاستی آئین قرار دینا بچگانہ فعل سے مشابہت رکھتا ہے ۔ حالیہ انٹرویو میں وہ اپنے گروہی حرص کو اپنے متنازعہ بیان کی وجہ سے نہ چھپا سکے۔ انٹرویو کے اگر کچھ متضاد نقاط پر غور ہوتو ان میں یہ صاف نظر آتا ہے کہ خود نمائی ، تعصب اور ضد کو لیکر چارٹر مسترد کرنے کیلئے جو جواز پیش کئے گئے ۔ وہ پر تضاد ہونے کی وجہ سے اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑگئے ۔ جن میں اول نواب خیر بخش مری کی حالیہ حیثیت و کردار کے متعلق ۔ اور دوئم بی آر پی کی بحیثیت سیاسی پارٹی علمی و قانونی حیثیت کے متعلق ہیں ۔( ہمیں سیاسی حوالے سے اداروں کی اشد ضرورت ہے ۔ ادارے بھی وہ جن کو چلانے والے مختلف مرحلوں سے گزرے ہوئے چنیدہ افراد ہوں ، نا کہ روایتی طرز عمل کے پیداوار) براہمداغ بگٹی نے صاف طور پہ کہا کہ ایک فرد کی طرف سے مرتب کی جانے والی دستاویز (چارٹر آف لبریشن) کی میری پارٹی کے آئین اور منشور کے سامنے کوئی حیثیت نہیں ۔ چارٹر آف لبریشن کے نقاط کو لیکر اس کی حیثیت کو ہم چند لمحوں کیلئے نظر انداز کرتے ہوئے صرف اور صرف حیر بیار مری کی بحیثیت فرد کار ستانی قرار دیکر دیکھیں ۔ تو ہم مان لیتے ہیں کہ ایک پارٹی کی قانونی حیثیت کے سامنے ایک فرد کی کیا حیثیت ہے ۔ مگر شکوک دوبارہ اس متضاد جواز پر سر اُٹھاتے ہیں ۔ جسے دوسری سانس میں براہمداغ بگٹی پیش کرتے نظر آتے ہیں کہ نواب مری نے چارٹر کے متعلق حامی نہیں بھری ۔ تو ایک پارٹی کی علمی و قانونی حیثیت کے مقابلے میں نواب مری بحیثیت فرد کیا مقام رکھتے ہیں ؟ کیا نواب مری بحیثیت فرد پارٹی اور تنظیم سے بالا ہیں ؟ اور اگر واقعی ہیں تو یہ کن اداروں کی طرف سے عطا کردہ متفقہ اعزاز ہے ؟ اور اس اعزاز کے عطا کرنے کے واضح وجوہات کیا ہیں ؟ اور اس میں عوامی متفقہ رائے یا فیصلے کے ثبوت یا دلیل موجود ہیں ؟ چارٹر کو پارٹی کی سینٹرل کمیٹی میں غور و خوض کیلئے پیش کئے بغیر نواب مری سے تصدیق کروانا بذات خود ایک غیر سیاسی عمل کی نشاندہی کرتا ہے۔ (یہی وہ غیر سیاسی رویے ہیں جو ہمارے فکری یکجہتی و فکری ہم آہنگی کے خیال میں مزید پختگی لا رہے ہیں ۔ کیوں کہ یہ تسلسل سے روایتی طرز سیاست کے پیداوار ہیں ۔ جن سے دستبردار ہونے کیلئے یہ حضرات تیار نہیں ۔ اور یہی ہمارے تنقید اور اختلافات کی بنیادی وجوہات ہیں۔) اس حد تک اگر بحث مباحثے میں سیاسی رویوں اور علمی حوالے سے کھلا پن کا مظاہرہ کیا گیا تو آگے چل کر اور بھی کئی سوالات جواب طلب ہیں ۔جن میں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا چارٹر آف لبریشن کے قانونی اور سیاسی حیثیت بارے شکوک کو لیکر نواب مری سے رابطے کئے گئے ۔ اور نواب مری نے چارٹر کے قانونی اور سیاسی حیثیت کو لیکرچارٹر کو غیر موزوں قرار دے کر مسترد کیا ۔ اگر ایسا ہے تو اس کی نشاندہی اور عوامی سطح پہ وضاحت ضروری نہیں؟ دوئم -: کیا چارٹر کے نقاط میں سے چند متنازعہ یا متضاد شقوں کی نشاندہی اور ان پہ اپنے تحفظات بارے آگاہی اور بہتر ترامیم اور تجویز کیلئے نواب مری سے رابطے اورصلاح و مشورے ہوئے ان نقات کی وضاحت اور نواب مری کی طرف سے کسی بھی قسم کے صلاح و مشورے سے انکار اور چارٹر کو مسترد کرنے کی وجوہات کی وضاحت ضروری نہیں؟ سوئم -: ایسا تو نہیں کہ چارٹر آف لبریشن کو مرتب کرنے والے حضرات کے بارے کسی بھی قسم کی شکوک و شبہات کو لیکر نواب مری سے رابطے کئے گئے ۔اگر ایسا ہے تو ان شکوک کی وضاحت اور نواب مری کی طرف سے ان شکوک کی تصدیق اور ان کے بل بوتے پر چارٹر کو مسترد کرنے کی وجوہات کی عوامی سطح پر وضاحت کیا ضروری نہیں؟ اگر ان تمام سوالات کیلئے سیاسی رویوں کے ساتھ جلد از جلد کوئی تسلی بخش جوابات نہیں آتیں ۔ تو یہ سمجھنا شاید مشکل نہ ہو کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ پوشی کی جارہی ہے ۔ کیوں کہ ون میڈ شو بی آر پی ، بی آر اے ، بی آر ایس او اور بی آر پی خواتین وغیرہ کے ہوتے ہوئے چارٹر آف لبریشن کو اپنے اداروں کو مکمل نظر انداز کرکے نواب مری سے صلاح مشورے اور نواب مری کے حیر بیار مری سے واضح سیاسی رشتے کے باوجود براہمداغ بگٹی کا اپنے متنازعہ معمولات میں نواب مری کا سہارا لینا کہیں پر متحدہ جیسے شوشہ میں ان کے نام کا سہارا لینا اپنے اندر بہت ہی معنی خیز اشارے رکھتے ہیں ۔ ان کی وضاحت بہت ضروری ہے ۔ اگر ان تمام باتوں کی نواب مری کی طرف سے وضاحت نہیں ہوتی ۔ تو میرے جیسے کند ذہن سیاسی کارکنان یہ سمجھنے میں حق بجانب ہونگے ۔ اول یہ سب کچھ قومی تحریک میں فکری یکجہتی کے حوالے سے ہم آہنگی اور ہم خیال لوگوں کو لیکر نئی صف بندیوں کا حصہ ہیں ۔ جس کے امکانات بہت ہی کم ہیں ۔ یا پھر روایتی طرز حیات ، روایتی منصب اور علاقائی و قبائلی مفادات کو لیکر قومی تشکیل کے سفر میں ذاتی غرض و مفادات سے دستبردار نہ ہونے کے عمل بارے فکری ساتھیوں کو بلیک میل کرنے کے حربے ہیں۔ شخصی اثر رسوخ کو لیکر جوڑ توڑ کے اشارے فکری ساتھیوں کیلئے بہت بڑا چیلنج ہیں ۔ ان کو کسی صورت ان حربوں کو خاطر میں نہیں لانا چاہیے ۔ کیوں کہ یہ اپنے نظریات کو روایتی طرز حیات کے حوالے کرنے کے مترادف ہوگا ۔ ان کو تنقید ، بحث مباحثے ، تحقیق کیلئے تیار رہنا چاہیے ۔ اور سب سے بڑھ کر مثبت مقابلے کے رجحان کو لیکر منفی اور غیر سیاسی رویوں کی حوصلہ شکنی کیلئے ہر وقت کمر بستہ رہنا چائیے۔ بشکریہ