Sunday, 21 July 2013

تعمیری جدوجہد سے خائف مڈل کلاس قیادت ! .. (باغی میر)




انسان اس کی آزادی اورتکمیل انسانیت کو لیکر روز اول سے تجربے مشاہدے اور مراکبے ہوتے رہے ہیں تاہم ان سب کی نتیجے میں انسان سے متعلق بہتر زندگی یا پھر اس بابت ضابطے مختلف ضرور ہیں تاہم ان میں انسانیت کو اعلی درجہ حاصل ہے
انسانی آزادی کے جدوجہد کا ہر مر حلہ تعمیر اور تکمیل انسانیت کی جانب رہنمائی کا ضامن ہو تا ہے ۔ رویوں اور مزاج میں تبدیلی ، انسانی شعور نفسیاتی اور اعصابی پختگی اسکا حاصل وصول ہوتے ہیں ۔آزادی محض شعور سے نتہی عمل ہے جو خو دشناسی اور انسانی عمل کے ناطے انا خود فریبی اور خود کو دوسروں کی ضرورت کی خواہش کے خاتمے کاباعث ہوتا ہے ۔غلامی میں جہاں انسان کی انسان ہونے کی نفی کی جاتی ہے وہاں بہت سی بیماریاں بھی غلام کے حصے میں آجاتی ہیں ۔جو غیر محسوس، نفسیاتی اوذہنی نوعیت کی ہوتی ہیں۔جس کے تحت قابض کی خصلتیں غلام کی خواہش اور اس کا منزل ٹھہرتے ہیں جس کی پیروی میں وہ اپنے اندر پیچیدگیوں کا شکار ہوتا ہے اور سماج میں ان رویوں کا ضامن محافظ اور ان کا پیرو بن جاتاہے ۔آزادی کا شعور ہی علم زانت اور تخلیق پر مبنی قابض کی خصلتوں اور اس کی ہر غیر انسانی عمل کی نفی کا باعث ہوتا ہے ۔غلامی کی خصلتوں میں سے ایک بڑی بیماری تبدیلی سے خوف ہوتا ہے جس کی بدولت غلام اپنی وجود کو قائم رکھ کر تبدیلی کے سامنے مزاحم رہتا ہے اوروہ بظاہر آزادی کی جدوجہد سے وابستہ رہتا ہے لیکن اسکا مطمع نظر قابض کی جگہ پالینا ہوتا ہے تبدیلی یا آزادی کے تقاضوں سے وہ بالکل نا واقف رہتا ہے ۔شعور ہی آزادی کا نعم البدل اور تبدیلی کا وجہ ہوتا ہے آزادی ردعمل سے بڑھ کر شعوری عمل ہوتا ہے اورجو عمل شعور کے تابع ہو وہا ں ہر لمحہ تبدیلی کے لئے تیار رہنا پڑھتا ہے جدت اس جدوجہد کی بنیاد ہوتی ہے۔لیکن جہاں ردعمل ہی بنیاد ہو وہاں علم نہیں جنگ انتقام اور قابض کی جگہ منصب کو پانا ہی منزل اور مطمع نظر ٹھہرتے ہیں ۔علمی جدوجہد ہمیشہ منظم اداروں کا شیوہ ہوتا ہے اور تنظیم ہی قوم اور پیروکاروں کی رہنمائی اور ان کی ترجیحات کا تعین کرتی ہے اور پیش بینیوں کی خاصیت کی بنیاد پر ہر اس عمل کے لئے تیار رہتا ہے جو اسے جدوجہد کے کسی بھی مرحلے میں سنجیدگی اور علمی پہلو سے روگردانی نہیں کرنے دیتی اور ہمیشہ تخلیقی عمل کے ذریعے قومی تعمیر کر تی ہے ۔بلوچ جدوجہد میں اداروں اور علمی اعتبار سے جدوجہد کے ضامن بی ایس او آزاد بی این ایم موجود ہیں اوردوسری جانب سے ڈاکٹر اللہ نذر کو مڈل کلاس نوجوان رہنماء کی بنیاد پر اس میدان میں نمایاں کردار ادا کرنا تھا کیونکہ (بقول بعض دوستوں کے )دوسری جانب حیربیار مر ی اور براہمداغ بگٹی کے ساتھ نواب کا لاحقہ موجود ہے اور ان کے پاس قابل بھروسہ اداراہ بی ایس او کی تربیت کا سرٹیفکیٹ بھی تو نہیں ایک اور بڑا مسلہ کہ وہ وطن سے دور یورپ میں ہیں جس سے ان کی حب الوطنی بھی کامل نہیں ہو سکتی (دوسری جانب ڈاکٹر اللہ نذر کا یہ قول جو انکی مقبولیت اور ان کی حب الوطنی کا سب سے بڑا ہتھیار ہے ۔۔۔کہ میرا جینا مرنا بلوچستان میں ہے میں یورپ نہیں جاؤنگا )اور سب سے بڑھ کر بی ایس او کی تا حیات چیرمین شپ کا لاحقہ بھی اسکی علمی حب الوطنی اور نظریاتی ہونے کا ثبوت ہے ان تمام خصلتوں کے بعد ڈاکٹر صاحب کو تو علمی، حب الوطنی ،موجودگی ،اور مڈل کلاس کی سرٹیفکیٹس کے ساتھ قیادت کا پورا حق حاصل ہے جبکہ اس کے مد مقابل حیربیار کے تنظیم کو موجودگی کی بنیاد پر بندوق برداروں کی قیادت علمی اعتبارسے قبائلی قیادت مڈل کلاس کے حوالے سے قبائلی یا پھر ذاتی سنگتوں کی قیادت اور اداروں کے اعتبار سے چھوٹے سرکلوں کا سہارا ہے انہیں کیونکر قیادت علمی حیثیت اداروں کا سرٹیفکیٹ اور نظریاتی ہونے کی قبولیت دی جاسکتی ہے ۔(یہاں یہ بات تلخ حقیقت ہے کہ جب حیربیارکے یہ قبائلی، اداروں کی تربیت سے محروم بندوق بردار آزادی کے شعور کو پا کر اس کے حصول کیلئے افغانستان اور بلوچستان میں برسر پیکار تھے تو ہماری آج کی مڈل کلاس کے نظریاتی ڈاکٹر اللہ نذر اس وقت بھی بلوچستان میں موجود بذرگ سیاستدان ڈاکٹر حئی کی قیادت میں صوبائی خودمختاری کو بلوچ کے مسئلے کا حل اور اس کے لئے محو جہد تھے وہ تو بلا ہو ڈاکڑ حئی صاحب کا کہ جس نے بی ایس او کی چیرمین شپ نہ دیکر ڈاکٹر صاحب کو رد عمل میں ان قبائلی آزادی پسندوں کا ہمنواء بنا دیا ۔واجہ خلیل صاحب کی تاریخ تو علم زانت اور نظریاتی اعتبار سے شاید ہی کسی سے ڈھکی چپی ہو جہاں خاران ہاؤس کا وہ قبائلی سردار(سائیں )ان کا قبلہ و کعبہ ہوا کرتے تھے اب وہاں سے سیاسی نظریاتی تربیت پانے والے خلیل صاحب کیسے ایک بندوق بردار حیربیار کے تنظیم کے بندوق برداروں کے ساتھ سیاست کر سکتے ہیں ۔تب جب یہ بندوق بردار آزادی کی جدوجہد میں مصروف تھے تو اس وقت سائیں کے محفلوں میں پارلیمنٹ کے لیکچر دینے والے خلیل جان کا بھی ان قبائلی آزادی پسندلوگوں سے ہمنوائی بھی بالکل ڈاکٹر اللہ نذر کیطرح بی ایس او کی چیر مین شپ نہ دینے کا ردعمل ہی ہے ۔یقیناًاب یہاں بھی وہ ہی معاملہ درپیش ہے ۔۔۔قیادت کا۔۔۔ تو میری حیربیار کے دوستوں سے دست بستہ اپیل ہے کہ ڈاکٹر صاحب اور خلیل جان کے سیاست کی بنیادی ضروریات کو مد نظر رکھ کر ان کی لاڈلے بچے کی طرح کے فرماہشوں پر در گزر کر لیں کہیں یہ پھر رد عمل میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلوچ جدوجہد میں انسانی آزادی کے اعلی شعوری عمل کو لیکر آج اگر تعمیر اور قومی تشکیل کے لئے کوششیں ہو بھی رہی ہیں تو ان ہی حیربیار کے قبائلیوں کی جانب سے ۔حیربیار کے تنظیم کے ان دوستوں سے تو میر ی کوئی واقفیت نہیں کہ جو علمی اعتبارسے یقینابہت پختہ ہونگے قائدانہ صلاحیتوں کے مالک اور تنظیم میں انکی ایک اعلی حیثیت ہوگی البتہ ایک عام فرد اسلم بلوچ جو کہ یقیناًمر ی قبیلے سے تعلق نہیں رکھتے محض حیربیار مر ی کے نظریاتی ساتھی کے طور پر آج کل ان مقدس اداروں کے علمی دوستوں کے فحش اخلاقیات سے گری القابات کے زد میں ہیں پر آج رشک بھی آتاہے اور توڑا بہت جھلس بھی ہوتا ہوں اسلم بلوچ سے کیونکہ ان کی سیاسی زندگی پر نظر دوڑانے پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلم بلوچ نہ تو بی ایس او میں رہے نہ ان مقدس اداروں میں تربیت پائی پھر بھی آزادی کے شعور کو مجھ جیسے بی ایس او کے تربیت یافتہ کارکنوں سے قبل ہی نہ ٖصرف پا لیا بلکہ اس کے حصول کیلئے جد وجہد بھی شروع کی آج بھی ان مقدس اداروں سے قبل ہی جدوجہد کے مرحلوں کو جان کر تعمیر تشکیل کے لئے اس قدر کوشاں ہیں کہ مقدس ادارے بھی ان کی اس عمل پر اپنی ناکامی اور نالائقی کو چھپانے کی خاطر حواس باختگی میں ان کی کردار کشی کر رہے ہیں میں جھلس ہوتا ہوں کہ ہم تربیت کا گن گاتے نہیں تکتے پھر ایک ذاتی شعور کے حامل اسلم بلوچ کی شعوری پختگی کو کیوں نہیں پہنچ پاتے کہیں سابقہ چیئرمین حضرات، اسلم کی علمی عسکری اور قائدانہ صلاحیتوں سے خائف تونہیں یقیناًمڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے اسلم بلوچ آج ہر محاذپر اپنی ذاتی صلاحیتوں سے وہ مقام حاصل کر چکے ہیں جو اس طویل دورانیے کے بعد ہمارے اداروں کے تربیت یافتہ قائد حضرات پانے سے محروم رہے ۔ ذاتی تشعیرہیرو ازم اور تمام تر خود نمائش کے عمل سے دور علمی جہد اور تخلیق کار کے طور پر آج تاریخ میں نمایاں ہورہے ہیں ۔شاید انکی مڈل کلاس حیثیت اور ان کی علمی زانت آج ہمارے مڈل کلاس ہیروز کو پسند نہیں یا شاید میری ٖطرح جھلس کا عنصر انکی طرف سے بھی فحش القابات کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔
جدوجہد آج زانت علم اور تعمیر کے تحت ہورہی ہے جس میں روایت پسندی ہیرو ازم خود نمائشی اور غلامی کی بیماریوں میں الجھے ذہنی پیچیدگیوں کے شکار سوچ کی گنجائش نہیں ۔آ ج اگر کوئی اداروں کو مقدس اور مذہب کا درجہ دیکر اپنی ذات کی بقاء اور خود نمائشی کیلئے استعمال کرنے کو ہی قومی نجات سے تعبیر کرتی ہے تو آج کی شعوری جدوجہد ان کی ذہنوں پر پڑی مٹی کو ہٹانے کیلئے کافی ہو نا چاہیے ۔ذاتی شعور اور تخلیق کے انفرادی عمل کے نکتہ نظر کے تحت آج آزادی کا عمل اپنے تعمیری اور قومی تشکیل اور رویوں اور مزاج کی تعمیر کے مرحلے سے گذر رہی ہے جدوجہد کے تعمیر ی مرحلے میں مزاحم رہنا خود کے ذاتی انا کے مٹ جانے کے خو ف کا اظہار ہے اسے ختم کئے بغیر ہم انفرادی اور اجتماعی آزادی کے عظیم عمل کو نہیں پا سکتے۔
— with Buzgar Gat and 19 others.

Saturday, 20 July 2013

قومی ادارہے کی بربادی ۔۔۔اور سینہ زوری جبران قمبر بلوچ


15جولائی 2013 کو ڈیلی توار کے ارٹیکل پیج پہ ایک مضمون چھپا جس  میں درشان بلوچ تھا اور ارٹیکل کا 
نام تھا (بی ایس او کو تھوڑنے کی سازشیں) مضمون کا نام دیکھ کر ہی اندازہ ہو گیاتھا کہ اگے پڑھنے کو کیا ملے گا۔ لھکنے والے نے مضمون کا نفص سے زیادہ حصہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کی تعریف میں گزار دی  مضمون  کا یہ حصہ پڑھ کر یہ تو پکا ہوگیا تھا کے لھکنےوالا اُس دربار کا مرید ہیں جس میں سوال کرنا گناہِ کبیرہ ہیں خیر لکھنے والے درباری نے یہ تو واضح کر دیا کہ بی ایس او ازاد کے کارکنان جو الزام مرکز پر لگا رہیں ہیں وہ کسی حد تک سچ ہیں۔ مجھے بھی مسلئے کو سجھنے میں رہنمائی ملی اور پھر مضمون کا کچھ حصہ بی ایس او کے تاریخ کے بارے میں بیان کیاگیا جس میں ڈاکٹر فیکٹر بہت کثرت سے شامل تھا۔ لیکن مجھے حیرت تب ہوئی جب بی ایس او ازاد کا وہ چمکتا دور جس میں بی ایس او ازاد نے تاریخی کامیابیا ں حاصل کی کا بلکل بھی ذکر نہیں تھا اس عمل کو میں خالص بدنیاتی اور تاریخ کے ساتھ دشمنی سمجھ تھا ہوں ڈاکٹر صاحب کا کردار ہمارے لیے صد قابلِ قدر ہیں مگر بی ایس او کی اس کامیابی کے پیچے صرف اُنکا ہاتھ نہیں 2006 سے 2010،2011 تک جو خدمات چیئرمین بشیرزیب نے سر انجام دے ہیں اُنکی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی اج ذاکر جان دشمن کے ہاتھوں میں ہیں نا جانے کس حال میں ہیں لیکن میرے موجودہ قائد اُنھیں بار بار سابقہ یا فارغ دوست جیسے ناموں سے پُکار تے ہیں اُنھوں نے کس حق سے ذاکر مجید کو فارغ کرار دے دیا ؟ درشان بلوچ شاہد یہ بھول گیا تھا کے اج جو کارکنان سوال اُٹھا رہے ہیں وہ دوست اس مشکل وقت میں بی ایس او کے ساتھ کھڑے تھے ریاست کے کُشت ہ خون ریاست کے درندگی جن دوستوں کوتحریک سے جدا نہ کر سکی اج درشان بابو کی نظر میں وہ دوست واحد رحیم اور سمیع روف جیسے قوم دشمن ہوگئے؟ افسوس ہوتا ہیں جب حق پہ سوال کرنے والے غدار اور اداروں کو برباد کرنے والا قومی لیڈر بن جاتے ہیں یہ خالصتاں غیر انقلابی عمل ہیں اس جنگ میں غلطی کے بعد خاموشی مصالیت پسندی شخصی دِفا تحریک کے ساتھ ناانصافی ہیں  
2006 کے سیشن میں اُس وقت سنگل بی ایس او تھا الیکشن کمیٹی میں سابق چئرمین امان سابق چئرمین امداد سابق چئرمین اصف تھے سیشن کی کاراوائی چل رہی تھی دوستوں نے روایاتی انداز میں مختلف عہدوں کے لیے نام لکھوائے چئرمین شپ کے لئے واجہ بشیرزیب اور محی الدین نے نام لکھوائے پھر الیکشن ہوا سنگت بشیرزیب کامیاب ہوگئے محی الدین نے ناکامی تسلیم کی اور بعد میں اعتراض کیا کہ میرے ساتھ نا انصافی ہوئی ہیں خیر بشیر زیب چئیرمین سنگت ثنائ وائس چئیرمین گلزارامان سکٹیری جرنل اور ذاکر مجید جوائنٹ سکڑی بنے بعد میں گلزار امان نے محٰی الدین کی بنائی بی ایس او میں شامولیات کی تو اُن کا عہدہ خالئ ہوگیا تو اسبِ رِوات زاکر مجید سکٹیری جرنل بن گئے چونکے واحد رحیم اور محی الدین بی ایس او کا اپنا دڈھا پہلے ہی بنا چُکے تھے موجودہ بی ایس او ازاد بی ایس او بشیر زیب کے نام سے مشہور ہونے لگی تب چئرمین بشیرزیب نے دوستوں کو مشہوارہ دیا کے بی ایس او بشیر والے تعصُر کو رُکنا ہوگا اور بی ایس او کا افیشل نام بی ایس او سے بدل کر بی ایس او ازاد رکا گیا اور یہاں سے بی ایس او کی تاریخی دور کا کامیاب سفر شُروع ہوا 2 اگست 2006 شہید مجید لانگو کے برسی کے دن بی ایس او ازاد کی جانب سے قلات میں حلف برداری تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں چئیرمین بشیر زیب نے ازادی کے واضح پالیسی کے ساتھ ساتھ بی ایل اے بی ایل ایف خیربخش مری اکبر بگٹی کے قومی پرُگرام کی عملَ حمایت کااعلان کیا ۔ پھر سنگت ثنائ چیرمین بشیر زیب سنگت ذاکر مجید اغا عابد شاہ اور دیگر ساتھیوں کے انتق محنت اور ثابت قدمی سے اج بی ایس او ازاد ایک قابلِ بھروسہ ادارہ بن گیا۔پھر کامیاب حکمتِ عملی سے عوامی حمایت حاصل کی اور تحریک کو کامیابی کی جانب گامزن کیا۔جس میں ازادی کا واضح پروگرام ہر بلوچ گدان تک پہنچانا۔غلامی کے خلاف نفرت 27 مارچ اور 11 اگست جیسے دنوں کو عوام سطح پر لانا۔اور ایک کامیاب سپوتازمعم کا اغاز کرنا جس میں ریاست کا جینا حرام اور لاکھوں روپے کا نقصان شامل ہیں۔
اب بات کرتے ہیں موجودہ مسائل پر بنیادی طور پر دیکا جائے تو یہ مسلے حالیہ سیشن کے بعد سے شروع ہوئے ہیں سب سے پہلے تو کونسلر چوننے کا ایک ائینی عمل ہوتا ہیں جو اس لیے ہوتا ہیں کے اُس میں زون کے قابل اور سمجھدار دوستوں (جن کا تعُین زونل دوست کرتے ہیں) کو مرکزی سیشن تک لیجانا اور بی ایس او کی پُالیسی میکنگ میں اُن دوستوں سے صلہ و مشورہ کرنا ہیں اگر دیکھا جائے تو ائینی کاموں میں یہ سب سے اہم عمل ہوتا ہیں اور سب سے حساس بھی اگر کوئی اس عمل میں کوتائی کرے تو میں یہ سمجتھا ہوں کے وہ شخص بی ایس او اور قوم دونوں کا مجرم ہیں۔ بی ایس او کی موجودہ مرکز نے یہ جرم بہت بڑے پیمانے پر کیا ہیں مرکزی کونسلروں کو باغیر خبر کیے مرکزنے اپنے پسند کے درباروں کو جمع کیا اور ایک محفل سجا دی اس محفل کا نام مرکزی کونسل سیشن رکھا گیا ۔ سیشن ختم ہونے کے بعداخبارات میں خبر ائی کے بی ایس او ازاد کا قومی کونسل سیشن ہوریا ہیں ۔ دوستوں سے پُھچا گیا کے کونسلر وں کے بجھا ئے دوسرے غیر فعال دوستوں کو کیوں لیکے گئے ہو ؟ تو جواب ملا کے سیکورٹی ریزنس تھے جس کی وجہ سے جلد بازی کرنی پڑھی اور سارے عمل کو خفیہ رکھا گیا تھا دوستوں نے سوچا کے دوستوں کی جان کا مسلہ ہے تو سوال کرنا چھوڑ دیا مگر کچھ وقت کے بعد جلسے ریلیہ مظاہرے سب برپور انداز میں شروع ہوگے تو یہاں دوستوں نے سوال کرنا شروع کیا کےاخر کیا وجہ تھی کے سیشن خفیہ رکھا گیا تھا سیشن نے فیصلہ بھی کیا تھا کےراضداری سے کام کرینگے تو اب کیا ہوا ؟ پھر بی این ایم سے رشتے مزید مضبوط کیے گئے۔درحقیقت بی این ایم کی لیڈرشپ بھی اسی انتظار میں تھی کی کب بی ایس او کا سیشن ہوں اور بشیرزیب کی کابینا ختم ہو ۔ اور بلوچ خان کا کابینہ بنے اور ہم اُنھیں استعمال کر سکے اور پھر سیشن کے بعد وہ ہی ہورہا ہیں جس کا منصوبہ پہلے سے تیار تھا۔ مرکز کے چار عہدِداروں کے ان غلطیوں کو تمام دوست بخوبی جانتے اور سمجتھے ہیں۔شاہد وہ ان کے خلاف لکھنے کو بی ایس او کے خلاف سمجھ رہئے ہیں۔ لیکن ایک بات میں واضح کرتا چلوں کہ  چار درباریوں کے خلاف لکھنے کو بی ایس او ازاد کے خلاف نہ سمجھا جائے یہ وہ لوگ ہیں جو کل تک بشیر بشیر کا وِرد لگائے ہوئے تھے اج کل ڈاکٹر خلیل منان کا وِرد لگائے ہوئے ہیں براہوئی زبان میں ایک کعاوت ہیں کہ (ہر دولاِ چاپ خلِنگ)۔بلوچ خان نے اپنی یاری نبانے کی خاطر قومی ادارے کو برباد کردیا ہیں۔ بلوچ خان اب کبھی بھی بشیر زیب کی جگہ نہیں لے سکتا بشیر زیب کے دور میں ہم اپنے سابقہ چئیرمین کو قومی لیڈر اور اُن کے خلاف ایک لفظ برداشت کرنے کو تیار نہیں تھے مگر اج بلوچ خان کے محفل میں بشیر زیب کو گلیاں دی جاتی ہیں ۔ بشیر زیب کے دور میں تمام ازادی پسند تنظیمں ایک جتنی قابلِ قدر تھی مگر اج بی ایس او کی سی سی میٹنگ میں بلوچ خان یہ کِہتھے ہوئے زرا بھی شرم محسوس نہیں کرتا کے بی ایس او کے دوست بی ایل اے سے کسی بھی طرح رابطہ نہ کرے اگر کرنا ہی ہیں تو بی ایل ایف سے رابطہ کرے۔اب ہمیں کیا پتہ تھا کے بلو چ خان کی خلیل اور منان سے یاری شہ مرید کے اختر ندیم سے دوستی بانک کر یمہ کی کسی سے رشتے داری ہماری بربادی ثابت ہوگی۔ ان لوگوں نے اس عظیم قومی ادارِے کو اپنا میراث سمجھ رکھا ہیں جب چاہیے جو کرے اور اگر کوئی ان سے سوال کرئے تو درشان بلوچ جیسے سیاسی چمچے اُنھیں غدار کرار دیتے ہیں۔ مگر ہمیں غداری کا لقب منظور ہیں لیکن قومی وِرثے کی بربادی نہیں۔،اپ اگر غلط کام کروگے تو اس عمل پہ مذامت تو ہوگی، ویسے بھی انقلابی لوگوں کے لئے مایوسی کفر ہیں بلوچ خان اینڈ کمپنی کے سُبق کاموں کو تسلیم کرنا اور پھر ان لوگوں کے بھروسے تنظیم کو چھوڑ دینا بلوچ شہدائ اور اُنکے مقصد سے نا انصافی ہیں  
میری دردمندانہ اپیل ہیں میرے نظریاتی دوستوں سے کے مرکز کے غلط عمل کے خلاف اوازبلند کرے سوال کرے۔ غلط کو غلط کہنے کی ہمت ہر ازاد خیال انسان میں ہیں اور اپ اُنھی ازاد خیال انسانوں میں سے ہو۔چار عہدے داروں کے غلط فیصلوں کے خلاف لکھنا یا کسی فورم پہ سوال کرنا ہم سب کا قومی فرض ہیں۔  اگر اج ہم خاموش رہیں تو شاہد ہمارے چار عہدےدار ہم سے خوش ہونگے مگر تاریخ نہیں۔
                                                                                                               درشان بلوچ جیسے لوگوں کے لیے!
قلم بہت ظالم چیز ہے اگر اسکا غلط استعمال ہوا تو یہ بربادی ہی بر بادی لاتی ہیں اگر اج ہماری رسائی قلم تک ہیں تو ہمیں اسکا سوچ سمجھ کے استعمال کرنا چاہیے۔

قومی ضرورت شعوری جدوجہد ..................... اسلم بلوچ


.قومی تحریک میں جدوجہد کے حوالے سے عملی طور پر مختلف مراحل سے گذارنے کے بعد گذشتہ تمام عرصے میں نسبتاً کم مگر حالیہ کچھ عرصے سے میرے ذہن میں یہ خیال مزید تیزی سے تقویت پارہا ہے کہ آج کے بلوچ تحریک میں چھوٹے سے چھوٹے مسائل سے لیکر تمام بڑے مسائل پر بہت زیادہ غور و فکر کی اشد ضرورت ہے۔ وجوہات آج صاف ظاہر ہیں جن میں قابل ذکر جس پہ آپ غور کرسکتے ہیں وہ یہ کہ جتنے بھی حل طلب مسائل ہیں وہ زوز بروز پیچیدہ ہوتے ہوئے آزادی کی مانگ کرنے والوں کے بیچ دوری کا سبب بنتے جارہے ہیں جسکی وجہ سے تمام قوتوں کے قابلیت و اہلیت پہ سوالیہ نشان لگ جانا لازمی امر بن چکا ہے۔ان تمام قوتوں کے دعوں کے علاوہ یا ان سے قطع نظر اجتماعی سوچ رکھنے والے سیاسی کارکنان کے لیے ان تمام حالات کو ان کے حقیقی وجوہات کے ساتھ سمجھنا اس لیے بھی بے حد ضروری ہے۔ تاکہ وہ کسی بھی نوعیت کے غلط فیصلے سے بچ سکیں جذبات ،تعلق ،روایات کسی بھی وجہ سے اپنے خلوص ،محنت ،قربانی کو لے کر کسی منفی رو کا حصہ نہ بنیں۔میری ناقص رائے یہ ہے کہ آج بدقسمتی سے سیاسی اور انقلابی رویوں کی فقدان کی وجہ سے تمام غلطیوں اور کمزوریوں کے لیے بے بنیاد اور غیر حقیقی جواز گھڑے گئے ہیں تا کہ یہ پردہ پوشی برقرار رہے اور حقائق کو چھپانے اور حقائق کی آشکاری کے کشمکش میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو چکے ہیں ان تمام پیچیدگیوں کے بیچ حقائق کی تلاش کے لیے غور و فکر بھی حقیقی بنیادی زاویوں پہ ہونا لازمی ہے۔کیونکہ اجتماعی قومی سوچ رکھنے والے کارکنان کے لیے آج شاہد یہ سمجھنا اتنا آسان نہیں کہ بلوچ اجتماعی قومی سوچ سے متصادم گروہی علاقائی سوچ کو لے کر تما م غلطیوں، کمزوریوں اور منفی رویوں کے پردہ پوشی کے لیے کھوکھلے نعروں اور خیالات کو بلوچوں کے جذبات اور سادہ لوحی سے جوڑ کر اتحاد،شہیداء،دشمن کے مظالم کا رونا رو کر گمراہ کن خیالات کا پرچار کس سطح سے اور کتنی خوبصورتی سے کیا جارہا ہے۔ جہاں بات سمجھنے سوچنے پوچھنے کی ہو وہاں جیسے بچوں کو اندھیرے سے ڈرا کر خاموش کر دیا جاتا ہے۔ بالکل ویسے ہی شہیدوں کا واسطہ ،قومی اتحاد ،دشمن کو فائدہ وغیرہ جیسے جذباتی خیالات کے ذریعے خاموشی کی تلقین کی جاتی ہے۔ میں چند سوالات آپ دوستوں کے سامنے رکھتا ہوں۔ میرے تشریح سے بہتر یہ ہے۔ کہ آپ میں سے ہر کوئی ان کے جوابات کو ڈھونڈ نے کی کوشش کریں ۔
کیا آزادی کا مطلب صرف اور صرف پنجابی تسلط سے چھٹکارہ ہے؟
آگاہی کیوں اور کس لیے ضروری ہے؟قومی شعور کی بنیاد پر سچ اور جھوٹ ،بُرے اور بھلے میں تمیز کے ساتھ ہی ساتھ خوب سے خوب تر کی تلاش کیوں اور کس لیے ضروری ہے؟کیا آزادی گفتار کے ساتھ ایک مثالی کردار یا کم از کم بہتر کردار لازمی نہیں؟
کسی بھی گروہ شخصیت یا پارٹی یا تنظیم کے افکار و اعمال جس مقام پہ یک جاہ ہو تے ہوں وہاں کیا تضاد کی گنجائش ہے؟کسی سیاسی پارٹی کے آئین و منشور کے علاو ہ سیاسی اخلاقیات یا انقلابی اخلاقیات کی کوئی حقیقت و اہمیت ہے؟
دوران انقلاب پارٹیوں اور تنظیموں کے حیثیت اور پروگرام سے قطع نظر ان کا انقلابی اخلاقیات سے ہم آہنگ ہونا کیوں ضروری ہے۔ بصورت دیگر انقلابی اخلاقیات کا پابند ہو نا کیوں ضروری ہے؟
کسی بھی سطح کے اداروں کو زیر دست کرنا سیاسی عمل ہے؟اداروں کو ان کے حیثیت اور حدود میں پھلنے پھولنے دینا اور اس سے فکری ہم آہنگی کے ذریعے ایک رشتہ قائم کرنا سیاسی عمل ہے؟ان سوالات کے جوابات کے لیے غور و تحقیق آپ سب کا کا م ہے۔طاقت کی تشکیل اور طاقت کے حصول کے لیے پیش کردہ سیاسی خیالات ،ذرائع ،عسکریت وغیرہ ان کے بیچ گروہیت اور اجتماعیت کے لیے واضع شناخت کے لیے سیاسی و اخلاقی حدود کی واضع نشاندہی ان تمام کے بیچ مو جودتضادات کی نشاندہی، حقیقی امر یہ ہے ، کہ انفرادیت سے گروہیت اور اس سے اجتماعیت کا سفر شروع ہوتا ہے۔ اور عسکریت ایک ذریعہ ہے اس سفر میں سرکشی اور زور آوری کو کنٹرول کرنے کا وہ قوتیں جو بزور قوت آپ کے اس ترقی کے سفر کو مشکل اور ناممکن بناتے ہیں۔ان پہ قابو پانے یا پھر جہاں تک ممکن ہو اس سفر کے دوران ان کے طاقت کو محدود کرنے کے لیے استمعال ہوتا ہے ۔ ایک سماجی زند میں ان تمام معمولات پہ ادراک کے حوالے سے کیسے مکمل عبور ہو سکتا ہے یا پھر شروع دن سے طاقت کے حوالے سے گرفت کو وہ مکمل کنٹرول کرسکیں۔ اگر کوئی دعویٰ کرتا ہے تو میرے خیال میں یہ ایک سفید جھوٹ ہو گا۔ آپ دوست باریک بینی سے غور کریں۔کیا یہی تضادات نہیں جن کے آشکار ہونے پہ سوچ بچار ،بحث مباحثوں اور تحقیق کے ذریعے ہی خوب سے خوب تر کی پہچان میں آسانی ہوتی ہے۔ اور اس فطری امر سے کون انکاری ہے کہ جس خوب کو آپ نے حاصل کیا ہے جو آپ کے کنٹرول میں ہے اس سے خوب تر کی تلاش اور حصول اور اس پہ کنٹرول پورا ایک سیاسی مرحلہ وار عمل ہوگایعنی خوب کو چھوڑ کر خوب تر کے لیے جدوجہد ہی ترقی کے لیے جدوجہد کہلاتا ہے (جیسے کہ آج بلوچ قومی سیاست میں جس نے جو بھی بنایا ہے اس کو چھوڑ کر آگے کے لیے سفر ہی تر قی کہلائے گا۔تمام گروپس مکمل ایک دوسرے میں ضم ہونگے تو ایک اجتماعی قومی قوت کی تشکیل ہوگی۔ یا پھر اجتماعی مفادات کے تحت کسی بھی اجتماعی معاہدے کی پابندی کریں گے۔ تب ہی کوئی نئی صورت واضع ہوگی)درحقیقت تضادات کی آشکاری ان کی حقیقی وجوہات کی وضاحت قبولیت ہی معاشرے میں ترقی کے حوالے سے ہر سطح پہ چھوٹے سے چھوٹے غلط پر ہر ممکن صحیح کو غالب لانے کے لیے اس کے تقاضوں اور ضروریات کو پورا کرنے کی محرک بنتی ہے۔۔ اور ظاہر ہے کہ یہ بحث مباحثوں و تحقیق کے بنا ناممکن ہے۔ ہمارے ہاں اتنے بڑے فطری حقیقت سے نظریں چُرا کر اس سیاسی اور انقلابی عمل میں روکاوت پیدا کرنے کے لیے ہر ممکن غیر سیاسی اور غیر اخلاقی حربوں کا سہارا لینے سے بھی گریز نہیں کیا جارہا ہے۔ کیوں؟وجوہات پر غور انتہائی ضروری ہے۔ اس بارے میں اپنی ناقص رائے لکھنے سے پہلے دنیا کے کچھ جانے مانے کامیاب انقلابی لیڈروں کے دوران عمل بالکل ایسے ہی حالات سے گُزرتے وقت کے ارشادات کا حوالہ دینا ضروری سمجھوں گا۔ ماؤزے تنگ کی کتا ب تعلمات ماؤزے تنگ یوں کہتاہے۔’’کامریڈوں کو ہمیشہ ہر چیز کی اچھی طرح چھان بین کرنی چاہییں اور گہرے طور پر سوچنا چاہیے کہ کیا وہ چیز حقیقت سے مشابہت رکھتی ہے اور اسکی بنیاد مضبوط ہے؟انہیں کسی حالت میں بھی کسی بات کی اندھا دھند تقلید نہ کرنی چاہیے کیونکہ ایسا رویہ غلامانہ ذہنیت کی ہمت افزائی کرتا ہے‘‘ایک اور جگہ کہتا ہے۔ ’’پارٹی کے اندر تنقید کا معیار پست اور حاسدانہ نہ ہونا چاہیے۔بیانات وغیرہ استدلال اور حقائق پرمبنی ہوں اور تنقید زیادہ تر سیاسی پہلو پر ہو۔‘‘
ایک جگہ اور وہ یوں کہتا ہے۔ ’’اگر ہمارے اندر خامیاں ہیں توہمیں ان پر تنقید وغیرہ سے گھبرانا نہ چاہیے کیونکہ ہم نے عوام کی خدمت کرنی ہے ۔خواہ کوئی بھی ہو اسے ہماری خامیوں پر انگلی رکھنے دیں۔ اگر وہ ٹھیک کہتا ہے تو ہم اپنی خامیاں دور کریں گے اگر اسکی تجاویز سے عوام کو فائدہ پہنچتاہے تو ہمیں اس پر عمل کرنا ہوگا‘‘ ماؤزے تنگ مزید کہتا ہے۔’’داخلیت ‘فرقہ واری اور پارٹی کی دقیانوسی تحریوں کی مخالفت کرتے وقت ہمارے ذہین میں دو مقصد ہونے چاہئیں۔اور مستقبل کی غلطیوں سے بچنے کے لیے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں۔دوم مریض کو بچانے کے لیے اسکا علاج کریں۔ کسی کا خیال کئے بغیر ماضی کی غلطیوں کا پول کھول دیں۔ایک سیاسی نقطہ نظر سے ماضی کی برائیوں کا تجزیہ اور محاسبہ ضروری ہے۔ تاکہ مستقبل کا کام زیادہ احتیاط اور بہتر طور پر کیا جاسکے۔ مستقبل کی غلطیوں سے بچنے کے لیے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں کا یہی مطلب ہے۔ لیکن اپنی غلطیوں کو بھرم کھولنے اور اپنی خامیوں پر نکتہ چینی کرنے سے ہمارا مقصد ایک ڈاکٹر جیسا ہے۔جو مریض کو مارنے کی بجائے اسے صحت یاب کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔جب کسی شخص کے اندر کچھ ‘غدود غیر متوقع طور پر بڑھ جائیں تو اسے بچانے کے لیے اشکا آپریشن کرکے فالتو غدود نکال دیئے جاتے ہیں۔اگر کوئی شخص علاج کے خوف کی پرواہ نہ کرتے
ہوئے اپنی بیماری کو چھپانا چھوڑ دے اور اس کا مرض لاعلاج نہ ہو جائے اور وہ خلوص دل سے اپنی غلطی کی معافی مانگ لے اور علاج کی خواہش کرے تو ہمیں بھی اسے ایک اچھا کامریڈ بنانے کے لیے اس کا علاج کرنا چاہیے ۔ اسے بُرا بھلا کہنے سے ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہونگے۔کسی سیاسی یا نظریاتی بیماری کا علاج کرتے وقت ہمیں ایسے شخص پر بگڑنا نہ چاہیے بلکہ ایسے مریض کی جان بچانے کے لئے اس کا علاج کرنا چاہیے کیونکہ یہی صحیح اور مؤثر طریقہ ہے‘‘ وہ مزید لکھتا ہے۔’’ہم چینی کامریڈ جن کے تمام فعل چینی عوام کے بلند مفادات پر مبنی ہیں اور جو اپنے نصب العین کی سچائی کے پوری طرح قائل ہیں۔ اور جو ذاتی قربانویں سے کھبی نہیں گھبراتے اور اپنے نصب العین کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کو تیار ہتے ہیں۔کیا ہم کوئی ایسا خیال یا نقطہ نظر رد کرسکتے ہیں جو عوام کے مفادات کے مطابق ہو؟کیا ہم سیاسی گرد کو اپنے چہروں پر جمنے یاجراثیم کو اپنے صحت مند جسموں میں داخل ہونے کی اجازت دے سکتے ہیں؟ہمارے ان گنت شہید عوام کے مفادات کے لیے اپنی جانیں قربان کرچکے ہیں او ر انہیں یاد کرکے ہمارے دل درد سے بھر جاتے ہیں ۔ ان سب باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہمارے لیے ذاتی مفادات کو قربان کرنا اور اپنی غلطیوں کو درست کرنا مشکل ہے؟‘‘ اسی حوالے سے ماوزے تنگ یوں رقمطراز ہے۔’’غلطیوں سے سبق سیکھ کر ہم اپنے معاملات کو بہتر طور پر چلانے کے قابل ہوگئے ہیں۔ کسی سیاسی جماعت یا فرد کے لیے غلطیاں ناگزیر ہیں‘لیکن ہمیں کم از کم غلطیاں کرنی چاہئیں ۔ کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو اسے فورادرست کریں کیونکہ اسی میں ہماری بھلائی ہے۔‘‘اور آگے چل کر ماؤ زے تنگ کہتا ہے۔’’ہمیں اپنی کسی کامیابی پر مطمئن نہ ہونا چاہیے ۔ ہمیں ایسے اطمینان کا سد باب اور اپنی خامیوں کا ہمیشہ مخاسبہ کرنا چاہیے ۔ بالکل اسی طرح جیسے ہم جراثیم کو دور کرنے کے لیے ہر روز اپنا چہرہ دھوتے ہیں یا فرش کو گرد سے پاک رکھنے کے لیے صاف کرتے ہیں‘‘
مجھے لگتا ہے کہ یہاں ہمارے ہاں اکثریت کا نقطہ نظر مخصوص حالات کے اثرات کے تحت بن چکا ہے۔
مثلاً علاقائی اور روایتی سیاست کے اثرات کے تحت،گروہی و قبائلی سیاست کے اثرات کے تحت ہم نے اپنا نقطہ نظر خاص قومی اجتماعی مفادات کے معیار کے تحت نہیں بنایا جب ہم کو مسائل درپیش آتے ہیں۔ اور ان کی جانچ پڑتال کرتے ہیں۔ تو ہمارا پورا زاویہ نظر مخصوص شخصیات ،مخصوص گروپس ،مختلف علاقائی مفادات کے گرد گھومتی ہے۔ اور ان سے باہر کا ہم سوچ ہی نہیں سکتے اور وہ مسائل مزید پیچیدہ اور گھمبیر اسی وجہ سے ہو جاتے ہیں۔ کہ ہم نام لیوا ہیں۔ بلوچ قومی اجتماعی مفادات کا قومی جغرافیہ اور قومی شناخت کا اور ان کے ہی مفادات تحفظ کے لیے ہم نے پوری ایک جنگ چھیڑ رکھی ہے تو یہاں ہم سے تقاضا اجتماعیت کے حوالے سے اجتماعی فیصلوں کا ہو رہا ہے۔ اور بدقسمتی ہمارا زاویہ نظر ہی گروہیت ،قبائلیت اور روایتی سیاست پہ استوار ہے۔ جب ہمارا زاویہ نظر ہی اجتماعی سوچ کے تحت نہیں تو پھر یہ اندر ہی اند ر ایک بہت بڑی تضاد ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ فی الوقت اس سے چھٹکارہ آسان نہیں ۔ تو ان حالات میں زیادہ اجتماعی سوچ رکھنے والے کارکنان کو ہی متوجہ کر سکتا ہوں۔ کہ وہ اجتماعی سوچ کو مزید توانا اور پر اثر بنانے کے لیے عملی طور پہ ایک مثالی کردار ادا کرنے کے لیے کمربستہ ہوں۔ میری رائے یا سوچ ان لوگوں کے لیے ضرور ایک سازش یا کہ یہ پروپگنڈہ ہوگی۔ جو ایک محدود نقطہ نظر سے سوچتے ہیں۔ میں ان تما م شخصیات ،پارٹی ،تنظیموں اور گروپس کو اجتماعی قومی مفادات کے تناظر میں دیکھتا ہوں ۔ جو جہاں بھی اجتماعی سوچ سے میل نہیں کھاتااسکی نشاندہی میں اپنا فرض سمجھتا ہوں اور یہ ہر اس بلوچ کا فرض ہے ۔ جو اجتماعی سوچ کو لیکر بلوچ قومی مفادات کا نگہبان ہے جو دوست آج سیاسی کارکنان کو سوچنے سمجھنے کے لیے بولنے اور غور و تحقیق سے روک رہے ہیں۔ وہ بالکل بچوں کو اندھیرے سے ڈرانے کے مانند ہے ۔قومی نفاق،دشمن کو فائدہ ہوگا ،ہم مزید دور ہو نگے،سوشل میڈیل صحیح نہیں وغیرہ وغیرہ تو میرا سوال یہ ہے۔ کہ جو اعمال پچھلے چند سالوں سے قومی سیاست کے نام پہ ان حضرات سے سرزد ہو چکے ہیں وہ کیوں اجتماعی قوت کے تشکیل میں رکاوٹ بن چکے ہیں۔کیا اس سے دشمن کو فائدہ نہیں ہو رہا ہے ؟اس کمزوری کے بارے میں آگاہی سوچنا بولنا تحقیق کرنا کیسے دشمن کو فائدہ دے سکے گا؟ کیا محدود علاقائی و گروہی سوچ کے تحت گروپس اور پارٹیاں تشکیل دینا اور فخراً علاقائی کارکردگی و گروہیت کی تشریح یا پھر علاقائی حوالے سے کمزوریوں پہ غیر سیاسی انداز میں طعنہ زنی از خود ایک منقسم اور محدود سوچ کی نشاندہی نہیں، مثلاًقومی آزادی کی جدوجہد کے تنا ظر میں قومی جغرافیہ کو لے کر مکران یا ڈیرہ غازی یا کولاچی میں کسی بھی قومی کمزوری پہ کوئی بھی دعوے دار اپنے آپ کو علاقائی حوالے سے بری الذمہ قرار دے سکتاہے۔مثلاً میں مکران کا ہوں جھالاوان کا مسئلہ میرا نہیں۔یا میں بولان کا ہوں تو مکران میں بلوچوں کو درپیش مسئلہ میرا نہیں وغیرہ بصورت دیگر صرف ایک مخصوص علاقے میں کسی ایک چھوٹی سی کامیابی پہ فخر بھٹرک بازی کو لیکر غیر سیاسی غیر انقلابی طریقے سے اسکی تشریح کیا قومی سیاست و قومی سوچ کی نشاندہی کرئے گا۔تو پھر اس کے بارے میں آگاہی پھیلانا ،سوال اٹھانا ،غور و فکر سوچنابولنا،تحقیق کرنا کیسے نفاق ہو سکتا ہے؟ایک قومی سوچ کے تحت ایک مضبوط اور حقیقی قوت کی تشکیل کا سوال،انقلابی اخلاقیات ،سیاسی اخلاقیات کی پرچار اس پر غور و فکر تحقیق ہمیں مزید کیسے دور کرے گا؟ آج یہ صاف ظاہر ہے کہ موجودہ سیاسی طرز عمل ایک محدودحد تک تو قابل قبول ضرور ہے۔ مگر بلوچ قومی اجتماعی سوچ و مفادات کے معیار کے تحت ہر گز نہیں محدود علاقائی روایتی اور گروہی سوچ کے تحت طرزعمل اپنی بساط لپیٹ چکا ہے۔ تو اجتماعی سوچ رکھنے والے کارکنا ن کے لیے اس اندھیرے میں جھانکنے یا پوری طرح گھومنے کے سواء کوئی چارہ نہیں۔ جس سے ان کو ڈریا جارہا ہے ۔تو دوستوں آج قومی سوچ رکھنے والے تمام کارکنان کو مکمل غیر جانبداری سے اجتماعی سوچ کے معیار کے تحت اپنا زاویہ 
نظر استوار کرنا ہوگاتاکہ قومی مفادات کی پہچان آسان ہو۔

سہ ماہی میگزین ’’ہمگام ‘‘
میں شائع ہونے والا