اسلم بلوچ (پیر پرستوں سے معذرت) کردار کے بغیر صرف شخصیت پر توجہ مرکوز کرنا ایسا ہے جیسے کہ کیلے کے پتوں کا جڑ کے بغیر نمو کرنا۔ اجتماعیت کیلئے کام اور ہمارے سیاسی معمولات میں آج صاف طور پر شخصی اثر و رسوخ کیلئے جوڑ توڑ اور حربوں کی جھلک نظر آ رہی ہے ۔ انہی حربوں کے سبب کچھ کردار صاف طور پہ عدم اخلاص کو لیکر دوغلے پن کا مظاہرہ کرکے ناخوش گواری اور بد اعتمادی کا باعث بن رہے ہیں ۔ یہ تو طے ہے کہ ایک بہتر اور مثالی سماجی نظام میں نہ تو کسی قسم کی سحر انگیزی سے اور نہ ہی لوگوں کو خوفزدہ کرکے کوئی کسی بھی قسم کی مستقل کا میابی حاصل کر سکتا ہے ۔ کیوں کہ سحر انگیزی اور خوفزدہ کرنے جیسے حربے طویل المدت انسانی تعلقات میں کوئی مستقل حیثیت نہیں رکھتے ۔ یہ حربے ثانوی قسم کے شخصیات اُبھارتے ہیں ۔ جن میں مکمل دیانت اور کردار کی مکمل قوت نہیں ہوتی ۔ ہو سکتا ہے ان میں سماجی روایتی مرتبہ ، شہرت ، دولت یا ہنر ہوتے ہوں۔ لیکن ان میں بنیادی اور حقیقی عظمت نہیں ہوتی۔ جسے آپ کردار کی خوبی کہہ سکتے ہیں ۔ سقراط کے بقول اس دنیا میں عزت و احترام کے ساتھ زندگی گزارنے کا زبردست طریقہ یہ ہے کہ ہم جیسا نظر آنا چاہتے ہیں با لکل ویسا بن کر دکھائیں ۔دنیا میں سب سے بری تعلیم جو ’’خود‘‘ کو مسترد کرنا سکھاتی ہے ۔ اس اعلی تعلیم سے بہتر ہے جو انسان کو سب کچھ تو سکھاتی ہے ۔ مگر خود کو مسترد کرنا نہیں سکھاتی ۔ انسان اپنے راستے میں خود بڑی رکاوٹ ہے ۔ کیوں کہ ذاتی خوائشات ، ذاتی مفادات ، ذاتی اشتہائیں اور ذاتی جذبات بہت زیادہ طاقتور ہوتے ہیں ۔ جب تک ان کو مسترد نہ کیا جائے یعنی خود کو مسترد نہ کیا جائے کوئی تعلیم و علم کارگر نہیں ہوتا ۔ ہر قسم کے اقدار آفاقی توازن کو لیکر تمام مسائل پر جب فطری قوانین سے ہم آہنگ ہوتے ہیں ۔ تو ان کے بابت دیانتداری کو لیکر بے لاگ ، بے باک اور صاف گو ہونا آسان ہوجاتا ہے ۔ بصورت دیگر ذاتی ترجیحات کو لیکر ذاتی مفاد و ذاتی کام کو اہمیت دی جائے تو لاز ما دوغلے پن اور عیاری کا سہارا لینا پڑتا ہے ۔ تو ایسے لوگ دیانتدار لوگوں کے مقابلے زیادہ پریشانی میں مبتلا رہتے ہیں ۔ جس کی تازہ ترین مثال بی آر پی کے سربراہ براہمداغ بگٹی کے تازہ ترین انٹرویو میں دیکھنے کو ملا ۔ جس نے بہت سے معاملات پہ پوشیدہ سوالات کو ابھار کر منظر عام پر لایا ۔میری رائے کے مطابق کچھ تو ہے جس کی پردہ پوشی کیلئے ایسے پر تضاد اور حقائق کے منافی موقف اختیار کیا گیا ۔ ذرا ان پرتضاد نکات پر غور کرتے ہیں جن کا ذکر براہمداغ بگٹی نے کیا۔ اول -: وہ چارٹر آف لبریشن کو زبردستی مستقبل کے بلوچ ریاست کا آئین قرار دے رہے ہیں ۔ میرے خیال میں ایک ادنی سا سیاسی کارکن بھی یہ سمجھ رہا ہے کہ چارٹر آف لبریشن نہ تو ریاستی آئین ہے اور نہ ہی عبوری آئین ہے ۔بلکہ جدو جہد آزادی کو لیکر چارٹر آف لبریشن کے تمام نقاط ایک بہتر سماجی ، سیاسی و معاشی نظام کے خدو خال ہیں ۔ جس کی ضرورت بیرون ملک کام کرنے والے دوستوں کو اس لئے پیش آئی کہ بلوچ تحریک بارے حمایت حاصل کرنے کیلئے سفارتی رابطوں کے دوران ( ون پوائنٹ ایجنڈا آزادی) کے علاوہ فلاحی و قومی ریاست بارے تصور کا با ضابطہ دستاویزی شکل ۔جس کو متفقہ بنانے کیلئے تمام آزادی پسندوں کے علاوہ نام نہاد قوم پرستوں تک پہنچایا گیا ۔ تاکہ وہ تمام اس دستاویز میں دو نقاط کے علاوہ باقی تمام نقاط میں ترمیم کی گنجائش کو لیکر بہتری لائیں ۔ تاکہ بین الا قوامی سفارتی رابطوں میں چارٹر کو ایک متفقہ دستاویز کی شکل میں پیش کیا جاسکے ۔ چارٹر کو زبردستی ریاستی آئین قرار دینا بچگانہ فعل سے مشابہت رکھتا ہے ۔ حالیہ انٹرویو میں وہ اپنے گروہی حرص کو اپنے متنازعہ بیان کی وجہ سے نہ چھپا سکے۔ انٹرویو کے اگر کچھ متضاد نقاط پر غور ہوتو ان میں یہ صاف نظر آتا ہے کہ خود نمائی ، تعصب اور ضد کو لیکر چارٹر مسترد کرنے کیلئے جو جواز پیش کئے گئے ۔ وہ پر تضاد ہونے کی وجہ سے اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑگئے ۔ جن میں اول نواب خیر بخش مری کی حالیہ حیثیت و کردار کے متعلق ۔ اور دوئم بی آر پی کی بحیثیت سیاسی پارٹی علمی و قانونی حیثیت کے متعلق ہیں ۔( ہمیں سیاسی حوالے سے اداروں کی اشد ضرورت ہے ۔ ادارے بھی وہ جن کو چلانے والے مختلف مرحلوں سے گزرے ہوئے چنیدہ افراد ہوں ، نا کہ روایتی طرز عمل کے پیداوار) براہمداغ بگٹی نے صاف طور پہ کہا کہ ایک فرد کی طرف سے مرتب کی جانے والی دستاویز (چارٹر آف لبریشن) کی میری پارٹی کے آئین اور منشور کے سامنے کوئی حیثیت نہیں ۔ چارٹر آف لبریشن کے نقاط کو لیکر اس کی حیثیت کو ہم چند لمحوں کیلئے نظر انداز کرتے ہوئے صرف اور صرف حیر بیار مری کی بحیثیت فرد کار ستانی قرار دیکر دیکھیں ۔ تو ہم مان لیتے ہیں کہ ایک پارٹی کی قانونی حیثیت کے سامنے ایک فرد کی کیا حیثیت ہے ۔ مگر شکوک دوبارہ اس متضاد جواز پر سر اُٹھاتے ہیں ۔ جسے دوسری سانس میں براہمداغ بگٹی پیش کرتے نظر آتے ہیں کہ نواب مری نے چارٹر کے متعلق حامی نہیں بھری ۔ تو ایک پارٹی کی علمی و قانونی حیثیت کے مقابلے میں نواب مری بحیثیت فرد کیا مقام رکھتے ہیں ؟ کیا نواب مری بحیثیت فرد پارٹی اور تنظیم سے بالا ہیں ؟ اور اگر واقعی ہیں تو یہ کن اداروں کی طرف سے عطا کردہ متفقہ اعزاز ہے ؟ اور اس اعزاز کے عطا کرنے کے واضح وجوہات کیا ہیں ؟ اور اس میں عوامی متفقہ رائے یا فیصلے کے ثبوت یا دلیل موجود ہیں ؟ چارٹر کو پارٹی کی سینٹرل کمیٹی میں غور و خوض کیلئے پیش کئے بغیر نواب مری سے تصدیق کروانا بذات خود ایک غیر سیاسی عمل کی نشاندہی کرتا ہے۔ (یہی وہ غیر سیاسی رویے ہیں جو ہمارے فکری یکجہتی و فکری ہم آہنگی کے خیال میں مزید پختگی لا رہے ہیں ۔ کیوں کہ یہ تسلسل سے روایتی طرز سیاست کے پیداوار ہیں ۔ جن سے دستبردار ہونے کیلئے یہ حضرات تیار نہیں ۔ اور یہی ہمارے تنقید اور اختلافات کی بنیادی وجوہات ہیں۔) اس حد تک اگر بحث مباحثے میں سیاسی رویوں اور علمی حوالے سے کھلا پن کا مظاہرہ کیا گیا تو آگے چل کر اور بھی کئی سوالات جواب طلب ہیں ۔جن میں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا چارٹر آف لبریشن کے قانونی اور سیاسی حیثیت بارے شکوک کو لیکر نواب مری سے رابطے کئے گئے ۔ اور نواب مری نے چارٹر کے قانونی اور سیاسی حیثیت کو لیکرچارٹر کو غیر موزوں قرار دے کر مسترد کیا ۔ اگر ایسا ہے تو اس کی نشاندہی اور عوامی سطح پہ وضاحت ضروری نہیں؟ دوئم -: کیا چارٹر کے نقاط میں سے چند متنازعہ یا متضاد شقوں کی نشاندہی اور ان پہ اپنے تحفظات بارے آگاہی اور بہتر ترامیم اور تجویز کیلئے نواب مری سے رابطے اورصلاح و مشورے ہوئے ان نقات کی وضاحت اور نواب مری کی طرف سے کسی بھی قسم کے صلاح و مشورے سے انکار اور چارٹر کو مسترد کرنے کی وجوہات کی وضاحت ضروری نہیں؟ سوئم -: ایسا تو نہیں کہ چارٹر آف لبریشن کو مرتب کرنے والے حضرات کے بارے کسی بھی قسم کی شکوک و شبہات کو لیکر نواب مری سے رابطے کئے گئے ۔اگر ایسا ہے تو ان شکوک کی وضاحت اور نواب مری کی طرف سے ان شکوک کی تصدیق اور ان کے بل بوتے پر چارٹر کو مسترد کرنے کی وجوہات کی عوامی سطح پر وضاحت کیا ضروری نہیں؟ اگر ان تمام سوالات کیلئے سیاسی رویوں کے ساتھ جلد از جلد کوئی تسلی بخش جوابات نہیں آتیں ۔ تو یہ سمجھنا شاید مشکل نہ ہو کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ پوشی کی جارہی ہے ۔ کیوں کہ ون میڈ شو بی آر پی ، بی آر اے ، بی آر ایس او اور بی آر پی خواتین وغیرہ کے ہوتے ہوئے چارٹر آف لبریشن کو اپنے اداروں کو مکمل نظر انداز کرکے نواب مری سے صلاح مشورے اور نواب مری کے حیر بیار مری سے واضح سیاسی رشتے کے باوجود براہمداغ بگٹی کا اپنے متنازعہ معمولات میں نواب مری کا سہارا لینا کہیں پر متحدہ جیسے شوشہ میں ان کے نام کا سہارا لینا اپنے اندر بہت ہی معنی خیز اشارے رکھتے ہیں ۔ ان کی وضاحت بہت ضروری ہے ۔ اگر ان تمام باتوں کی نواب مری کی طرف سے وضاحت نہیں ہوتی ۔ تو میرے جیسے کند ذہن سیاسی کارکنان یہ سمجھنے میں حق بجانب ہونگے ۔ اول یہ سب کچھ قومی تحریک میں فکری یکجہتی کے حوالے سے ہم آہنگی اور ہم خیال لوگوں کو لیکر نئی صف بندیوں کا حصہ ہیں ۔ جس کے امکانات بہت ہی کم ہیں ۔ یا پھر روایتی طرز حیات ، روایتی منصب اور علاقائی و قبائلی مفادات کو لیکر قومی تشکیل کے سفر میں ذاتی غرض و مفادات سے دستبردار نہ ہونے کے عمل بارے فکری ساتھیوں کو بلیک میل کرنے کے حربے ہیں۔ شخصی اثر رسوخ کو لیکر جوڑ توڑ کے اشارے فکری ساتھیوں کیلئے بہت بڑا چیلنج ہیں ۔ ان کو کسی صورت ان حربوں کو خاطر میں نہیں لانا چاہیے ۔ کیوں کہ یہ اپنے نظریات کو روایتی طرز حیات کے حوالے کرنے کے مترادف ہوگا ۔ ان کو تنقید ، بحث مباحثے ، تحقیق کیلئے تیار رہنا چاہیے ۔ اور سب سے بڑھ کر مثبت مقابلے کے رجحان کو لیکر منفی اور غیر سیاسی رویوں کی حوصلہ شکنی کیلئے ہر وقت کمر بستہ رہنا چائیے۔ بشکریہ
Saturday, 1 June 2013
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
0 comments:
Post a Comment