Friday, 31 May 2013

سنگت!ر یت کو خشک ہی رہنے دو مہربانی ہوگی جبران قمبر بلوچ



دنیا میں کچھ ایسے شے ہیں جو کسی اور شے سے مل کر ایک نئی چیز تخلیق تو دے سکتے ہے مگر خود کی اصل خوصوصیات کو ہی کو بیٹتی ہے جسے کے ریت جب وہ خوشک ہوتی ہے تو اُسے قابو کرنا بہت مشکل ہوتا ہے مگر پانی کی کچھ بوندے اسے اپنی خصوصیات سے فارغ کرکے اُسے اُسکی قدرتی یا یہ کہے تو غلط نہیں ہوگا کہ اُسے اُسکی بنیادی خصوصیات سے مکمل محروم کر دیتی ہے جو کے اُسکے قابو میں آنے کی وجہ بنجاتی ہے  یہ ہی حال آ ج ہماری مدر آرکنائزیشن کا بھی ہے جس میں روز باروز پانی کے بوندے گرتی جا رہی ہے اور اُسے ایک نئی خصوصیات بھی مھیاکراریی ہے جیسکہ پہلے ذکر ہو چکا ہیں کہ نئی خصوصیا ت تو پیدا ہوجا تی ہے مگر بنیادی وجہ کو ہی کو بیٹتی ہے بلوچ جد و جہد میں آج تک بی ایس او جیسی آرگنائزیشن نے مدر آرگنائزیشن کا کردار ادا کیا ہے اور اُمید ہے کے آگے بھی کرتی رہے گی ۔مگر آجکی بی ایس او آزاد جو کے کچھ وقت پہلے تک اپنے آزاد حیثیت میں مو جود تھی اور اپنی اُسی حثیت کی وجہ سے جانی جا تی تھی اب اپنی ساخت کو دن با دن خود کمزار کرتی جا رہی ہے جسکی وجہ تنظیم کے کچھ مرکزی دوست ہو سکتے ہے جو کے اپنے ذاتی پسند اور نہ پسند کی نبیاد پر تنظیم کی آزاد حیثیت کو ختم کرنے کی دانستا کوشش کرریے ہے ۔ 2006 سے لیکر 2012 تک بی ایس او آزاد ایک آزاد سٹوڈنٹ آرگنا ئزیشن تھی۔اسی دوران بی ایس او نے اپنے کوہےہوے وقار کو بلوچ عوام میں بحال کیا اور ساتھ ہی ساتھ تاریخی اور بلکل واضح پروگرام بلوچ عوام کے سامنے رکھ دیا جو کے قومی ازادی ہیں ویسے تو بی ایس او ازاد ایک سٹوڈنٹ ارگنائزیشن ہے مگر اس دوران بی ایس او ازاد نے ماس پارٹی کا کردار ادا کیا مگر مو جودہ کابینا میں موجود کچھ دوست اپنی نا بالغ سوچ یا یہ کہوں کے صرف اپنے ضد کی وجہ سے بی ایس او کا ستیا ناس کرنے پر تُلے ہوے ہے آئے روز فکری ساتھیوں کا نکلنا لند ن زون جیسی فنکشنل وزن کو معطل کرنا سی سی ممبر کو فارغ کرنا یہ سب ایک سوالیا نشان ہے۔ ان سنگتوں کا مطالباں صر ف اتنا تھا کے یہ دوست بی ایس او کو مضبوط کرنا چاہتے تھے۔لیکن مرکز اپنے رشتے بی این ایم سے مضبوط کرنا چاہتی تھی اور چاہتی ہے۔
 جسا کہ ہم سب کو پتہ ہے کہ بی این ایف ایک اتحاد تھی جو آزادی پسند جماعتوں پر مشتمل تھی جن میں سات کے قریب پارٹیا ں اور تنظیمے تھی جن میں بی ایس او آزاد ، بی آر پی  ،بی این ایم ، بی ڈبلیو ایم ، بی سی ایم ، بی آر سی اور بلوچ با ر شامل تھی ۔ جس کے بنے کے وقت یہ فیصلہ کیا گیا تھا کےتمام ممبرز کا برابر کا حق ہوگا۔ بعد میں بی سی ایم  بی آر پی میں ضم ہوگئی اور بی این ایف چھ جماعتی اتحاد بن گئی پھر کچھ وقت بعد بی ڈبلییو ایم اور بی آر سی کو نا معلوم وجہ سے نکال دیا گیا دوستوں کے وجہ پچھنے پر جواب ملا کے ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے یہ خو د کو سیا سی طور منوانے کے لیےبی این ایف کا نام استعمال کر ریے تھے جو کے کسی حد تک سچ بھی تھی۔لیکن اُ س وقت بھی ہو رہی منصوبہ بندی کو کسی دوست نے محسوس نہیں کیا ۔ پر کچھ وقت کے بعد بی آ پی نے اس وجہ سے بی این ایف سے علیدگی اختیار کی کیوں کے بی این ایف کی مو جودہ قیادت بنا مشورے کے بی این پی کے خلاف بی این ایف کا نام استعمال کر رہی تھی مگر بی ار پی اپنے تعلقات بی این پی سے اچھے رکنا چاہیتی تھی ۔بی آر پی کے نکل جانے کے بعد بی این ایم اپنی اصل مقصد میں کسی حد تک کامیان ہوگیا اور آہستہ آہستہ وہ اپنے مقصد میں مکمل کامیابی حاصل کر رہی ہے وہ مقصد کوئی دشمن کی چال تو نہیں ہیں مگر بی ایس او آزاد کے نظریاتی دوستوں کے لیے قابلِ قبول بھی  نہیں ہیں۔
آج کل مرکزی ساتھیوں پر جو سوال اُٹھ رہے ہے مرکزی دوست اُسکا جواب تنظیم سےفارغ کرکے دے رہے ہیں دوستوں کا مطالبہ ہے کے ہم مکمل طور پرآزادحیثیت سے کام کرنا چاہتے ہیں مگر مرکز قومی اتحاد کے نام پر بی این ایف کے پلیٹ فارم سے بی این ایم کی لیے کام کرنا چاہیتی ہیں۔جس سے ظاہری طور پر آرگنائزیشن کو نقصان کا سامنا ہے۔ جب دوستوں سے اس  نقصان کے بارے میں پُہچا جاتا ہے تو اُنکا جواب کچھ اس طرح سے ہوتا ہے کہ یہ دوست پروبوگنڈہ کا شکار ہے اُنکے جانےسے تنظیم کو کوئی نقصان نہیں ہیں ۔ میں پہچتا ہوں اُن ذمہ دار دوستوں سے کہ کیسے کسی دوست کے تنظیم چھوڈنے سے ہمیں نقصان نہیں ہوگا ؟ کچھ دوست تو یہ بھی کہتے ہے کہ اصل میں تو تنظیم آزاد اب ہوئی ہے پہلے اسکے فیصلے چیرمین بشیر زیب کرتے تھے جو کسی اور تنظیم میں بھی قومی فاراض سر انجام دے رہےہیں۔ اُس تنظیم کے منشا ہ کے مطابق فیصلےہوتے تھے اب ہم آزاد حیثیت سے کام کررہے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ فیصلے چیئرمین نہیں کرتا بلکہ اکثریت کرتی ہے تو اُس وقت بھی کابینہ اور سی سی میں جو دوست تھے وہ آج بھی موجود ہے عُہدے بدل گئے ہیں مگر اکثریت اُنہی دوستوں کی ہیں آج اُنکے کیے ہوئے فیصلے کیسے کسی اور شخص یا کسی اور تنظیم کے ہوگئے ؟ اگر اُس وقت بھی چئیر مین کسی اور تنطیم کی پالیسی مصلط کرنا چاہیتا تھا تو اُنکی مخا لیفت کیوں نہیں کی گئی ؟ یہ تو تنظیم کے آزاد حیثیت کا سوال تھا۔2009 میں اُس وقت کے بی ایس او کے پریس سکریٹری سلام صابر سے میری ملاقات ہو ئی اس غیر رسمی ملاقات میں سنگت سلام صابر نے فخریا انداز میں کہا کہ دنیا کے اکثر تحریکوں میں سیا سی لوگوں نے اپنی مسلح دوستوں کی رہنمائی کی مگر ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہماری رہنمائی ہمارے مسلح تنظیمیں کر رہی ہے ۔ یہ با ت کل بھی میرے اور میرے جیسے دوستوں کے لیے نا قابلے قبول تھی اور اج بھی ہے ۔ ہم یہ سجھتے ہیں ہے کہ تحریک کے کسی فرد کسی تنظیم کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے پروگرام کے مطابق ہماری رہنمائی کرے ۔ جس آرگنائزیشن  کی پیداوار اس تحریک کی رہنمائی کر رہی ہیں ہر محاذ پر اُس میں کسی اور کی مداخلت اپنے مضبوتی کے لئے اور پر نظریات دوستوں کا اُس عمل کو رہنمائی کے نام سے جسٹیفئی کرنا سمجھ سے بلاتر ہیں کہنے کا مقصد یہ ہیں کہ پہلے اگر کسی تنظیم کا ہمارے آرگنائز یشن میں مداخلت تھی بھی تو اُس وقت آزگنائریشن کی ساخت پر کوئی سوال نہیں اُٹھ رہا تھا۔کیونکہ کل تک کچھ دوست کسی اور تنظیم کو ہمارے آرکنائزیشن کی رہنمائی کرنے کا حق دے رہے تھے اور اُس مداخلت کی وجہ سے پوری تنظیم یرغامال نہیں سمجھی جاتی تھی۔ مگر آج صورت حال بلکول تبدیل ہو چکی ہے پہلے مرکزی دوست انفرادی طور پر دیگر تنظیمیوں کی حمایت کر رہے تھے مگر اج اجتماعی طور پر کررہے ہیں۔ کیوں کے جس تنظیم کی پہلے مداخلت تھی  اور جن دوستوں کے زریعہ سے وہ اپنی ڈیکٹیشن دے رہے تھے اج وہ دوست فارغ ہو گئے ہیں مگر پھر بھی تنظیم کی ازادحیثیت بحال نہیں ہوسکی جسکی وجہ بےشک و شوبہ یہ ہے کہ اب کسی اور کے زریعے سے کسی اور سے  اوڈر لے رہے ہے اگردیکھا جائے تو یہ بی ایس او کو ایک منظم طریقےسے صرف ایک تنظیم اور اُسکی حمایتافتہ پارٹی کی زیرِ کمان کرنے کی دانستہ کوشش کی جارہی ہیں۔کونسل سیشن اپنی مرضی سے کرنا اپنے مرضی کے وہ دست لیجاناجو کونسلر ہی نہیں ہیں ان سب باتوں کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔اور پھر اپنے مرضی کے بنائے ہوئے پالیسیوں کی مخالفت کرنا بی این ایم کے جلسے میں بی ایس او کے چیئر مین کا تحریخی خطاب کونسل سیشین کے اُس پالیسی کی خلاف ورزی ہیں جس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کے اب ہم گمنا م ہوکے اندروں اور راضداری  کے ساتھ کام کرنگے جس کی وجہ سے اکثر دوستوں کو تنظیم نے بلوچی نام دیے تھےیا یہ کہے کہ دوستوں نے خود کے انقلابی نام رک لیئے۔ اور جب کونسل سیشین نے دوستوں سے یہ حلف لیا کے سیشین کی کوئی بات تنظیم سے باہر نہیں جائے گی تو پر کیا بی این ایم کے دوست ہمارے تنظیم ساتھی ہیں؟ کہ جس کے سامنے ہم اپنی پالیسی کی دجییہ ہُڑارہے ہیں۔ اگربی این ایم اپنے نام سے جلسہ کرتا ہے تو پھر بی ایس او ازاد کا ہر پروگرام کیوں بی این ایف کا پا بند ہے ؟ کیا اج بی ایس او کی کوئی بھی حیثیت نہیں کہ وہ اپنے بلبوتے پھر کوئی پرگرام کر سکے ؟ ہر پروگرام کا علان صرف بی این ایف کے پلیٹ فارم سے کیوں کیا جاتا ہیں ؟ جب کہ بی این ایم اگر کوئی چھوڑا سا عمل بھی کرتی ہیں تو اپنےازاد حیثیت سے کرتی ہیں۔ایسامحسوس ہوتا ہیں کہ بی ایس او ازاد نے جیسے ماضی میں دیگر قوتوں کو پرُڈکشن دے کر مضبوط کیا تھا اب وہ بی این ایم کو مضبوط کرنا چاہیتی ہیں۔  
اگر ہم یہ کہے تو بلکل غلط نہیں ہوگا۔ موجودہ صورتِ حال ساحلِ سمندر جیسی ہیں۔فرض کرہے کہ بی ایس او آزاد کنارے کی ریت ہیں بی این ایم سمندر اور تیسری قوت وہ ہوا ہے جو سمندر کو ریت کی طرف دکیل رہی ہیں اور ریت کی خشک حیثیت میں اپنے نمی چھوڈنا چاہیتی ہیں جو کے ظاہری طور پر تو ریت کو اپنی خصوصیات بھی دے رہی ہے اوراُسکی بنیادی خصوصیات کو فنا کررہی ہیں۔
اب بات کرتے ہیں کہ ریت کی کونسی اقسام ہمارے لیے بہتر ہیں پہلے نم ریت جس پہ چلنا بھی آسان ہوتا ہے نم ریت آنکھوں کو نہیں چوبتی نم ریگستان میں پیاس نہیں لگتی نم ریت کو کابو کرنا بے حد آسان ہوتا ہیں نم ریت کو ہم اپنے مرضی کے مطابق ڈال سکتے ہیں مگر خشک ریت پر دشمن کو چلنے میں مشکل ہوتی ہےخشک ریت آنکھوں کو چوبتی ہیں خشک ریگستان میں دشمن پیاس سے مر جائے گا خشک ریت کو کوئی اپنی مر ضی کے مطابق نہیں ڈال سکتا خشک ریت دشمن کے قابو میں نہیں آسکتی اگر زبردستی قابو کرنے کی کوشش کرے تو وہ پر سے اپنی اصلی حالت میں آنے کے لیے جدو جہد کرتی ہیں ۔ اور اس پورے عمل میں سمندر ہوا اور ریت سب سےزیادہ متاثر ہورہی ہیں ریت کے نہ ہونے سے سمندر کو زیادہ فرق نہیں پڑتھا مگر ریت کے اُس جگہ موجود ہونے پہ سمندر اور ہوا سے متاثر ہو نا پڑرہا ہے ۔اگر ریت اسی طرح سمندر کِنارے پڑا رہا تو وہ معدود بن جائے گا کیوں کے سمندری ہوا ہمیشہ ایک ہی روخ میں چلتی ہے۔اگر ہم یہاں سے نکل کر ریگستان بن جائے تو چاروں طرف سے ہوا چلنے کی وجہ سے ریت ہُڑ کے  دور دور تک پل سکتی ہیں جسکا فائدہ بے شک زیادہ ہیں اور اُس سے نکلنے کی گنجا ئش بھی کم ہیں میں تو یہ کہوں گا کے ہوا کو بھی اپنی حکمت عملی بدالنی چاہیے کیوں سمندر کے عصرات اُسے بھی نم کررہے ہیں اور اپنی معدود خصوصیات سے وابستہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں
میں یہاں واضح کرتا چلوں کے بی این ایم یا کسی مسلح تنطیم کے قومی پروگرام کولیکر ہمارا کوئی سوال نہیں ہیں اُنکے قومی پروگرام کی ہم سوفیصد حمایت کرتے ہیں اُنکے ہر قربانی کو ہزار سلام پیش کرتے ہیں ہمارا اختلاف صرف کچھ پالیسی پر ہے۔ اُن پالیسیوں پر ہمارے تنقید کو کوئی غلط رنگ نہ دیا جائے ہماری تنقید اصلح کے لیے ہیں کیوں کے اگر بی ایس اوازاد  ازاد رہی تو وہ پوری تحریک کو پروڈکشن دےگی لیکن اگر وہ کسی کی زیرِ کمان رہی تو وہ صرف اُسی تنظیم یا پارٹی کو پرڈکشن دے تھی رہے گی جو کے تحریک کے دیگر دوستوں کے ساتھ نا انصافی ہوگی اور شہیدوں کی قربانی، اسیران کی قربانی اور واضح پرگرام کی وجہ سے اور نظریاتی کارکنان کی مظبوط کمٹمنٹ کی وجہ سے بی ایس او ازاد اج وہ نام بن گیا ہے کہ اُسے قومی ازادی کے طلبگار ہر ادارے پارٹی یا تنظیم کی مکمل احتماد حاصل ہے مگر اب اُس ساخت کو دانستہ طور پر کمزور کیا جا را ہے بلو چ ازادی پسند اداروں میں ہماری جانبداری کیسی حقلمندی ہیں ؟

0 comments:

Post a Comment