Sunday, 21 July 2013

تعمیری جدوجہد سے خائف مڈل کلاس قیادت ! .. (باغی میر)




انسان اس کی آزادی اورتکمیل انسانیت کو لیکر روز اول سے تجربے مشاہدے اور مراکبے ہوتے رہے ہیں تاہم ان سب کی نتیجے میں انسان سے متعلق بہتر زندگی یا پھر اس بابت ضابطے مختلف ضرور ہیں تاہم ان میں انسانیت کو اعلی درجہ حاصل ہے
انسانی آزادی کے جدوجہد کا ہر مر حلہ تعمیر اور تکمیل انسانیت کی جانب رہنمائی کا ضامن ہو تا ہے ۔ رویوں اور مزاج میں تبدیلی ، انسانی شعور نفسیاتی اور اعصابی پختگی اسکا حاصل وصول ہوتے ہیں ۔آزادی محض شعور سے نتہی عمل ہے جو خو دشناسی اور انسانی عمل کے ناطے انا خود فریبی اور خود کو دوسروں کی ضرورت کی خواہش کے خاتمے کاباعث ہوتا ہے ۔غلامی میں جہاں انسان کی انسان ہونے کی نفی کی جاتی ہے وہاں بہت سی بیماریاں بھی غلام کے حصے میں آجاتی ہیں ۔جو غیر محسوس، نفسیاتی اوذہنی نوعیت کی ہوتی ہیں۔جس کے تحت قابض کی خصلتیں غلام کی خواہش اور اس کا منزل ٹھہرتے ہیں جس کی پیروی میں وہ اپنے اندر پیچیدگیوں کا شکار ہوتا ہے اور سماج میں ان رویوں کا ضامن محافظ اور ان کا پیرو بن جاتاہے ۔آزادی کا شعور ہی علم زانت اور تخلیق پر مبنی قابض کی خصلتوں اور اس کی ہر غیر انسانی عمل کی نفی کا باعث ہوتا ہے ۔غلامی کی خصلتوں میں سے ایک بڑی بیماری تبدیلی سے خوف ہوتا ہے جس کی بدولت غلام اپنی وجود کو قائم رکھ کر تبدیلی کے سامنے مزاحم رہتا ہے اوروہ بظاہر آزادی کی جدوجہد سے وابستہ رہتا ہے لیکن اسکا مطمع نظر قابض کی جگہ پالینا ہوتا ہے تبدیلی یا آزادی کے تقاضوں سے وہ بالکل نا واقف رہتا ہے ۔شعور ہی آزادی کا نعم البدل اور تبدیلی کا وجہ ہوتا ہے آزادی ردعمل سے بڑھ کر شعوری عمل ہوتا ہے اورجو عمل شعور کے تابع ہو وہا ں ہر لمحہ تبدیلی کے لئے تیار رہنا پڑھتا ہے جدت اس جدوجہد کی بنیاد ہوتی ہے۔لیکن جہاں ردعمل ہی بنیاد ہو وہاں علم نہیں جنگ انتقام اور قابض کی جگہ منصب کو پانا ہی منزل اور مطمع نظر ٹھہرتے ہیں ۔علمی جدوجہد ہمیشہ منظم اداروں کا شیوہ ہوتا ہے اور تنظیم ہی قوم اور پیروکاروں کی رہنمائی اور ان کی ترجیحات کا تعین کرتی ہے اور پیش بینیوں کی خاصیت کی بنیاد پر ہر اس عمل کے لئے تیار رہتا ہے جو اسے جدوجہد کے کسی بھی مرحلے میں سنجیدگی اور علمی پہلو سے روگردانی نہیں کرنے دیتی اور ہمیشہ تخلیقی عمل کے ذریعے قومی تعمیر کر تی ہے ۔بلوچ جدوجہد میں اداروں اور علمی اعتبار سے جدوجہد کے ضامن بی ایس او آزاد بی این ایم موجود ہیں اوردوسری جانب سے ڈاکٹر اللہ نذر کو مڈل کلاس نوجوان رہنماء کی بنیاد پر اس میدان میں نمایاں کردار ادا کرنا تھا کیونکہ (بقول بعض دوستوں کے )دوسری جانب حیربیار مر ی اور براہمداغ بگٹی کے ساتھ نواب کا لاحقہ موجود ہے اور ان کے پاس قابل بھروسہ اداراہ بی ایس او کی تربیت کا سرٹیفکیٹ بھی تو نہیں ایک اور بڑا مسلہ کہ وہ وطن سے دور یورپ میں ہیں جس سے ان کی حب الوطنی بھی کامل نہیں ہو سکتی (دوسری جانب ڈاکٹر اللہ نذر کا یہ قول جو انکی مقبولیت اور ان کی حب الوطنی کا سب سے بڑا ہتھیار ہے ۔۔۔کہ میرا جینا مرنا بلوچستان میں ہے میں یورپ نہیں جاؤنگا )اور سب سے بڑھ کر بی ایس او کی تا حیات چیرمین شپ کا لاحقہ بھی اسکی علمی حب الوطنی اور نظریاتی ہونے کا ثبوت ہے ان تمام خصلتوں کے بعد ڈاکٹر صاحب کو تو علمی، حب الوطنی ،موجودگی ،اور مڈل کلاس کی سرٹیفکیٹس کے ساتھ قیادت کا پورا حق حاصل ہے جبکہ اس کے مد مقابل حیربیار کے تنظیم کو موجودگی کی بنیاد پر بندوق برداروں کی قیادت علمی اعتبارسے قبائلی قیادت مڈل کلاس کے حوالے سے قبائلی یا پھر ذاتی سنگتوں کی قیادت اور اداروں کے اعتبار سے چھوٹے سرکلوں کا سہارا ہے انہیں کیونکر قیادت علمی حیثیت اداروں کا سرٹیفکیٹ اور نظریاتی ہونے کی قبولیت دی جاسکتی ہے ۔(یہاں یہ بات تلخ حقیقت ہے کہ جب حیربیارکے یہ قبائلی، اداروں کی تربیت سے محروم بندوق بردار آزادی کے شعور کو پا کر اس کے حصول کیلئے افغانستان اور بلوچستان میں برسر پیکار تھے تو ہماری آج کی مڈل کلاس کے نظریاتی ڈاکٹر اللہ نذر اس وقت بھی بلوچستان میں موجود بذرگ سیاستدان ڈاکٹر حئی کی قیادت میں صوبائی خودمختاری کو بلوچ کے مسئلے کا حل اور اس کے لئے محو جہد تھے وہ تو بلا ہو ڈاکڑ حئی صاحب کا کہ جس نے بی ایس او کی چیرمین شپ نہ دیکر ڈاکٹر صاحب کو رد عمل میں ان قبائلی آزادی پسندوں کا ہمنواء بنا دیا ۔واجہ خلیل صاحب کی تاریخ تو علم زانت اور نظریاتی اعتبار سے شاید ہی کسی سے ڈھکی چپی ہو جہاں خاران ہاؤس کا وہ قبائلی سردار(سائیں )ان کا قبلہ و کعبہ ہوا کرتے تھے اب وہاں سے سیاسی نظریاتی تربیت پانے والے خلیل صاحب کیسے ایک بندوق بردار حیربیار کے تنظیم کے بندوق برداروں کے ساتھ سیاست کر سکتے ہیں ۔تب جب یہ بندوق بردار آزادی کی جدوجہد میں مصروف تھے تو اس وقت سائیں کے محفلوں میں پارلیمنٹ کے لیکچر دینے والے خلیل جان کا بھی ان قبائلی آزادی پسندلوگوں سے ہمنوائی بھی بالکل ڈاکٹر اللہ نذر کیطرح بی ایس او کی چیر مین شپ نہ دینے کا ردعمل ہی ہے ۔یقیناًاب یہاں بھی وہ ہی معاملہ درپیش ہے ۔۔۔قیادت کا۔۔۔ تو میری حیربیار کے دوستوں سے دست بستہ اپیل ہے کہ ڈاکٹر صاحب اور خلیل جان کے سیاست کی بنیادی ضروریات کو مد نظر رکھ کر ان کی لاڈلے بچے کی طرح کے فرماہشوں پر در گزر کر لیں کہیں یہ پھر رد عمل میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلوچ جدوجہد میں انسانی آزادی کے اعلی شعوری عمل کو لیکر آج اگر تعمیر اور قومی تشکیل کے لئے کوششیں ہو بھی رہی ہیں تو ان ہی حیربیار کے قبائلیوں کی جانب سے ۔حیربیار کے تنظیم کے ان دوستوں سے تو میر ی کوئی واقفیت نہیں کہ جو علمی اعتبارسے یقینابہت پختہ ہونگے قائدانہ صلاحیتوں کے مالک اور تنظیم میں انکی ایک اعلی حیثیت ہوگی البتہ ایک عام فرد اسلم بلوچ جو کہ یقیناًمر ی قبیلے سے تعلق نہیں رکھتے محض حیربیار مر ی کے نظریاتی ساتھی کے طور پر آج کل ان مقدس اداروں کے علمی دوستوں کے فحش اخلاقیات سے گری القابات کے زد میں ہیں پر آج رشک بھی آتاہے اور توڑا بہت جھلس بھی ہوتا ہوں اسلم بلوچ سے کیونکہ ان کی سیاسی زندگی پر نظر دوڑانے پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلم بلوچ نہ تو بی ایس او میں رہے نہ ان مقدس اداروں میں تربیت پائی پھر بھی آزادی کے شعور کو مجھ جیسے بی ایس او کے تربیت یافتہ کارکنوں سے قبل ہی نہ ٖصرف پا لیا بلکہ اس کے حصول کیلئے جد وجہد بھی شروع کی آج بھی ان مقدس اداروں سے قبل ہی جدوجہد کے مرحلوں کو جان کر تعمیر تشکیل کے لئے اس قدر کوشاں ہیں کہ مقدس ادارے بھی ان کی اس عمل پر اپنی ناکامی اور نالائقی کو چھپانے کی خاطر حواس باختگی میں ان کی کردار کشی کر رہے ہیں میں جھلس ہوتا ہوں کہ ہم تربیت کا گن گاتے نہیں تکتے پھر ایک ذاتی شعور کے حامل اسلم بلوچ کی شعوری پختگی کو کیوں نہیں پہنچ پاتے کہیں سابقہ چیئرمین حضرات، اسلم کی علمی عسکری اور قائدانہ صلاحیتوں سے خائف تونہیں یقیناًمڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے اسلم بلوچ آج ہر محاذپر اپنی ذاتی صلاحیتوں سے وہ مقام حاصل کر چکے ہیں جو اس طویل دورانیے کے بعد ہمارے اداروں کے تربیت یافتہ قائد حضرات پانے سے محروم رہے ۔ ذاتی تشعیرہیرو ازم اور تمام تر خود نمائش کے عمل سے دور علمی جہد اور تخلیق کار کے طور پر آج تاریخ میں نمایاں ہورہے ہیں ۔شاید انکی مڈل کلاس حیثیت اور ان کی علمی زانت آج ہمارے مڈل کلاس ہیروز کو پسند نہیں یا شاید میری ٖطرح جھلس کا عنصر انکی طرف سے بھی فحش القابات کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔
جدوجہد آج زانت علم اور تعمیر کے تحت ہورہی ہے جس میں روایت پسندی ہیرو ازم خود نمائشی اور غلامی کی بیماریوں میں الجھے ذہنی پیچیدگیوں کے شکار سوچ کی گنجائش نہیں ۔آ ج اگر کوئی اداروں کو مقدس اور مذہب کا درجہ دیکر اپنی ذات کی بقاء اور خود نمائشی کیلئے استعمال کرنے کو ہی قومی نجات سے تعبیر کرتی ہے تو آج کی شعوری جدوجہد ان کی ذہنوں پر پڑی مٹی کو ہٹانے کیلئے کافی ہو نا چاہیے ۔ذاتی شعور اور تخلیق کے انفرادی عمل کے نکتہ نظر کے تحت آج آزادی کا عمل اپنے تعمیری اور قومی تشکیل اور رویوں اور مزاج کی تعمیر کے مرحلے سے گذر رہی ہے جدوجہد کے تعمیر ی مرحلے میں مزاحم رہنا خود کے ذاتی انا کے مٹ جانے کے خو ف کا اظہار ہے اسے ختم کئے بغیر ہم انفرادی اور اجتماعی آزادی کے عظیم عمل کو نہیں پا سکتے۔
— with Buzgar Gat and 19 others.

0 comments:

Post a Comment