15جولائی
2013 کو ڈیلی توار کے ارٹیکل پیج پہ ایک مضمون چھپا جس میں درشان بلوچ تھا اور ارٹیکل کا نام تھا (بی ایس او کو تھوڑنے کی سازشیں) مضمون کا نام دیکھ کر ہی اندازہ ہو گیاتھا کہ اگے پڑھنے کو کیا ملے گا۔ لھکنے والے نے مضمون کا نفص سے زیادہ حصہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کی تعریف میں گزار دی مضمون کا یہ حصہ پڑھ کر یہ تو پکا ہوگیا تھا کے لھکنےوالا اُس دربار کا مرید ہیں جس میں سوال کرنا گناہِ کبیرہ ہیں خیر لکھنے والے درباری نے یہ تو واضح کر دیا کہ بی ایس او ازاد کے کارکنان جو الزام مرکز پر لگا رہیں ہیں وہ کسی حد تک سچ ہیں۔ مجھے بھی مسلئے کو سجھنے میں رہنمائی ملی اور پھر مضمون کا کچھ حصہ بی ایس او کے تاریخ کے بارے میں بیان کیاگیا جس میں ڈاکٹر فیکٹر بہت کثرت سے شامل تھا۔ لیکن مجھے حیرت تب ہوئی جب بی ایس او ازاد کا وہ چمکتا دور جس میں بی ایس او ازاد نے تاریخی کامیابیا ں حاصل کی کا بلکل بھی ذکر نہیں تھا اس عمل کو میں خالص بدنیاتی اور تاریخ کے ساتھ دشمنی سمجھ تھا ہوں ڈاکٹر صاحب کا کردار ہمارے لیے صد قابلِ قدر ہیں مگر بی ایس او کی اس کامیابی کے پیچے صرف اُنکا ہاتھ نہیں 2006 سے 2010،2011 تک جو خدمات چیئرمین بشیرزیب نے سر انجام دے ہیں اُنکی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی اج ذاکر جان دشمن کے ہاتھوں میں ہیں نا جانے کس حال میں ہیں لیکن میرے موجودہ قائد اُنھیں بار بار سابقہ یا فارغ دوست جیسے ناموں سے پُکار تے ہیں اُنھوں نے کس حق سے ذاکر مجید کو فارغ کرار دے دیا ؟ درشان بلوچ شاہد یہ بھول گیا تھا کے اج جو کارکنان سوال اُٹھا رہے ہیں وہ دوست اس مشکل وقت میں بی ایس او کے ساتھ کھڑے تھے ریاست کے کُشت ہ خون ریاست کے درندگی جن دوستوں کوتحریک سے جدا نہ کر سکی اج درشان بابو کی نظر میں وہ دوست واحد رحیم اور سمیع روف جیسے قوم دشمن ہوگئے؟ افسوس ہوتا ہیں جب حق پہ سوال کرنے والے غدار اور اداروں کو برباد کرنے والا قومی لیڈر بن جاتے ہیں یہ خالصتاں غیر انقلابی عمل ہیں اس جنگ میں غلطی کے بعد خاموشی مصالیت پسندی شخصی دِفا تحریک کے ساتھ ناانصافی ہیں
2006
کے سیشن میں اُس وقت سنگل بی ایس او تھا الیکشن کمیٹی میں سابق چئرمین امان سابق
چئرمین امداد سابق چئرمین اصف تھے سیشن کی کاراوائی چل رہی تھی دوستوں نے روایاتی
انداز میں مختلف عہدوں کے لیے نام لکھوائے چئرمین شپ کے لئے واجہ بشیرزیب اور محی
الدین نے نام لکھوائے پھر الیکشن ہوا سنگت بشیرزیب کامیاب ہوگئے محی الدین نے
ناکامی تسلیم کی اور بعد میں اعتراض کیا کہ میرے ساتھ نا انصافی ہوئی ہیں خیر بشیر زیب چئیرمین سنگت ثنائ وائس
چئیرمین گلزارامان سکٹیری جرنل اور ذاکر مجید جوائنٹ سکڑی بنے بعد میں گلزار امان
نے محٰی الدین کی بنائی بی ایس او میں شامولیات کی تو اُن کا عہدہ خالئ ہوگیا تو
اسبِ رِوات زاکر مجید سکٹیری جرنل بن گئے چونکے واحد رحیم اور محی الدین بی ایس او
کا اپنا دڈھا پہلے ہی بنا چُکے تھے موجودہ بی ایس او ازاد بی ایس او بشیر زیب کے
نام سے مشہور ہونے لگی تب چئرمین بشیرزیب نے دوستوں کو مشہوارہ دیا کے بی ایس او
بشیر والے تعصُر کو رُکنا ہوگا اور بی ایس او کا افیشل نام بی ایس او سے بدل کر بی
ایس او ازاد رکا گیا اور یہاں سے بی ایس او کی تاریخی دور کا کامیاب سفر شُروع ہوا
2 اگست 2006 شہید مجید لانگو کے برسی کے دن بی ایس او ازاد کی جانب سے قلات میں
حلف برداری تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں چئیرمین بشیر زیب نے ازادی کے واضح
پالیسی کے ساتھ ساتھ بی ایل اے بی ایل ایف خیربخش مری اکبر بگٹی کے قومی پرُگرام
کی عملَ حمایت کااعلان کیا ۔ پھر سنگت ثنائ چیرمین بشیر زیب سنگت ذاکر مجید اغا
عابد شاہ اور دیگر ساتھیوں کے انتق محنت اور ثابت قدمی سے اج بی ایس او ازاد ایک
قابلِ بھروسہ ادارہ بن گیا۔پھر کامیاب حکمتِ عملی سے عوامی حمایت حاصل کی اور تحریک
کو کامیابی کی جانب گامزن کیا۔جس میں ازادی کا واضح پروگرام ہر بلوچ گدان تک
پہنچانا۔غلامی کے خلاف نفرت 27 مارچ اور 11 اگست جیسے دنوں کو عوام سطح پر
لانا۔اور ایک کامیاب سپوتازمعم کا اغاز کرنا جس میں ریاست کا جینا حرام اور لاکھوں
روپے کا نقصان شامل ہیں۔
اب بات
کرتے ہیں موجودہ مسائل پر بنیادی طور پر دیکا جائے تو یہ مسلے حالیہ سیشن کے بعد
سے شروع ہوئے ہیں سب سے پہلے تو کونسلر چوننے کا ایک ائینی عمل ہوتا ہیں جو اس لیے
ہوتا ہیں کے اُس میں زون کے قابل اور سمجھدار دوستوں (جن کا تعُین زونل دوست کرتے
ہیں) کو مرکزی سیشن تک لیجانا اور بی ایس او کی پُالیسی میکنگ میں اُن دوستوں سے صلہ
و مشورہ کرنا ہیں اگر دیکھا جائے تو ائینی کاموں میں یہ سب سے اہم عمل ہوتا ہیں اور
سب سے حساس بھی اگر کوئی اس عمل میں کوتائی کرے تو میں یہ سمجتھا ہوں کے وہ شخص بی
ایس او اور قوم دونوں کا مجرم ہیں۔ بی ایس او کی موجودہ مرکز نے یہ جرم بہت بڑے
پیمانے پر کیا ہیں مرکزی کونسلروں کو باغیر خبر کیے مرکزنے اپنے پسند کے درباروں
کو جمع کیا اور ایک محفل سجا دی اس محفل کا نام مرکزی کونسل سیشن رکھا گیا ۔ سیشن
ختم ہونے کے بعداخبارات میں خبر ائی کے بی ایس او ازاد کا قومی کونسل سیشن ہوریا
ہیں ۔ دوستوں سے پُھچا گیا کے کونسلر وں کے بجھا ئے دوسرے غیر فعال دوستوں کو کیوں
لیکے گئے ہو ؟ تو جواب ملا کے سیکورٹی ریزنس تھے جس کی وجہ سے جلد بازی کرنی پڑھی
اور سارے عمل کو خفیہ رکھا گیا تھا دوستوں نے سوچا کے دوستوں کی جان کا مسلہ ہے تو
سوال کرنا چھوڑ دیا مگر کچھ وقت کے بعد جلسے ریلیہ مظاہرے سب برپور انداز میں شروع
ہوگے تو یہاں دوستوں نے سوال کرنا شروع کیا کےاخر کیا وجہ تھی کے سیشن خفیہ رکھا
گیا تھا سیشن نے فیصلہ بھی کیا تھا کےراضداری سے کام کرینگے تو اب کیا ہوا ؟ پھر
بی این ایم سے رشتے مزید مضبوط کیے گئے۔درحقیقت بی این ایم کی لیڈرشپ بھی اسی
انتظار میں تھی کی کب بی ایس او کا سیشن ہوں اور بشیرزیب کی کابینا ختم ہو ۔ اور
بلوچ خان کا کابینہ بنے اور ہم اُنھیں استعمال کر سکے اور پھر سیشن کے بعد وہ ہی ہورہا
ہیں جس کا منصوبہ پہلے سے تیار تھا۔ مرکز کے چار عہدِداروں کے ان غلطیوں کو تمام
دوست بخوبی جانتے اور سمجتھے ہیں۔شاہد وہ ان کے خلاف لکھنے کو بی ایس او کے خلاف
سمجھ رہئے ہیں۔ لیکن ایک بات میں واضح کرتا چلوں کہ چار درباریوں کے خلاف لکھنے کو بی ایس او ازاد
کے خلاف نہ سمجھا جائے یہ وہ لوگ ہیں جو کل تک بشیر بشیر کا وِرد لگائے ہوئے تھے اج
کل ڈاکٹر خلیل منان کا وِرد لگائے ہوئے ہیں براہوئی زبان میں ایک کعاوت ہیں کہ (ہر
دولاِ چاپ خلِنگ)۔بلوچ خان نے اپنی یاری نبانے کی خاطر قومی ادارے کو برباد کردیا
ہیں۔ بلوچ خان اب کبھی بھی بشیر زیب کی جگہ نہیں لے سکتا بشیر زیب کے دور میں ہم
اپنے سابقہ چئیرمین کو قومی لیڈر اور اُن کے خلاف ایک لفظ برداشت کرنے کو تیار
نہیں تھے مگر اج بلوچ خان کے محفل میں بشیر زیب کو گلیاں دی جاتی ہیں ۔ بشیر زیب
کے دور میں تمام ازادی پسند تنظیمں ایک جتنی قابلِ قدر تھی مگر اج بی ایس او کی سی
سی میٹنگ میں بلوچ خان یہ کِہتھے ہوئے زرا بھی شرم محسوس نہیں کرتا کے بی ایس او
کے دوست بی ایل اے سے کسی بھی طرح رابطہ نہ کرے اگر کرنا ہی ہیں تو بی ایل ایف سے
رابطہ کرے۔اب ہمیں کیا پتہ تھا کے بلو چ خان کی خلیل اور منان سے یاری شہ مرید کے
اختر ندیم سے دوستی بانک کر یمہ کی کسی سے رشتے داری ہماری بربادی ثابت ہوگی۔ ان
لوگوں نے اس عظیم قومی ادارِے کو اپنا میراث سمجھ رکھا ہیں جب چاہیے جو کرے اور
اگر کوئی ان سے سوال کرئے تو درشان بلوچ جیسے سیاسی چمچے اُنھیں غدار کرار دیتے
ہیں۔ مگر ہمیں غداری کا لقب منظور ہیں لیکن قومی وِرثے کی بربادی نہیں۔،اپ اگر غلط
کام کروگے تو اس عمل پہ مذامت تو ہوگی، ویسے بھی انقلابی لوگوں کے لئے مایوسی کفر
ہیں بلوچ خان اینڈ کمپنی کے سُبق کاموں کو تسلیم کرنا اور پھر ان لوگوں کے بھروسے
تنظیم کو چھوڑ دینا بلوچ شہدائ اور اُنکے مقصد سے نا انصافی ہیں
میری
دردمندانہ اپیل ہیں میرے نظریاتی دوستوں سے کے مرکز کے غلط عمل کے خلاف اوازبلند
کرے سوال کرے۔ غلط کو غلط کہنے کی ہمت ہر ازاد خیال انسان میں ہیں اور اپ اُنھی
ازاد خیال انسانوں میں سے ہو۔چار عہدے داروں کے غلط فیصلوں کے خلاف لکھنا یا کسی
فورم پہ سوال کرنا ہم سب کا قومی فرض ہیں۔
اگر اج ہم خاموش رہیں تو شاہد ہمارے چار عہدےدار ہم سے خوش ہونگے مگر تاریخ
نہیں۔
درشان بلوچ جیسے
لوگوں کے لیے!
قلم
بہت ظالم چیز ہے اگر اسکا غلط استعمال ہوا تو یہ بربادی ہی بر بادی لاتی ہیں اگر
اج ہماری رسائی قلم تک ہیں تو ہمیں اسکا سوچ سمجھ کے استعمال کرنا چاہیے۔
0 comments:
Post a Comment