تنقید کا عمل تحریک کی جان مانی جا تی ہے اس لیے اس عمل کو
ہروقت سراہا گیا ہے ۔اور ذاتی طور پر میں بھی اس با ت پہ بہت یقین رکھتا ہوں کے
اگر تعمیری تنقید نہ ہو تو گمرہ کن نتائج سامنے اتے ہیں لیکن فکر کرنے کی بات یہ
ہے کےصحیح اور غلط کا فیصلہ کون کرے گا۔ تو اس بات کو ہم اصولوں پر چھوڈ دیتے
ہیں۔بلوچ تحریک کے موجودہ مر احلہ اور جنگ کے اس دور میں اختلاف کرنا بلوچ مقصد کو
بشک کم مگر نقصان دے سکتا ہے اس با ت پہ سوچنے کی اشاد ضرورت ہیں کے ہم کوئی نادانی
تو نہیں کر رے نہ بلوچ قومی جنگ میں کامیابی تو حاصل ہورہی ہے مگر سیاسی نہ پختگی
روز بہ روز زیادہ ہوتی جا رہی ہیں اج اُن لوگوں کے بیچ بیس ہورہی ہے جنوں نے ہم
جیسے نا اہل انسان کی تربیت کی بلوچ معاشرے میں تنقید کی تو گنجائش ہے مگر شغان
اور گالی کی کوئی معافی کوئی گنجائش نہیں لہذا تنقید کے وقت ان باتوں کا خیال رکھا
جائے۔مجھے اج حیرت اس بات پہ ہوتی ہے کے ہم ہمیشہ دوسروں کے اداروں پر ہی کیوں
تنقید کرتے ہیں جبکے ایک انقلابی ہونے کی حیثیت سے ہمیں پہلےحقیقت پسندی کا مظاہرہ
کرنا چاہیے اور خودکی اصلہ کرنی چاہیےتاب جاکے ہم ایک مصبت جہد میں کامیاب ہوسکے
گے۔
اگر ہم ماضی میں جائے توکوئی اختلاف نظر نہیں اتا جس قومی
عمل کو ہمیں روزے اول سے کرنا چاہیےتھا وہ اب ہو رہا ہے ہیں ہم جب کسی تنطیم یا
اتحاد میں ہوتے ہیں تو وہ کسی صورت غلط نہیں ہوتی لیکن جب ہم اُن سے الگ ہوجا تے
ہیں تو وہ لو گ غلط ہوجا تے ہیں کہنے کا مقصد یہ ہیں کے جب ہم سات تھے تو غلطیوں
پہ غور کیوں نہیں ہیں کیا اب جب اختلاف سرےعام ہورہا ہے تو ماضی کی ساری غلطیاں
ہمیں یا د ہیں۔اگر ہم تب ہی سے حقیقی تنقید بارے تعمیر کرتے تو اج یہ دن دیکھنے
نہیں پڑتھے جب دوستوں کی تربیت کرنی چاہیے تی اُس وقت ہم اپنے دنیا میں مگن تھے
دوستوں کی اخلاقی اور قومی جرات کو بیدار کرنا تھا تب ہم پتہ نہیں کس دنیا میں تھے
اج ہم یہ سب اسی لیے بُگت رہے ہیں اج ہما رے بہت سے دوستوں میں اتنی اخلاقی جرات
نہیں ہے کہ وہ ایک صحیح فیصلہ کر سکے کہ ہمیں کس کو فولو کر نا ہیں اور کس پہ
تنقید کرنا ہیں۔اج ہما رے پاس کوئی ایسا قومی ادارہ تک نہیں جواختلاف (بشک سیاسی
ہو) کو ختم کر سکےجتنے بھی بھروسے مند ادارے ہیں وہ سب کے سب فریق بنے ہوئے ہیں کو
ئی کسی کے لیے قابلِ قبول ہی نہیں ہیں۔ہمارے
بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی بجاءے ان کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش
کرتے۔میرا سوال اُن دوستوں سے بھی ہیں جو اج دوسروں پہ تنقید کرائے ہیں وہ خودکی
اصلہ کب کرنگے بے شک تنقید ایک اچھا عمل ہیں میں تو یہ کہونگا کہ تنقید اور سوال
کرنا ایک قومی عمل ہیں جو بےحد ضروری ہیں مگر اسکی شروات خود سے ہونی چاہیے
جب کسی غلام قوم کے تعلیم آفتہ نوجوان کسی قومی مقصد
کے لیے ایمانداری سے جدوجہد شروع کرتے ہے تو دنیا کی کوئی بھی طا قت اُنھیں نا کام
نہیں بنا سکتی مگر جب یہی لوگ کسی معمولی وجہ سے دست و گرابان ہوتے ہے تو اُنکی وجہ
سے قوم کی آزادی کی
راہ میں مشکلات مذید بڑ جاتی ہے۔اخر میں دوستوں سے صرف اتنی درخواست ہیں کہ تنقید
کی جائے بہت کی جا ئے لیکن صرف تب جب تنقید اور جہالت فرق معلوم ہو۔اگے اپ خو د
بھی سمجھدار ہے


0 comments:
Post a Comment