Sunday, 12 May 2013

ریاستی الیکشن بمقابلہ مزاحمتی قوتیں ۔۔کچھ فویٹ



بلوچ قومی فوج بلوچ لبریشن آمی اور دوسری بلوچ مزاحمتی مسلح تنظیموں نے اپنی کاروائیوں اور حملوں میں مزید تیزی اور شدت لانے کی دھمکی دے کر اپنی سر گرمیوں اور حملوں میں تیزی لاتے ہوئے گزشتہ دنوں 
کئی پولنگ سٹیشنوں پاکستان پرست الیکشن امیدواروں اور سکیورٹی فورسز اور انکی چیک پوسٹوں پر شدید حملے کیے،جہاں پاکستان پارلیمان پرست جماعتوں (این،این،پی، بی این پی مینگل ،بی این پی عوامی)
کے امیدوار رہنماؤں اور انکے انتخابی دفاتر پر بمو ں اور راکٹوں سے حملے کئیے گئے،تربت میں ڈاکٹر ملک اور ڈکٹر یاسین کے انتخا بی قافلے پر بی آر اے کے سر مچاروں نے حملہ کیا جس میں وہ بال بال بچ گیا،
مسلم لیگ (ن)کے امیدوار عبدالقادر کے انتخابی دفترپر دستی بم حملے میں 9افراد زخمی ہوئے،کوئٹہ میں جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے انتخابی دفتر میں حملے میں 2افراد زخمی ہوئے،مچھ میں نیشنل پارٹی کے انتخابی
دفتر پر دستی بم حملے میں 5افراد زخمی ہوئے۔ان کاروئیوں میں خاص طور پر بلوچ قومی فوج بلوج لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے نمایاں کردار ادا کرتے ہوئے سب سے پہلے خضدار میں مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر ثناء اللہ زہری کے انتخابی قافلے پر شدید حملہ کیا جس میں 14افراد ہلاک اور25زخمی ہوئے ہلاک ہونے والوں میں ان کا بیٹامیر سکندر،بھائی مہراللہ،بھتیجا میر زیب اور ایک محافظ شامل تھا تو
ایک اور واقعے میں پجگور میں بی این پی مینگل کے رہنما جہانزیب پر راکٹوں سے حملہ کیا جس میں 14افراد زخمی ہوئے اس کے علاوہ پجگور میں بی این پی عوامی کے مرکزی رہنماء اسداللہ کے انتخابی قافلے پر
دو مرتبہ ریموٹ کنٹرول بم سے حملہ کیا جس میں انکی 3گا ڑیوں کو شدید نقصان پہنچا اس کے علاوہ دوسرے امیدوار حاجی اسلام اور حافظ اعظم پر حملے کیے،بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں کا ریاست کے طاقتور 
تریں دلالوں پر ان حملوں نے ثابت کر دیا کہ قومی فوج بلوچ لبریشن آرمی تمام بلوچ وطن کے غداروں پر ایک ہی معیار سے وار کرتا ہے اسکی قومی عدالت میں کسی بھی غدار کیلئے لحاظ،رعایت اور رواداری کی کوئی گنجائش نہیں جہاں تمام پاکستان ریاستی سزاء کے مستحق دلال اور غداروں کا احتساب یکساں پیمانہ میں ہوگا ۔آج بلو چ عوام نے جس بہادری سے بلو چ آزادی پسند فرزندوں کے شانہ بہ شانہ دشمن کا مقابلہ کر کے
انکے انتخابی ڈھونگ کو مسترد کرتے ہوئے اسے ناکامی سے دوچار کر کے جہاں ایک طرف آزادی کے حق میں اپنا تاریخی فیصلہ دیا تو وہاں اس خطے سمیت پوری دنیا اور عالمی سپر پاور طاقتور کیلئے بھی واضح پیغام
ہے کہ چاہے اس پورے خطے کا امن و امان کا مسئلہ ہو یا بلوچ سرزمین سے متعلق کسی بھی معاہدہ کی بات ہو بلوچ وطن کی مکمل آزادی سے منسلک اور مشروط ہے جب تک اس میں بلوچ عوام کی راضامندی ومنشا
شامل نہ ہو اسکی ناکامی حتمی اور یقینی ہے۔۔۔

0 comments:

Post a Comment